اسلام آباد میں چک شہزاد سے کچھ فاصلے پر جنگ عظیم اوّل کی ایک 40 فٹ لمبی یادگار کو گرا کر ملیا میٹ کرنے کی خبر پڑھی تو یقین کریں دل مٹھی میں آ گیا۔ یہ ایک سو سال سے زیادہ پرانی یادگار انگریزوں نے اُن ہندوستانی سپاہیوں کی قربانیوں کے اعتراف میں بنائی تھی جنہوں نے پہلی عالمی جنگ میں حصہ لیا تھا اور ان کا تعلق اس گاؤں سے تھا۔ اب اس یادگار کو ایک رہائشی منصوبے کیلئے بلڈوز کر دیا گیا ہے۔ میں دو تین دن سے اسی صدمے میں ہوں کہ ایک ٹھیکیدار نے یہ کیا کر دیا۔
2007ء میں لندن میں ایک رپورٹر دوست اظہر جاوید اور میں ہائیڈ پارک کے قریب ایک اشارے پر رکے۔ یہ جگہ وہیں ہے جہاں نواز شریف کے پارک لین فلیٹس بھی ہیں۔ اشارہ عبور کرتے ہی دائیں سائیڈ پر نظر پڑی تو وہاں ایک دیوار کے ساتھ گدھوں‘ کتوں‘ گھوڑوں ‘کبوتروں اور دیگر جانوروں اور پرندوں کے مجسمے بنے دیکھے۔ میں وہیں رک گیا اور دیوار میں کندہ یہ مجسمے دیکھنے لگا۔ وہاں تفصیلات بھی لکھی ہوئی تھیں۔ پتا چلا کہ 2004ء میں اس ''اینملز اِن وار میموریل‘‘ کا افتتاح کیا گیا تھا اور یہ سینٹرل لندن کی اہم جگہ پر بنایا گیا‘ جہاں سے ہر وقت لوگ گزرتے ہیں تاکہ وہ ان جانوروں اور پرندوں کی دوسری عالمی جنگ میں دی گئی قربانی کو یاد رکھیں کہ یہ سب برطانوی اتحادی فورسز کے ساتھ لڑے اور مارے گئے تھے۔ اگرچہ دنیا میں اپنے فوجیوں کی یادگاریں بنانے کا رواج بہت پرانا ہے لیکن پہلی دفعہ یہ خیال برطانوی حکمرانوں کو آیا کہ ہم نے پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں حصہ لینے والے اپنے فوجیوں کی یادگاریں تو بنا دی ہیں لیکن انسانوں کے ساتھ بے زبان مخلوق نے بھی ان جنگوں میں حصہ لیا تھا‘ جن کا شکریہ ادا کرنا بنتا ہے۔ یوں اس اینملز اِن وار میموریل کا خیال سامنے آیا اور چندہ جمع کیا گیا۔ 20 لاکھ پاؤنڈ سے یہ میموریل شروع ہوا۔ اس میموریل میں وہ سبھی جانور شامل ہیں جنہیں اُس وقت فورسز استعمال کر رہی تھیں۔ ہر جانور کا جنگ میں استعمال مختلف تھا لیکن یہ سب فوجیوں کے ساتھی تھے اور ان کی یادگار بنائی گئی تھی تاکہ برٹش قوم اور آنے والی نسلوں کو علم ہو کہ عالمی جنگوں میں صرف انسانوں ہی نے قربانیاں نہیں دی تھیں بلکہ ان کے ساتھ چرند پرند نے بھی قربانیاں دی تھیں۔ اس میموریل پر ایک متاثر کن جملہ لکھا تھا کہ They had no choice۔ کیا خوبصورت جملہ ہے کہ ان کے پاس کوئی آپشن نہ تھا۔ انہیں جنگ لڑنا ہی پڑی اور یہ سب مارے گئے۔ میں کافی دیر تک اس میموریل کی دیوار پر ایک ایک جانور اور پرندے کی کندہ شکل دیکھتا رہا۔ ہمارے ہاں بہت سے لوگ مذاق اڑائیں گے کہ یہ کیا حماقت ہے کہ محض جانوروں اور پرندوں کی یاد میں سینٹرل لندن کی قیمتی جگہ پر 20 لاکھ پاؤنڈ لگا دیے گئے۔ ایسے میموریل کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آپ کی نئی نسل میں جانوروں اور پرندوں کیلئے محبت اور احترام پیدا ہوتا ہے جو ہمیں یورپی سماج میں ہی نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں یہ رویہ بڑا عجیب ہے کہ ہمیں صدیوں پرانی چیزوں میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے‘ جو آج کے دور میں ہمارے کام نہیں آسکتیں یا جن کا ہماری روزمرہ زندگی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اس لیے جب آپ یہ بات کریں گے تو اکثریت آپ کا مذاق اڑائے گی‘ جگت مارے گی‘ بیوقوف سمجھ کر آوازے کسے گی۔ اس لیے جب چک شہزاد کے قریب واقع اس سو سال سے زائد پرانی یادگار کو گرانے کے خلاف میڈیا مہم شروع ہوئی تو کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اگرچہ محکمہ آثارِ قدیمہ کو پتا چلا تو انہوں نے شہری انتظامیہ کے ذریعے اس یادگار کو گرانے سے روکنے کی کوشش کی لیکن شہری انتظامیہ تو خود اس پورے عمل میں شریک تھی۔ انہوں نے محکمہ آثارِ قدیمہ کو کوئی اہمیت دی نہ ان کی بات سنی بلکہ ٹھیکیدار کو اشارہ کیا کہ اسے ایک ہی دفعہ میں گرا دو۔ نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ یوں سو سالہ قدیم یادگار ایک لمحے میں گرا کر ملیا میٹ کر دی گئی۔
ہماری بے حسی کا یہ عالم ہے کہ کسی بیوروکریٹ یا وزیر کے نزدیک ایسی یادگاروں کی کوئی اہمیت نہیں۔ اگر ان قدیم یادگاروں یا نشانیوں کی کوئی اہمیت نہ ہوتی تو کیا اہرامِ مصر جیسی ہزاروں سال پرانی عمارتیں آج شان و شوکت سے برقرار ہوتیں یا پھر ہندوستان میں مسلم حکمرانوں کی چھوڑی نشانیوں کو باقی رہنے دیا جاتا؟ یہ کریڈٹ تو انگریز کو جاتا ہے کہ انہوں نے ہندوستان میں محکمہ آثارِ قدیمہ بنا کر یہاں ہزاروں سال پرانی تہذیب ڈھونڈ کر دی اور آج جب عالمی بینک کا صدر پاکستان آتا ہے تو وہ یہ فرمائش کرتا ہے کہ اسے موہنجودڑو جانا ہے۔ آپ ٹیکسلا یا ہڑپہ کی وجہ سے تہذیب یافتہ قوموں میں شمار ہوتے ہیں۔ جب برطانوی شاہی خاندان پاکستان آتا اور انہیں اس یادگار کا دورہ کرایا جاتا تو ان پر اس خطے کا مثبت تاثر جاتا کہ اس خطے کے لوگ بھی یورپ کی آزدی کے لیے نازی جرمنی؍ جاپان سے لڑے تھے۔ جیسے اب صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکہ جرمنی اور جاپان کو شکست نہ دیتا تو آج فرانس اور انگلینڈ میں بچے جرمن اور جاپانی زبان بولتے۔
چند روز قبل اسلام آباد کی ایک خاتون صحافی کی ''سرائے خربوزہ‘‘ سے متعلق رپورٹ پڑھی۔ یہ سرائے اسلام آباد کے نزدیک جی ٹی روڈ پر ترنول کے علاقے سرائے خربوزہ گاؤں میں واقع ہے۔ اس عمارت کے چاروں اطراف خربوزے سے مشابہت رکھتے گنبد بنائے گئے جس کی وجہ سے اسے سرائے خربوزہ کہا جاتا ہے۔ کچھ گنبد آج بھی موجود ہیں۔ روایات ہیں کہ یہ عمارت سلاطینِ دہلی کے دور میں بنی تھی۔ اس کے در و دیوار پر کسی قسم کی تختی یا تحریر تو کندہ نہیں جس سے اس کی اصل تاریخِ تعمیر کا پتا چل سکے مگر مشہور مغل بادشاہ جہانگیر نے 1605ء میں یہاں قیام کیا اور اپنی کتاب ''تزکِ جہانگیری‘‘ میں اس تاریخی سرائے کا ذکر کیا۔ جہانگیر بادشاہ نے اکبر کی وفات کے بعد کابل جاتے ہوئے یہاں قیام کیا تھا۔ قلعہ میں ایک مسجد بھی موجود ہے جس میں مقامی افراد نماز ادا کرتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سرائے حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہے حالانکہ یہ ہمارا ثقافتی ورثہ ہے۔ لگ بھگ چار ایکڑ پر واقع اس قلعے میں لوگوں نے گھر تعمیر کر لیے ہیں اور کچھ اس قلعے کے اندر ہی رہائش پذیر ہیں‘ اور اس قلعے کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ آپ کو پورے ملک میں یہی حال ملے گا۔ دنیا میں انسانوں نے اپنے ماضی محفوظ رکھے‘ پرانے مقبروں اور عمارتوں کی بنیادوں میں دبے قصے کہانیاں ڈھونڈ کر ہمیں سنائے اور اُن انسانوں کے بارے بتایا جو ہم سے ہزاروں سال پہلے یہاں رہتے تھے۔ یہ قلعے‘ یہ یادگاریں بہت اہم ہوتی ہیں اور قومیں ان پر فخر کرتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب جنرل ایوب خان امریکہ گئے تو صدر جان ایف کینیڈی نے اپنی بیگم کو کہا کہ ہم نے جنرل صاحب سے دو اڈے لینے ہیں‘ اس لیے انہیں متاثر کرنا ہے۔ کینیڈی کی اہلیہ تازہ تازہ ویانا (آسٹریا) سے ہو کر آئی تھیں‘ وہاں کے شاہی قلعوں نے انہیں متاثر کیا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے پاس کوئی ایسا تاریخی قلعہ ہے جہاں جنرل صاحب کیلئے ڈنر کا انتظام کیا جاسکے؟ تب پتا چلا کہ امریکہ میں ایسا کچھ نہیں۔
اگر رہائشی سکیم اس چالیس فٹ یادگار کو ایک پارک میں بدل دیتی تو کیا قیامت آ جاتی۔ شہری انتظامیہ نے ایف ایٹ کا جنگل صاف کر دیا کہ یہاں ایک یادگار بننی ہے۔ ایک یادگار گرا دی گئی اور دوسری کیلئے جنگل صاف کر دیا گیا۔ یہ ہیں ہم‘ ہمارے بابوز‘ ہمارے ٹھیکیدار اور ہماری سوچ۔ لندن کے اینمل میموریل کی دیوار پر لکھی بات یاد آئی ''ان کے پاس چوائس نہیں تھا‘‘۔ لیکن ہمارے ٹھیکیداروں‘ رہائشی سکیموں اور شہری انتظامیہ کے پاس تو چوائس تھا‘ وہ تو اس یادگار کو ملیا میٹ نہ کرتے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved