تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     05-02-2026

5فروری … یومِ احتساب

آج کا دن متقاضی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر لکھا جائے۔ اس سے بڑا مسئلہ مگر یہ ہے کہ کیا لکھا جائے؟
ایک سال میں اس مسئلے کے حل کے لیے کون سی ایسی پیش رفت ہوئی ہے کہ اس پر قلم اٹھایا جائے؟ عالمی برادری یا پاکستان کی ریاست نے کیا کوئی نیا حل تجویز کیا ہے جس پر اس سے پہلے بات نہیں ہوئی؟ کیا کوئی نیا امکان پیدا ہوا ہے جس سے کوئی امید وابستہ کی جا سکے؟ میرے پاس ان میں کسی سوال کا جواب اثبات میں نہیں ہے؟ یہی نہیں‘ مجھے تو یہ دکھائی دیا ہے کہ دیگر تنازعات نے دنیا کو کچھ اس طرح اُلجھا دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اب ان کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔ جب یہ صورتحال ہو تو مسئلہ کشمیر پر کیا لکھا جا سکتا ہے؟
معرکۂ حق میں پاکستان کی فتح اور غیرمبہم برتری کے بعد ہونا یہ چاہیے تھا کہ کشمیر میں آزادی کی تحریک نئی انگڑائی لیتی۔ اس معرکے نے یہ ثابت کر دیا کہ بھارت عسکری اعتبار سے ناقابلِ شکست نہیں ہے۔ اس کی طاقت کا بھرم ٹوٹ گیا۔ اس کا ایک فطری نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ بھارت کے ریاستی جبر کا شکار کشمیری قوم میں آزادی کی نئی لہر اٹھتی۔ دفاعی قلعے میں شگاف جب اتنا نمایاں ہو جائے تو اسے توڑنے کی خواہش رکھنے والوں کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔ اس حوصلہ مندی کے آثار دکھائی نہیں دیے۔ یہ ہونا چاہیے تھا کہ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت میں نیا جوش پیدا ہوتا اور ان کی طرف سے سرحد پار یہ پیغام جاتا کہ کشمیر میں ایک ہونے کی تمنا اس طرف توانا ہے اور وہ مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں بہنوں کو گلے لگانے کے لیے بے تاب ہیں۔ ایسا نہیں ہوا۔ کشمیر کے سیاستدان آپس میں یا پھر ریاست پاکستان کے ساتھ الجھنے میں لگے رہے۔ معرکۂ حق نے کسی نئی امنگ کو جنم نہیں دیا۔
ان حالات میں مسئلہ کشمیر پر کیا لکھا جائے؟ کیا میں انہی باتوں کو دہرا دوں جو میں برسوں سے لکھتا آ رہا ہوں؟ کیا میں ان مطالبات کو پھر سے بیان کروں جن کا بینر میں نے کئی برسوں سے اٹھا رکھا ہے؟ جیسے: مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ کشمیر بنے گا پاکستان۔ بھارت کشمیریوں پر ظلم بند کرے۔ عالمی برادری مسئلہ کشمیر پر اپنا کردار ادا کرے۔ بھارت کو بے گناہوں کے خون کا حساب دینا ہو گا۔ ان مطالبات کو دہرانے کے سوا میرے پاس کہنے کو کیا ہے؟ 5فروری 2025ء کے بعد آخر وہ کیا پیش رفت ہے جسے میں موضوع بناؤں؟
اگست 2019ء میں مسئلہ کشمیر کی نوعیت میں جوہری تبدیلی آئی۔ بھارت نے بین الاقوامی قانون‘ باہمی معاہدوں اور اخلاقی قدروں کو پامال کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کا جغرافیہ تبدیل کر دیا۔ اس واقعے کو سات برس ہو گئے۔ اتنی بڑی لاقانونیت پروہ ردِ عمل نہیں ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ عالمی قوتیں بیدار ہوئیں اور نہ ہی ہم دنیا کو یہ باور کرا سکے کہ بھارت کے اس اقدام نے اس عالمی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے جو بیسویں صدی کے آغاز میں وجود میں آیا اور جسے عالمی سطح پر امن کی ضمانت قرار دیا گیا۔ آج یہ تجزیہ غلط نہیں ہو گا کہ گزشتہ چند برسوں میں اگر اس مسئلے پر کوئی پیش رفت ہوئی ہے تو وہ ہمارے حق میں نہیں تھی۔ اس کے بعد ہمارے لیے لازم ہو گیا ہے کہ ہم اس صورتحال کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔
1965ء کے بعد ہمارے پاس دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ ہم کشمیر کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو جائیں۔ اس کی دو صورتیں تھیں۔ ایک صورت یہ تھی کہ ہم عسکری اقدام سے اسے ممکن بنا دیں۔ عالمی حالات اس کیلئے سازگار نہیں تھے۔ دوسری صورت یہ تھی کہ ہم سفارتی کوششوں سے بھارت کو مجبور کرتے کہ وہ استصوابِ رائے پر آمادہ ہو جائے۔ یہ بھی نہیں ہو سکا۔ تیسری صورت کشمیریوں نے خود تلاش کی جب 1989ء میں مسلح جدو جہد سے کشمیر کو آزاد کرانا چاہا۔ ہم یہ کر سکتے تھے کہ بھارت کی طرح مقبوضہ کشمیر کی شورش کو بہانہ بنا کر کشمیر میں اپنی فوج اتار دیتے جیسے اس نے مشرقی پاکستان میں اتاری تھی۔ یہ آسان نہیں تھا‘ اس لیے کشمیروں کی یہ جنگ فیصلہ کن ثابت نہ ہو سکی۔ ہماری سفارتی حمایت ان کے کسی کام نہ آئی۔ دنیا کا ماحول کچھ اس طرح بنا کہ ہمیں کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑا۔ ہمارے پاس دوسرا راستہ یہ تھا کہ ہم 'سٹیٹس کو‘ کو برقرار رکھتے اور کسی ایسے وقت کا انتظار کرتے جب حالات سازگار ہوتے۔
اب ہوا یہ کہ اگست 2019ء کے بعد 'سٹیٹس کو‘ برقرار نہیں رہ سکا۔ مقبوضہ کشمیر کا نقشہ تیزی سے تبدیل کیا جا رہا ہے اور آبادی کا تناسب بھی۔ بھارت کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں۔ پاکستان کے لیے یہ بات باعثِ تشویش ہے۔ ہمیں اس بارے میں سوچنا ہو گا کہ مسئلہ کشمیرکے حوالے سے ہم پر جو کم ازکم لازم تھا‘ ہم وہ بھی نہ کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت جب صدر ٹرمپ بظاہر پاکستان کی طرف نظرِ التفات کیے ہوئے ہیں‘ کیا ہم ان کی مدد سے بھارت سے یہ مطالبہ نہیں منوا سکتے کہ وہ اگست 2019ء سے پہلے کی جگہ پر لوٹ جائے؟ اگر ہم امریکہ ایران جنگ رکوانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو یہ کیوں نہیں کر سکتے؟ پاکستان کو اپنا یہ مطالبہ امریکہ کے سامنے رکھنا چاہیے۔ ہم نے مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران میں ایک جاندار کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے امریکہ کو ایک مشکل سے نکلنے میں مدد کی ہے۔ یہ موقع ہے کہ ترکیہ اور سعودی عرب کی معاونت سے ہم صدر ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بھارت کو اس پر آمادہ کرے۔ ہمیں مطالبہ تو یہی کرنا چاہیے کہ صدر ٹرمپ اگر نوبیل امن ایوارڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو مسئلہ کشمیر کو مستقل بنیادوں پر حل کروائیں اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے کا اہتمام کریں۔ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو کم ازکم مقبوضہ کشمیر کے اس سٹیٹس کو بحال کروا دیں جو اگست 2019ء سے پہلے تھا۔ اگر پاکستان یہ کر سکے تو یہ بھی ایک بڑی کامیابی ہو گی۔
'سٹیٹس کو‘ کو بحال رکھنا ایک صبر آزما کام ہے۔ اگر حالات مسئلے کے حسبِ خواہش حل کے لیے سازگار نہیں ہیں تو ہمیں صبر پر مبنی حکمتِ عملی کے ساتھ آ گے بڑھنا چاہیے۔ غیرضروری ہیجان پیدا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں اپنے وسائل پاکستان کی سڑکوں پر احتجاج کرنے کے بجائے کسی نتیجہ خیز کام پرصرف کرنے چاہئیں۔ چین نے ہانگ کانگ اور تائیوان کے بارے میں یہی پالیسی اپنائی۔ اس نے ہانگ کانگ کے لیے انتظار کیا۔ اب اسے انتظار ہے اس سازگار گھڑی کا جب تائیوان چین کا حصہ بن جائے۔ اس کے لیے چین میں تائیوان کی آزادی کے لیے جلوس نہیں نکلتے۔ چین خود کو اتنا توانا بنانا چاہتا ہے کہ تائیوان پکے پھل کی طرح اس کی جھولی میں آ گرے۔ ایک مضبوط پاکستان ہی کشمیر کی آزادی کا ضامن بن سکتا ہے۔ اگر ہم اقوامِ عالم میں سیاسی اور معاشی اعتبار سے بہتر جگہ پہ کھڑے ہوں گے تو دنیا کو ہمنوا بنا سکیں گے۔ ہمیں اس جانب توجہ مرتکز کرنی چاہیے۔
5 فروری کو اگر ہم منانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے موزوں عنوان 'یومِ احتساب‘ ہو سکتا ہے۔ ہر سال ہمیں اس کا جائزہ لینا چاہیے کہ گزشتہ سال ہم نے اس مسئلے کے حل یا اسے زندہ رکھنے کے لیے کیا کیا؟ نعرہ بازی اور جلسوں جلوسوں کے علاوہ بھی ہمارے نامہ اعمال میں کچھ درج ہے؟ سفارتی محاذ پر کیا کوئی پیش رفت ہوئی؟ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے لیے ہمارے پاس امید کا کوئی پیغام ہے؟ پاکستانی قوم کو ایک بار قائل کرنے کا حاصل کیا ہے؟ میرا خیال ہے اس تاریخ کوہمیں اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ بطور ریاست بھی اور بحیثیت قوم بھی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved