تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     02-02-2026

سرسبز محبت۔ ہری زمین…(3)

اگلے دن ہمارا پرانے ڈھاکہ‘ اور اس کے اطراف میں جانے کا ارادہ تھا۔ اسی روز بنگلہ بازار میں مولانا حبیب الرحمن صاحب نے‘ جو ایک بڑے اشاعتی ادارے کے مالک اور پاکستان کے بہت محبت والے دوست ہیں‘ دیگر ناشرینِ کتب سے ملاقات کا اہتمام کیا تھا اور پُرتکلف ظہرانے کا بھی۔ سو ہم ناشتے کے بعد پرانے ڈھاکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ 'روانہ‘ کا لفظ رواروی میں لکھا لفظ نہ جانیے۔ ڈھاکہ کے نئے علاقوں سے پرانے شہر جانا باقاعدہ روانہ ہونا ہی مانا جائے۔ ویسے تو نیا ڈھاکہ کیا اور پرانا کیا‘ ہر جگہ ٹریفک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ڈھاکہ کی ٹریفک جیسی میں نے کہیں اور نہیں دیکھی۔ نہ اس جیسے ٹریفک جام کہیں اور ملے۔ پہیوں والی متحرک چیزوں کی کون سی قسم ہے جو اس دھارے میں شامل نہیں۔ سرکاری بسیں‘ کاریں‘ موٹر سائیکلیں‘ ویگنیں‘ پیڈل والے سائیکل رکشہ‘ جنہیں انسان کھینچتا ہے‘ موٹر سائیکل رکشہ‘ ہتھ ریڑھیاں‘ جنگلا لگے پنجرہ نما تین پہیوں والے موٹر رکشہ‘ ٹرک‘ پک اَپ‘ ٹرالے اور ٹرالیاں۔ اور انہی سب کے بیچ پیدل چلتے انسان۔ ایسا ہجوم کہ آپ اس دھارے میں شامل ہوگئے تو نہ آگے جا سکتے ہیں نہ پیچھے۔ مجھے یہ علم تھا کہ سائیکل رکشہ پورے بنگلہ دیش میں عام سواری ہے۔ اب اس میں جدت یہ آئی ہے کہ سائیکل کے فریم میں ایک چھوٹی سی موٹر فٹ کر دی گئی ہے جس سے انسانی مشقت کافی کم ہو گئی ہے۔ اب زیادہ سائیکل رکشہ یہی ہیں لیکن پیڈل والے بھی کافی زیادہ ہیں۔ پاکستان میں چونکہ سائیکل رکشہ بہت عرصہ پہلے ختم ہو چکے۔ (یاد پڑتا ہے آخری شہر بہاولپور تھا جہاں ختم کیے گئے) اس لیے میں نے بھارت کے بعد بنگلہ دیش ہی میں اتنی بڑی تعداد میں دیکھے۔ اور تعداد... اللہ اللہ۔ لاکھوں کا لفظ لکھیے تب بھی شک ہوتا ہے کہ صرف ڈھاکہ کے لیے بھی یہ ناکافی لفظ ہے۔ ہر طرف سائیکل رکشہ کا راج ہے اور ان کے لیے شاید کوئی ضابطہ بھی نہیں۔ کہیں سے بھی نکل آئیں اور کسی سڑک پر درمیان یا دائیں بائیں کناروں پر کہیں بھی رواں ہو جائیں۔ من موجی سواری ہے جو دریا کی موجوں میں ہر طرف پھرتی ہے۔ ہم ابھی پرانے ڈھاکہ میں داخل بھی نہیں ہوئے تھے کہ اس دریا میں قید ہو گئے۔ بمپر سے بمپر ملا ہوا‘ پہیے پر پہیہ چڑھا ہوا‘ کھوے سے کھوا چھلتا ہوا۔ ہارن اور انسانی آوازوں سے گونجتا ہوا شہر اور لوگ گھنٹوں کچھوے کی چال چلتے ہوئے‘ منزل پر پہنچنے کا انتظار کرتے ہوئے۔ میٹرو اور جدید پبلک ٹرانسپورٹ میں نہیں دیکھ سکا‘ سنا ہے اس سے کچھ بہتری آئی ہے۔ لیکن اگر صبح یا شام کے اوقات میں ان راستوں پر نکلیں تو 15 سے 20 میل دور اپنی گاڑی پر جانے میں سمجھیے کہ چار سے پانچ گھنٹے گئے۔ کم ہجوم کے وقت میں بھی تین یا چار گھنٹے تو حساب میں جوڑ ہی لیجیے۔
بنگلہ دیش کے بارے میں کچھ باتیں ذہن میں بٹھا لیجیے۔ یہ لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ مربع کلو میٹر کا ملک ہے‘ یعنی اس کا رقبہ ہمارے صوبہ سندھ جتنا ہو گا۔ بنگلہ دیش میں چھوٹے دریائوں سے لے کر بڑے دریائوں تک‘ کل تعداد 1400 کے لگ بھگ ہے۔ آبی رقبہ نکال دیا جائے تو زمینی رقبہ ایک لاکھ تیس ہزار مربع کلومیٹر رہ جاتا ہے۔ واضح رہے کہ آبی ذخائر کو نکال کر صوبہ سندھ کا رقبہ ایک لاکھ 33 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ اس طرح بنگلہ دیش کا زمینی رقبہ صوبہ سندھ سے بھی کم ہے۔ اس قدر جگہ میں اگر 17 کروڑ لوگ بستے ہوں تو گنجان آبادی کا تصور آپ خود کر لیں۔ اس تصور کو مزید آسان کرنے کیلئے بتا دیتا ہوں کہ صوبہ سندھ کی کل آبادی پانچ کروڑ ستاون لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ نتیجہ یہ کہ بنگلہ دیش میں زمین کم اور انسان بہت زیادہ۔ زمین کی قیمت اتنی ہے کہ اللہ اللہ! لیکن یہ اعداد وشمار کسی اور وقت سہی۔ اس وقت تو یہ بتانا تھا کہ ہر جگہ‘ ہر طرف سے انسان اُبل رہے ہیں۔ ایسا ہجوم کہ سر چکرا جائے۔ دنیا کا آٹھواں سب سے گنجان آبادی والا ملک۔ اوسطاً ایک مربع کلومیٹر میں 1350 لوگ بستے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں فی مربع کلومیٹر اوسطاً 331 لوگ رہتے ہیں۔ آبادی کے اس دبائو نے بنگلہ دیش میں بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں‘ کرپشن اور لاقانونیت نے بھی۔ ہم لوگ اپنے بازاروں اور سڑکوں پر تجاوزات کا رونا روتے ہیں‘ خاص طور پر کراچی میں تجاوزات کی کوئی حد نہیں۔ لیکن جس طرح کے اور جتنے تجاوزات بنگلہ دیش خصوصاً ڈھاکہ میں ہیں‘ انہیں دیکھ کر ہوش اڑ جاتے ہیں۔ ایک مربع فٹ کی جگہ بھی مل جائے تو کوئی وہیں اپنا خوانچہ لگا لیتا ہے۔ نتیجہ آپ خود تصور کر لیجیے کہ پیدل چلنا بھی دشوار کام ہے۔ مجھے ڈھاکہ کے ایک دوست نے بتایا‘ معلوم نہیں کتنا سچ ہے اور کتنا مبالغہ‘ کہ سابق حکومت کے ایک وزیر کو صرف ڈھاکہ سے 220 کروڑ ٹکہ ہر روز بھتہ ملتا تھا۔ راستے میں ٹریفک پولیس کے اہلکار کم کم نظر آئے۔ بتایا گیا کہ جولائی 24ء کی تحریک میں پولیس والے عوام کے غیظ وغضب کا شکار بنے تھے‘ سو انہوں نے ڈیوٹی سے انکار کر دیا اور ابھی صورتحال معمول پر نہیں آئی۔
سو ہم کسی طرح اس ہجوم میں بہتے بہتے بنگلہ بازار پہنچے۔ ہمارے ہاں جیسے کتابوں کے ہول سیل بازار کو اردو بازار کہتے ہیں اور وہ عام طور پر شہروں کے پرانے علاقوں میں ہیں‘ اسی طرح بنگلہ بازار بھی کتابوں کی ہول سیل مارکیٹ ہے۔ مولانا حبیب الرحمن ہمارے منتظر تھے۔ کچھ ناشرین سے ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات بہت خوش آئند تھی۔ اس کے بعد مولانا کے سجے سجائے دفتر میں ایک پُرتکلف ظہرانہ ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ گائے کا گوشت بنگلہ دیش میں مچھلی کے بعد مرغوب ترین ہے۔ اس دن جو خاص قسم کا بھنا گوشت ہمیں کھلایا گیا وہ ذائقے میں بھی منفرد تھا۔ اس کے بعد غنودگی ہونا جائز تھی لیکن ہمارے میزبانوں نے ہمیں ہاتھ پکڑ کر کھڑا کر دیا کہ اٹھیے! اب صدرگھاٹ دیکھنا ہے اور اس کے بعد یہیں بنگلہ بازار میں مغرب کے بعد بنگلہ دیش کے ناشرین کی سب سے بڑی تنظیم 'باپس‘ میں آپ کے اعزاز میں ایک ملاقات کا اہتمام کیا گیا ہے‘ جہاں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوگی لہٰذا وقت کم ہے۔ ہم نکلے اور پیدل صدر گھاٹ کی طرف چل پڑے۔
صدر گھاٹ ڈھاکہ میں بہنے والی بوڑھی گنگا کے کنارے ہے اور بڑی کشتیاں اور لانچیں‘ بڑی تعداد میں یہاں سے بنگلہ دیش کے شہروں بریسال وغیرہ کے لیے چلتی ہیں۔ بنگلہ بازار کی چھوٹی سڑکیں اور گلیاں وہی منظر پیش کرتی تھیں جو کسی پُرہجوم شہر کے پرانے علاقے میں ہو سکتا ہے۔ صفائی کا انتظام نہایت خراب‘ کیچڑ سے بھرے راستے اور ہتھ ریڑھیوں کے بیچ سے راستہ بنانا نہایت مشکل۔ ذرا آگے چل کر کتابوں کا بازار سبزی منڈی میں تبدیل ہونے لگا۔ دائیں بائیں دکانوں میں پیاز اور آلو کی بھری ہوئی بوریاں دکھائی دینے لگیں۔ بس یہی صدر گھاٹ کا آغاز تھا۔ ذرا سا اور آگے ایک راستے پر جنگلے لگے ہوئے نظر آئے۔ اندر جانے کے لیے یہاں سے ٹکٹ لیا جاتا ہے۔ یہ بوڑھی گنگا کا گھاٹ تھا۔ بوڑھی گنگا کا نام سن کر مجھے بڈھا راوی یاد آ گیا جو راوی کے رخ بدلنے کے بعد صدیوں ایک تالاب کی صورت لاہور شاہی قلعے اور مسجد کے سامنے رہا اور اب گریٹر اقبال پارک میں دفن ہو چکا۔ لیکن بوڑھی گنگا تو ایک بڑا اور گہرا دریا ہے۔ یہ شاید دریائے گنگا کی ایک شاخ رہی ہو گی لیکن اب اس کا گنگا سے کوئی تعلق نہیں۔ دریا کنارے بڑی بڑی کشتیاں اور لانچیں کھڑی تھیں۔ ایک ایک کشتی دو دو‘ تین تین ہزار لوگوں کو دریا پار لے کر جاتی ہے۔ یہ صدر گھاٹ انگریز دور کا بنا ہوا ہے‘ تاہم یہ دریا بہت سے تجارتی فائدوں کے لیے ہمیشہ سے ڈھاکہ کے لیے اہم رہا اور پہلے بھی اس کے گھاٹ جہاز رانی کے لیے استعمال ہوتے رہے تھے۔ سعود پیارے! جب نسلیں اور صدیاں فنا ہو جاتی ہیں تو دریا ان کی گواہی کے عینی شاہد رہ جاتے ہیں۔ یہ بوڑھی گنگا بھی ڈھاکہ کی تاریخ کی عینی شاہد ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved