تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     01-02-2026

دھاگے ہی بیچیں

وزیراعظم شہباز شریف کا صنعتکاروں؍ برآمد کنندگان کیلئے مراعات پیکیج کا سن کر مجھے دو دن پہلے سینیٹ کی فارن آفس کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس یاد آیا جہاں باقی ایشوز کے علاوہ تجارت اور برآمدات بڑھانے پر بھی بات ہورہی تھی۔ فارن سیکرٹری آمنہ بلوچ اور ان کی ٹیم بریفنگ دے رہی تھی۔ برسوں سے یہی ایجنڈا اور گفتگو ہے۔ نہ ایشوز بدلے نہ ایجنڈے‘ نہ ان پر اٹھنے والے سوالات اور نہ ہی جوابات۔ مجھے تو اب حیرانی نہیں ہوتی۔ اسمبلی میں وقفۂ سوالات میں یہ بات دس سال پہلے سنی تھی کہ پاکستان اور چین کے درمیان بہت بڑا تجارتی گیپ ہے۔ پاکستان چند سو ملین ڈالر کی اشیا چین کو بھیجتا ہے جبکہ چین پاکستان کو بیس ارب ڈالر کی چیزیں بیچ رہا ہے۔ اب پتہ چلا ہم دو ارب ڈالر تک اپنی برآمدات لے گئے ہیں۔ اب بھی اٹھارہ ارب ڈالر کا گیپ ہے۔ اس پر بحث ہو رہی تھی کہ یہ گیپ کیسے پورا کیا جائے۔ اس ملک میں اٹھارہ ارب ڈالر بڑا گیپ ہے جس میں برآمدات اور ترسیلاتِ زر ملا کر تقریباً ساٹھ ارب ڈالر اکاؤنٹ میں ہوں اور سالانہ 80ارب ڈالر سے زیادہ درآمدات ہو رہی ہوں۔ بیس ارب ڈالر کا گیپ پورا کرنے کیلئے آپ سعودی عرب‘ چین‘ متحدہ عرب امارت یا آئی ایم ایف سے چار سے پانچ فیصد مارک پر قرض ہی لیں گے۔
اصل سوال مگر یہ ہے کہ آپ چین کو کیا بیچیں گے تاکہ آپ کا ٹریڈ بیلنس بہتر ہو۔ وہ چین جو اس وقت عالمی مارکیٹ پر یورپ‘ انڈیا اور امریکہ تک کو برآمدی شعبے میں ٹکر دے رہا ہے۔ ابھی برطانوی وزیراعظم چین کے دورے پر ہیں جس پر صدر ٹرمپ کافی غصے میں ہیں۔ صدر ٹرمپ کا غصہ چین کے کام آرہا ہے۔ پہلے بھارتی وزیراعظم مودی چین کی پاکستان کو جنگ میں حمایت بھلا کر چین جا پہنچے تاکہ وہ امریکی ٹیرف سے ہونے والے نقصان کی تلافی کا راستہ ڈھونڈ سکیں۔ اب برطانوی وزیراعظم وہاں جا پہنچے ہیں۔ برطانیہ کے بعد یورپی ممالک کے سربراہان کی وزٹ کی خبریں بھی آرہی ہیں۔ سوال وہی ہے جو سینیٹر انوشہ رحمن نے اجلاس میں اٹھایا تھا کہ چین سے ہماری ستر سال پرانی‘ پہاڑوں سے اونچی اور سمندروں سے گہری دوستی ہے لیکن ہم اس دوستی اور تعلق کا کیا فائدہ اٹھا سکے ہیں کہ آج ہمارا ٹریڈ گیپ اٹھارہ ارب ڈالر کا ہے؟ پھر انکشاف ہوا کہ اتنے برسوں کی دوستی کے باوجود نہ بیجنگ میں پاکستانی تاجروں کا چیمبر آف کامرس ہے‘ نہ ہی چین کے تاجروں کا پاکستان میں کوئی چیمبر ہے۔ قصور چین کا ہے یا ہمارے تاجروں اور بیوروکریسی کا‘ جو ان معاملات کو دیکھ رہی ہے؟ پھر وہی بات جو ملک امریکہ‘ انڈیا اور یورپ تک کو اپنی اشیا کی ڈیمانڈ اور سپلائی پر مات دے رہا ہے‘ آپ اسے کیا بیچیں گے؟ آپکے پاس بیچنے کو ہے کیا؟ ہمارے صدر سے وزیراعظم تک تقریباً ہر چند ماہ بعد چین پہنچے ہوتے ہیں‘ وزیر اور اب تو بیوروکریٹس بھی چین کے ویکلی ٹرپ کرتے ہیں۔ برسوں سے سن رہے ہیں کہ چین سے سیکھ رہے ہیں۔ گیم چینجر منصوبے لارہے ہیں۔ یہ گیم چینجر منصوبے لائے کہ چین نے 2014ء میں اپنے ہاں بڑھتی آلودگی سے تنگ آکر جو کوئلہ پلانٹس بند کر دیے‘ ہمارے دانشمند حکمران وہ پلانٹس خرید کر ساہیوال لے آئے جہاں اب ڈالروں میں درآمدی کوئلہ لایا جاتا ہے۔ یہ پلانٹ بھی شریف خاندان کا ہی ہے۔ ایک اور پلانٹ سیف الرحمن نے‘ جو کبھی شریف خاندان کے سمدھی تھے‘ گدو میں لگایا۔ ان سب کو جو ٹیرف دیا گیا اور جس طرح دلوایا گیا‘ اسکی تفصیل آپ وزیر برائے نجکاری محمد علی کی پاور سیکٹر پر لکھی گئی رپورٹ میں پڑھ لیں کہ کیسے لٹ مار کی نئی داستانیں رقم کی گئیں۔
شریف برادرز کا پرانا طریقہ کار ہے کہ جہاں بڑی وارداتیں کرنی ہوں تو وہ اس محکمے کا چارج اضافی طور پر ایک جونیئر افسر کو دیتے ہیں‘ جسے یہ لالچ ہوتی ہے کہ اگر میں امیدوں پر پورا اترا تو یہ چارج ترقی دے کر مجھے مستقل مل جائے گا۔ ان کوئلہ پلانٹس کو مرضی کا ٹیرف دلوانے کی ذمہ داری دو ڈی ایم جی افسران کو سونپی گئی۔ دونوں بعد میں انعام کے طور پر نگران وزیر بنائے گئے۔ بابوز اور سیاستدانوں کے گٹھ جوڑ کے بغیر اس ملک میں کرپشن نہیں ہو سکتی۔ پاور پلانٹس کو ڈالر ریٹس؍ کپیسٹی چارجز کے نام پر جو ڈیلز دی گئی وہ ملک کو گھٹنوں پر لے آئی ہیں۔ حکومت کے پاس سنہرا موقع تھا کہ سولر ٹیکنالوجی کو عام کرتی تاکہ نہ صرف گیس؍ فیول پر بننے والی مہنگی بجلی سے جان چھوٹتی بلکہ جو اس وقت انرجی امپورٹ پر اندازاً 20ارب ڈالر سالانہ خرچ ہوتے ہیں‘ اسکے بل میں بھی کمی ہوتی۔ آپ کا ٹریڈ گیپ کم ہوتا اور ڈالروں میں قرض نہ لینا پڑتے۔ وہی قرض جو بقول وزیر خزانہ اورنگزیب ''اگر‘‘ صحیح استعمال ہو تو اسکا بڑا فائدہ ہے۔ وزیر خزانہ کی بات پر غور فرمائیں کہ ''اگر‘‘ ٹھیک استعمال ہو تو بڑا فائدہ ہے۔ مطلب قرض صحیح استعمال نہیں ہو رہا یا شاید بقول خواجہ آصف اس قرض سے پاکستانی بیوروکریٹ پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ الٹا اب تو سولر پر پابندیاں لگ رہی ہیں کیونکہ سیاسی حکمرانوں نے بابوز کے ساتھ مل کر اپنے بجلی گھر لگا رکھے ہیں جن کا ٹیرف ڈالروں میں ہے اور کیپسٹی چارجز بھی دینے ہیں۔ ملک کا سرکاری بابو اور حکمران کتنا بے رحم ہے کہ ملک میں بجلی کی کل ضرورت یا کھپت 26ہزار میگا واٹ ہے اور انہوں نے جو بجلی گھر لگائے ہیں‘ وہ 41ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اندازہ کریں کہ پندرہ ہزار میگا واٹ زیادہ کے بجلی گھر لگا کر انہیں ڈالروں میں ٹیرف بھی دیا اور معاہدہ بھی کیا کہ اگر ہم نے بجلی نہ خریدی تو بھی آپکو اربوں ملتے رہیں گے۔
کسی بیوروکریٹ کو شرم نہ آئی‘ حکمرانوں کو تو آنی ہی نہ تھی کہ ان کے اپنے بچے وہ پلانٹس لگا رہے تھے کہ پندرہ ہزار میگا واٹ اضافی بجلی ہم کیا کریں گے۔ صرف عوام کی کھال اتاریں گے۔ عوام بھاگ کر سولر کی طرف گئے تو انہی بابوز اور سیاسی حکمرانوں اور وزیروں کو فکر پڑ گئی کہ اگر سب سولر کی طرف چل پڑے تو پھر 41ہزار میگا واٹ کی ادائیگیاں ان کے بچوں اور فرنٹ مینوں کو کون کرے گا‘ یوں ساتھ ہی سولر پر پابندیاں اور شرائط سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ اس وقت ملک میں اندازاً دس ہزار میگا واٹ بجلی سولر سے پیدا ہورہی ہے۔ یوں صرف پندرہ ہزار میگا واٹ ان بجلی گھروں سے آرہی ہے یا تربیلا ڈیم اور نیلم جہلم سے۔ اب آپ پچیس ہزار میگا واٹ کی قیمت ادا کریں گے جو آپ استعمال بھی نہیں کررہے۔ میں موجود تھا جب سابق وفاقی سیکرٹری واٹر اینڈ پاور نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا تھا کہ ہم نے ہاتھ جوڑ کرچھ بجلی گھروں کو کہا کہ آپ بجلی پیدا نہ کریں۔ پلانٹ بند رکھیں کیونکہ آپ کیساتھ معاہدے کے تحت ہمیں فیول بھی خرید کر دینا ہے۔ اب وہ چھ پلانٹس بند ہیں اور مالکان گھر بیٹھے ہر ماہ اربوں لے رہے ہیں‘ بغیر ایک یونٹ بنائے۔ یہ تھے وہ معاہدے جو ہمارے تجربہ کار سیاستدانوں نے کیے جن کی ایک پارٹی 1971ء سے اقتدار میں تو دوسری پارٹی کے لیڈر 1984ء سے پاور میں آئے اور آج تک وہ اقتدار میں ہیں۔باقی آپ تسلی رکھیں‘ پاکستانی بزنس مین مراعات لے کر بھی خوش اور مطمئن نہیں ہوں گے۔ یہ ہر جنرل کے پاس جاتے ہیں۔ وہاں رونا دھونا کرتے ہیں‘ مراعات لے کر لوٹتے ہیں‘ اور چند ماہ بعد پھر وہی رونا دھونا۔ جو برآمد کنندگان ڈالر کو 2018ء میں 110سے 280روپے تک لے جا کر بھی برآمد ڈبل نہیں کر سکے‘ آپ کا کیا خیال ہے وہ بجلی کی قیمت چار روپے فی یونٹ کم ہونے سے برآمدات بڑھا لیں گے؟ ان سب کا کچا چٹھا پانامہ لیکس میں کھلا تھا کہ ایکسپورٹ کے سارے ڈالر واپس لانے کے بجائے بیرونِ ملک جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ چند ماہ بعد پھر کشکول لے کر رو رہے ہوں گے۔ وہی فارن آفس سینیٹ اجلاس والی بات کہ ان کے پاس دھاگے کے علاوہ دنیا کو بیچنے کیلئے ہے ہی کیا؟ آپ ان کو ہزاروں مراعات دے دیں بیچنے انہوں نے دھاگے ہی ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved