لاہور کا آسمان کم از کم تین دن کے لیے رنگ برنگی پتنگوں سے ڈھکا رہے گا۔ آفتاب کی کرنوں کو زمین پر نظر ڈالنے کے لیے ادھر اُدھر تانک جھانک کرنا پڑے گی۔ ڈھول کی تھاپ سے اٹھنے والی صدا فلک شگاف نہ سہی‘ خلا میں تو ضرور گونجے گی۔ یوں جانیے کہ آسمان کو زمین سے ہم کلام ہو نے کے لیے کلچر کی ایک تہہ کو عبور کرنا ہو گا۔ اس کی نفی یا اس کے وجود کا انکار کرتے ہوئے کوئی دیرپا باہمی تعلق قائم نہیں ہو سکتا۔ یہ بات اگر سمجھ میں آ جائے تو کلچر اور مذہب کا تعلق سمجھنا مشکل نہیں رہتا۔
انسانی شخصیت کا ایک پہلو جمالیاتی ہے۔ جمالیاتی مطالبات پورے نہ ہوں تو آدمی ادھورا رہ جاتا ہے۔ ادھورا آدمی سماج کو کبھی مکمل نہیں ہونے دیتا۔ اس کا ادھورا پن فطرت شناسی میں مانع ہوتا ہے۔ ایسا آدمی خود کو جان پاتا ہے نہ معاشرے کو۔ وہ ان لطیف جذبات کو سمجھنے کی اہلیت سے محروم ہو جاتا ہے جو انسان کو انسان بناتے ہیں‘ وہ انسان جس کا خمیر 'اُنس‘ سے اٹھا ہے۔ پھر وہ کبھی محتسب بن کر دوسروں کے اخلاق پر حکم لگاتا ہے۔ کبھی خدائی فوج دار بن کر تہذیب کی صفیں الٹ دیتا اور اسے اپنا کارنامہ شمار کرتا ہے۔ کبھی خدا کا نمائندہ بن کر جزا و سزا کے فیصلے سناتا اور انہیں نافذ بھی کرتا ہے۔ وہ انسان کے بہتے لہو کو دیکھ کر تسکین پاتا ہے۔ بچوں کے وجود سے لپٹی معصومیت کو نوچنا اس کا مشغلہ بن جاتا ہے اور وہ اس کے لیے بھی جواز ڈھونڈ لیتا ہے۔ یہ ادھورا آدمی ہمیشہ انسانی تہذیب کے لیے خطرہ رہا ہے۔
فنونِ لطیفہ اسی ادھورے پن کا علاج ہیں۔ ان کا وجود اسی لیے ہر تہذیب کا مستقل حصہ ہے کہ یہ انسان کی جمالیاتی تکمیل اور تربیت کا اہتمام کرتے ہیں۔ تہوار بھی ان میں شامل ہیں۔ رُت بدلتی ہے تو انسان کی جمالیاتی حس انگڑائیاں لیتی ہے۔ سردیوں کی دھوپ میں جب کھیت گندم کی سبز کونپلوں سے ڈھک جاتے ہیں اور ان میں لہراتے سرسوں کے پیلے پیلے پھول ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں توکون کافر ہو گا جس کا من گانے کو نہ مچلتا ہو گا۔ اس کے لبوں سے گیت نہ جھڑتے ہوں گے۔ جب گرمیوں میں سورج کی شعاعیں اس گندم کو سنہری آنچل اوڑھا دیتی ہیں تو یہ اس کی رخصتی کا وقت ہوتا ہے۔ خوشۂ گندم سے دانے اور بھوسے کو الگ کرنے اور پھر اناج کو محفوظ بنانے کے بعد کسان جب آسودہ ہوتا ہے تو اس کا داخلی اطمینان میلے ٹھیلوں میں ڈھل جاتا ہے‘ جہاں وہ خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ پھر بیل دوڑتے ہیں۔ کبڈی کے معرکے ہوتے ہیں۔ شعرگوئی ہوتی ہے۔ ایک جشن کا سماں ہوتا ہے۔
میں اپنے پوٹھوار میں ہر سال ایک منظر دیکھتا ہوں۔ ایک دن صبح آنکھ کھلتی ہے تو کانوں میں گھنگھروؤں کی نامانوس آواز سنائی دیتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے گاؤں سے آنے والے اونٹوں کے قافلے گزر رہے ہیں جو سوئے کلیام رواں ہیں۔ اونٹوں کے گلے میں گانے اور ان کی رنگ برنگی اوڑھنیاں۔ گردن میں لٹکتے گھنگھروؤں کی چھن چھن اور ان کے ساتھ ہم قدم مرد و زن۔ یہ کلیام شریف کے میلے میں شرکت کے لیے محوِ سفر ہیں۔ یہ کئی میل خوشی خوشی پیدل چلتے کلیام پہنچتے ہیں۔ وہ یہاں مدفن اپنے پیر کے لیے عقیدت کی نیاز کے ساتھ سال بھر میں اگائے گئے اناج کا ایک حصہ بھی لاتے ہیں۔ اسی سے ان مزاروں کے لنگر چلتے اور ان کی رونقیں سال بھر قائم رہتی ہیں۔
یہ صرف کلیام کی بات نہیں۔ یہ میلے اس سرزمین پر پھیلے ہوئے ہیں۔ قوالی اور سماع ان کا حصہ ہیں۔ میں اپنے مشاہدے کی بات کر رہا ہوں جو پوٹھوار تک محدود ہے۔ یہاں زیادہ تر سیف الملوک پڑھا جاتا ہے جو میاں محمد بخشؒ کے قلم سے نکلا اور پھر زبانِ خلق پر چڑھ گیا۔ یہ کلام اعلیٰ انسانی قدروں کی تذکیر ہے جو معاشرے کو سنوارتا اور اس کی تطہیر کرتا ہے۔ اسی طرح کی ایک ثقافتی سرگرمی لاہور میں بھی ان دنوں جاری ہے۔ عوام کی اکثریت خوش ہے مگر کچھ ہیں جنہیں یہ تہوار ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ کبھی وہ ان کی تاریخ کھنگالتے ہیں اور کبھی مذہب کو ثقافت کے بالمقابل لاکھڑا کرتے ہیں۔ انسان کا جمالیاتی پہلو اُن کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔
تہوار عام طور پر تاریخ کی گرفت میں نہیں رہتے۔ انسان کی جمالیاتی حس ان کی صورت گری کرتی ہے۔ اسی بسنت کو دیکھیے۔ کارپوریٹ کلچر نے اسے ایک نیا آہنگ دے کر عوام سے دور کر دیا۔ نفع کمانے کی بے لگام خواہش نے ایسی ڈور متعارف کرائی جو انسانی گردنیں کاٹنے لگی۔ خوشی کا مو قع ماتم کے ماحول میں بدل گیا۔ تہوار اسی طرح حالات کا اثر لیتے ہیں۔ تاریخ وقت کے ساتھ غیراہم ہو جاتی ہے۔ گڈی لوٹنے کے شوق میں بھاگتے بچے کو کیا معلوم یا اسے اس بات سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے کہ یہ تہوار کب شروع ہوا اور کیوں۔
جو مسلمان اپنی مذہبی شناخت کے بارے میں حساس ہیں اور انہیں حساس ہونا چاہیے‘ ان کے لیے تین باتیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ وہ تہوار کے نام پر کسی ایسی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں جس میں شرک پایا جاتا ہو۔ شرک وہ نجاست ہے جس سے عقیدے کی طہارت باقی نہیں رہتی۔ اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ دوسری بات اخلاقی حساسیت سے متعلق ہے۔ ہمارے دین نے اختلاطِ مرد و زن کے آداب بتائے ہیں۔ عوامی مقامات جیسے ریستوران‘ بازار‘ اجتماعات کی جگہ پر‘ جنہیں قرآن مجید نے سورۃ النور میں 'بیوتِ غیر مسکونہ‘ کہا ہے‘ کیا اہتمام کرنا ہے‘ اسے قرآن مجید نے واضح کر دیا ہے۔ ایک مسلمان کو ان آداب کا لحاظ رکھنا ہے۔ اس کا تعلق حیا کی قدر سے ہے۔ تیسری بات کا تعلق اسراف اور نمائش جیسے سماجی رویوں سے ہے جسے دین نے ناپسندگی کی نظر سے دیکھا۔ اس میں سب سے اہم انسانی جان کی حرمت ہے۔ پتنگ بازی میں ایسی ڈور کا استعمال گناہ ہے جو انسانی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اگر ہم ان حدود کا لحاظ رکھیں تو بسنت ہو‘ میلہ ہو یاکوئی اور تہوار‘ اس میں شریک ہوا جا سکتا ہے۔
انسان کی جمالیاتی حس اظہار چاہتی ہے۔ اگر کوئی تہذیب نہ ہو یا اس کے اظہار پر پابندی ہو تو انسان نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔ یہی ادھورا پن ہے۔ ہم اپنے معاشرے میں جو انتہا پسندی دیکھتے ہیں‘ یہ اسی ادھورے پن کا مظہرہے۔ جمالیاتی حس بیدار ہو تو انسان میں ہابیل کی نفسیات پیدا ہوتی ہے جو کسی انسان کی جان لینے میں پہل نہیں کرتا۔ یہ حس مر جائے تو وہ قابیل کی طرح اپنے ہی بھائی کے لہو سے اپنے ہاتھ رنگ لیتا ہے۔ جمالیتی حس زندہ ہو تو کوئی کسی دوسرے کی توہین نہیں کر سکتا۔ وہ جانتا ہے کہ اس سے آدمی کس کرب سے گزرتا ہے۔ یہ جمالیاتی حس کی موت ہے کہ انسان بے رحمی سے درخت کاٹتا‘ جنگل ویران کرتا اور پھولوں کو مسلتا ہے۔
یہ فنونِ لطیفہ اور تہوار ہیں جو انسان کو ثقافتی طور پر زندہ رکھتے ہیں۔ یہ بات اس کی جمالیاتی تربیت اور آسودگی کے لیے ضروری ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی ان کا گلا نہیں گھونٹنا چاہیے۔ ان تقریبات اور تہواروں کو ان خرابیوں سے پاک کیجیے جو مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں فون پر پابندی لگانی چاہیے تاکہ کوئی نجی تقریبات کو اشتہار نہ بنائے۔ ایسے جرائم پیشہ کی وجہ سے مگر تقریبات اور صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع کو ختم نہ کیجیے۔ گلیوں میں آوارہ کتوں کی بہتات ہو جائے تو اس کا علاج شہریوں کو گھروں میں بند کرنا نہیں ہے۔ ضرورت کتوں کو پٹّا ڈالنے کی ہے۔ تقریبات‘ تہوار یا فنونِ لطیفہ اگر فنی اور اخلاقی اعتبار سے پست لوگوں کے ہاتھ میں چلے جائیں تو ان کو بند کرانے کے بجائے‘ انہیں ایسے ہاتھوں سے آزاد کرائیے۔ خوش رنگ پتنگیں تتلیوں کی طرح ہیں۔ ان کو اڑنے دیں۔ یہی فطرت کی آواز ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved