تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     06-02-2026

کشمیر پر علامہ اقبالؒ کے آنسو

اللہ علیم وخبیر کی زمین پر ایک جنت نظیر بھی ہے‘ جس کا نام کشمیر ہے۔ 4 فروری کو محترم جسٹس (ر) نذیر احمد غازی کی صدارت میں ایک مجلس تھی‘ جس میں تعلیم اور اقبالیات کی ماہر محترمہ نرید فاطمہ‘ منیر صاحب اور ڈاکٹر مجاہد احمد موجود تھے۔ پانچ فروری کہ جسے اہلِ کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے‘ اس دن کے حوالے سے گفتگو جاری تھی۔ اسی دوران قومی ترانہ پاک سرزمین شاد باد لکھنے والے حفیظ جالندھری مرحوم کا تذکرہ شروع ہو گیا۔ وہ اپنی کتاب ''بزم نہیں رزم‘‘ میں لکھتے ہیں: ''میں علامہ (اقبال) کے حضور بیٹھا تھا۔ علی بخش ان کا ملازم ایک چٹ لایا جس پر دو نام لکھے ہوئے تھے۔ خواجہ سعد الدین شال اور سید نور شاہ نقشبندی از سرینگر کشمیر۔ علامہ صاحب نے ان افراد کو بلایا‘ بٹھایا۔ میں ایک جانب بیٹھا ہوا سنتا رہا۔ گفتگو ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں تھی۔ اس گفتگو کا لب لباب جو میرے قلب پر پیوست ہوا‘ یہ تھا کہ پنجاب اور ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط ہٹانے کیلئے ہندو مسلمان بھائی بھائی تو بن رہے ہیں مگر ساری دنیا کے اندر ایک واحد سرزمین جس کو ارضی بہشت قرار دیا جا چکا ہے‘ اس میں بسنے والے 93فیصد مسلمان جن کی تعداد 32لاکھ ہے‘ 1846ء سے ہندوئوں‘ ڈوگروں‘ سکھوں‘ برہمنوں اور بدھوں کے پنجے میں جانوروں کی طرح اور انگریزوں کے زیر شمشیر انتہائی ذلت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ جب بھی وہ انسانیت کی زندگی اختیار کرنا چاہتے ہیں‘ ان پر ظلم وستم کی تازہ سے تازہ بارش کر دی جاتی ہے۔ حضرت علامہؒ نے ان کو اتحاد اور جہاد کا مشورہ دیا۔ وہ چلے گئے تو میں نے علامہ اقبالؒ کی آنکھوں میں چھلکتے آنسو دیکھے۔ جب میں سلام کرکے رخصت ہونے لگا تو فرمایا ''شاعر اگر مومن ہے تو وہ شعر سے بھی جہاد میں امداد کر سکتا ہے‘‘۔
منیر صاحب نے مجھے میرا ایک جملہ یاد کرایا‘ جو 30 سال پرانا ہے اور اس زمانے مقبوضہ وادی اور پاک وطن میں بہت معروف ہوا۔ جملہ تھا: کشمیر قراردادِ مذمت سے نہیں‘ (ظالم) ہندو کی مرمت سے آزاد ہو گا۔ معروف کشمیری رہنما افتخار صاحب نے تازہ مظالم کے بارے میں بتایا کہ بھارت کے حکمرانوں نے ایک ایسا قانون پاس کر رکھا ہے جسے ''آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ‘‘ (افسپا) کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں تعینات کوئی فوجی اپنے زیر نگیں علاقے میں کوئی بھی فیصلہ کرے اور اس پر عملدرآمد کرے تو اس کے فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ قارئین کرام! مقبوضہ وادی میں دس لاکھ کے قریب فوج اور نیم فوجی دستے تعینات ہیں۔ اس فوج کا ہر سپاہی جج بھی ہے اور خود ہی سزا دینے والا بھی۔ دنیا میں اس وقت 200 کے قریب ممالک ہیں اور کسی ایک ملک میں بھی ایسا کوئی قانون نہیں۔ مقبوضہ وادی کی آبادی 70 لاکھ کے لگ بھگ ہے جبکہ وہاں انڈین فوجی اہلکاروں کی تعداد دس لاکھ ہے۔ خواتین کی آدھی آبادی نکال دیں تو 35لاکھ مرد باقی بچتے ہیں۔ بچوں اور بوڑھوں کو نکال دیں تو جوان لوگوں کی تعداد کوئی پندرہ‘ اٹھارہ لاکھ رہ جائے گی۔ غور فرمائیں! جہاں پندرہ لاکھ جوانوں کیلئے دس لاکھ فوج ہو‘ وہاں ریاستی جبر اور ظلم کا کیا عالم ہوگا؟
بھارت کی ایک اعلیٰ عدالت نے چند سال قبل جب معروف کشمیری لیڈر افضل گوروکو سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا تو اس فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ افضل گورو کو پھانسی دینے کیلئے اگرچہ ٹھوس ثبوت موجود نہیں مگر یہ پھانسی اس لیے ضروری ہے تاکہ بھارتی قوم کے اجتماعی ضمیر کو تسلی اور حوصلہ مل جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا فیصلہ کرکے بھارتی عدلیہ نے بھارتی قوم کی توہین کی۔ ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی میں 20کروڑ کے لگ بھگ مسلمان ہیں۔ وہ اس فیصلے سے غمزدہ ہوئے۔ دس کروڑ سکھ دکھی ہوئے۔ کوئی پانچ کروڑ مسیحی آبادی غمناک ہوئی۔ 40کروڑ دلت دکھی ہوئے۔ کروڑوں سیکولر ہندو ایسے نام نہاد عدل سے ناخوش ہوئے۔ آریہ سماج جیسے مذہبی ہندو بھی ناراض ہوئے۔ ہاں البتہ! آر ایس ایس والے انتہا پسندوں کے علمبردار اگر خوش ہوئے تو ان کی تعداد اقلیت میں ہے۔ آج سے 30 سال قبل ایک انگریزی جریدے وائس آف اسلام کا اجرا ہوا۔ راقم اس کا چیف ایگزیکٹو تھا۔ نیلسن منڈیلا جو جنوبی افریقہ کو آزاد کروا کر اس کے پہلے صدر بن چکے تھے‘ ان کی لمبی قید اور جدوجہد آزادی پر ایک مضمون لکھا گیا۔ اہلِ کشمیر پر ظلم وستم کا آرٹیکل لکھا گیا۔ میں نے یہ شمارے نیلسن منڈیلا کو بھیجے تو انہوں نے کمزوروں اور مظلوموں کا حوصلہ بڑھانے کو جوابی خط لکھا۔ آج ڈاکٹر محمد قاسم فکتو کو کشمیر کا نیلسن منڈیلا کہا جاتا ہے۔ وہ گزشتہ 26 سال سے متواتر جیل میں ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے جیل میں رہ کر درجنوں کتابیں لکھی ہیں۔ اندلس کے مسلمانوں کے بارے میں وہ لکھتے ہیں: وہ کئی گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے‘ باہم لڑتے چلے گئے۔ عرب‘ بربر‘ اندلسی مسلمان لڑے۔ پھر عربوں میں کلبی‘ قیسی‘ یمنی اور شامی لڑنے لگ گئے۔ دیگر بہت سارے قبائل اور گروہ بھی خانہ جنگی میں شامل تھے۔ آخرکار مسیحی حکمرانوں نے فائدہ اٹھایا اور یہ سب مارے گئے۔ جان بچانے کیلئے مسلمانوں کو مسیحی بننا پڑا۔ جلاوطن بھی ہوئے۔ جو کشتیوں اور جہازوں میں سوار ہوئے‘ ان میں سے بیشتر رومی سمندر میں مچھلیوں کی خوراک بن گئے۔ ڈاکٹر فکتو اپنی اس نصیحت کے ذریعے انڈیا کے مسلمانوں کو اتحاد کا درس دیتے ہیں۔ بطور خاص وہ پاک وطن کے باسیوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ آپس میں نہ لڑیں کیونکہ ہم اسلامیانِ پاکستان کا انتشار مقبوضہ کشمیر کی آزادی کو قریب نہیں بلکہ دور کرتا ہے۔ قارئین کرام! ہم اپنے پیارے بلوچستان کو دیکھ لیں۔ انڈیا وہاں دہشت گردی پھیلا کر مقبوضہ وادی کی جائز جدوجہد کا بدلہ لیتا ہے۔ دنیا میں سیاسی اور نظریاتی قیدیوں میں نیلسن منڈیلا کی قید 27 سال ہے جبکہ ڈاکٹر محمد قاسم فکتو اب تک 33 سال کی قید کاٹ چکے ہیں۔ یوں وہ دنیا بھر میں ایسے منفرد سیاسی اور نظریاتی قیدی ہیں جو سب سے زیادہ قید کاٹ چکے ہیں۔
ڈاکٹر محمد قاسم کی اہلیہ محترمہ آپا جی آسیہ اندرابی بھی گزشتہ آٹھ سالوں سے متواتر قید میں ہیں۔ وہ اپنے عظیم خاوند کا دکھ برداشت کرتی رہیں‘ اپنے بچوں کو پالتی رہیں‘ انہیں حوصلہ دیتی رہیں اور اب گزشتہ آٹھ سالوں سے بچے ماں اور باپ دونوں کو ترس گئے ہیں۔ آسیہ اندرابی کو فولادی مومنہ کہوں تو سو فیصد درست ہوگا۔ ان کی ساتھی خواتین باجی ناہید نسرین اور فہمیدہ صوفی بھی گزشتہ آٹھ سالوں سے قید میں ہیں۔ سید شبیر شاہ کو عالمی سطح پر ضمیر کا قیدی کہا جاتا ہے‘ یعنی ان کی قید دنیا بھر کے اہلِ ضمیر انسانوں کے ضمیر پر ایک اخلاقی بوجھ ہے۔ محمد یاسین ملک کہ جن کی اہلیہ محترمہ مشعال ملک پاکستانی کشمیری ہیں‘ وہ دکھ سہہ سہہ کر اپنی بچی کیساتھ پریس کانفرنسز کرکرکے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ‘ مشتاق الاسلام اور ان کے وہ ہزاروں کارکنان جو جیلوں میں بند ہیں‘ وہ بند ہو کر بھی ''کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ ان کی ہمالیہ جیسی استقامت کو دیکھ کر قابض بھارتی حکمرانی نے اب ایک نیا کام شروع کیا ہے۔ پچھلے سات سال میں وہ 17 لاکھ ڈومیسائل جاری کر چکے ہیں تاکہ بھارت کی ہندو آبادی کو کشمیر میں آباد کر سکیں۔ انہوں نے ہندو خواتین کو عسکری تربیت دینا شروع کر دی ہے تاکہ کشمیری عورتوں اور بچوں کو ان کے ہاتھوں سے ٹارچر کروایا جائے‘ انہیں شہید اور بے گھر کیا جائے۔ معاشی طور پر ویسے تو کشمیریوں کی 16 اجناس کو تباہ کیا جاتا ہے مگر سیب اور زعفران کو بطور خاص مارکیٹ میں بکنے نہیں دیا جاتا۔ ایسے حالات میں یومِ یکجہتی کشمیر کا تقاضا یہ ہے کہ کشمیر کمیٹی کو فعال کیا جائے‘ پاک وطن کے ہر سفارتخانے میں کشمیر سیل بنایا جائے‘ ہر سفارتخانے کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے وزارتِ خارجہ میں الگ ڈیسک قائم کیا جائے۔ اہلِ غزہ کے ساتھ ہم نے عالمی ہمدردی کے مظاہر اور مناظر کو دیکھا‘ اہلِ کشمیر کا مقدمہ اگر ہم اخلاص اور یکجہتی کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے پیش کریں تو انسانی ہمدردی کی آواز اہلِ ظلم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی‘ ان شاء اللہ تعالیٰ!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved