تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     08-02-2026

دل اور جیل کے دروازے

لاہور کے شہری کم و بیش دو عشروں کے بعد بسنت منانے میں مصروف تھے۔ جشن کا سماں تھا۔ اندرون اور بیرون ملک سے آنے والوں کا تانتا بندھا تھا۔ کراچی سے ایک دن میں بائیس پروازیں لاہور پہنچی تھیں۔ آسمان پر پتنگ ہی پتنگ تھے‘ گھر گھر میں پکوان پک رہے تھے۔ جگہ جگہ لوگ جمع تھے۔ گانے گائے جا رہے تھے‘ ڈھول بجائے جا رہے تھے‘ یہ بسنت کا پہلا دن تھا۔ آئندہ دو روز بھی یہ سلسلہ جاری رہنا تھا‘ ثقافت سیاست پر غالب آ گئی تھی۔ پارٹی پالیٹکس سے بے نیاز لاہوری ایک ہو چکے تھے۔ پی ٹی آئی کہیں نظر آ رہی تھی‘ نہ مسلم لیگ(ن)۔ لاہور میں جو بھی تھا وہ لاہوریا تھا‘ بسنت منا رہا تھا۔ گڈے اڑا رہا تھا یا اڑانے والوں کو داد دے رہا تھا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف لاہور کی سڑکوں پر چل پھر رہی تھیں‘ کہیں ہاتھ لہرا رہی تھیں کہیں ملا رہی تھیں۔ بچوں اور خواتین کو گلے لگا رہی تھیں۔ اگلے روز انہیں لبرٹی چوک میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرنا تھا‘ لاہور کا شکریہ ادا کرنا تھا اور آئندہ پورے پنجاب میں یہ تہوار منانے کا ارادہ ظاہر کرنا تھا کہ... خود کش دھماکے کی خبر آ گئی۔ اسلام آباد کے مضافات میں ایک بڑی مسجد پر نمازِ جمعہ کے دوران حملہ ہوا۔ متعدد افراد کی شہادت کی اطلاع تھی‘ درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر دل افسردہ ہو گیا۔ بسنت کی سرکاری تقریبات منسوخ کر دی گئیں۔ منظر یکسر بدل گیا لیکن اس واردات نے حوصلوں کو شکستہ نہیں کیا۔ دہشت گردوں کے خلاف غصے سے بھرے ہوئے لوگ انہیں کیفر کردار کو پہنچانے کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن ان کے ہاتھوں یرغمالی بننے پر تیار نہیں تھے۔ خود کش دھماکے نے ماحول کو متاثر تو کیا‘ بسنت کو بھی محدود کر دیا لیکن بسنت اپنا کام دکھا چکی تھی۔ سیاست زدہ ماحول بدل چکا تھا۔ لاہوریے لاہوریے بن چکے تھے‘ سیاسی تقسیم کو پسِ پشت ڈال چکے تھے۔ انہیں احساس ہو رہا تھا کہ ایک دوسرے سے اختلاف کرنے کے باوجود وہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
اسلام آباد دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی لیکن کوئی ذمہ داری قبول کرے یا نہ کرے‘ اہلِ پاکستان اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایسے دھماکوں کے پیچھے کون ہے۔ افغانستان کی سرزمین دہشت گردوں کو پناہ دیے ہوئے ہے اور بھارت ان کی سرپرستی کر رہا ہے۔ اسرائیلی ہاتھ کی نشاندہی بھی ہو رہی ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی سال سے دہشت گردی کے عفریت کا سامنا کر رہا ہے۔ ہزاروں جانیں قربان کی جا چکی ہیں‘ اربوں ڈالر کا نقصان ہماری معیشت کو پہنچ چکا ہے لیکن ہم نے حوصلہ نہیں ہارا۔ ہماری مسلح افواج‘ ہمارے انسدادِ دہشت گردی کے ادارے‘ ہمارے قانون نافذ کرنے والے‘ سب یکسو ہیں‘ مستعد ہیں۔ ان کے حوصلے بلند ہیں۔ لازم ہے کہ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ جڑی رہے۔ ہمارے سیاسی رہنما یک جان ہو جائیں۔ اسلام آباد دھماکے سے دو روز پہلے پشاور سے دل خوش کن خبر آئی تھی‘ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے زیر قیادت اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں اعلیٰ فوجی اور سول حکام موجود تھے۔ اس اجلاس کے بعد جو اعلامیہ جاری ہوا اس نے اہلِ پاکستان کو نئی توانائی بخشی تھی۔ اس کے نکات ایک بار پھر پڑھ لیجیے بلکہ ازبر کر لیجیے۔ انہیں یاد رکھنے اور بار بار دہرانے کی ضرورت ہے: ''اجلاس نے فیصلہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جامع پالیسی کی کامیابی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں‘ عوامی نمائندوں‘ معززین اور وفاقی حکومت کی مشترکہ مشاورت‘ باہمی تعاون اور عملی ہم آہنگی ضروری ہے‘‘۔ پھر کہا گیا: ''اس ضمن میں آج کی نشست میں مصمم ارادہ کیا گیا کہ صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت اپنے تمام وسائل بشمول فوج‘ پولیس‘ سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کو استعمال کرتے ہوئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ یہ طویل معیادی حکمت عملی دہشت گردی کے تمام محرکات کی نشاندہی‘ ان کے خاتمے اور اس کے نتیجے میں عوامی اعتماد کی بحالی کو یقینی بنائے گی تاکہ حکومت اور عوام یک جان ہو کر ملکی سلامتی اور ترقی کو یقینی بنائیں‘‘۔ یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ حکومت خیبرپختونخوا کا ایجنڈا یہ ہے کہ بہتر طرزِ حکمرانی دہشت گردی کے خلاف قوم کو یک جا کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو ماڈل گورننس اضلاع میں تبدیل کیا جائے گا اور تمام حکومتی وسائل استعمال کرتے ہوئے ترقیاتی اور سماجی خدمات اور اقتصادی ترقی کی فراہمی کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا‘‘۔ وزیراعلیٰ کی طرف سے دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ: ''امن و امان کے لیے سول حکومت‘ انتظامیہ‘ پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک سطح پر ہیں اور مل کر کوششیں جاری رکھیں گے۔ یہ ہم سب کی مشترکہ جنگ ہے اس کو مشترکہ کوششوں ہی سے جیتا جا سکتا ہے‘‘۔
اپیکس کمیٹی کے اس اعلامیے کو قومی اعلامیہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ یہ جنگ کسی جماعت‘ صوبے یا علاقے کی نہیں پورے پاکستان کی جنگ ہے جسے پورے پاکستان کو مل کر لڑنا ہے۔ دہشت گرد امریکی اسلحے سے لیس ہوں یا خود کش جیکٹ پہن کر آئیں‘ انہیں بھارت کی سرپرستی حاصل ہو یا اسرائیل کی‘ پاکستانی قوم کا اتحاد اور عزم ایک ایسی آہنی دیوار ہے جس سے ٹکرا کر یہ پاش پاش ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ قوم کے بڑوں کو بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کو بڑا ماننا چاہیے۔ اپنی بڑائی کے خبط میں مبتلا رہنے والے چھوٹے ہو جاتے ہیں جبکہ دوسروں کو بڑا سمجھ کر ان کی عزت کرنے والے خود بھی بڑے بن جاتے ہیں۔
پاکستانی سیاست کو بڑے بڑے لیڈر نصیب ہوئے‘ انہیں لاکھوں کیا کروڑوں چاہنے والے بھی مل گئے۔ انہوں نے عوام کو ''شعور‘‘ کی دولت سے مالا مال کرنے کے دعوے بھی کیے۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اس پر اتراتے تھے اور اب جناب عمران خان کے حاشیہ نشین برملا اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہم نے عوام کو ''شعور‘‘ فراہم کر دیا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ عوام کو شعور فراہم کرنے والے اپنے لیے شعور کی اہمیت تو کیا ضرورت بھی محسوس نہیں کر پاتے۔ مخالفین کو برداشت کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنے سیاسی مخالفوں کو انجام تک پہنچاتے پہنچاتے خود وہاں پہنچ گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ آج بھی خبطِ عظمت میں مبتلا لیڈر برداشت‘ تحمل‘ رواداری کا جو درس دوسروں کو دیتے ہیں خود اس کا پہلا سبق بھی یاد کرنے (اور رکھنے) پر تیار نہیں ہیں۔ یہ سبق یاد کر لیا جائے تو دل کے دروازے کھل جائیں گے۔ دل کے دروازے کھلے تو جیل کے دروازے بھی بند نہیں رہ سکیں گے۔ ایک دوسرے کی نفی کر کے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہمیں اس ''خانہ جنگی‘‘ کو ختم کرنا ہو گا۔ پاکستان ایک جمہوری مملکت ہے‘ اس کا ایک تحریری دستور ہے‘ اس میں ہر ادارے کی حدود اور اختیارات واضح ہیں۔ پارلیمنٹ دستور کی ماں ہے کہ اس نے دستور بنایا اور یہ اس میں تبدیلی کا حق بھی رکھتی ہے۔ پارلیمنٹ عوام سے جڑی ہوتی ہے‘ عوام کی پیداوار۔ پارلیمنٹ میں پہنچنے والے‘ وہاں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے عوامی شعور کی علامت ہیں اور اس کے محافظ بھی۔ مسندِ اقتدار پر بیٹھنے والے کل کہاں تھے؟ آج اختلاف کی آواز بلند کرنے والے کل کہاں ہوں گے؟ اس حقیقت پر نظر رکھیے اور ایک دوسرے کو تھام لیجیے۔ ایک دوسرے کی طاقت بن جائیے‘ بڑے سے بڑا طاقتور کمزور نظر آئے گا‘ کمزور ہو جائے گا۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved