تحریر : اسد طاہر جپہ تاریخ اشاعت     06-02-2026

ہر فن مولا تجزیہ کار

وطنِ عزیز پاکستان کو رب العالمین نے جہاں بے پناہ قدرتی وسائل سے مالامال کر رکھا ہے وہاں اسے کروڑوں ایسے افراد کی نعمتِ بے پایاں سے بھی نوازا کیا ہے جن کے پاس ہمہ وقت ہر مسئلے کا حل‘ ہر بیماری کا علاج اور ہر مشکل صورتحال سے نمٹنے کیلئے آسان فارمولا موجود ہے۔ 25کروڑ آبادی کے ہمارے ملک میں ایک محتاط اندازے کے مطابق پانچ سے دس کروڑ کے لگ بھگ تجزیہ کار ہیں جن میں سے کم و بیش سبھی خود ساختہ سینئر تجزیہ کار ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ ایک عام تجزیہ کار سے سینئر تجزیہ کار کی مسند توقیر پر کب اور کیسے فائز ہوئے‘ یہ وہ راز ہے جس سے وہ خود بھی بے خبر ہیں۔ مزید برآں ان میں سے کم و بیش ایک کروڑ ایسے آل راؤنڈر دانشور اور مبصرین ہیں جنہیں زمین و آسمان سے متعلق تمام امور اور جملہ معاملات پر مکمل دسترس حاصل ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ خداوند عالم نے انہیں علم و دانش کے ایسے ارفع مقام پر سرفراز کر رکھا ہے کہ وہ چھوٹے سے چھوٹے مقامی مسئلے کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ کسی بھی قومی معاملے کو بین الاقوامی تناظر میں جانچنے اور اس پر بے لاگ تبصرے کرکے عام لوگوں کی اوسط درجے کی سوجھ بوجھ کے مطابق بیان کرنے پر ملکہ رکھتے ہیں۔ حالاتِ حاضرہ سے متعلق ان کی معلومات اور تفصیلات سننے کے قابل ہوتی ہیں اور بیشتر اہم قومی اور بین الاقوامی واقعات کے بارے میں وہ پہلے سے ہی پیش گوئیاں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر انہیں بہت پہلے اندازہ ہو گیا تھا کہ 2024ء میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں کملا ہیرس کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب ہو جائیں گے۔ انہیں یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ جنوری 2025ء میں صدارت کا منصب سنبھالنے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ تارکین وطن پر امریکی زمین تنگ کر دیں گے اور نت نئے ٹیرف عائد کرکے بین الاقوامی معیشت کی چولیں ہلا دیں گے۔ ان پر یہ راز کب کا منکشف ہو چکا تھا کہ صدر ٹرمپ کینیڈا کو امریکہ کا صوبہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ جلد اپنی اس خواہش کا اظہار کرنے والے ہیں۔ انہیں اس امر کے اشارے بھی ملنا شروع ہو گئے تھے کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو امریکی فورسز بزورِ طاقت ان کے صدارتی محل سے گرفتار کرنے کے بعد امریکہ میں پابند سلاسل کردیں گی۔ وہ اپنے بے لاگ تبصروں میں ان امکانات کی پیش گوئی بھی کر چکے تھے کہ امریکہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے والا ہے جس کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں دراڑ پیدا ہونے والی ہے۔ یہ وہی قابل اذہان تھے جنہیں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ چھڑنے کی خبر پہلے مل چکی تھی اور اس جنگ کا منطقی انجام کیا ہو گا‘ یہ راز بھی ان پر کب کا منکشف ہو چکا مگر وہ کسی مصلحت کے تحت ابھی خاموش ہیں۔ ان تمام امور سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کی خود اعتمادی دیدنی ہوتی ہے اور ایسے وثوق سے وہ دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ جس طرح ان واقعات کے وہ خود چشم دید گواہ ہوں یا ان اہم معاملات سے متعلق فیصلہ سازی کرنے والے عالمی رہنماؤں نے انہیں ذاتی طور پر پہلے اعتماد میں لینا ضروری سمجھا ہو۔
ہر فن مولا ان تجزیہ کاروں کو میدانِ سیاست کے ساتھ ساتھ شعبۂ طب میں بھی خاص مہارت حاصل ہے۔ بدلتے موسم میں انسانی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات سے پوری قوم کو بر وقت آگاہ کرنا وہ اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ نزلہ‘ زکام‘ بخار سے لے کر مہلک امراض کے شرطیہ علاج تک سب ان کے دستِ فیض کی دسترس میں ہے۔ جگر کے عارضہ سے لے کر خون کے سرطان تک کے آزمودہ نسخے انہیں زبانی یاد ہیں جنہیں وہ سوشل میڈیا پر صدقۂ جاریہ کے طور پر مفت شیئر کرتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان صاحبانِ علم و حکمت کے پاس امراضِ مخصوصہ جیسے پیچیدہ مسائل کی چارہ گری بھی موجود ہے۔ علاوہ ازیں وہ جنات کے سائے‘ جادو ٹونے کے مضمرات اور نفسیاتی مسائل سے چھٹکارا پانے کا فن بھی جانتے ہیں اور پیچیدہ معاملات کا روحانی علاج بھی ممکن بناتے ہیں۔ بے اولاد جوڑوں کیلئے اکسیر ادویات‘ مجرب وظائف اور نادر قسم کے کشتے بھی ان کے پاس ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔ خدائی خدمتگاری کے جذبے سے لبریز سینئر تجزیہ کاروں کی سب سے منفرد اور بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی ان بے پایاں خدمات کا کوئی معاوضہ نہیں لیتے بلکہ وہ یہ کارِ خیر خالصتاً ثوابِ دارین اور وطنِ عزیز سے اپنی والہانہ عقیدت کیلئے رضاکارانہ طور پر انجام دینا اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔ ملک کے گنے چنے ٹیلی ویژن چینلز پر اتنے سارے جید مبصرین کے ارشاداتِ عالیہ کیلئے وقت متعین نہیں کیا جا سکتا لہٰذا وہ اپنے فون کو استعمال میں لا کر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے دل کی باتیں بلا خوف تردید کہتے رہتے ہیں جنہیں عوام میں خوب سراہا جاتا ہے۔ ان کی عوام میں مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دنوں ایک نجی چینل نے ایسے ہی ایک سینئر دانشور کی مزید خدمات لینے سے معذرت کر لی کیونکہ وہ صاحبِ دانش ٹاک شو کیساتھ ساتھ دیسی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ مجرب ٹوٹکوں کے ذریعے عوام میں بے پناہ مقبول ہو چکے تھے جس سے انکی توجہ پروگرام کے معیار سے زیادہ اپنے ذاتی مطب پر مرکوز ہو چکی تھی۔
ان تمام سینئر تجزیہ کاروں کی ایک اور نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ ہر معاملے پر بات چیت اور واضح مؤقف اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور تمام قومی اور بین الاقوامی ٹیلی ویژن چینلز کو ہمہ وقت دستیاب رہتے ہیں۔ ملک میں ہونے والی بے وقت بارشوں اور سیلابی ریلوں سے ممکنہ تباہ کاریاں ہوں یا اس سے جڑی ماحولیاتی تبدیلی کے اسرار و رموز‘ ان کے پاس ٹھوس معلومات کا خزانہ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر وہ مشکل ترین سوال کا انتہائی آسان جواب دینے پر ملکہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان اور بھارت میں جھڑپیں ہوئیں تو ان سینئر تجزیہ کاروں نے اپنے سوشل میڈیا چینلز پر پوزیشنز سنبھال لیں اور دشمن ملک کے بیانیے کو چکنا چور کر دیا۔ ابھی چند دنوں بعد رمضان المبارک کے حوالے سے مختلف ٹیلی ویژن چینلز پر خصوصی نشریات کا آغاز ہو گا تو یہی قابل اذہان ہمیں ان روح پرور پروگراموں میں دینی تعلیمات کی روشنی میں روزے کی فضیلت پر گفتگو کرتے نظر آئیں گے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ اپنی گفتگو میں افطار کے وقت ضرورت سے زائد شکم پروری کو بھی زیر بحث لائیں گے اور اس سے جڑے طبی مسائل پر بھی خوب روشنی ڈالیں گے تاکہ روزہ دار صحتِ عامہ کے اہم امور سے متعلق باخبر رہیں۔
میں ذاتی طور پر ان تمام سینئر تجزیہ کاروں کی تین خوبیوں سے بے حد متاثر ہوں۔ سب سے پہلی خوبی ان کی ذہانت ہے جس کے بل بوتے پر وہ آنے والے زمانوں کی خبریں ڈھونڈ لاتے ہیں اور پھر انہیں مناسب ترین الفاظ کے پہناوے میں اپنے سامعین اور ناظرین کے سامنے نہایت پُراعتماد انداز میں پیش کر دیتے ہیں۔ دوسری خوبی انکی مستقل مزاجی ہے جسکے نتیجے میں وہ ہر روز ایک نئے جوش و ولولہ سے سرشار ہو کر نئی اور تازہ خبروں کا چورن بیچتے نظر آتے ہیں حالانکہ انکے تجزیے اور تبصرے زمینی حقائق سے کوسوں دور ہونے کے باعث اکثر رد ہو جاتے ہیں بلکہ بسا اوقات معاملات کے نتائج انکے پیش کردہ تجزیات کے برعکس نکلتے ہیں جسکے باعث انکے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انکی تعریف سے زیادہ تضحیک آمیز کلمات پوسٹ کیے جاتے ہیں مگر اسکے باوجود وہ پوری شد و مد سے اک نیا وی لاگ لے کر اپنے چینل پر موجود ہوتے ہیں۔ انکی تیسری اور سب سے بڑی خوبی ان کی رجائیت پسندی ہے اور وہ کبھی مایوس نہیں ہوتے۔ وہ مشکل ترین حالات میں بھی امید و آرزو کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور سیاہ ترین اندھیروں سے نئے امکانات کا سورج تراش لاتے ہیں جس سے ان کے لاکھوں سامعین اور ناظرین پُرامید رہتے ہیں اور ایک مرتبہ پھر اس صبح پُرنور کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں جو آج تک کبھی طلوع نہیں ہو پائی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved