تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     04-02-2026

بلوچستان پر سر کیا کھپانا

دھڑکتا دل اس ملک کا پنجاب ہے اور یہاں سے بلوچستان بہت دور ہے۔ وہاں حملے یا دھماکے ہوتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے‘ اور کیا کر سکتے ہیں؟ یہاں کی رونقیں جاری ہیں‘ شادی ہال کھچا کھچ بھرے ہوتے ہیں‘ لاہور میں کڑاہی گوشت کا چلنا کبھی رکتا نہیں۔ بلوچستان کے حالات خراب ہیں ‘ وہاں بی ایل اے نامی کالعدم جنگجو تنظیم متحرک ہے اور کہا جاتا ہے کہ بلوچستان احساسِ محرومی کا شکار ہے اور وہاں کے نوجوان طرح طرح کی وجوہات کی بنا پر ہر چیز سے نالاں ہیں۔ ٹھیک ہے نالاں ہوں گے‘ بنگالیوں کو بھی شکایات تھیں اور پھر وہاں غدر مچا لیکن جب وہاں کشیدگی اپنے عروج کو پہنچ رہی تھی تو ہم پنجاب والوں کو کوئی خاص فکر نہ تھی۔ لہٰذا اگر بلوچستان میں مصیبت ہے سر پکڑ کر تو بیٹھ نہیں سکتے۔ زندگی چلتی رہے گی۔
1971ء میں ہم وردی میں تھے اور طیارہ شکن توپیں لاہور محاذ پر ادھر اُدھر لے کے جا رہے تھے۔ بنگال میں کیا ہو رہا تھا اُس کے بارے یہاں کے لوگ کوئی اتنے پریشان نہ تھے۔ پی ٹی وی ظاہر ہے سرکار کے کنٹرول میں تھا اور اخبارات پر بھی حکومتی گرفت مضبوط ہوا کرتی تھی۔ لہٰذا بیشتر لوگوں تک صحیح صورتحال کی خبر کم ہی پہنچتی۔ بی بی سی پر خبریں البتہ آتی تھیں لیکن ہمارے ساتھ کے جو افسر تھے اپنے کاموں میں مصروف رہتے۔ بی بی سی سننے کے لیے اُن کے پاس وقت کہاں ہوتا۔ میں رات گئے سرکاری وائرلیس سیٹ کو گھما پھرا کر بی بی سی سننے کی کوشش کرتا۔ 11‘ 12 دسمبر کی بات ہو گی کہ مشرقی پاکستان میں جیسور پر ہندوستانی فوجوں کا قبضہ ہو گیا۔ میں بڑا پریشان ہوا کیونکہ سرکاری ذرائع تو یہی کہہ رہے تھے کہ مشرقی محاذ پر ناقابلِ تسخیر دفاعی کارروائیاں جاری ہیں اور مغربی پاکستان کے محاذ پر ہندوستانی فوج پر تابڑ توڑ حملے ہو رہے ہیں۔ اگر یہی اصلی صورتحال تھی تو جیسور کیسے ہاتھ سے نکل گیا۔اگلے روز رجمنٹل ہیڈ کوارٹر پر یونٹ کے ایجوٹنٹ سے جیسور کا ذکر کیا تو وہ تقریباً مجھے پکڑنے کو چلا کہ یہ کیا کہہ رہے ہو۔ یہ روداد سنانے کا مقصد یہ کہ مکمل شکست کے پیمانے پورے ہونے کو جا رہے تھے اور ہم اپنے خیالوں کی دنیا میں مست پڑے تھے۔ اب بھی جو حساب کتاب سرکاری ذرائع سے بتایا جاتا ہے اُس کو جوڑا جائے تو یہی لگتا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں‘ جنہیں فتنہ الہندوستان کہاجاتا ہے ‘ کی تعداد بس ختم ہونے کے قریب پہنچ رہی ہے۔ یہ تو جو پچھلے دنوں متعدد مقامات پر حملے ہوئے تو ایک لحاظ سے پوری قوم ہل کے رہ گئی۔ کیونکہ حملے ایسے تھے کہ سرکاری باتیں ہوا میں اُڑ گئیں۔
ویتنام میں جب جنگ جاری تھی تو جنوبی ویتنام کے دارالحکومت سائیگون میں بیٹھی امریکی کمان ہر روز فتح کی نوید سناتی تھی کہ اتنے ویت کانگ گوریلے مارے گئے‘ اتنے ٹھکانوں کی تباہی ہوئی اور اس قسم کی حوصلہ بڑھانے والی باتیں۔ جنوری 1968ء میں کمیونسٹ ویتنامیوں نے امریکی فورسز پر حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا اور ان حملوں نے پورے جنوبی ویتنام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خود سائیگون میں سخت قسم کی لڑائی ہوئی۔ ان حملوں کی وجہ سے سارے کا سارا امریکی پروپیگنڈا کہ ہم ویت کانگ پر سبقت حاصل کر رہے ہیں‘ پاش پاش ہو گیا۔ کمیونسٹ گوریلوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا لیکن نفسیاتی اور سیاسی فتح اُن کی تھی اور پوری دنیا پر آشکار ہوا کہ اپنے تمام تر ہتھیار اور وسائل کے باوجود امریکہ کو ویتنامی سرزمین پر کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔
یہاں بیک وقت بارہ مقامات پر حملے ہوتے ہیں۔ ایک ایک‘ دو دو لوگ نہیں بلکہ ان تمام مقامات پر باقاعدہ جتھے حملہ کرنے آتے ہیں۔ کوئٹہ میں جو حملے ہوئے وہ کلیدی سرکاری دفاتر کے چار پانچ سو گز قریب تک ہوئے۔ وہ بینک پر حملے کی فوٹیج تو وائرل ہو چکی ہے‘ بینک پر راکٹ لانچر داغا جاتا ہے اور پھر عام لوگ اندر گھس جاتے ہیں۔ نوشکی میں ڈپٹی کمشنر کو یرغمال بنا لیا جاتا ہے اور پھر وڈیو بنا کر اُسے جانے دیا جاتا ہے۔ یہ حملے تو 31 جنوری کے تھے لیکن دو تاریخ کو ضلع واشک جو ایران بارڈر کے پاس ہے‘ وہاں گھنٹوں بی ایل اے جنگجو دندناتے پھر رہے تھے۔ یہ وہاں صورتحال ہے۔ حملوں کے بعد چیف منسٹر پریس کانفرنس بلاتے ہیں اور وہاں اُن کا لب ولہجہ بڑا جارحانہ ہوتا ہے‘ بعد میں چائے پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو ہوتی ہے اور وہاں حالات کی سنگینی کا اُنہیں اعتراف کرنا پڑتا ہے۔
بلوچستا ن میں بغاوتیں یا اِنسرجنسی بہت ہوئی ہیں لیکن یہ اِنسرجنسی جس نے زور پکڑا نواب اکبر خان بگٹی کے مرنے کے بعد پہلی تمام اِنسرجنسیز سے مختلف ہے۔ اس کی قیادت نواب اور سردار نہیں کر رہے بلکہ یہ مڈل کلاس کے پڑھے لکھے لوگ ہیں‘ جو بی ایل اے کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ تمام عوامل اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ صورتحال نہایت ہی سنگین ہے لیکن جنہیں ادراک ہونا چاہیے کیا اُنہیں ایسا ادراک ہے؟ فکر اس بات پر ہوتی ہے کہ بلوچستان میں حالات ایسے ہیں اور جہاں ہم بیٹھے ہیں وہاں سے لگتا ہے کہ ہر چیز نارمل ہے‘ فکر کی کوئی اتنی بات نہیں۔ بلوچستان جل رہا ہے اور لاہورمیں بسنت منانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع کی کیا صورتحال ہے وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ لیکن ترجیحات کیا ہیں؟
اول ترجیح تو یہ لگتی ہے کہ ناپسندیدہ سیاسی عناصر پر جو بھاری ہاتھ رکھا ہوا ہے ایسا ہی پڑا رہے۔ ناپسندیدہ سیاسی عناصر حکومت کیلئے کوئی چیلنج نہ بنیں۔ ایسے عناصر کے ہاتھ میں بندوق تو نہیں‘ وہ آئین اور قانون کی بات کرتے ہیں لیکن حکومت کی ترجیح یہی ہے کہ ایسے عناصر کچھ بھی نہ کر پائیں۔ اصل مسئلہ مغربی سرحد پر اور بلوچستان پر لیکن سرکار کی توپیں سیاسی مخالفیں کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ یہ سمجھنے میں اتنی دقت کیوں ہو رہی ہے کہ سیاسی عناصر تو ریاست کیلئے کوئی خطرہ نہیں۔ ریاست کو جو خطرہ ہے وہ ایک طرف تحریک طالبان پاکستان سے ہے اور دوسری طرف بلوچ لبریشن آرمی سے۔ یہ دونوں تنظیمیں ریاست کے وجود کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ انہیں قانون اور آئین سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ عناصر آئین کے بجائے بندوق کے حوالے سے گفتگوکر رہے ہیں۔ یہ فرق سمجھنے میں کوئی اتنی مشکل بات تو نہیں لیکن لگتا یہی ہے کہ خطرہ کہیں اور سے ہے سارا زور کسی اور سمت لگ رہا ہے۔
پنجاب کی سوچ اور یہاں کی نفسیات الگ قسم کی ہیں۔ وسائل کا ارتکاز بھی پنجاب میں ہے یا کراچی میں۔ یہاں کسی کو بندوق اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے حکومتوں کے لیے جب کوئی سیاسی پریشانی بنتی ہے تو اُس سے نمٹنے کے لیے مقامی پولیس اور زیادہ سے زیادہ رینجرز کافی ہوتے ہیں۔ کے پی اور بلوچستا ن میں بات رینجرز سے بہت آگے جا چکی ہے۔ بلوچستان پاکستان کے 43 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔ پختون علاقوں کو چھوڑ کر بلوچ علاقے زبردست قسم کی شورش کی گرفت میں ہیں۔ وہاں کے عوام کی ہمدردیاں کس طرف مائل ہیں اُس پر زیادہ وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن آپ اسلام آباد کے کسی کیفے میں بیٹھے ہوں یا لاہور میں بسنت کی تیاریاں کر رہے ہوں تو ذرا سا احساس بھی نہیں ہوتا کہ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے اور کے پی کے متاثرہ اضلاع کی صورتحال کیا ہے۔ سرکاری سچ اور اصلی صورتحال کے درمیان خلیج بہت گہری ہو رہی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved