منگل کے روز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ نے لاہوریوں کو نصیحت کی کہ تمام تفکرات بھول کر بسنت مناؤ۔ ہم نے بھی دل میں سوچ لیا تھا کہ ہر وقت کی شدتِ احساس اور اپنے آپ کو جلانا بھی کوئی اچھی بات نہیں۔ آخر سکونِ دل کا بھی کچھ خیال ہونا چاہیے۔ اس لیے ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب کے شعری مشورے پر کم از کم بسنت کے دنوں میں عمل کرنے کی ٹھان لی:
کچھ بے حسی بھی چاہیے بحرِ سکونِ دل
ہر لرزشِ صبا کے کہے پر نہ جائیے
بسنت منانے کے کم از کم لوازمات کے اخراجات کا اندازہ لگایا تو وہ ہزارہا تک پہنچے ہوئے تھے۔ ایک پتنگ پانچ سو سے لے کر آٹھ سو میں آتی ہے۔ ڈور کے ایک پنّے کی قیمت 20 سے 25 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اس سے اندازہ ہوا کہ اُن ناقدین کی تنقید میں بڑا وزن ہے جن کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی ایلیٹ کلاس کا کام ہے‘ یہ غریب کلاس کے بس کی بات نہیں۔ البتہ ہمیں دو تین جگہوں سے بسنت منانے کی دعوت تھی۔ اس پر غور کیا جا سکتا تھا۔تاہم ابھی ہم کوئی فیصلہ نہ کر پائے تھے کہ اگلے ہی روز مریم نواز صاحبہ کا ایک اور بیان منظر عام پر آ گیا۔ یہ بڑا فکر انگیز بیان ہے۔ فرماتی ہیں کہ شعور سے پیٹ نہیں بھرتا‘ عوام کو سہولتوں کی ضرورت ہے۔ مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو نشانۂ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ کے پی حکومت سے جب ترقی کا سوال ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے ہم نے لوگوں کو شعور دیا ہے۔ کیا شعور سے کسی کا پیٹ بھر سکتا ہے‘ کیا روٹی کی جگہ شعور کھائیں گے؟ کیا شعور پر سفر کریں گے‘ کیا شعور کو روزگار کا ذریعہ بنائیں گے؟ مزید ارشاد فرماتی ہیں: جب تک آپ حکمرانوں سے سوال نہیں کریں گے تو وہ نکمے پن کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔ جوشِ خطابت اپنی جگہ مگر محترمہ کے بیان میں دلچسپ تضاد موجود ہے۔ ایک شہری اپنے حکمرانوں سے سوال کب کرتا ہے؟ اُن سے کارکردگی کا حساب کتاب کب مانگتا ہے؟ اپنے فرمانرواؤں کا محاسبہ کب کرتا ہے؟ شہری اسی وقت حکمرانوں کو جوابدہی کے کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں جب اُن کے اندر شعور ہوتا ہے اور اپنے حقوق سے آگاہی ہوتی ہے۔مجھے معلوم نہیں کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سے کیا سوال کیا گیا اور انہوں نے کیا جواب دیا؛ البتہ یہ تو بہت پرانی بحث ہے جو صدیوں سے ہو رہی ہے اور شاید تاابد جاری رہے گی کہ انسان کی ضروریات کیا ہیں۔ تخت نشیں حکمرانوں کے نزدیک تو اُن کی ضروریات چند بنیادی سہولتیں ہیں اور بس! جبکہ آزاد دنیا بشمول پاکستان کے دساتیر انسانی حقوق کی تفصیلات سے بھرے پڑے ہیں۔
مجھے موجودہ سیاسی صورتحال سے کچھ زیادہ سروکار نہیں۔ ظاہر ہے کہ حکومت پنجاب کی ہو یا سندھ کی‘ خیبر پختونخوا کی ہو یا بلوچستان کی‘ اس کے بنیادی فرائض میں شامل ہے کہ وہ اپنے عوام کو آئین میں لکھے ہوئے بنیادی انسانی حقوق دے‘ انہیں امن و استقرار‘ عدل و انصاف‘ معاشی خوشحالی‘ علاج معالجہ کی سہولتیں‘ اعلیٰ تعلیم اور روزگار بھی فراہم کرے۔ ہم تو محترمہ مریم نواز کے بیان میں مضمر اس نکتے کو یارانِ نکتہ داں کی توجہ کے لیے اجاگر کرنا چاہتے ہیں کہ کیا صرف روزمرہ سہولتیں انسان کی ضرورت ہیں‘ اور شعور و آگہی اس کی بنیادی ضروریات میں شامل نہیں؟
چلئے برصغیر سے ہی بات کا آغاز کر لیتے ہیں۔ انگریز یہی تو کہتا تھا کہ تم ہندوستانیوں کو تمام سہولتیں حاصل ہیں‘ تم ہر وقت آزادی آزادی کی رٹ کیوں لگائے رکھتے ہو؟ کیا ''آزادی‘‘ سے تمہارا پیٹ بھر جائے گا؟ مگر قائداعظم محمد علی جناح اور حکیم الامت علامہ اقبال نے اپنی قوم کو شعور و آگہی کی نعمت سے مالا مال کیا۔ انہیں آزادی کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ پھر وہ وقت آیا کہ قائداعظم کی پکار پر مسلمانانِ ہند نے اکٹھے ہو کر روٹی‘ کپڑا اور مکان کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ آزادی مانگی تھی۔ اگر متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ شعور حاصل نہ ہوتا اور صرف اپنا پیٹ اور اپنی تجوریاں بھرنے میں مشغول رہتے تو ہم ابھی تک انگریز یا ہندو کے غلام ہوتے۔
کمیونزم دنیا نے 1917ء سے لے کر 1989ء تک مختلف ادوار میں انسانوں کی محنت و مہارت اور اُن کے شعور و آگہی کو اپنے قبضے میں لے کر انہیں بتایا کہ شعور سے پیٹ نہیں بھرتا لہٰذا یہ ایک فالتو اور غیر ضروری شے ہے ‘اس کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں ‘پھر تاریخ گواہ ہے کہ روس‘ چین اور بعد ازاں شمالی کوریا‘ کمبوڈیا اور دیگر کمیونسٹ ممالک نے اس روٹی کی قیمت کے طور پر مختلف اندازوں کے مطابق تقریباً ان سات دہائیوں میں چھ سے دس کروڑ کے درمیان لوگوں کی زندگیوں کے چراغ گل کر کے وصول کی۔ تاہم جب لوگوں کو شعور و آگہی کی روشنی ملی تو اُن کی تاریک دنیا منور ہو گئی۔
موجودہ دور میں تقریباً سارے کمیونسٹ ممالک سوشلسٹ بن چکے ہیں۔ اب وہاں ذرائع پیداوار بھی اُسی طرح ذاتی ملکیت میں آ چکے ہیں جس طرح کسی فرد کی محنت و مہارت اس کا اپنا انفرادی سرمایہ و اثاثہ ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو یقینا علم ہو گا کہ 15ویں صدی سے لے کر 20ویں صدی کے اوائل تک افریقہ اور ایشیا کی تقریباً ساری قومیں یورپی استعماری اقوام کی غلامی میں یا اُن کے زیر تسلط آ چکی تھیں۔ ان استعماری قوتوں کا بھی یہی فلسفہ تھا کہ پیٹ شعور یا آزادی سے نہیں بھرتا لہٰذا غلامی و آزادی کے چکر سے نکلو اور کھاؤ پیو۔ مگر جوں جوں محکوم قوموں کے قائدین شعور و آگہی کے عذاب سے گزرتے گئے توں توں وہ یہ شعور اپنی قوم کو منتقل کرتے رہے اور یوں ایک ایک کر کے آزادی کی پری اُن پر فدا ہوتی چلی گئی۔ اسی شعور کی بنا پر جنوبی افریقہ کے عظیم لیڈر نیلسن منڈیلا نے 27 برس تک قیدِ تنہائی کی صعوبتوں کو برداشت کیا اور پھر اپنی قوم کو حقیقی آزادی کی نعمتوں سے ہمکنار کیا۔
صہبا اختر نے سچ ہی تو کہا تھا:
اگر شعور نہ ہو تو بہشت ہے دنیا
بڑے عذاب میں گزری ہے آگہی کے ساتھ
تاہم قوموں کی آزادی اسی عذابِ آگہی کا ثمر ہے۔
حکمرانوں اس دور کے ہوں یا گزشتہ ادوار کے‘ وہ عوام کے شعور پر اعتماد نہیں کرتے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام بے شعور ہیں۔ حکمران عوام کی خدمت کریں‘ انہیں زیادہ سے زیادہ امن و سکون فراہم کریں‘پھر اپنی کارکردگی اور عوام کے شعور پر بھروسا کریں اور فیصلہ اُن پر چھوڑ دیں۔ دوسروں پر تندو تیز تنقید سے آپ کا اپنا کیس کمزور ہوتا ہے۔
اگرچہ دل سے وعدہ تو یہی کیا تھا کہ بسنت کے رنگا رنگ دنوں میں خوش کلامی سے کام لیا جائے گا اور تلخ نوائی سے اجتناب کیا جائے گا مگر ایک کڑوا سچ تو بولنا پڑے گا۔ اگر ہمارے حکمران 78 برس کے دوران عوام کے اجتماعی شعور کی قدر کرتے اور اپنی من مانی نہ کرتے تو آج ہم جنوبی ایشیا میں دیگر ساری اقوام سے پیچھے نہیں آگے ہوتے۔ مریم نواز صاحبہ کو بسنت کی خوشیاں مبارک! تاہم محترمہ تاریخ کی اس گواہی پر بھی توجہ دیں کہ کسی قوم میں شعور جتنا بڑھتا ہے اس کا پیٹ اتنا ہی فراخی سے بھرتا ہے۔ ملک میں خوشحالی آتی ہے اور دنیا میں اس قوم کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ عوامی شعور سے گھبرائیں نہیں اس کی قدر کریں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved