ہر سال 26جنوری کو سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت ہونے کا دعویدار بھارت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے جمہوری ڈرامہ رچاتا ہے۔ اس بار 26جنوری کو بھارت میں 77واں گنتنتر دیوس یعنی یوم جمہوریہ منایا گیا۔ اس کا آغاز کرتویہ پتھ کے سامنے فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ 26 جنوری 1950ء کو بھارت نے انگریزوں کے 1935ء کے نافذالعمل ایکٹ کو ختم کرکے اپنا تیار کردہ آئین نافذ کیا تھا۔ مظلوم کشمیری دنیا کے سامنے جارح بھارت کا اصل مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ بھارت درحقیقت جمہوریت کے نام پر سیاہ دھبہ ہے جس نے کشمیر پر اپنا غیرقانونی اور ناجائز قبضہ قائم کیا ہوا ہے۔ یوں کشمیری یوم سیاہ منا کر عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہیں کہ مقبوضہ وادی میں ظلم و جبر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بھارت کے پاس یوم جمہوریہ منانے کا کوئی جواز نہیں۔
اس روز بھارت اپنی جھوٹی عسکری قوت کی دھاک بٹھانے کی ناکام کوشش بھی کرتا ہے ۔ بھارت کو مئی 2025ء کا سبق یقینا یاد ہو گا اور وہ اپنی بدترین ہزیمت بھی نہیں بھولا ہو گا۔ اپنی سبکی مٹانے کیلئے یوم جمہوریہ پر ناکام فوجی آپریشن سیندور کی جھلکیاں دکھائی گئیں اور اس آپریشن میں استعمال ہونیوالے ہتھیاروں کی نمائش سے مودی سرکار نے تقریب کے مہمانوں اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ بھارت خطے کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے۔ اپنے دفاعی سامان کی نمائش سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ عسکری ٹیکنالوجی میں بھارت کا کوئی جوڑ نہیں۔ مئی 2025ء سے پہلے بھی بھارت نے دنیا میں اپنا یہی تاثر قائم کر رکھا تھا لیکن آپریشن سیندور کی ناکامی کے بعد بھارتی عسکری طاقت کا پول کھل چکا ہے۔ بھارت اور دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ معرکہ حق میں کس طرح پاکستانی شاہینوں نے بھارت کے رافیل ملبے کا ڈھیر بنا دیے۔ انڈین آرمی چیف کی طرف سے نئی یونٹس کے قیام کے اعلان اور بھارت کے ملٹی ڈومین آپریشنز سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارت طویل اور غیریقینی جنگوں کیلئے خود کو تیار کر رہا ہے۔ اس موقع پر انڈین آرمی چیف نے روس یوکرین جنگ کی مثال دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ مستقبل کی جنگیں چند دنوں کی نہیں بلکہ برسوں تک جاری رہ سکتی جس سے اس تاثر کو مزید تقویت ملتی ہے کہ بھارتی عسکری قیادت خطے کو ایک مستقل جنگی ماحول میں دھکیلنے کی سوچ رکھتی ہے۔ بھارت کے حالیہ نام نہاد یوم جمہوریہ کا مرکزی موضوع وندے ماترم کی 150سالہ سالگرہ پر وندے ماترم کو بنایا گیا تھا۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیئر لیئن یوم جمہوریہ کی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر مختلف ثقافتوں کی نمائش سے دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ بھارت مختلف زبانوں‘ مذاہب اور ثقافتوں کا مجموعہ ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ بھارت کی یوم جمہوریہ کی تقریب میں یورپی یونین کے فوجی دستے اور یورپی یونین سربراہ کی شرکت سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یورپ اور بھارت کے مابین بدلتے عالمی منظر نامے میں آپس میں گہرے تعلقات قائم ہیں۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ خود کو انسانی حقوق کا علمبردار کہنے والے یورپ کو بھارت میں مسلمانوں اور کشمیریوں پر ظلم کیوں نظر نہیں آتا؟ کیوں وہ اس جبر‘ اس سفاکیت کی بات نہیں کرتا؟ بھارت کی اس جارحیت پر عالمی عدالت انصاف بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے حالانکہ پاکستان کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف میں متعدد ڈوزیئر بھی پیش کر چکا ہے۔ امریکہ جو منہ زبانی پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ رہا ہے لیکن دوستیاں بھارت کے ساتھ نبھا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ڈیفنس معاہدے کر رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ بھارت کے ساتھ ابھی تک ہمارا سر کریک کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوا ہے‘ بھارت نے نہ صرف کشمیر بلکہ جونا گڑھ اور حیدرآباد پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔ یعنی بھارت خطے کا سب سے بڑا قبضہ مافیا ہے۔ کیا یہ جمہوریت ہے کہ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں پر معاشی‘ سیاسی‘ معاشرتی‘ سماجی اور مذہبی قدغنیں لگائی جائیں؟ ان کی آزادیاں سلب کر لی جائیں؟ بھارت میں اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں کو جیلوں میں دھکیلا جا رہا ہے۔ حالیہ الیکشن میں مہاراشٹرا اور بہار کے اسمبلی الیکشن میں مسلم سیاسی نمائندگی کو مزید کم کر دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو حکومتی ایوانوں میں جانے سے روکنے کیلئے لاکھوں مسلم ووٹ الیکشن کمیشن کی فہرستوں سے حذف کر دیے گئے۔ آسام کے مسلمانوں کو بنگلہ دیشی گھس بیٹھیے قرار دیتے ہوئے در بدر کیا جا رہا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کی آڑ میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ یکساں سول کوڈ کے نام پر ہندوستان میں صرف مسلمانوں ہی نہیں تمام اقلیتوں کی مذہبی آزادی سلب کی گئی ہے۔ مسلم پرسنل لا میں مداخلت‘ مسلم عائلی قوانین کو غلط قرار دینا بھی ریاستی جبر ہے۔ حال ہی میں ایک بالی وڈ فلم 'حق‘ میں مسلم پرسنل لاء پر بڑا حملہ کیا گیا ہے اور اس کو مسلم خواتین کے حقوق کیلئے غلط قرار دیا گیا ہے۔
بھارت تاریخی مساجد سمیت مسلمانوں کے دیگر مقدس مقامات پر بلڈوزر چلا رہا ہے۔ رام مندر کی تکمیل کے جشن پر مودی کا خطاب اس کا واضح عکاس ہے۔ مسلم نسل کشی مودی حکومت کا اصل مقصد ہے۔ کیا اس کو جمہوریت کہتے ہیں؟ مودی کی ہندوتوا پالیسیوں نے نام نہاد بھارتی سیکولر آئین کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ درحقیقت مودی نہ صرف پاکستان کی سالمیت کے درپے بلکہ بی جے پی حکومت ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کی شناخت و تشخص کے خاتمے کیلئے سنگھ پریوار کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور اس کیلئے2002 ء میں نریندر مودی کی وزارتِ اعلیٰ کی سر پرستی میں ہزاروں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔ مسلمانوں سے بابری مسجد بھی چھین لی گئی۔ متنازع شہریت کے قانون کی آڑ میں مسلمانوں کی دربدری کا گھناؤنا بھارتی منصوبہ بھی منظر عام پر آیا ہے۔ آر ایس ایس کا پرچارک نریندر مودی ہٹلر کے فاشسٹ نظریات پر عملدرآمد میں مصروف ہے اور اسکے نشانے پر مسلمان ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مودی کا گجرات سے دہلی تک اقتدار کا خونیں سفر مسلمانوں کی لاشوں پر ہی طے ہوا ہے۔ چانکیائی‘ مکارانہ‘ عیارانہ سیاسی نظریات پر ہندوستان آج بھی عمل پیرا ہے۔ یہ الگ بات کہ بھارت ہمیشہ سیکولرازم کا پرچار کرتا رہتا ہے‘ لیکن یہ محض ایک بنیے کی بیان بازی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ یعنی ''بغل میں چھری اور منہ سے رام رام‘‘۔بھارت بلوچستان میں دہشت گردوں کا سرپرست ہے۔ اور افغانستان میں امریکی اسلحے کی موجودگی‘ جو پاکستان کیخلاف استعمال ہو رہا ہے‘ آخر واشنگٹن اپنا اسلحہ وہاں سے لے کیوں نہیں جاتا؟ موجودہ منظر نامے میں یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ یہ اسلحہ باقاعدہ پلاننگ کیساتھ وہاں چھوڑا گیا تاکہ اسے پاکستان کیخلاف استعمال کیاجا سکے۔ اس اقدام سے امریکی منافقت عیاں ہوتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ سنگین صورتحال میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہندوستان کو دنیا کے امن کیلئے لگام دینا بے حد ضروری ہے وگرنہ یہ آگ پورے عالم کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے لہٰذا بھارت بھی ''آوازِ خلق نقارہ خدا‘‘ کی حقیقت کو تسلیم کرکے ظلم و جبر کا سلسلہ فوری بند کرے۔ بین الاقوامی برادری پر یہ بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ خطے میں قیامِ امن کیلئے مودی کے توسیع پسندانہ عزائم کا نوٹس لے۔ بھارتی ایئر فورس کو بدترین شکست‘ رافیل طیاروں کی تباہی اور آپریشن سیندور میں ناکامی کے بعد دنیا میں بھارت کی جوجگ ہنسائی ہوئی‘ اپنی اس ہزیمت کو چھپانے اور خفت مٹانے کیلئے ہندوتوا حکومت کا جنگی جنون بڑھتا جا رہا ہے۔ جس نے نہ صرف برصغیر کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ خود ہندوستان کیلئے بھی زہر قاتل ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved