گزشتہ کالم میں بات ہو رہی تھی ملک میں ایسے معاملات کی جو نہیں ہونے چاہئیں تھے لیکن مسلسل ہو رہے ہیں اور ایسے معاملات کی جو ہونے چاہئیں لیکن نہیں ہو رہے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ بجلی اور گیس کے لائن لاسز کو اول تو ختم کیا جاتا‘ اگر مکمل ختم نہیں کیا جا سکتا تو انتہائی کم سطح پر لایا جاتا لیکن ایسا کرنے کے بجائے بجلی بار بار مہنگی کی جاتی ہے اور عوام کے صبر کا امتحان لیا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں بریکنگ نیوز (واضح رہے کہ یہاں نیوز کا لفظ لکھا ہے‘ انکشاف کا نہیں) یہ ہے کہ نیشنل گرڈ سے سولر پر منتقل ہونے والے صارفین کی وجہ سے پیدا ہونے والا اضافی مالیاتی بوجھ بھی موجودہ صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے صارفین کی جانب سے نیشنل گرڈ کو چھوڑنے کے رجحان میں مزید تیزی آنے کا اندیشہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ لائن لاسز عوام سے نکلوائے جاتے ہیں؟ عدم ادائیگیاں عوام پر ڈالی جاتی ہیں؟ بجلی چوری کا خمیازہ بل دینے والے بھگتتے ہیں؟ نیٹ میٹرنگ کا بوجھ عوام کو ہی اٹھانا پڑتا ہے؟ کپیسٹی پیمنٹس بھی عوام کے کھاتے میں ڈالی جاتی ہیں؟ عوام کا آخر کتنا جوس نکالا جا سکتا ہے؟
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے لاہور میں سیوریج نالے میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون اور بچی کے واقعے پر انتظامیہ کی جانب سے اپنی نااہلی کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے نااہلی چھپانے کے لیے حقائق کو مسخ کرنے پر برہمی کا اظہار بھی نیا نہیں ہے۔ یعنی یہ کوئی انکشاف نہیں ہے۔ دہائیاں بیت چکی ہیں کہ کسی سانحے پر متعلقہ افراد اور اداروں کی جانب سے اسی طرح بے حسی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور حکمران کی جانب سے اسی طرح ان کی سرزنش کی جاتی ہے لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ کوئی سانحہ رونما ہونے کے بعد اصلاحِ احوال کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور دوبارہ ویسا سانحہ رونما ہونے کی کوئی صورت ہی پیدا نہ ہو لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے۔ چنانچہ پنجاب کی وزیراعلیٰ صاحبہ کا یہ کہنا بے جا یا غلط نہیں ہے کہ بار بار ہدایات اور مسلسل توجہ کے باوجود ایک غریب جان غفلت اور فرائض سے کوتاہی کی نذر ہو گئی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات سچ کو دبانے کی کوشش ہے۔ بے حسی اور شقاوتِ قلبی کی انتہا دیکھیے کہ خاتون کے ایک رشتہ دار کے مطابق واقعے کے بعد شک کی بنیاد پر پولیس نے لڑکی کے شوہر اور ایک کزن کو پکڑ کر تھانے میں بٹھا لیا۔ یعنی داد رسی کرنے کے بجائے لواحقین کو ہی دھر لیا گیا تھا۔ لیکن اس میں انکشاف والی کوئی بات نہیں۔ ہمارے ملک میں بے حسی اور بے دلی رواج بن چکی ہے‘ اور جو چیز رواج بن جائے اس میں انکشاف والی کوئی بات نہیں رہتی۔
کچھ ایسا ہی معاملہ سندھ میں بھی چل رہا ہے۔ وہاں کے وزیر اعلیٰ بھی صوبائی انتظامیہ اور اداروں کی سرزنش کر رہے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ ہونا ہوانا کچھ بھی نہیں۔ دو چار دن ہاٹ ایشو یعنی گل پلازہ میں ہونے والی آتشزدگی کا شور رہے گا اور اس کے بعد مکمل خاموشی چھا جائے گی جو اُس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کہ ایسا ہی کوئی نیا سانحہ رونما نہیں ہو جاتا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ تلملا رہے تھے کہ آتشزدگی کے واقعے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور افسران ایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈالتے رہے‘ جس سے ریسکیو اور ریلیف کے عمل میں تاخیر ہوئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر‘ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ادارے سمیت تمام متعلقہ اداروں کا رد عمل غیر تسلی بخش اور سست تھا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف سخت فیصلے کیے جائیں گے۔ وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے بتایا کہ گل پلازہ میں فائر فائٹنگ سسٹم موجود نہیں تھا‘ پلازہ کی تعمیر منظور شدہ نقشے کے خلاف پائی گئی‘ لیز کے معاملے میں بھی سنگین بے ضابطگیاں نظر آئیں‘ اینٹی کرپشن کو کہا ہے کہ اس پر قانون کے مطابق ایکشن لیں۔
آتشزدگی کے واقعے کو سنجیدہ نہ لینا‘ مختلف افسران کا ذمہ داریاں ایک دوسرے پر ڈالنا‘ عوام کی جان و مال کے تحفظ میں غفلت کا ارتکاب‘ پلازہ میں فائر فائٹنگ کا سسٹم موجود نہ ہونا‘ بلڈنگ کا منظور شدہ نقشے کے خلاف پایا جانا‘ پلازہ کی لیز والے مرحلے میں سنگین بے ضابطگیاں‘ یہ سب کوئی نئی باتیں نہیں ہیں۔ یہ ساری باتیں اور خبریں انکشاف کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ یہ محض خبریں ہی ہیں کیونکہ ہمارے ہاں ایسے معاملات اب معمول بن چکے ہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے حکمران اور حکومتیں پبلک ٹرانسپورٹ کی تعداد شہروں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مطابق بڑھانے کی کوشش کرتیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا‘ نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں میں نجی ٹرانسپورٹ رکھنے کا رجحان فروغ پا گیا اور اس کا آگے مزید نتیجہ یہ سامنے آیا کہ ہمارے ملک کا پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کا بل بڑھ گیا۔ دھڑا دھڑ پٹرول اور گیس جلنے سے ہر طرح کی آلودگی میں اضافہ ہو گیا اور لاہور دنیا کا سب سے زیادہ آلودگی والا شہر بن گیا۔ ہمیں ہر سال نہ صرف بھاری مقدار میں پٹرولیم مصنوعات منگوانا پڑتی ہیں جس پر قیمتی زرِ مبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ صحت کے حوالے سے اس درآمد کی بھاری قیمت بھی چکانا پڑتی ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے عوام میں پیچیدہ نوعیت کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ ہماری حکومتیں ہسپتالوں اور ادویات کی فراہمی کی صورت میں میڈیکل کی سہولتوں میں اضافے پر تو زور دیتی ہیں لیکن ایسے اقدامات نہیں کیے جاتے جن سے لوگ کم بیمار پڑیں اور ان کے علاج معالجہ پر کم پیسہ خرچ ہو۔
اس بے حسی اور اختیارات کے اس بے جا اور ناجائز استعمال کی جو وجہ میری سمجھ میں آتی ہے‘ وہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اعلیٰ افسران کو اختیارات تو دے دیے جاتے ہیں لیکن ان اختیارات کے استعمال پر نظر رکھنے کا کوئی میکانزم موجود نہیں ہے؛ چنانچہ جہاں بھی موقع ملتا ہے‘ جب بھی موقع ملتا ہے یہ افسران کھل کھیلتے ہیں اور اختیارات کا اتنا ناجائز استعمال ہوتا ہے کہ جس کی کوئی انتہا ہی نہیں ہے۔ یہاں جو ہونا چاہیے وہ اگر نہیں ہو رہا اور جو نہیں ہونا چاہیے وہ اگر تسلسل کے ساتھ ہو رہا ہے تو اس کی بنیادی وجہ اختیارات کا یہی ناجائز استعمال ہے؛ چنانچہ حکومتیں حکمران اور عوام اگر چاہتے ہیں کہ گاڑی کو ٹریک پر واپس لایا جائے تو اس کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحِ احوال کی اشد ضرورت ہے۔ اعلیٰ افسران کو اختیارات ملنے چاہئیں کیونکہ اگر اختیارات نہ ہوں تو پھر نہ انتظامات کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی اقدامات لیکن ضروری ہے کہ تفویض کیے گئے اختیارات کے Counter Measures کے لیے بھی ایک نظام وضع کیا جائے تاکہ اس ملک میں وہی ہو جو ہونا چاہیے اور جو نہیں ہونا چاہیے وہ کبھی نہ ہو پائے۔ یوں خبر خبر ہی رہے گی اور انکشاف انکشاف نظر آئے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved