دکھ شدید ہے۔ چوٹ گہری ہے۔ ایک قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ یہاں تو جان سے جانے والے بہت تھے۔ ایسے معصوم بچے بھی جو اس ملک کا مستقبل تھے۔ غم کے ان گہرے بادلوں سے مگر اطمینان کی ایک کرن جھانک رہی ہے۔ قاتل اس وحدت کو نہیں مار سکا جو اس کا اصل ہدف تھا۔ قوم نے مذہب کے نام پر تقسیم ہونے سے انکار کر دیا۔
فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا
ترے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے
چند فرقہ پرستوں کا استثنا اپنی جگہ‘ قوم نے شیعہ سنی کے عنوان سے تقسیم ہونا قبول نہیں کیا۔ اہلِ دانش ہوں یا عام شہری‘ کوئی سنیوں کو اس حادثے کا ذمہ دار قرار نہیں دے رہا۔ سب اپنے حقیقی دشمن کو پہچان رہے ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ ان کی مذہبی شناخت کا صرف ایک حوالہ ہے اور وہ ہے سیدنا محمدﷺ کی ذات والا صفات۔ امت پیغمبر سے بنتی ہے۔ وہی ہماری پہچان ہیں۔ سب مصطفوی ہیں۔ سب مسلمان ہیں۔ ابوبکر وعلی رضی اللہ عنہما ہمیں جان سے عزیز ہیں‘ ان کی عظمت بھی اس شرف کے سبب سے ہے جو صحبتِ پیغمبرکی عطا ہے۔ ہم سب اقبال سے متفق ہیں کہ 'آبروئے ما زنامِ مصطفی است‘۔ ہم اس راز کو پا چکے۔ یہی سبب ہے کہ اس حادثے کی کوکھ سے شیعہ سنی منافرت جنم نہیں لے سکی۔ صرف شیعہ راہنما ہی نہیں‘ اہلِ سنت کے علما بھی اس کی مذمت میں پیش پیش ہیں۔ یہ حادثہ بانجھ ثابت ہوا۔
مستثنیٰ کرداروں نے اگر اسے فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہا تو ان کی مجبوری سمجھ میں آتی ہے کہ اسی عصبیت کے فروغ سے ان کی دال روٹی چلتی ہے۔ اس وقت تو یہی لگتا ہے کہ عوام نے سنی ان سنی کر دی۔ وہ ان کے دام میں آنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ عام آدمی جانتا ہے کہ فساد جب گلی بازار میں پھیل جائے تو کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ امام بارگاہ سے مسجد زیادہ دور نہیں۔ عوام تو یہ بھی سمجھ چکے کہ مسجد اور کلیسا بھی ایک دوسرے سے دور نہیں ہیں۔ عبادت گاہ سب کے لیے احترام کی جگہ ہے۔ یہ بات مسلمانوں کو ان کے پیغمبر نے بتائی اور دیگر ادیان کے ماننے والوں کو ان کے حقیقی مذہبی راہنماؤں نے۔ اب پاکستان میں شیعہ سنی ہی نہیں‘ مسلم اور غیر مسلم کی تقسیم بھی کمزور ہوئی ہے۔ سب نے اپنے قائد اوّل واعظم کی بات مان لی ہے کہ مذہب سب کا انفرادی معاملہ ہے۔ سب آزاد ہیں‘ وہ مندر جائیں یا مسجد۔ پاکستانی سماج کی اسلامی شناخت اس تصور سے متصادم نہیں ہے۔
سیاسی قیادت نے بھی بالغ نظری کا مظاہرہ کیا۔ آج دہشت گردی کے خلاف مرکز اور کے پی کی حکومتیں ہم آواز ہیں۔ سب کو یہ بات سمجھ آ رہی ہے کہ اقتدار کی سیاست اسی وقت ممکن ہو گی جب ملک میں امن ہو گا۔ معیشت رواں دواں ہو گی۔ اس کے بعد ہم اپنی اپنی سیاسی وابستگی میں آزاد ہیں۔ جو بات ہمیں ناصح کی زبان سے سمجھ نہیں آ رہی تھی‘ اسے دہشت گردوں نے سمجھا دیا۔ 'مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے‘۔ اس کے باوصف ہمیں خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کو آج بھی فساد کے لیے استعمال کرنے کو شش کی جا رہی ہے۔ معرکہ حق نے بتا دیا ہے کہ پاکستان سے کھلی جنگ لڑنا آسان نہیں۔ متبادل محاذ سوشل میڈیا ہے۔ ہمیں اس سے خبردار رہنا ہے۔
سوشل میڈیا پہ آگ لگانے والے بہت ہیں۔ یہ دونوں طرف ہیں۔ جب مذہبی قیادت نیم خواندہ لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے تو اس کا انجام نہ مذہب کے حق میں ہوتا ہے نہ سماج کے۔ یہ مذہب کے نام پر جہالت کو فروغ دیتے‘ فرقہ وارانہ جذبات سے کھیلتے اور اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت میں دیکھ رہا ہوں کہ سوشل میڈیا پہ مذہبی تاجروں کی بھرمار ہے۔ یہ اختلاف کو بھڑکا سکتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے شیعہ راہنماؤں میں بالغ نظر علما موجود ہیں۔ انہیں آگے بڑھ کر راہنمائی کا منصب سنبھالنا چاہیے تاکہ کم علم اور تاجرانہ مزاج کے لوگ اس حادثے کو کسی فساد میں نہ بدل سکیں۔
پاکستان مسلم اکثریتی ملک ہے۔ ہماری قومی قیادت میں سو عیب سہی مگر قومی سیاسی جماعتیں مسلکی حوالے سے کسی تنگ نظری میں مبتلا نہیں ہیں۔ پاکستان نے بطور ریاست خود کو مسلکی شناخت سے دور رکھا ہے۔ پاکستان کا آئین بھی قرآن وسنت کی حکمرانی کو مانتا ہے‘ کسی خاص فقہی تعبیر کو نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران میں‘ پاکستان نے جس طرح ایران کو عالمی فتنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک کردار ادا کیا ہے‘ وہ اس کی گواہی ہے کہ ہماری ریاستی قیادت مسلکی تقسیم سے بلند ہے۔ آج بھی پاکستان سرگرم ہے کہ ایران پر کوئی حملہ نہ ہو۔ اس ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مذہبی قیادت کو متنبہ رہنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی پاکستان کو ایسے تنازعات میں نہ الجھا سکے جو ہمارے ملک کے لیے مضر ہے۔
ہمیں بطور قوم بعض معاملات کو قومی ایجنڈا قرار دینا ہو گا جس سے ہر سیاسی ومذہبی گروہ کی غیر مشروط وابستگی ہو۔ اس کی ایک مثال انڈونیشیا ہے۔ صدر سوکارنو نے 'پنج شیلا‘ کے عنوان سے قوم کے لیے پانچ اصول متعارف کرائے۔ خدا پر ایمان‘ انسان دوستی‘ انڈونیشیا کی وحدت‘ جمہوریت اورسماجی انصاف۔ اسے وہاں کے ریاستی فلسفے کے طور پر قبول کر لیا گیا۔ آج تمام مذہبی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں باہمی اختلافات کے باوجود ان اصولوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ قائداعظم نے بھی اتحاد‘ ایمان اور تنظیم کے اصول دیے تھے۔ ہم ان کو سامنے رکھتے ہوئے‘ قومی وحدت اور سالمیت پر کچھ اصول اپنا سکتے ہیں۔ ہر مذہبی و سیاسی تنظیم پابند ہو کہ ان کو قبول کرے گی۔ ان اصولوں سے روگردانی ریاست کو گوارا ہو نہ سماج کو۔
اللہ کا شکر ہے کہ حادثات نے ہمیں بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ تاہم اب بھی بہتری کی بہت ضرورت ہے۔ آئین کے ساتھ ہمیں سماجی رویوں اور سیاسی ومذہبی سرگرمیوں کو بھی ایک قومی حکمتِ عملی کے تحت لانا ہو گا۔ مثال کے طور پر مذہبی سر گرمیوں کو کس دائرے میں رہنا چاہیے؟ تاریخ اور معاصر معاشروں کا طرزِ عمل کیا ہے؟ اس نوعیت کے سوالات کو سامنے رکھتے ہوئے‘ ایک ایسے لائحہ عمل کی ضرورت ہے جس سے فساد کے راستے بند ہوں۔ اس کے بعد اگر کوئی بیرونی دشمن پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانا چاہے تو اسے داخل سے کوئی حمایت اور تائید میسر نہ آ سکے۔ اگر کوئی حادثہ ہو تو قوم متحد ہو کہ اس کا ہدف قومی وحدت ہے۔
ریاستی سطح پر‘ جب بھی مذہبی اجتماعات ہوتے ہیں‘ ان میں ایسے لوگوں کو مدعو نہیں کیا جاتا جو صاحبانِ رائے ہیں‘ جو مسائل کا غیر جانب داری سے جائزہ لے کر کوئی حکمتِ عملی تجویز کر سکتے ہیں۔ یہاں سیاسی عصبیتوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جس سے تقسیم مزید گہری ہوتی ہے۔ اگر ملک میں مذہبی تعلیم اور مذہبی سرگرمیوں کو ایک ضابطے کے تحت منظم کر دیا جائے تو خارجی دشمن مذہبی اختلافات کا استحصال نہیں کر سکتا۔ عام آدمی‘ اللہ کا شکر ہے‘ مسئلے کی نوعیت کو سمجھنے لگا ہے۔ اس کو مزید تعلیم دینے کی ضرورت ہے تا کہ وہ نیم خواندہ مذہبی تاجروں کے مفاد کے لیے استعمال نہ ہو۔ میں ہمیشہ اس کا قائل رہا ہوں کہ مذہب ایک خیر کی قوت ہے۔ مسائل اس کے سوئے فہم کا نتیجہ ہیں۔ اس سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ مذہب کے حقیقی ماخذ کی طرف رجوع کیا جائے۔ اسلام کے معاملے میں یہ حیثیت نبیﷺ کو حاصل ہو۔ جب ہر مذہبی سرگرمی‘ ان کو مرکز بنا کر ہو گی تو فطری وحدت وجود میں آئے گی۔ عام پاکستان اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ اسی کو ایک حکمتِ عملی میں بدلنے کی ضرورت ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved