تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     02-02-2026

بیانات سے زیادہ اعداد بولتے ہیں

یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ایک فری ٹریڈ ایگریمنٹ ہوا ہے جسے 'مدر آف آل ڈیلز‘ کہا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ معاشی اعتبار سے پاکستان کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپورٹ ٹیکسٹائل ہے اور تقریبا 75 فیصد ٹیکسٹائل یورپی یونین کو ایکسپورٹ کی جاتی ہیں۔ پاکستان کے پاس چونکہ جی ایس پی پلس سٹیٹس ہے‘ لہٰذا اس کے تحت درآمدی اشیا پر ڈیوٹی صفر ہے البتہ بھارت کو یہ سہولت میسر نہیں اور اس کی درآمدات پر تقریباً نو فیصد ڈیوٹی عائد ہے۔ پاکستان اس برتری کا بھرپور فائدہ اٹھاتا رہا ہے لیکن اب شاید حالات تبدیل ہو جائیں۔ نئے معاہدے کے تحت یورپ بھارتی اشیا پر ڈیوٹی ختم کر دے گا۔ اس اعتبار سے بھارت اور پاکستان برابری کی سطح پر آ جائیں گے۔ مگر بھارت میں بجلی‘ گیس اور شرحِ سود پاکستان کی نسبت کم ہے اور حکومت تقریباً سات فیصد کی ایکسپورٹ سبسڈی بھی دیتی ہے‘ لہٰذا پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے اگلے سال یورپ میں ایکسپورٹ کرنا ایک مشکل چیلنج بن سکتا ہے۔ ابھی صرف معاہدے پر اتفاق ہوا ہے‘ اس کے معاشی اثرات اگلے برس تک نظر آئیں گے۔ ابھی اسے یورپی یونین پارلیمنٹ سے منظوری درکار ہے اور اس کی عملی شکل تقریباً ایک سال کے بعد سامنے آئے گی۔ ان حالات کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدکنندگان کے لیے بجلی کا ریٹ تقریباً چار روپے فی یونٹ کم کرنے کا اعلان کیا ہے اور برآمدکنندگان کے لیے شرحِ سود بھی کم کر دی ہے۔ نارمل شرح سود 10.5 فیصد ہے لیکن برآمدکنندگان اب ساڑھے چار فیصد پر قرض لے سکتے ہیں۔ سٹیٹ بینک نے پہلے بھی ایکسپورٹرز کیلئے قرض کی شرح میں تین فیصد کی رعایت دے رکھی تھی‘ اب چھ فیصد کی رعایت اور بجلی ریٹ میں کمی سے ایکسپورٹرز کو فائدہ ہو گا اور وہ یورپی یونین مارکیٹ میں بھارت کا بہتر مقابلہ کر سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ان سہولتوں کے وعدے پر قائم رہے اور اسے ایک مستقل پالیسی کے طور پر اپنائے۔ گزشتہ برس اپریل میں وزیراعظم نے ایکسپورٹرز کے لیے بجلی کی قیمت سات روپے فی یونٹ کم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس پر آج تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ اس مرتبہ بھی اگر وعدوں کو عملی شکل نہ دی گئی تو ملکی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
پاکستان کی معیشت آج جس مقام پر کھڑی ہے‘ وہاں بیانات سے زیادہ اعداد وشمار بولتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک سال میں سات لاکھ 62 ہزار سے زائد پاکستانی روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑ گئے ہیں۔ یہ کوئی معمولی ہجرت نہیں بلکہ ایک ایسا معاشی بحران ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ صرف دسمبر میں 76 ہزار سے زائد افراد کا ملک سے نکل جانا غیر معمولی رجحان ہے۔ سب سے زیادہ پاکستانی (پانچ لاکھ تیس ہزار کے قریب) سعودی عرب گئے۔ ان میں مزدور بھی شامل ہیں‘ ہنرمند بھی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی۔ سوال یہ نہیں کہ لوگ کیوں جا رہے ہیں‘ سوال یہ ہے کہ ملک انہیں روک کیوں نہیں پا رہا؟ سیاسی بے یقینی‘ غیر مستقل معاشی پالیسیوں‘ بھاری ٹیکسوں اور مہنگی توانائی کی وجہ سے ملک میں روزگار کے دروازے ہر روز تنگ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ آج پاکستان کی معیشت کا سب سے مضبوط ستون بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ہیں۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 19.7 ارب ڈالر ملک میں آئے۔ یہ رقم نہ قرض ہے‘ نہ سود کی محتاج۔ جبکہ اسی دورانیے میں غیر ملکی سرمایہ کاری محض808 ملین ڈالر رہی۔ یعنی ترسیلاتِ زر غیر ملکی سرمایہ کاری سے تقریباً 23 گنا زیادہ رہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو سالانہ تقریباً چالیس ارب ڈالر دینے والے پاکستانیوں کیلئے کوئی مربوط پالیسی نہیں ہے۔ برآمدات کی بات کی جائے تو وہ بھی تقریباً 15.5 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔ یہ اعداد وشمار حکومت کے ان بیانات کی نفی کرتے ہیں کہ برآمدات اور سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو سنبھالا جا رہا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں تقریباً 44 فیصد کمی حکومتی پالیسیوں پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سرمایہ کار کو سب سے زیادہ خوف غیر یقینی صورتحال سے ہوتا ہے اور پاکستان اس وقت اسی کیفیت کا شکار ہے۔ ہر بجٹ میں نئی سمت‘ ہر چند ماہ بعد نیا ٹیکس‘ بجلی اور گیس کی ناقابلِ برداشت قیمتیں اور حقیقت سے کٹی ہوئی شرح سود‘ ایسے ماحول میں سرمایہ کاری خواب ہی رہتی ہے۔ حکومت مالی نظم وضبط کے دعوے ضرور کر رہی ہے اور پرائمری سرپلس بھی حاصل ہوا ہے مگر سٹیٹ بینک کے مطابق آئی ایم ایف کے اہداف حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ مہنگائی کی شرح پانچ سے چھ فیصد تک آ چکی‘ مگر شرح سود میں کمی نہیں ہو رہی۔ اس پالیسی سے صنعت‘ کاروبار اور روزگار مسلسل دباؤ میں دکھائی دیتے ہیں۔ شاید اسی لیے نوجوانوں کو پاکستان میں بہتر مستقبل دکھائی نہیں دے رہا اور وہ بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔
ایف بی آر نے جنوری میں 16 فیصد اضافی ٹیکس اکٹھا کیا۔ کُل ایک کھرب 31 ارب روپے جمع کیے گئے جو گزشتہ سال 873 ارب روپے تھے۔ اگرچہ یہ وصولیاں ایک کھرب 47 ارب روپے کے ہدف سے 16 ارب روپے کم ہیں تاہم اس کارکردگی نے آئندہ مہینوں میں مزید گروتھ کی امید پیدا کی ہے۔ اس کارکردگی کا مثبت پہلو براہِ راست ٹیکسوں میں اضافہ ہے‘ خاص طور پر انکم ٹیکس میں 26 فیصد اضافہ شاید اس بات کا اشارہ ہے کہ انفورسمنٹ‘ ڈیجیٹل ٹریکنگ اور ٹیکس تنازعات کے فیصلوں نے نتائج دینا شروع کر دیے ہیں۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو طویل مدت میں ٹیکس بیس وسیع ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آئینی عدالت کی جانب سے سپر ٹیکس کو برقرار رکھنے کے فیصلے سے توقع ہے کہ 300 ارب روپے اضافی حاصل ہوں گے‘ جو اہداف کے خلا کو پُر کر سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف پہلے ہی ایف بی آر ٹیکسوں کا سالانہ ہدف 150 ارب روپے کم کر چکا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اس عارضی بہتری کو اصلاحات کی طرف موڑ پائے گی‘ یا اس کامیابی کو بنیاد بنا کر سخت فیصلے ایک بار پھر مؤخر کر دیے جائیں گے؟ اگر ٹیکس اصلاحات کو صنعتی پالیسی‘ توانائی کی قیمتوں میں توازن اور شرحِ سود میں حقیقت پسندانہ کمی کے ساتھ نہیں جوڑا جاتا تو یہ کارکردگی ایک وقتی ابھار ثابت ہو گی۔
معاشیات میں ایک اصطلاح ''مورل ہیزرڈ‘‘ (Moral Hazard) استعمال کی جاتی ہے۔ یعنی ایسی صورتحال جہاں اس یقین کے ساتھ بڑے مگر غلط فیصلے لیے جاتے ہیں کہ ان فیصلوں کے نتائج سے کوئی نہ کوئی ضرور بچا لے گا۔ کہا جاتا ہے کہ قرض کا عادی شخص بھی نشے کی طرح قرضوں کی لت کا شکار ہوتا ہے۔ دونوں فوری فائدے کے لیے مستقبل کے نقصانات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ماضی میں پاکستانی حکومتوں کا رویہ بھی ایسا ہی رہا اور موجودہ حالات بھی مختلف نہیں ۔ حد سے زیادہ قرض‘ روپے کو مصنوعی طور پر مضبوط رکھنا‘ درآمدات میں اضافہ اور مالی فضول خرچی اسی لت کی علامات ہیں۔ اس وقت پاکستان آئی ایم ایف کے پچیسویں پروگرام کا حصہ ہے۔ ابتدا میں قرض مسئلے کا حل دکھائی دیتا ہے مگر وقت کے ساتھ یہ ترقی کے بجائے بقا کی مجبوری بن جاتا ہے۔ حکومت کو خطرات کا علم ہوتا ہے مگر اس کے باوجود اصلاحات کا عمل مؤخر کیا جاتا ہے اور بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام تو چل رہا ہے مگر اصلاحات محدود ہیں۔ ٹیکس تو بڑھائے گئے ہیں مگر اخراجات کم نہیں ہوئے۔ زرمبادلہ میں بہتری اصلاحات سے نہیں بلکہ ترسیلاتِ زر کی بدولت ہے‘ برآمدات جمود کا شکار ہیں اور روپیہ اب بھی گراوٹ کا شکار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک حکومت سنجیدہ اصلاحات نہیں کرے گی‘ آئی ایم ایف پروگرام ختم نہیں ہوں گے۔ قرضوں سے فائدہ حکمرانوں کو ہو گا اور قیمت ہمیشہ عوام ادا کرتے رہیں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved