22برس بعد قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کا دورۂ پاکستان بلاشبہ دونوں ریاستوں کے مابین تعلقات کی مضبوطی میں ایک اہم سنگِ میل اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے تاریخی روابط کو مزید گہرا بنانے میں اہم پیشرفت ہے۔ پاکستان اور قازقستان کے مابین ہمیشہ سے مثالی اور دوستانہ تعلقات رہے ہیں جو باہمی افہام و تفہیم‘ مضبوط ثقافتی و مذہبی رشتوں پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک کی ثقافت اور طرزِ زندگی میں کئی قدریں مشترک ہیں۔ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کی جانب سے پاکستان کو قابلِ اعتماد دوست اور سٹریٹجک پارٹنر قرار دینا اور دفاعی شعبے میں پاکستان کی ترقی کو عالمی سطح پر تسلیم کرنا سفارتی لحاظ سے وطن عزیز کیلئے بڑی کامیابی ہے۔ ان کے دورے کے دوران پانچ سالہ تجارتی روڈ میپ کا اعلان بھی کیا گیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ دونوں ریاستوں نے دو طرفہ محدود تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانے کا بھی عزم کیا‘ جسے دونوں فریق تقریباً اگلے دو برسوں میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کی مجموعی صلاحیت 14ارب ڈالر سالانہ تک بتائی جاتی ہے‘ تاہم تجارت‘ سرمایہ کاری‘ توانائی‘ تعلیم‘ صحت‘ کھیل‘ ریلوے اور مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے 37مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط اس عزم صمیم کا عملی مظاہرہ ہے ۔ پاکستان اور قازقستان اقتصادی ترقی کے منصوبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خطے میں اپنی مضبوط موجودگی ثابت کرنے کے خواہشمند ہیں۔ خشکی سے گھرا وسطی ایشیائی خطہ چین‘ روس‘ ایران اور ترکیہ جیسے بڑے ممالک میں گھرا ہوا ہے اور کثیرجہتی تناظر میں نہایت تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ خطہ سمندر تک رسائی کیلئے پاکستان کی جانب دیکھ رہا ہے چنانچہ پاکستان کی وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی‘ سیاسی‘ اقتصاد ی اور عسکری پارٹنرشپ بہت اہم ہے۔ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے جنوبی ایشیا تک پہنچنے کا گیٹ وے ہے تو وسطی ایشیا ریاستوں کے ذریعے پاکستان کو یوریشیا تک رسائی مل سکتی ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ میں پاکستان کی فعال شمولیت نے وسطی اور جنوبی ایشیا کو ایک دوسرے کے ساتھ قریب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
صدر قاسم جومارت توکایووف کے دورے کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان ریلوے کے منصوبے کا جائزہ لیا گیا جس کی لاگت کا تخمینہ تقریباً سات ارب ڈالر ہے اور اسے قازقستان کو افغانستان اور ترکمانستان کے راستے پاکستانی بندرگاہوں سے ملانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اگر اس پر عملدرآمد ہوتا ہے تو یہ منصوبہ خطے میں رابطے کا سب سے بڑا ذریعہ ہو گا جو چمن تک پھیلتے ہوئے پاکستان کے وسیع تر ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں ضم ہو جائے گا۔ یہ ریل کاریڈور محض بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ نہیں ہے یہ خطے میں معاشی انقلاب لے کر آئے گا۔ اس تاریخی پروجیکٹ کی تکمیل قازقستان کو کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے جوڑے گی جس سے پاکستان شمالی و جنوبی بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کوریڈور اور ٹرانس کیسپین مڈل کوریڈور کے لاجسٹک روٹس میں شامل ہو سکے گا۔ اگر گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو وسطی ایشیا کے لیے حقیقی معنوں میں قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے تو پاکستان نہ صرف ٹرانزٹ ٹریڈ سے خاطر خواہ آمدن حاصل کر سکتا ہے بلکہ علاقائی تجارت کا مرکز بھی بن سکتا ہے۔ ریل اور روڈ نیٹ ورک کے ذریعے قازقستان‘ ازبکستان‘ ترکمانستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستان سے جوڑنا ایک ایسا خواب ہے جس پر عشروں سے بات تو ہوتی رہی ہے مگر عملی پیش رفت محدود رہی۔ اگر اب کی بار سنجیدگی کے ساتھ منصوبہ بندی کی گئی‘ سرمایہ کاری کو یقینی بنایا گیا اور سکیورٹی و انتظامی رکاوٹوں کو دور کیا گیا تو یہ پاکستانی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں امن و سیاسی استحکام قائم ہونے سے یہ ٹرانسپورٹ کوریڈور پاکستان سمیت پورے خطے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
قازق صدر کے فوراً بعد ازبک صدر کا دورۂ پاکستان ایک نئے علاقائی اتحاد کی نوید دے رہا ہے۔ قازقستان کے شہر الماتے میں 2018 ء میں قائم ہونے والی Falcon EuroBus نے پاکستان کے ساتھ 600الیکٹرک بسوں کی فراہمی کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ مذکورہ معاہدہ پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر میں قازقستان کی انجینئرنگ انڈسٹری کے لیے سب سے بڑے برآمدی معاہدوں میں سے ایک ہے۔ اس بس کی قیمت 108 ملین ڈالر ہے۔ 2028ء تک یہ کمپنی پاکستان کو دو ہزار بسیں برآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ قازقستان کے ایلامن گروپ نے پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری‘ بالخصوص گلگت بلتستان میں پلیسر سونے کی کان کنی کے منصوبوں میں فوری بیس ملین ڈالر سرمایہ کاری کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
پاکستان اور قازقستان کے تعلقات اقتصادی‘ ثقافتی اور سکیورٹی تعاون اور سٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہیں۔ قازقستان کیلئے پاکستان صرف جنوبی ایشیا کی ایک منڈی نہیں بلکہ بحیرۂ عرب کی بندرگاہوں تک رسائی کا ذریعہ بھی ہے۔پاکستان اور قازقستان دونوں وسطی و جنوبی ایشیائی جیو اکنامک قلب میں واقع ہیں۔ بلا شبہ ترقی کرتی معیشت اور خصوصی تعلقات کے تناظر میں یہ دونوں ممالک عالمی جغرافیائی اور سیاسی فضا پر چمکنے کیلئے تیار ہیں۔ قازقستان اور پاکستان کے درمیان یہ رشتہ اس وقت پروان چڑھا جب 1991ء میں پاکستان نے قازقستان کو تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد سے یہ تعلق مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ دوسری جانب قازقستان وسطی ایشیا کا سب سے بڑا رقبہ رکھنے والا اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے جو تیل‘ گیس‘ یورینیم اور دیگر معدنی ذخائر کے باعث عالمی معیشت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ قازقستان کی مضبوط اقتصادی صلاحیت اور متحرک قیادت معاشی روابط و ترقیاتی شراکت داری کے نئے راستے کھول رہی ہے۔ یوریشین اکنامک یونین‘ شنگھائی تعاون تنظیم‘ اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن‘ ترک ریاستوں کی تنظیم اور CICAکا اہم رکن ہونے کی حیثیت سے قازقستان ایک اہم عالمی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اگر صدر قاسم جومارت توکایووف کے دورے کے دوران زیر بحث اور دستخط کیے گئے معاہدوں کا ایک حصہ بھی فعال انفراسٹرکچر‘ تجارتی سہولت اور ادارہ جاتی تعاون میں تبدیل ہو جائے تو اس کے دو طرفہ تعلقات پر نہ صرف مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ یہ اس بات کا اشارہ بھی ہو گا کہ وسطی اور جنوبی ایشیا میں درمیانی طاقتیں عالمی انتشار کے باوجود اپنی معاشی تقدیر خود تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
قازقستان ایک تجارتی مرکز کے طور پر پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرنے میں وسطی ایشیا میں اکیلا نہیں ہے۔ رواں ہفتے کے دوران ہی پاکستان اور ازبکستان کے بین الحکومتی کمیشن کا اسلام آباد میں اجلاس منعقد ہوا جس میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے اور دو برس کے اندر تجارتی حجم دو ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کا عزم کیا گیا۔ اس وقت پاکستان کو قازقستان سمیت وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے تجارتی روابط کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ دونوں ممالک کے مابین معیشت‘ سیاست اور سلامتی کے شعبوں میں مستحکم اور طویل مدتی تعلقات کی تعمیر و ترقی کیلئے ثقافتی تعلقات کو برقرار رکھنا بھی ایک اہم شرط ہے۔ سیاحت‘ تعلیمی وظائف اور دونوں ممالک کے مابین ثقافتی وفود کے تبادلے کے ذریعے عوام کے آپس کے رابطوں کو مزید مضبوط کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ تعلیمی میدان میں بڑھتا ہوا تعاون بھی خوش آئند ہے۔ دونوں مما لک کے درمیان رابطہ کاری اور تجارتی ڈھانچے کے حوالے سے کچھ چیلنجز موجود ہیں لیکن قیادت کی سنجیدگی اس بات کی علامت ہے کہ ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ موجودہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قازقستان اور پاکستان وسطی اور جنوبی ایشیا کی اقتصادی ترقی میں بھی قابلِ قدرکردار ادا کر سکیں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved