''اُس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ کے چیف آف سٹاف نے اپنے ایک قریبی دوست کو بتایا کہ فیصلے سے چند روز پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کا فون آیا کہ وہ آرمی چیف سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ جنرل وحید کاکڑ ایک پروفیشنل سولجر تھے اور سیاست میں مداخلت کے خلاف تھے اس لیے انہوں نے ایک حساس فیصلے سے پہلے چیف جسٹس سے بات کرنے سے گریز کیا۔ فیصلے سے ایک دو روز پہلے جب چیف جسٹس کے بار بار فون آئے تو آرمی چیف نے اپنے سٹاف افسر سے کہا: چیف جسٹس سے پوچھ لیں کہ وہ کس سلسلے میں بات کرنا چاہتے ہیں؟ آرمی چیف کا یہ پیغام سننے کے بعد بھی شاہ صاحب نے عزتِ سادات بچانا مناسب نہ سمجھا اور دل کی بات کہہ دی کہ کل ہم نے حکومت کو بحال کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ سنانا ہے۔ اس سلسلے میں آرمی چیف صاحب کیا چاہتے ہیں؟ آرمی چیف نے یہ پیغام سن کر عدالت عظمیٰ کے سربراہ کو یہ پیغام بھیجا کہ ہم کیسوں میں دخل دینا پسند نہیں کرتے۔ آپ اپنی مرضی سے فیصلہ کریں‘‘۔
ہماری تاریخ کا یہ عبرتناک واقعہ معروف‘ نیک نام‘ ریٹائرڈ اعلیٰ پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ نے اپنی خود نوشت ''جہدِ مسلسل‘‘ میں لکھا ہے۔ تاریخ کے کئی روپ ہیں! ایک تاریخ وہ ہوتی ہے جو اقتدار لکھواتا ہے۔ بچہ بھی جانتا ہے کہ یہ کتنی مستند اور قابلِ اعتبار ہوتی ہے۔ ایک تاریخ روزناموں میں یا ٹیلی ویژن کی خبروں میں ہر روز ہماری نظروں سے گزرتی ہے۔ یہ دروغ اور صداقت کا امتزاج ہوتی ہے۔ ایک تاریخ سینہ بہ سینہ‘ روایت در روایت‘ نسل در نسل چلتی ہے۔ اس میں کچھ داستان ہوتی ہے اور کچھ زیبِ داستان!! ایک تاریخ وہ ہوتی ہے جو روزنامچوں‘ ذاتی ڈائریوں اور خود نوشتوں میں قلم بند کی جاتی ہے اور یہ سب سے زیادہ مستند ہوتی ہے۔ ذاتی روزنامچے میں کسی کو جھوٹ لکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ اسی طرح غیرمتنازع شہرت رکھنے والا سول سرونٹ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد خود نوشت میں ایسی بات کیوں لکھے گا جو واقعاتی طور پر غلط ہو! اسی لیے خود نوشت عقل مند لوگوں کی پسندیدہ ترین صنف رہی ہے۔ ادب کے حوالے سے بھی اور تاریخ کے حوالے سے بھی! مشہور مؤرخ ولیم ڈال رمپل کی تصانیف اسی لیے مقبول اور معتبر ہیں کہ وہ ذاتی روزنامچوں اور خود نوشتوں کے حوالے دیتا ہے۔ صرف ایک مثال: بہادر شاہ ظفر کے زوال اور 1857ء کی جنگ آزادی پر بے شمار لوگوں نے لکھا ہے۔ مگر ولیم ڈال رمپل کی تصنیف ''دی لاسٹ مغل‘‘ اس موضوع پر مقبول ترین کتاب ہے اس لیے کہ وہ ذاتی روزنامچوں‘ ڈائریوں اور خود نوشتوں کے اقتباسات پیش کرتا ہے۔
ذوالفقار احمد چیمہ کا کیریئر بہت متنوع رہا ہے۔ وہ جو سعدی نے کہا تھا:
تمتع ز ہر گوشۂ یافتم ز ہر خرمنے خوشۂ یافتم
تو ذوالفقار چیمہ نے بھی کئی اداروں اور کئی شعبوں میں کئی حیثیتوں میں فرائض سرانجام دیے۔ متعدد اضلاع میں پولیس کی سربراہی تو کی ہی‘ فرنٹیئر کانسٹیبلری میں بھی رہے۔ ملک کے تمام صوبوں میں خدمات انجام دیں۔ اقوام متحدہ کے ساتھ افریقہ میں بھی کام کیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اُس وقت کے وزیراعظم نے ان کی شہرت سے متاثر ہو کر انہیں اپنی ٹیم میں شامل کیا اور اس خصوصی ڈیوٹی پر مامور کیا کہ ملک بھر میں ہونے والے سنگین جرائم کے خاتمے کی یا انہیں کم کرنے کی کوشش کریں۔ ذوالفقار چیمہ کی خود نوشت جہدِ مسلسل کو اگر ملکی تاریخ کا ایک معتبر ورق قرار دیا جائے تو قطعاً غلط نہ ہو گا۔ یوں تو یہ کتاب ہر پاکستانی کو پڑھنی چاہیے مگر نوجوان سول سرونٹس کیلئے اس کا مطالعہ لازم قرار دینا چاہیے تاکہ وہ جان سکیں کہ دیانت اور سچائی کے ساتھ بھی سرکاری افسری کی جا سکتی ہے اور بالکل کی جا سکتی ہے۔ ذوالفقار چیمہ کو سچائی کے راستے پر چلنے میں تکلیفیں تو اٹھانا پڑیں اور طاقتوروں نے انہیں اپنے راستے سے ہٹانے کی کئی بار کوششیں کیں مگر ذوالفقار اپنے راستے پر‘ اپنے مؤقف پر اور اپنے نظریات پر ڈٹے رہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ''لاہور میں ایک حکومت مخالف کونسلر بڑا منہ پھٹ تھا۔ وقت کے حکمران اس سے بہت تنگ تھے مگر اپنے حلقے میں وہ بڑا مقبول تھا۔ لوکل باڈیز کے نئے انتخابات ہونے والے تھے۔ الیکشن سے ایک دن پہلے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی جس میں واضح طور پر ہدایات دی گئیں کہ چاہے ڈبے اٹھانے پڑیں‘ اس شخص کو کسی صورت نہیں جیتنے دینا۔ پولنگ کے وقت میں نے دوپہر کو راؤنڈ کرتے ہوئے دیکھا کہ اس کے کیمپ ووٹروں سے بھرے ہوئے تھے اور حکومتی امیدوار کی حالت پتلی تھی۔ اس کے ایک گھنٹے کے بعد وائرلیس پر اطلاع ملی کہ ڈی سی نے اس حلقے میں پولنگ روک دینے کا حکم دیا ہے‘ یعنی اوپر سے ملنے والی ہدایات پر عملدرآمد شروع ہو گیا تھا۔ میں کرسی سے اٹھا‘ کرسی کے پیچھے لگی ہوئی قائد کی تصویر پر نظر پڑی تو ہدایات واضح تھیں ''ہر قیمت پر غیرجانبداری اور انصاف‘‘! میں قائد کی تصویر کو سیلوٹ کرکے باہر نکلا اور جیپ پر بیٹھ کر سیدھا اس وارڈ میں جا پہنچا۔ وہاں دیکھا کہ پولنگ بڑے پُرامن طریقے سے ہو رہی تھی۔ اے سی‘ مجسٹریٹ اور ڈی ایس پی پولنگ بند کرانے لگے تو میں نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا کہ ''اس سے حالات خراب ہوں گے اور ہمارا فرض امن و امان بحال رکھنا ہے‘ خراب کرنا نہیں‘‘۔ تھوڑی دیر بعد لاہور کے ڈپٹی کمشنر لائن پر تھے۔ کہنے لگے ''آپ جانتے ہیں ... صاحب کی واضح ہدایات ہیں کہ ...‘‘ ۔ میں نے بات کاٹ کر کہا ''سر! میرے پاس ان سے بڑے صاحب کی واضح ہدایات آئی ہیں کہ غیرجانبدار رہنا ہے‘‘۔ چونک کر پوچھنے لگے وہ کون ہے۔ میں نے کہا ''جس کے طفیل ... صاحب کو حکمرانی اور آپ کو اور مجھے اتنی بڑی افسریاں ملی ہیں۔ ان کا نام ہے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح!‘‘ ڈی سی صاحب کا فون بند ہو گیا۔ پولنگ جاری رہی اور حکومت کا مخالف کونسلر منتخب ہو گیا‘‘۔
ایک اور واقعہ سے پتا چلتا ہے کہ ہماری قوم کے کچھ افراد کس حد تک پستی میں گر سکتے ہیں۔ لکھتے ہیں ''رحیم یار خان کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ یو اے ای کے حکمران شیخ زید بن سلطان النہیان یہاں سردیوں میں ایک ماہ کے لیے آتے تھے۔ ریگستان میں شکار بھی کھیلتے اور موسم سے بھی لطف اندوز ہوتے۔ شیخ زید کی آمد اور ان کی دلچسپی نے علاقے کی ترقی میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے شہر میں ایک بہترین ہسپتال اور ہوائی اڈا بنوا دیا۔ ایک بار بادشاہ کی آمد کے سلسلے میں سکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے میں بھی شہر سے قریباً 25کلو میٹر کے فاصلے پر واقع بادشاہ کے محل میں گیا جہاں شاہی محل کے منیجر نے مجھے تمام کمرے دکھائے اور ہنستے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ''سر! بادشاہ سلامت کی آمد سے تو پورے ضلع کی موج ہو جاتی ہے‘‘۔ پھر تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ''بادشاہ سلامت اور شاہی خاندان کی روایت ہے کہ وہ راستے میں کھڑے گداگروں کو پیسوں کی تھیلیاں اور مہنگی گھڑیاں دیتے ہیں لہٰذا یہاں کے مقامی زمیندار راستوں پر گدا گروں کا روپ دھارکر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بادشاہ اور شہزادے ہسپتال کا دورہ بھی کرتے ہیں اور مریضوں کو بخشیش بھی دے جاتے ہیں۔ اس بخشیش کے حصول کے لیے مقامی مجسٹریٹ اور تھانیدار ایم ایس پر دباؤ ڈال کر مریضوں کے بستروں پر لیٹ جاتے ہیں اور ان سے مہنگے تحائف وصول کر کے گھر آجاتے ہیں‘‘۔
پاسپورٹ جاری کرنے والا ادارہ جب مکمل طور پر ناکام ہو گیا تو ذوالفقار چیمہ کو خصوصی طور پر وہاں تعینات کیا گیا۔ انہوں نے جس طرح رات دن محنت کر کے ادارے کو دوباہ زندہ کیا اس کی تفصیل ان کی دوسری تصنیف ''افکارِ تازہ‘‘ میں درج ہے اور یہ تفصیل حیرت انگیز ہے اور ناقابلِ یقین بھی!! دونوں تصانیف ہمیں امید کا راستہ دکھاتی ہیں!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved