تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     02-02-2026

کالم اور ادب

اخبار کا کالم‘ کیا اصنافِ ادب میں شمار کیا جا سکتا ہے؟
ایک دور میں 'ادبی کالم‘ کو کالموں کے خاندان کا ایک فرد سمجھا جاتا تھا مگر جدا تشخص کے ساتھ۔ اس بیان میں یہ بات مضمر ہے کہ کچھ کالم غیر ادبی بھی ہوتے ہیں۔ اس کی شرح یہ ہے کہ ادبی صفحات اخبار کا ایک مستقل مگر الگ حصہ تھے۔ جو کالم ادبی معاملات کو موضوع بناتے تھے‘ انہیں ادبی کالم کہا جاتا تھا۔ یہ تقسیم نفسِ مضمون کے اعتبار سے تھی۔ آج اخبار کا اپنا وجود مشتبہ ہے‘ اس لیے صفحات کی روایتی تقسیم بھی باقی نہیں۔ اب تو ایک ہی صفحہ کالموں کے لیے مختص ہے جس پر‘ جو کچھ چھپتا ہے‘ اسے کالم کہا جاتا ہے۔ آج لوگ مضمون کو بھی کالم کہہ دیتے ہیں۔ اب ادب کو حالاتِ حاضرہ کے ایک مضمون کے طور پر کالم میں زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے لیکن جسے 'ادبی کالم‘ کہا جاتا تھا‘ اس کا وجود باقی نہیں ہے۔ کالم اب سیاست کے لیے خاص ہے۔ دیگر مسائل زیرِ بحث آتے ہیں تو سیاست ہی کے پس منظر میں۔ 'کم عمری کی شادی‘ اُسی وقت موضوع بنتی ہے جب مولانا فضل الرحمن پارلیمان میں اس پر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ ادب بھی اسی وقت موضوع بنتا ہے جب حکومت ادبی ایوارڈ دیتی یا کوئی ادبی میلہ لگتا ہے۔ کالم نگاری میں موضوعاتی تقسیم اب باقی نہیں‘ جیسے ادبی کالم‘ سماجی کالم۔ میرا سوال اُس کالم سے متعلق ہے جو آج لکھا جا رہا ہے۔ کیا ہم اسے ادب کہہ سکتے ہیں؟
فکاہیہ کالم کا استثنا ابھی باقی ہے‘ جسے ادب کہنے میں شاید اختلاف نہ ہو۔ طنز ومزاح پر مبنی کالم آج بھی شوق سے پڑھا جاتا ہے اور اس کو الگ سے پہچانا جا سکتا ہے۔ تاہم مزاح لکھنے والا بھی مجبور ہے کہ اپنا مضمون دیارِ سیاست سے اٹھائے۔ اہلِ سیاست کا استہزا فکاہیہ کالم نگاروں کا من پسند موضوع ہے۔ یہ کالم کو سیاستِ حاضرہ سے مربوط رکھنا ہے کہ کالم اب سیاست سے جدا نہیں ہو سکتا۔ آج کالم سیاست کی گرفت میں ہے اور یہی کالم یہاں زیرِ بحث ہے۔
ادب اسلوب کا نام ہے۔ ایک تحریر اسی وقت ادب قرار پاتی ہے جب اندازِ تحریر گواہی دے۔ خبر بھی ایک تحریر ہے لیکن اسے ادب نہیں کہا گیا۔ سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ خبر سادہ اسلوب میں ایک واقعے کا بیان ہے۔ تو کیا سادہ انداز میں کہی گئی بات ادب نہیں ہوتی؟ اس سوال کا جواب اثبات میں دینا مشکل ہے۔ بہت سے معروف ادیب ایسے ہیں‘ سلاست جن کی ایک بڑی خوبی شمار ہوتی ہے۔ کیا اس کا مفہوم یہ ہے کہ اسلوب میں اس کے علاوہ کچھ اور ہے جو کسی تحریر کو ادبی بناتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ 'کچھ اور‘ کیا ہے؟ سلاست بھی اگر ادب کے اجزائے ترکیبی میں شمار ہوتی ہے تو پھر وہ کون سی رکاوٹ ہے جو اخبار کی خبر کو ادب قرار دینے میں مانع ہے؟ یہ بات نثری ادب کے بارے میں کہی جا رہی ہے۔ شاعری کے بارے میں معلوم ہے کہ ایک طے شدہ معیار ہے جو کسی تحریر کو شاعری بناتا ہے۔
اخباری کالم میں سیاست موضو ع بنتی ہے۔ تجزیہ اس کا اصل میدان ہے۔ کالم نگار سطحِ زمین پر برپا ہونے والے واقعات کا تجزیہ کرتا ہے۔ زمینی حقائق سے جڑا رہنا اس کی مجبوری ہے۔ تجزیہ تفہیم کا متقاضی ہوتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ وہ عام فہم ہو۔ اس کا مقصود عام آدمی کو واقعات میں چھپے سیاسی وسماجی حقائق کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ بات سادہ انداز میں کہی جائے۔ ابلاغ اس کی پہلی ترجیح ہے۔ کالم شخصی رائے بھی ہے۔ ایک کالم نگار بالعموم ایک نقطہ نظر رکھتا ہے۔ وہ محض تجزیہ نہیں کرتا‘ تبصرہ بھی کرتا ہے۔ اس کی خواہش ہو تی ہے کہ اس کی بات قاری کو متاثر کرے۔ ابلاغ میں تاثیر کو شامل کرنا اس کا کام ہے۔ سوال یہ ہے کہ تحریر میں تاثیرکہاں سے آتی ہے؟ کیا یہ ادب سے آتی ہے؟
سرسید‘ مولانا ابوالکلام آزاد‘ مولانا مودودی‘ پھر ہمارے عہد میں ارشاد احمد حقانی‘ عبدالقادر حسن‘ نذیر ناجی‘ مجیب الرحمن شامی‘ ان سب نے اپنے عہد کی سیاست پر لکھا۔ کالم اور پرانے لوگوں کی تحریروں میں فرق یہ ہے کہ کالم مختصر ہوتا ہے۔ جہاں تک نفسِ مضمون کا تعلق ہے تو دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ مولانا آزاد یا مولانا مودودی نے طویل مضامین لکھے جواس عہد کی سیاست سے متعلق تھے۔ اس کو ادب کہا جاتا ہے۔ اگر یہ ادب ہے تو کیا آج لکھا جانے والا کالم ادب نہیں ہے؟
یہ بحث جب اس مقام تک پہنچتی ہے تو الجھ جاتی اور کسی حد تک موضوعی بن جاتی ہے۔ تاہم چند اصول شاید متعین کیے جا سکتے ہیں جن سے کسی تحریر پر ادبی اور غیر ادبی ہونے کا حکم لگایا جا سکتا ہے۔ ایک اصول زبان وبیان کی صحت ہے۔ ادب کے لیے ضروری ہے کہ وہ زبان کے مسلمات کو قبول کرتا ہو۔ معیاری زبان وہ ہوتی ہے جو اہلِ علم کے ہاں مستعمل ہو۔ انہی کا فرمایا ہوا مستند سمجھا جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ زبان کی آرائش کی گئی ہو۔ پودوں کی طرح زبان کی تہذیب کے بھی طریقے ہیں۔ ہر انسان کا ایک جمالیاتی ذوق ہے۔ آرائش کسی شے کو جمالیات کے لیے باعثِ کشش بناتی ہے۔ جمالیات ایک صلاحیت ہے جو پیدائش کے ساتھ ودیعت کی جاتی ہے۔ دیگر صلاحیتوں کی طرح ہم اس کو بہتر بناتے ہیں۔ اس کی اپنی ریاضت ہے۔ قاری کی بھی ایک جمالیاتی حس ہوتی ہے۔ جو تحریر اس حس کو متوجہ اور متاثر کرتی ہے‘ وہ ادب بن جاتی ہے۔ تحریر کی آرائش کا ایک علم ہے۔ تلمیح‘ تشبیہ‘ استعارہ اور لف ونشر سمیت کئی صنعتیں ہیں جن کا استعمال تحریر کی زیبائش کرتا اور اسے قاری کے لیے باعثِ کشش بنا دیتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لکھاری اور قاری کا ہم ذوق ہونا بھی ضروری ہے۔ چونکہ عام طور پر ایسا ممکن نہیں ہوتا‘ اس لیے بعض تحریریں مقبول ہو جاتی ہیں مگر ادب کہلوانے کی مستحق نہیں ہوتیں۔ لکھاری اور قاری کے بھی درجے ہیں جن کا تعلق علم اور ریاضت سے ہے۔ یہ مناسبت ادیبوں کو کئی دائروں میں تقسیم کر دیتی ہیں۔ ابوالکلام کا قاری وہی ہو گا جس کا ذوق آزاد سے ہم آہنگ ہوگا۔ یہی معاملہ کالم نگاروں کا ہے۔ ہر کالم نگار کے حصہ میں وہی قارئین ہوتے ہیں جو اس کے ہم ذوق ہوتے ہیں۔
اگر یہ بات درست ہے تو آج کے کالم پر مجموعی طور پر کوئی حکم لگانا مشکل ہے۔ وہ ادبی ہو سکتا ہے اور غیر ادبی بھی۔ اس کا تعلق مضمون نگار کے علم‘ ذوق اور ریاضت سے ہے۔ گویا معاملہ نفسِ مضمون کا نہیں‘ اسلوب کا ہے۔ یہ درست ہے کہ ادب کی مروجہ اصناف میں لکھنے والے کے پاس یہ گنجائش ہوتی ہے کہ وہ واقعے کو کوئی رنگ دیدے۔ افسانہ اور ناول نگار کے پاس حقِ انتخاب ہوتا ہے کہ وہ مرضی کا پلاٹ اور کردار جمع کر سکتا ہے۔ واقعات میں مرضی سے رنگ بھر سکتا ہے۔ اخباری کالم میں مگر اسے زمینی حقیقتوں سے مربوط رہنا پڑتا ہے۔ پلاٹ اس کا اپنا ہوتا ہے نہ وہ اپنی مرضی سے کردار تخلیق کر سکتا ہے۔ یہی بات افسانے اورکالم کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے۔ افسانہ نگارکسی کردار کے گال پر چاہے تو تل دکھا دے۔ کالم نگار مگر کرداروں کے خدوخال کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ لوگ جب حقیقی کرداروں کی آرائش اپنی مرضی سے کرتے ہیں تو کالم کو افسانہ بنا دیتے ہیں۔ اس طرح وہ ایک اقلیم سے دوسری اقلیم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس سے ممکن ہے مقبولت بڑھ جاتی ہو مگر پھر تحریر پر کالم کا اطلاق نہیں ہو تا۔
کالم کو ادب بنانا ایک مشکل کام ہے۔ افسانہ نگاری‘ اس کے مقابلے میں آسان ہے۔ کالم نگار کا امتحان یہ ہے کہ و ہ کالم کی عصمت برقرار رکھ کر اسے ادب بنا دے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved