تحریر : افتخار احمد سندھو تاریخ اشاعت     07-02-2026

بلوچستان کے مسائل کا حل

پاکستان کا قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ شروع دن سے مسائل سے دوچار ہے۔ بلاشبہ بلوچستان کا مسئلہ پاکستان کا مسئلہ ہے‘ لیکن ہم نے اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ جب تک کسی مسئلے کی تہہ یا اس کی جڑ تک نہ پہنچا جائے‘ وہ مسئلہ درست طریقے سے حل نہیں ہو سکتا۔ بلوچستان میں جا کر دیکھیں تو پسماندگی اور غربت کا یہ حال ہے کہ آپ کو کھانے کو روٹی اور پینے کو صاف پانی نہیں ملے گا۔ اس درجے کی غربت اور پسماندگی ہے کہ جس کا کوئی حساب نہیں۔ جتنے فنڈز اور پیسے بلوچستان کو دیے گئے یا دیے جا رہے ہیں اگر وہ واقعتاً بلوچستان اور اس کے عوام پر خرچ کیے جاتے تو یہ صوبہ ترقی یافتہ ہوتا لیکن بدقسمتی سے ایسا آج تک نہیں ہو سکا۔ جو پیسے صوبے کو دیے جاتے ہیں وہ ارکانِ اسمبلی اور نیچے افسر شاہی میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ بلوچستان میں کرپشن باقی تینوں صوبوں سے زیادہ ہے کہ وہاں پیسہ صوبے اور عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ ہوتا ہی نہیں اور چند جیبوں میں چلاجاتا ہے۔ پچھلے دنوں بلوچستان کے ایک سردار کے بچوں کی کراچی میں شادی ہوئی۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ اس شادی پر دو ارب روپے کے قریب خرچ ہوئے۔ ارکانِ اسمبلی کے اخراجات اور ان کے کاروبار دیکھیں تو آپ دنگ رہ جائیں گے لیکن اکثر لوگوں نے کبھی ٹیکس ریٹرنز ہی فائل نہیں کیے۔ شنید ہے کہ یہ لوگ حکومت سے لیے گئے پیسوں میں سے کچھ حصہ وہاں کے بندوق برداروں کو بھی دیتے ہیں اور بدقسمتی یہ ہے کہ عام افراد دو طرفہ مارے جا رہے ہیں۔
ایک طرف تو بلوچستان کے حالات بہت پسماندہ اور برے ہیں دوسری طرف ان کو سردار اور نواب لوٹ رہے ہیں۔ پھر پاکستان کے دشمن نوجوان ذہنوں کو ورغلا کر ان کو اسلحہ اور فنڈز سپلائی کرتے اور اپنے مقصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں بیروزگاری حد سے زیادہ ہے جس کے باعث غربت گوڈے گوڈے ہے۔ شنید ہے کہ چالیس‘ پچاس ہزار میں لڑنے کیلئے نوجوان دستیاب ہو جاتے ہیں۔ بڑی بات یہ کہ وہاں کے حکمران عوام کے حقیقی نمائندے نہیں بلکہ مقتدر حلقوں کے منظورِ نظر ہیں۔ ان لوگوں کی حیثیت یہ ہے کہ اپنے حلقوں میں بھی نہیں جا سکتے۔ جس طرح اشرافیہ کے لوگ پاکستان کے وسائل کو کھا رہے ہیں‘یہی معاملہ بلوچستان کا ہے۔ بلوچستان کے نوابوں اور سرداروں نے جان بوجھ کر اپنے لوگوں اور علاقوں کو تعلیم سے مسلسل محروم رکھا ہے‘ جس کے باعث لوگ نسل در نسل ان کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔
بدعنوانی اور ناانصافی وہ بنیادی مسائل ہیں جنہوں نے عام آدمی کو ریاست سے بدظن کر رکھا ہے۔ حکومتی ناکامیوں کے بارے میں عوامی سطح پر غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ بلوچستان کے عوام کو غربت‘ بیروزگاری اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا سامنا ہے جبکہ سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ حکومتی ملازمین بھی وہاں سیاست کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں بلوچستان میں بدامنی اور دہشت گردی کے واقعات نے یہ تاثر بھی دیا کہ وسائل کی لوٹ مار اور کرپشن ہی صوبے کی بدحالی کی بڑی وجہ ہے۔ جس معاشرے میں سیاستدانوں کو اچھی حکمرانی کے بجائے صرف اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہو وہاں کرپشن ڈیرہ جما لیتی ہے اور اس کے نتیجے میں اہم نوعیت کے مشکل فیصلے کرنے سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ ہمارے دوست اور مہربان جنرل (ر) غلام مصطفی نے ایک تقریب کے دوران بتایا تھا کہ ایک دفعہ وہ دورانِ ڈیوٹی بلوچستان کے دورے پر تھے‘ راستے میں ان کو کچھ لوگ ملے جو ایک بیمار نوجوان کو خچر پر لاد کر ہسپتال لے جا رہے تھے۔ قریب آکر ان لوگوں نے جنرل صاحب کے ساتھ موجود ایک باریش شخص سے درخواست کی کہ اس نوجوان کا جنازہ پڑھا دیں۔ جب غور سے دیکھا گیا تو وہ نوجوان ابھی زندہ تھا اور اس کی سانسیں چل رہی تھیں۔ جنرل صاحب نے حیران ہوکر پوچھا کہ یہ تو زندہ ہے‘ جنازہ کیوں پڑھنا چاہتے ہیں؟ اس پر ان لوگوں نے کہا کہ ہسپتال بہت دور ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ یہ نوجوان راستے میں ہی چل بسے گا۔ ہو سکتا ہے کہ اس وقت ہمیں جنازہ پڑھانے کے لیے کوئی مولوی دستیاب نہ ہو‘ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ جنازہ ابھی پڑھ لیا جائے۔ بلوچستان کی پسماندگی اور لوگوں کی جہالت کا اندازہ اس ایک واقعے سے اچھی طرح لگایا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ ایک عینی شاہد نے سنایا اس لیے اس پر شک بھی نہیں کیا جا سکتا۔
بنیادی سہولتیں‘ صحت‘ تعلیم اور روزگار کے ساتھ سیاسی شمولیت اور سماجی انصاف بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ خاص طور پر خواتین کے حوالے سے یہ پہلو اور بھی اہم ہو جاتا ہے کیونکہ اگر انہیں تعلیم‘ تحفظ اور باعزت روزگار کے مواقع میسر ہوں تو کوئی تنظیم انہیں آسانی سے استعمال نہیں کر سکتی۔ بلوچستان میں حالیہ خونریز واقعات نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں۔ عام شہریوں‘ مزدوروں‘ خواتین اور بچوں کا قتل کسی بھی بیانیے کو باطل ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ نہ صرف ان عناصر کو کیفرِکردار تک پہنچائیں بلکہ اس ماحول کو بھی ختم کریں جس میں ایسے عناصر پنپتے ہیں۔ آج بلوچستان کا جو حال ہے ‘یہ حالات ناانصافی کی وجہ سے ہیں اور لا قانونیت کی وجہ سے اس نہج تک پہنچے ہیں۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان کا مستقبل صحت‘ تعلیم‘ ترقی اور عوامی شمولیت میں ہے۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں وقتی طور پر خطرے کو کم کر سکتی ہیں مگر اصل کامیابی اُس دن ہو گی جب کوئی بچے بندوق کے بجائے قلم تھامنے پر فخر کریں۔ جب بلوچستان کی بیٹیاں خود کش حملوں نہیں بلکہ اپنی تعلیم اور ہنر کے ذریعے پہچانی جائیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم عوامی حقوق کیلئے اٹھنے والی آوازوں کو بزور جبر دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مولانا ہدایت الرحمن حقوق کیلئے لوگوں کو لے کر نکلتے ہیں تو ان پر واٹر کینن کے ذریعے پانی پھینکا جاتا ہے‘ تشدد ہوتا ہے اور پھر پکڑ کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ مسائل کا حل نہیں ہے۔ اسی طرح اپنے حقوق کیلئے پنجاب اور اسلام آباد کا رخ کرنے والی خواتین کے ساتھ ہمارے اینکرز اور میڈیا نے جو سلوک روا رکھا‘ وہ بھی غلط ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان کا استقبال کیا جاتا‘ لیکن ان کا مذاق اڑایا گیا۔ قوم پرستی کے نام پر قائم دہشت گرد تنظیموں کو ایندھن کہاں سے اور کیسے مہیا ہو رہا ہے؟ اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو آج ایوانوں میں بیٹھے ہیں۔ ان سب کی تو ترقی ہو رہی ہے‘ ایک گاڑی سے دس گاڑیاں بن رہی ہیں‘ ان سب کے بچے بیرونِ ملک پڑھ رہے ہیں لیکن ان کے انتخابی حلقے اس قدر غربت کا شکار کیوں ہیں؟ آج ملک کے بالعموم اور بلوچستان کے بالخصوص جو حالات ہیں‘ وہ سب انہی سیاستدانوں کی وجہ سے ہیں۔
بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے کئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے گراس روٹ لیول تک بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے ذریعے بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرنا ہو گا۔ سیاسی مذاکرات کو فروغ دینا ہوگا اور بلوچ قوم پرست رہنماؤں کو مذاکرات کی میز پر لانا ہو گا۔ اس کے علاوہ سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ شامل کرنے اور روزگار فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔ بلوچستان کا مسئلہ صرف سکیورٹی چیلنج نہیں‘یہ سیاسی‘ معاشی اور سماجی مسائل کا مجموعہ ہے۔ اس کا دیرپا حل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات‘ بنیادی حقوق کی فراہمی اور معاشی ترقی کے ذریعے ہی بلوچ عوام کو قومی دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved