بیت اللہ الحرام کا زندگی میں ایک مرتبہ حج کرنا ہر صاحبِ حیثیت مسلمان پر فرض ہے۔ جو شخص صحت مند ہو اور اللہ نے اس کو وسائل عطا کیے ہوں‘ اس کے لیے یہ بات کسی بھی طور پر جائز نہیں کہ حج کی ادائیگی میں غفلت یا کوتاہی کا مظاہرہ کرے۔ حج کے علاوہ سال میں کسی بھی وقت عمرے کی ادائیگی بھی کی جا سکتی ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے ہر مسلمان بیتاب رہتا ہے۔ جو شخص ایک مرتبہ زیارت کر لیتا ہے‘ وہ دوبارہ زیارت کے لیے اپنے دل میں پہلے سے بھی زیادہ ذوق اور شوق کو ابھرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ وسائل اور وقت ہر وقت‘ ہر کسی کے لیے یکساں نہیں رہتے‘ اس لیے بہت سے لوگ کئی مرتبہ خواہش کے باوجود پوری زندگی میں ایک مرتبہ بھی زیارتِ حرمین سے بہرہ ور نہیں ہو پاتے جبکہ اس کے برعکس بعض لوگوں کو زندگی میں ایسے مواقع مل جاتے ہیں کہ وہ تواتر کے ساتھ حرمین شریفین کی زیارت سے بہرہ ور ہو جاتے ہیں۔ یہ سعادت درحقیقت اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل ہی سے حاصل ہوتی ہے وگرنہ بہت سے لوگ وسائل اور توانائی ہونے کے باوجود حرمین شریفین کا قصد کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
الحمدللہ مجھے زندگی میں کئی مرتبہ حرمین شریفین کی زیارت کا موقع ملا۔ 19 جنوری کو ایک مرتبہ پھر اپنے گھر والوں کے ہمراہ زیارتِ حرمین شریفین کا موقع میسر آیا۔ مکہ مکرمہ میں عمرے کی ادائیگی اور بیت اللہ الحرام میں نمازوں کی ادائیگی یقینا انسان کی روحانی تشنگی اور اداسیوں کو دور کرنے کا سبب بنتی ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ اس زیارت کے دوران لوگوں کے بہت سے روحانی اور مادی مسائل حل ہو جاتے ہیں اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں کی جانے والی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ جو شخص بیت اللہ میں داخل ہو جاتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی بے قراری اور خوف کو امن وسکون سے تبدیل کر دیتے ہیں۔
بیت اللہ شریف میں مختلف اقوام کے لوگوں سے ملنے کا موقع بھی میسر آتا ہے اور انسان کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اس مادیت زدہ دور میں بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد اللہ اور شعائر اللہ کی محبت میں غرق ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید‘ نبی کریمﷺ کی رسالت‘ قرآن مجید کی تلاوت اور بیت اللہ الحرام سے وابستگی دنیا کے مختلف علاقوں کے رہنے والے مسلمانوں کو تسبیح کے موتیوں کی طرح آپس میں ملا دیتی ہے۔
زیارتِ حرمین شریفین کے دوران تقویٰ کے موضوع پر جمعہ کا خطبہ سننے کا موقع بھی میسر آیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی خشیت کے حوالے سے اس خطبے میں مسلمانوں کی توجہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے ڈر کی طرف مبذول کرایا گیا۔ یقینا اللہ تبارک وتعالیٰ کی خشیت اور اس کا ڈر ایمان اور عمل کی اصلاح کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ جب انسان تقویٰ کو اختیار کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی تنگیوں کو دور فرما دیتے‘ معاملات کو آسان کر دیتے‘ رزق میں اضافہ کر دیتے اور اس کے گناہوں کو معاف فرما کے اجر کو دوچند کر دیتے ہیں۔ تقویٰ رکھنے والا شخص یقینا اللہ کی نظروں میں معزز اور محترم ٹھہرتا ہے۔ تقویٰ کی وجہ سے انسان میں نیکی وبدی اور حق وباطل میں امتیاز کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ تقویٰ سے دوری کی وجہ سے بہت سی اقوامِ سابقہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلام اللہ میں اس بات کو صراحت سے بیان فرما دیا کہ اگر بستیوں کے رہنے والے لوگ ایمان وتقویٰ کے راستے کو اختیار کرتے تو اللہ تبارک وتعالیٰ آسمان وزمین سے برکات کے دروازوں کو ان پر کھول دیتا لیکن انحراف کرنے اور ناشکری کی وجہ سے اُن پر اللہ تبارک وتعالیٰ کی پکڑ اور اس کا غضب اترا۔
اسلام کی دعوت بنیادی طور پر اللہ تبارک وتعالیٰ کی خشیت‘ تقویٰ اور للہیت کی دعوت ہے۔ تقویٰ اور للہیت جیسے اوصاف انسان میں عاجزی اور انکساری کو پیدا کرتے اور اُس کو اپنی حیثیت کو پہچاننے کا موقع دیتے ہیں۔ صحنِ حرم میں بیٹھ کر تقویٰ کے عنوان پر دیے جانے والے اس پُرمغز خطاب کو انتہائی توجہ کے ساتھ سننے کا موقع ملا اور یقینا سوچ و فکر کے بہت سے زاویوں کی اصلاح ہوئی۔
بیت اللہ الحرام کے قصد اور مکہ مکرمہ میں حاضری کے ساتھ ساتھ مدینہ طیبہ کی حاضری بھی انسان کی روحانی ترقی کا سبب بنتی ہے۔ مدینہ طیبہ میں پہنچ کر جب انسان مسجد نبوی شریف میں نماز ادا کرتا ہے تو اس کے ذہن کی سکرین پر ماضی کے وہ واقعات چلنا شروع ہو جاتے ہیں کہ جب اسلام کی دعوت کو مدینہ میں قرار حاصل ہوا اور نبی کریمﷺ نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کے لیے مسجد قبا کے بعد مسجد نبوی شریف کو تعمیر کیا۔ مسجد قبا اور مسجد نبوی شریف کی بنیاد درحقیقت تقویٰ ہی پر رکھی گئی تھی اور اس میں وہ لوگ آ کر اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور سر بسجود ہوتے تھے جن کا دل اللہ کی خشیت اور اس کے خوف سے لبریز ہوتا تھا۔ مدینہ طیبہ میں اخوت اور بھائی چارے کی بنیاد پر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا گیا جہاں ہر طرف خیر خواہی کا دور دورہ تھا۔ مہاجر اور انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین گو کہ آپس میں رشتہ دار نہ تھے لیکن اس انداز سے ایک دوسرے سے جڑے کہ ان کی محبت اور اخوت نے خونی رشتوں کو بھی ماند کر دیا۔ قرونِ اولی کا یہ عظیم معاشرہ فقط مدینہ طیبہ کی بستی تک محدود نہ رہا بلکہ ابتدائی طور پر حجاز ویمن اور بعد ازاں قیصر وکسریٰ کے ایوان بھی دعوتِ توحید کے اثرات کی لپیٹ میں آ گئے۔ دنیا ایک نئے عالمگیر نظام سے روشناس ہوئی جس نے ایک ہزار برس تک دنیا کی تاریخ اور سیاست میں ایک ایسا انقلاب پیدا کیا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہ ملتی تھی۔
مسجد نبوی شریف میں نمازوں کو ادا کرنا جہاں روحانی ترقی کا سبب ہے وہیں ایک مسلمان میں مدینہ طیبہ میں جا کر اپنی تاریخ سے جڑائو کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اس کی قوتِ عمل میں اضافہ ہوتا ہے۔ مکہ اور مدینہ میں دنیا بھر سے آنے والے زائرین کی تڑپ اور ذوق وشوق کو دیکھ کر یہ بات بھی محسوس ہوتی ہے کہ گو مادہ پرستی کی وجہ سے مسلمانوں کی اکثریت دین سے دور ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود ایمان وعمل کی شمع لاکھوں افراد کے اذہان وقلوب کو منور کر رہی ہے۔
حرمین شریفین کی زیارت بہت سے لوگوں کی زندگی میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کرتی ہے۔ وہ لوگ جو ارکانِ اسلام کی ادائیگی میں کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں‘ اس زیارت کی وجہ سے اپنی عبادات میں پہلے سے زیادہ توجہ دیتے اور بہت سے لوگ اپنے معاملات کی اصلاح کر لیتے ہیں۔ زیارتِ حرمین شریفین کے بعد اگر انسان اپنے عقائد اور اعمال کی اصلاح نہ کرے تو اس کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس نے حرمین شریفین کے سفر سے کیا حاصل کیا؟ انسان کی زندگی میں میسر آنے والے نیکی کے مواقع درحقیقت اس میں ایمان وعمل کی صلاحیتوں کو بڑھاتے ہیں۔ اگر انسان ان معاملات پر بھرپور طریقے سے توجہ دے تو اس کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے اور یہ اسفار انسان کی زندگی میں بڑے اور مثبت انقلاب کا سبب بن سکتے ہیں۔
زیارتِ حرمین شریفین کے دوران مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں سے ملاقات کا موقع بھی میسر آیا۔ ان کی روحانیت اور جذبات کو دیکھ کر اس بات کا احساس ہوا کہ ظلم اور جبر کے باوجود ابھی تک ان میں ایمان اور عمل کی شمع روشن ہے اور آزادی کے لیے کی جانے والی جستجو اپنے منطقی انجام کی طرف ضرور بڑھے گی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے مظلوم کشمیری بھائیوں کو آزادی کی نعمت سے بہرہ ور کرے ‘ اسی طر ح فلسطین اور غزہ سمیت دنیا بھر کے مظلوم ومقہور مسلمانوں کی مدد فرمائے اور ہمیں بار بار زیارتِ حرمین شریفین کے شرف سے بہرہ ور کرے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved