تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     04-02-2026

بھارت یورپی یونین معاہدے کے اثرات

20 مئی 1498ء کو پرتگال کا ملاح واسکوڈے گاما ہندوستان کے مغربی ساحل پر ممبئی کے موجودہ شہر کے قریب ایک مقام کالی کٹ کے قریب اپنے جہازوں سمیت لنگر انداز ہوا۔ ہندوستان اور بحرہند کے اردگرد ملکوں کی تاریخ میں یہ دن ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا کیونکہ اس کے بعد مشرق اور مغرب کے درمیان سمندری راستے سے تجارت اور دیگر روابط قائم ہو گئے اور جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا میں یورپی نو آبادیاتی تسلط قائم ہوا جن کے اثرات اب بھی نمایاں طور پر موجود ہیں۔
گزشتہ ماہ کے آخر میں بھارت اور27 ملکی یورپی یونین کے درمیان طے پانیوالے آزاد تجارتی معاہدے کو بھی اسی طرح کا ایک 'عہد ساز‘ واقعہ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس معاہدے پر دو ایسے فریقوں نے دستخط کیے ہیں جو دنیا کی بالترتیب چوتھی اور تیسری بڑی معیشتیں ہیں اور تقریباً دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کے حامل ہیں۔ اگرچہ یہ بنیادی طور پر دو طرفہ تجارتی معاہدہ ہے جس کے تحت فریقین نے ایک دوسرے سے درآمد کرنے والی 97 فیصد سے زیادہ اشیا پر درآمدی ٹیکس کو ختم یا بہت کم سطح پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان اس معاہدے پر دستخط سے پہلے بھی تقریباً 200 ارب ڈالر کی دو طرفہ تجارت ہے لیکن ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قیام سے عالمی تجارت کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے بین الاقوامی تجارت کو فروغ دینے کا جو رجحان پیدا ہوا اس کے زیر اثر 2007ء میں بھارت اور یورپی یونین نے آزاد تجارتی معاہدے کیلئے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔ ان مذاکرات کی رفتار بہت سست تھی۔ اس کی ایک وجہ بھارت اپنی وسیع مارکیٹ کو یورپ کی تمام برآمدی اشیا کیلئے خصوصاً زرعی اور ڈیری فارم کی اشیا اور دفاعی انڈسٹری کے سیکٹر کیلئے کھولنے کو تیار نہ تھا۔ فریقین کے مابین تجارتی مذاکرات کئی برسوں پر محیط عرصے تک معطل بھی رہے‘ اور دنیا ان کی کامیابی اور تجارتی معاہدے پر اتنی جلدی اتفاق ہونے کی توقع نہیں کر رہی تھی لیکن بھارت کے یوم جمہوریہ (26 جنوری) پر بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیے جانے والے یورپی یونین کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی یونین کے کمیشن کی سربراہ اُرسلا وان ڈیر لئین نے بھارتی حکام کے ساتھ اسی معاہدہ پر دستخط کر دیے۔ اس معاہدے کے تحت بھارت اور یورپی یونین اپنے ہاں ایک دوسرے کی درآمدات پر عائد ٹیرف کو بتدریج زیرو کی سطح پر لا کر اگلے برسوں میں دو طرفہ تجارت کو دُگنا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں بھارت اور یورپی یونین نے متعدد ملکوں کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کیے لیکن کیا وجہ ہے کہ اس معاہدے کو دنیا بھر میں نمایاں اور گیم چینجر کی حیثیت دی جا رہی ہے؟ اسکی چند ٹھوس اور واضح وجوہات ہیں اور اسی بنا پر کہا جا رہا ہے کہ اس معاہدے کا تعلق فریقین کے مابین صرف تجارت کے فروغ اور معاشی شعبوں میں وسعت سے نہیں بلکہ اسکے سیاسی اور جیو سٹرٹیجک اثرات بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔ یورپی یونین کمیشن کی سربراہ نے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں کہا کہ اس معاہدے کا دائرہ نہ صرف معاشی شعبوں تک مخصوص ہو گا بلکہ تجارت اور یورپی یونین نے اس معاہدے کے تحت دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا ہے جو جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کے قیام میں بھارت اور یورپی یونین کی شراکت میں اضافے کا باعث بنے گا۔ اس شعبے میں تعاون کا مطلب بھارت اور یورپی یونین کی بحر ہند اور بحیرہ عرب میں مشترکہ جنگی مشقیں‘ بحری قذاقی کے خلاف مشترکہ کارروائیاں‘ قدرتی آفات اور دیگر بحرانوں کی صورت میں امدادی کام میں تعاون اور انسدادِ دہشت گردی میں مشترکہ کارروائیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس معاہدے کی اصل اہمیت اسکی وسعت میں ہے۔ بھارت کی قوی معیشت کا کوئی اہم پہلو ایسا نہیں جسے اس معاہدے کے دائرۂ اختیار میں شامل نہ کیا گیا ہو۔ نہ صرف بھارتی طلبہ کے یورپی یونیورسٹیوں میں داخلے بلکہ مختلف سائنسی اور ٹیکنیکل شعبوں میں بھارتی ماہرین کو ملازمت کے مواقع بھی اس معاہدے کا حصہ ہوں گے۔ سب سے نمایاں پہلو اس معاہدے کے تحت بھارتی ٹیکسٹائل‘ گارمنٹس اور فٹ ویئر مصنوعات کی یورپی منڈی میں زیرو یا بہت کم ٹیرف کے ساتھ داخلے کی اجازت ہے۔ اس رعایت کی وجہ سے بھارت کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے برابر (جی ایس پی پلس کے تحت) سہولتوں کے ساتھ اپنی ٹیکسٹائل مصنوعات یورپی منڈیوں میں بھیجنے کی اجازت مل جائے گی۔ اس وقت بھارت کی ان مصنوعات کی یورپی منڈیوں میں آمد پر دو فیصد ٹیرف ہے مگر اسکے باوجود بھارتی ٹیکسٹائل کی یورپی منڈیوں کو برآمدات پاکستان کے برابر ہیں حالانکہ پاکستان کو جی ایس پی پلس کے تحت ٹیکسٹائل کی بعض مصنوعات پر زیرو ٹیرف کی رعایت حاصل ہے۔ یہی حال بنگلہ دیش کا ہے اسلئے پاکستانی حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ معاہدے کے تحت بھارتی برآمدات کو دی جانیوالی رعایت کے تحت پاکستان اور بنگلہ دیش کی یورپی یونین کو ٹیکسٹائل برآمدات ختم ہو سکتی ہیں۔ ان حلقوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے فوری طور پر ایسے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے جن کے نتیجے میں پاکستانی مصنوعات بھارتی مصنوعات کا مقابلہ کر سکیں۔ ان میں برآمدی صنعتوں کیلئے بجلی اورگیس کی قیمتوں میں کمی اور کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی کے مطالبات شامل ہیں۔ بھارت اور یورپی یونین کے معاہدے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے برآمدی صنعتوں کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی اور قرضوں کے حصول میں مختلف رعایتوں کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اس معاہدے سے پاکستانی معیشت خصوصاً ٹیکسٹائل سیکٹر کو لاحق ممکنہ خطرات سے آگاہ اور ان کا مقابلہ کرنے کیلئے مختلف اقدامات کرنے پر تیار ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے علاوہ جو تیسرا ملک اس معاہدے سے متاثر ہو سکتا ہے وہ ترکیے ہے۔ ترکیے اگرچہ یورپی یونین کا رکن نہیں مگر یورپی یونین کیساتھ کسٹمز یونین کے نام پر اس کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت ترکیے کو یورپی یونین کے رکن ممالک میں اشیا بیچنے پر رعایتیں حاصل ہیں‘ مگر بھارت کیساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر عملدرآمد کے بعد ترکیے کو بھارتی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات پر کوئی رعایت حاصل نہیں ہو گی کیونکہ ترکیے یورپی یونین کا رکن نہیں ہے۔ اس طرح یورپی یونین کیساتھ ایک کسٹمز یونین کے تعلق ہونے کے باوجود ترکیے کی برآمدی تجارت متاثر ہو گی۔ پاکستان‘ ترکیے اور بنگلہ دیش ایسے مسلم ممالک ہیں جن کیساتھ بھارت کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی بھارت نواز حکومت کے خاتمے کے بعد سے بھارت کے خلاف سخت نفرت کی فضا پائی جاتی ہے۔ مئی 2025ء میں بھارت اور پاکستان کی فضائی جھڑپ کے دوران ترکیے کی طرف سے پاکستان کو ڈرون اور دیگر حربی امداد کی وجہ سے بھارت ترکیے کو اپنا مخالف سمجھتا ہے۔ ایک طرف پاکستان اور بنگلہ دیش قریب آ رہے ہیں اور دوسری ترکیے بھی بنگلہ دیش کیساتھ مختلف شعبوں بالخصوص اسلحہ سازی‘ میں تعاون بڑھا رہا ہے۔ بھارت کی نظر میں یہ تینوں ممالک بھارت مخالف محور کے رکن ہیں اسلئے یورپی یونین کیساتھ تجارتی معاہدے کے نتیجے میں ان تینوں ممالک کی معیشت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھارت کیلئے خصوصی دلچسپی کا حامل ہے۔ دوسری عالمی جنگ تک جنوبی اور جنوبی ایشیائی خطوں پر یورپی ممالک کی بالادستی قائم تھی۔ سیلون (سری لنکا)‘ ہندوستان‘ برما‘ ملائیشیا اور انڈونیشیا کے ساتھ نہ صرف تجارت پر ان ملکوں کی اجارہ داری تھی بلکہ ان ممالک میں سرمایہ کاری بھی یورپی ممالک خصوصاً برطانیہ کی سب سے زیادہ تھی مگر دوسری عالمی جنگ میں نقصانات اٹھانے کے بعد یورپی ممالک بشمول برطانیہ ان خطوں میں اپنی بالادست پوزیشن قائم کرنے کے قابل نہ رہے اور امریکہ نے ان کی جگہ لے لی۔ اب انہیں تجارت کے ذریعے دنیا کے اس حصے میں اپنے قدم پھر جمانے کا موقع مل رہا ہے۔ اس کے یقینا سیاسی اور جیو سٹرٹیجک اثرات بھی ہوں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved