تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     08-02-2026

کٹر پن اور تنگ نظری کے شاخسانے

ترلائی امام بارگاہ جیسا واقعہ ہو تو سمجھ جانا چاہیے کہ پہلے ردِعمل میں ہندوستان اور افغانستان کا نام ضرور آئے گا۔ مانا کہ دونوں ہمسایہ ممالک سے ہمارے معاملات خراب ہیں لیکن کہنے سے پہلے کچھ توسوچ لینا چاہیے۔ بہرحال اگر ان دونوں ممالک کا ذکر نہ آئے تو لاچار وزرا صاحبان اور کیا کہیں۔
تاریخِ پاکستان کے اتنے واقعات دیکھ کر ہماری سمجھ میں ایک ہی بات آتی ہے کہ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد اس زمانے میں قومی سوچ اور لوگوں کی گفتگو میں اتنی گھٹن نہیں ہوا کرتی تھی۔ آج کی نسبت ماحول آزاد تھا۔ گو قومی زندگی میں مذہب کا عمل دخل تھا لیکن عقیدے اور مذہب کے لحاظ سے رواداری کا ماحول قائم تھا۔ مسلک ظاہر ہے تب بھی تھے لیکن گولی بندوق اور بم کی زبان استعمال نہیں ہوتی تھی۔ گولی بندوق اور تنگ نظری کے رویے بعد میں اُبھرے اور قائم ہوئے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے زمانے تک تو قوم کا عمومی مزاج خاصا لبرل اور سیکولر تھا۔ عبادت گاہیں تب بھی تھیں‘ لاؤڈ سپیکر کا استعمال بھی ہوتا تھا‘ جمعہ کو خطبہ بھی پڑھا جاتا تھا لیکن عقیدے کے لحاظ سے سختی کا عالم جو بعد میں پیدا ہوا وہ تب نہ تھا۔
عقیدے کے اظہار میں سختی کا رجحان اُس بدبخت وقت سے شروع ہونے لگا جب پاکستان کے مطلق العنان حکمران نے افغانستان کی آگ میں ملک کو دھکیلنے کا فیصلہ کیا۔ مسئلہ ہمارا اتنا تھا کہ ہمارے پڑوس میں شورش برپا ہوئی لیکن اس مسئلے نے بین الاقوامی رنگ اختیار کر لیا جب امریکہ نے بھرپور انداز سے مداخلت کا فیصلہ کیا۔ امریکہ نے سوویت یونین سے اپنا حساب چکانا تھا لیکن مارا پاکستان گیا کیونکہ اس بڑے مقابلے میں پاکستان ایک آلہ کار بننے کے لیے تیار ہو گیا۔ ہاتھی جب لڑتے ہیں تو گھاس روندی جاتی ہے۔ جہاد کے نام پر اسلحہ اور ڈالر اور ساتھ ہی ریال آنے لگے تو یہاں کے حاکموں نے تالیاں بجائیں کیونکہ جہاں انہیں کوئی پوچھتا نہ تھا وہاں ان کی پہچان بن گئی اور جب ڈالر آئے اور بازاروں میں چہل پہل بڑھی تو حالاتِ حکمرانی تھوڑے آسان ہو گئے۔
مقصد تو اپنا امریکہ پورا کر رہا تھا لیکن اس جہاد کو جواز بخشنے کے لیے اسلام کے نام کو استعمال کرنا ضروری سمجھا گیا۔ ٹریننگ کیمپ یہاں کھلے‘ نام نہاد جہادی تیار کیے گئے اور انہیں مجاہدین کا نام دیا گیا۔ جن افغان عناصر کو بھٹو حکومت کے وقت پاکستان میں پناہ دی گئی تھی وہ بوساطتِ سی آئی اے اس جہاد کے لیڈر بنا دیے گئے۔ یہ سب کے سب عناصر مذہبی بیک گراؤنڈ اور سوچ کے حامل اشخاص تھے۔ یعنی امریکی سی آئی اے کی معاونت سے جب افغانستان میں کارروائیاں شروع ہوئیں تو ان پر ایک مذہبی لبادہ تھا۔ ان افغان تنظیموں کے روابط یہاں کی مذہبی جماعتوں سے بھی تھے۔ اوپر سے جنرل ضیا الحق کا سارا بیانیہ مذہبی رنگ میں ڈھلا ہوا تھا۔
افغانستان میں گوریلا کارروائیاں شروع ہوئیں تو افغان مذہبی تنظیمیں جو اس جہاد میں ملوث تھیں ان کے حالات بہتر ہو گئے‘ ان کی اہمیت بڑھ گئی اور ساتھ ہی پاکستان میں مخصوص مذہبی عناصر کی تقویت میں اضافہ ہوا۔ جیسے عرض کیا ڈالروں کے ساتھ ریال بھی اس جہاد کو چلانے میں معاون ثابت ہو رہے تھے۔ اس خاص امداد کی وجہ سے مدرسوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ اور خاص مذہبی سوچ رکھنے والے علما کی آؤ بھگت اور پروٹوکول بڑھتا گیا۔
افغانستان والا جہاد شروع ہی ہوا تھا کہ ایران میں انقلاب برپا ہو گیا۔ اس انقلاب اور اس کے فلسفے پر مذہبی رنگ غالب تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک قسم کی امداد سے جہاں مدرسے کھڑے ہونے لگے دوسری قسم کی امداد سے مختلف قسم کی عبادت گاہوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس کشمکش اور اس زمانے کے خاص ماحول کی وجہ سے اس سر زمین پر فرقہ واریت کا زور بڑھنے لگا۔ مختلف مسلک تو دامنِ اسلام میں شروع دن سے چلے آ رہے تھے لیکن جب جہادِ افغانستان کی وجہ سے گولی اور بندوق کی زبان کا اثر پاکستان پر پڑا تو فرقہ واریت بھی لاؤڈ سپیکروں تک نہ رہی‘ گولی اور بندوق کی زبان میں بولنے لگی۔ پھر لاؤڈ سپیکروں پر بھی ایسا ایسا زہر اُگلا جانے لگا کہ دھرتی کا رنگ بدل گیا۔ جہاں رواداری روزمرہ زندگی کا حصہ ہوا کرتی تھی وہاں کٹر پن اور تنگ نظری نے اس کی جگہ لی۔
بنیادی مسئلہ البتہ کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ جب کوئی معاشرہ سیاسی عمل کے قابل نہ رہے اور اس وجہ سے سیاسی عمل کمزور پڑ جائے تو امورِ مملکت میں غاصبیت پروان چڑھتی ہے۔ حکمرانی کی تبدیلی عوام کی منشا و مرضی سے نہیں ہوتی بلکہ زورِ بازو حکمرانی کی تبدیلی کا اولین اصول بن جاتا ہے۔ ایسے میں حکمرانوں کا جواز یا Legitimacy قانون یا آئین میں تو رہتی نہیں کیونکہ غاصبیت تب ہی کامیاب ہوتی ہے جب آئین اور قانون جیسی نزاکتوں کو ایک طرف کر دیا جائے۔ حکمران پھر نیا جواز ڈھونڈتے ہیں۔ جنرل ضیاالحق نے وہ جواز اسلامائزیشن اور افغان جہاد میں ڈھونڈا۔ ایسا جواز پھر اس قسم کے حکمرانوں کی مجبوری بن جاتا ہے اور اس مجبوری کے تقاضوں میں وہ مقید ہوکر رہ جاتے ہیں۔ ضیاالحق کی مثال لے لیں۔ افغان جہاد پہلے ان کا جواز بنا پھر ان کی مجبوری بن گئی۔ وہ جہاد امریکی امداد کے بغیر ناممکن ہوتا۔ جہاں سے امداد آرہی ہو وہاں کی باتیں بھی پھر ماننی پڑتی ہیں۔ ایک بات کا کریڈیٹ البتہ جنرل ضیا کو جاتا ہے کہ تمام تر مجبوری کے باوجود ایٹمی طاقت کے حصول سے وہ دستبردار نہیں ہوئے۔ دستبردار ہونے کے برعکس افغان جہاد کی دھول کو ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا ذریعہ بنایا۔ میزان یا حساب پھر یوں بنتا ہے کہ ایک طرف پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا۔ دوسری طرف سیاسی عمل کمزور ہوا‘ غاصبیت کی روایت مضبوط ہوئی‘ بندوق اور گولی کی زبان دیس میں عام ہوئی اور فرقہ واریت کی ہوائیں پہلے سے زیادہ تیز ہو گئیں۔
ایٹمی قوت پوری آب و تاب سے اب بھی موجود ہے لیکن کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی کے خلاف بیکار ہے۔ مئی کی چار روزہ جھڑپ میں ہندوستانی طیارے مار گرائے گئے لیکن جن اندرونی خطرات کا پاکستان کو سامنا ہے ان میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے‘ ریاست ان سے برسرِ پیکار ہے۔ معیشت کی زبوں حالی ہر پاکستانی کیلئے لمحۂ فکریہ ہے۔ سیاسی عمل کے چلنے میں قباحتیں ہیں۔ آئین کی سرپرستی اور قانون کی حکمرانی پر سوالیہ نشان لگے ہوئے ہیں۔ اور پھر جب ترلائی امام بارگاہ جیسا واقعہ ہو جائے تو فکر کی لہر پورے ملک میں پھیلتی ہے۔ یہ الگ الگ مسائل نہیں‘ سب جڑے ہوئے ہیں۔
کیا ہمارے ستاروں میں لکھا ہوا تھا کہ ہمیں یہ مسائل درپیش ہونے ہیں؟ ہم پر کچھ زیادہ ٹھونسا نہیں گیا‘ بیشتر راستے جو ہم نے چنے وہ ہمارے اپنے چُنے ہوئے تھے۔ ایک تو غاصبیت کی تاریخ نے ہمیں مار کے رکھ دیا۔ بنگالیوں سے لڑائی‘ بلوچوں کی ناخوشی‘ سیاسی عمل کے اصولوں سے مسلسل انحراف۔ قومی فیصلہ سازی میں بیشتر اوقات زورِ بازو ہی کارفرما اصول رہا۔ ریاستی بے راہ روی نے سیاسی اقدار کو پنپنے نہ دیا۔ اور آج نتیجہ سامنے ہے۔ البتہ اپنے آپ کو فریب دینے میں یکتا ہیں۔ غیروں نے ہماری باتوں میں کیا آنا ہے اپنے آپ کو ہی فریب دیتے رہتے ہیں: یہ کردیں گے‘ وہ کر دیں گے‘ بیس یا تیس سال میں دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائیں گے۔ آبادی بڑھتی جا رہی ہے‘ اس کی تعلیم و تربیت کا معاملہ ہم سے ہوتا نہیں‘ جہاں تک صحتِ عامہ کا تعلق ہے ایک محاورے سے زیادہ اس کی اہمیت نہیں رہی۔ اور جہاں تک اونچ نیچ کا فرق ہے اس بارے مت ہی پوچھیے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved