تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     01-02-2026

عمران خان کی بیماری

چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانا ایک محاورہ ہے لیکن محاورے سے ہٹ کر اگر ایک چمچ لے کر چائے کی پیالی میں چینی گھولنے کے انداز میں ہلائیں تو ایک طوفان پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے پیالی میں ڈالی گئی چائے میں ٹراپیکل سائیکلون جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ٹراپیکل سائیکلون کئی کلومیٹر وسیع ہوتا ہے اور چائے کی پیالی والا طوفان محض دو چار انچ گہرا اور اتنا ہی چوڑا ہوتا ہے۔ اسی لیے ٹراپیکل سائیکلون کا اثر ختم ہونے میں کئی دن لگ جاتے ہیں جبکہ چائے کی پیالی والا طوفان دو منٹوں میں ہی تھم جاتا ہے۔
ایسا ہی ایک طوفان ان دنوں پاکستان میں آیا ہوا ہے۔ ٹراپیکل سائیکلون والا نہیں‘ چالی کی پیالی والا طوفان اور طوفان کی وجہ ہے عمران خان بانی پی ٹی آئی کی بیماری۔ یہ آنکھوں کے سوجنے کی بیماری ہے۔ جن لوگوں نے عمران خان کو براہِ راست دیکھا ہے یا جنہوں نے ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر ان کے کلوز اَپس دیکھے ہیں‘ وہ جانتے ہوں گے کہ عمران خان کی آنکھیں جیل جانے سے پہلے بھی سوجی نظر آتی تھیں‘ یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس بیماری کی علامات پہلے سے ان میں موجود تھیں۔ جیل میں قید کے دوران بیماری کی شدت میں اضافہ ہو گیا جس کی وجہ سے انہیں ہسپتال لے جایا گیا اور تفصیلی چیک اَپ کرایا گیا۔
جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ بیماری کے بارے میں عمران خان کے اہلِ خانہ یا دوستوں اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں کو کیوں نہیں بتایا گیا تو اس کی وجہ وہی ہے جس کے باعث پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی ہے۔ اب بات چل نکلی ہے تو یہ انکشاف کرتا چلوں کہ عمران خان کی پارٹی رہنماؤں سے ملاقات نہ کرانے کی اصل وجہ کیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب پارٹی لیڈر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرتے ہیں تو ان سے ہدایات لے کر اور باہر آ کر منصوبہ بندی کرتے اور ملک میں افراتفری پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ جب عمران خان کو ہسپتال لے جایا جا رہا تھا تو اسی وجہ سے فیملی یا پارٹی رہنماؤں کو نہیں بتایا گیا کہ پھر لوگوں نے وہاں جمع ہو جانا تھا اور امن و امان کی صورتحال پیدا ہو جانے کا خطرہ تھا۔ ایسے حالات پیدا ہو سکتے تھے کہ خدانخواستہ عمران خان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔
اس معاملے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ چند روز پہلے رات 12بجے کے بعد بانی پی ٹی آئی کو خفیہ انداز میں چیک اَپ کے لیے اسلام آباد کے پمز ہسپتال لے جایا گیا۔ اس معاملے کو اتنا خفیہ رکھا گیا تھا کہ پمز کے ڈائریکٹر اور عمران خان کا چیک اَپ کرنے والے ڈاکٹر عارف خان کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ہسپتال میں کون آ رہا ہے۔ ہسپتال کے باقی عملے کو صرف اتنا بتایا گیا تھا کہ کوئی وی آئی پی شخصیت چیک اَپ کے لیے آ رہی ہے۔ عمران خان کو نہایت رازدارانہ طریقے سے ہسپتال لایا گیا‘ ان کا مکمل چیک اَپ ہوا اور پھر اسی رازداری اور خفیہ طریقے سے ان کو واپس اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔ پی ٹی آئی کے کچھ لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی سرجری ہوئی ہے۔ باوثوق ذرائع کے حوالے سے میں یہ خبر بریک کر رہا ہوں کہ عمران خان کی سرجری نہیں ہوئی بلکہ پروسیجر ہوا ہے اور اسی مقصد کے لیے انہیں مزید دو تین بار ہسپتال لایا جا سکتا ہے۔ اب انتظامیہ اس سوچ میں پڑی ہے کہ انہیں دوبارہ پمز ہسپتال ہی لایا جائے یا کسی اور ہسپتال میں انہی ڈاکٹر عارف خان سے ان کا چیک اَپ یا پروسیجر کرایا جائے۔ دیکھیں کیا فیصلہ ہوتا ہے لیکن یہ طے ہے کہ عمران خان کو مزید دو تین بار پمز یا کسی دوسرے ہسپتال لایا جائے گا۔ کب لایا جائے گا اس بارے میں کوئی مصدقہ اطلاعات تو نہیں ہیں لیکن اندازہ ہے کہ جلد۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کو جس بیماری سی آر وی او (Central Retinal Vein Occlusion) کی تشخیص ہوئی ہے‘ وہ آنکھوں کی ایک نہایت خطرناک بیماری ہے‘ جس کا بروقت اور مکمل علاج نہ ہونے کی صورت میں بینائی مستقل طور پر ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ان کی آنکھیں ملک کے سب سے لائق آئی سپیشلسٹ نے چیک کی ہیں۔ اگر ایسی کوئی صورتحال ہوتی تو وہ اس بارے میں ضرور بتاتے۔ اب مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اپوزیشن اس معاملے کو اپنے آٹھ فروری کے احتجاج کے لیے بنیاد بنانے کی کوشش کرے گی۔ اس سلسلے میں کچھ بیانات چل بھی رہے ہیں۔ حکومت پہلے ہی خائف ہے کہ اپوزیشن خصوصاً پی ٹی آئی آٹھ فروری کے روز حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اب عمران خان کی بیماری کو لے کر اگر پی ٹی آئی کے حامیوں کے جذبات کو انگیخت کر لیا گیا تو ظاہر ہے کہ لوگ سڑکوں پر نکلیں گے اور یوں امن و امان کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ میری نظر میں اس سے بچنے کا واحد طریقہ یہی ہو سکتا ہے کہ عمران خان کی بیماری کے بارے میں تمام تفصیلات میڈیا پر لائی جائیں اور لوگوں کو بتایا جائے کہ وہ اس وقت کس حالت میں ہیں اور ان کی بیماری کی کیا صورتحال ہے۔ اس سلسلے میں بانی پی ٹی آئی کی ایک وڈیو ریکارڈ کر کے ریلیز کرنا بھی معاملات کو ٹھنڈا کرنے میں کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔
عمران خان ایک بڑی پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم ہیں۔ وہ ایک بڑے کھلاڑی بھی رہے ہیں۔ ان کی سربراہی میں ہی ہماری ٹیم نے واحد کرکٹ ورلڈ کپ جیتا۔ وہ اگر کچھ مقدمات کی وجہ سے جیل میں ہیں تو ان کی صحت کا خیال رکھنا حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت اپنی اس ذمہ داری سے بے خبر نہیں ہے۔ اسی لیے ان کا چیک اَپ کرایا گیا اور پروسیجر عمل میں لایا گیا تاکہ ان کی آنکھوں کے لیے کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک عام سا معاملہ ہے لیکن اگر اپوزیشن کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ ایک خاص صورتحال ہے۔ اس حوالے سے پیدا ہونے والے ابہام کو ختم کرنے کے لیے بہرحال حکومت کو اصل صورتحال عوام کے سامنے رکھ دینی چاہیے تاکہ افواہوں کا سلسلہ بند ہو جائے۔ عمران خان کا چیک اَپ اور علاج کرنے والے ڈاکٹر عارف خان کا خصوصی بیان میڈیا پر لانا بھی اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کے حوالے سے معاملات جہاں تک پہنچ چکے ہیں ان کو آگے بڑھایا جائے تاکہ سیاسی حوالوں سے موجود اختلافات کو ختم کیا جا سکے اور جمہوریت کی گاڑی کو ہموار انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر بار بار اسی طرح چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کرنے کے مواقع پیدا ہوتے رہیں گے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں خصوصی طور پر عمران خان کی فیملی کے افراد کو ان کے ساتھ ملاقات کی اجازت بھی دی جانی چاہیے‘ اس پابندی کے ساتھ کہ اس میں وہ ایک دوسرے کی خیریت تو دریافت کر سکیں لیکن سیاسی معاملات بالکل بھی ڈسکس نہ ہوں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved