مولانا ظفر علی خان برصغیر کی صحافت میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور اپنے اخبار زمیندار کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کی بیداری میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مولانا جہاں میدانِ صحافت کے شہسوار تھے وہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو قیادت اور سیادت کی صلاحیتیں بھی ودیعت کر رکھی تھیں۔ ساری زندگی وہ مختلف عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے رہے۔ مولانا کو اللہ تعالیٰ نے نثر اور شاعری میں بیک وقت مہارت عطا کی تھی۔ انہوں نے اپنے خطابات‘ کالموں اور مضامین کے ذریعے جہاں سوئی ہوئی مسلم قوم کو جگایا‘ وہیں بہت سی انقلابی نظمیں لکھ کر لوگوں کو سامراجیت کے خلاف جدوجہد کا سبق دیا۔ مولانا کو نعت رسول مقبول لکھنے کا بھی بڑا سلیقہ تھا۔ ان کی لکھی ہوئی نعتوں کو پڑھ کر انسان پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور انسان کے دل میں نبی کریمﷺ کی محبت پوری طرح بیدار ہو جاتی ہے۔ مولانا ظفر علی خان ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے مسلم لیگ کی تنظیم سازی اور برصغیر کی تحریک آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ برصغیر کی تحریک آزادی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک مولانا ظفر علی خان کی جدوجہد کو اس میں شامل نہ کر لیا جائے۔ آغا عبدالکریم شورش کاشمیری‘ ڈاکٹر مسکین علی حجازی اور دیگر بہت سے نمایاں شاعروں اور ادیبوں نے مولانا کو بڑے ہی خوبصورت انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ شورش کاشمیری مرحوم کے شعری مجموعے 'کلیاتِ شورش‘ میں مولانا ظفر علی خان کی یاد میں کئی خوبصورت نظمیں شامل ہیں‘ جن کو پڑھ کر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مولانا ظفر علی خان اپنے عہد کے قلمی معرکوں کے ہیرو ہوا کرتے تھے۔
میں بچپن ہی سے مولانا کی شخصیت اور ان کے کارہائے نمایاں کا بہت معترف رہا ہوں۔ ان کی نظمیں پڑھ کر طبیعت میں دین سے محبت پیدا ہوتی اور ختم نبوت اور حرمت رسولﷺ کے حوالے سے سرفروشی کے جذبات بیدار ہوتے۔ مجھے نوعمری میں کئی مرتبہ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی بیٹھک میں جانے کا بھی موقع ملا۔ والد محترم کی زندگی اور ان کی وفات کے بعد بھی میں گاہے گاہے نوابزداہ صاحب سے ملاقات کے لیے جاتا رہا۔ ان سے برصغیرکے عظیم رہنمائوں کے بارے میں گفتگو سننے کو ملتی۔ وہ مولانا ابولکلام آزاد‘ مولانا عطا اللہ شاہ بخاری‘ مولانا ظفر علی خان‘ مولانا محمد علی جوہر اور دیگر ولولہ انگیز رہنمائوں کا ذکر بڑے خوبصورت انداز میں فرماتے۔ مولانا ظفر علی خان کے بارے میں مختلف تحریریں پڑھنے اور مختلف تبصرے سننے کے بعد مولانا کی شخصیت اور خدمات سے بچپن ہی میں آگہی حاصل ہوئی‘ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عقیدت اور محبت میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ پنجاب یونیورسٹی سے مجھے ابلاغیات میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کا موقع ملا تو صحافت اور ابلاغیات کا طالبعلم ہونے کے ناتے بھی مولانا کی خدمات سے روشناس ہونے کا مسلسل موقع ملتا رہا اور یہ بات سمجھ میں آئی کہ مولانا ظفر علی خان اور مولانا محمد علی جوہر نے اپنے قلم سے تلوار کا کام لیا اور کئی عشروں تک ڈنکے کی چوٹ پر باطل کی تردید کی۔
چند روز قبل قریبی معاون ساجد وکیل نے مطلع کیا کہ مولانا مرحوم کی پوتی ریحانہ خاتون نے مولانا ظفر علی خان کی غیر مطبوعہ تحریروں کے عنوان سے ایک کتاب میرے نام بھیجی ہے۔ ریحانہ صاحبہ ساری زندگی درس وتدریس سے وابستہ رہی ہیں۔ 1966ء میں راولپنڈی کے ایک سکول سے انہوں نے تدریسی شعبے کا آغازکیا اور 1993ء میں وائس پرنسپل کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ حاصل کی۔ اس دوران جہاں اردو ادب کے مطالعہ کا شغف رہا‘ وہیں باریک بینی سے اپنے دادا مولانا ظفر علی خان مرحوم کے کام پر بھی خصوصی توجہ دی۔ انہوں نے اپنے دادا مرحوم کے غیر مطبوعہ کام کو جمع کرکے ایک خوبصورت کتاب مرتب کی ہے‘ جس میں مولانا کے ایسے خطوط بھی شامل ہیں جو مولانا نے اپنے اہلِ خانہ کے نام تحریر کئے اور اس میں مولانا کی بعض سفری یادداشتیں بھی شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے مولانا کو قلم کی روانی اور خیالات کی وسعت سے نوازا تھا۔ اردو زبان پر مولانا کو کمال دسترس تھی اور اپنے خیالات کو خوبصورت الفاظ کے سانچے میں ڈھالنا ان کے لیے چنداں مشکل نہ تھا۔ ان کی نثر اور شاعری کو پڑھ کے انسان مولانا کے قلم کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مولانا کی خوبصورت اردو کی جھلک جو ان کی تحریر اور شاعری میں نمایاں نظر آتی ہے‘ اُن خطوط میں بھی واضح ہے جو انہوں نے اپنے اہلِ خانہ کے نام لکھے اور جو سفری یادداشتیں مختلف ایام میں قلمبند کیں۔ مولانا مرحوم کے اپنے زمانے کے بہت سے مشاہیراور نمایاں شخصیات کے ساتھ گہرے تعلقات تھے جن میں قائداعظم محمد علی جناح‘ علامہ محمد اقبال اور مولانا محمد علی جوہر نمایاں ہیں۔مولانا ظفر علی خان کی غیر مطبوعہ تحریریں‘ اس کتاب سے مولانا کی علامہ اقبال کے ساتھ ملاقاتوں کی مختصر تفصیل بھی ملتی ہے اور مولانا کے ہم عصر لوگوں کے مولانا کے بارے میں خوبصورت تبصرے بھی اس میں تفصیل سے درج کیے گئے ہیں۔ مولانا ظفر علی خان کی غیر مطبوعہ تحریریں درحقیقت مولانا کی پوتی کے ایم فل کے مقالے کا عنوان تھا‘ جس کو بعد ازاں کتابی شکل میں مرتب کرکے عوام الناس کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس کتاب سے مولانا کے بچپن‘ جوانی‘ تعلیم اور پس منظر کے بارے میں بھی تفصیلی آگہی ملتی ہے اور یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ برصغیر کی تحریک آزادی میں حصہ لینے والے رہنما اپنے مقصد سے اس حد تک مخلص تھے کہ انہوں نے کبھی بھی سامراج کی چاپلوسی‘ نوکری یا ماتحتی کو اپنے لیے باعثِ شرف نہیں سمجھا بلکہ کلمہ حق کہنے ہی کو اپنے لیے باعثِ اعزاز اور باعث اطمینان سمجھا۔ مولانا ظفر علی خان کی غیر مطبوعہ تحریریں پڑھ کر مولانا کی داخلی شخصیت اور اخلاقی اقدار کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں رہتا۔
مولانا ظفر علی خان جہاں ایک بیباک لیڈر‘ کہنہ مشق صحافی‘ عظیم خطیب اور بے باک کالم نگار تھے وہیں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ انتہائی شفیق اور محبت کرنے والے بھی تھے۔ مولانا کو کئی مرتبہ حق گوئی اور بیباکی کی وجہ سے بہت سی تکالیف سہنا پڑیں‘ جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ ان کی شخصیت متاثر ہوئی بلکہ ان کے خاندان پر بھی حکومتی دبائو آیا لیکن مولانا استقامت اور جرأت کی چٹان بن کر ان تمام مشکلات کو خندہ پیشانی کے ساتھ براشت کرتے رہے۔ ان ایام میں مولانا کو جسمانی اور ذہنی اذیت برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ کثیر مالی نقصانات بھی برداشت کرنا پڑے۔
مولانا ظفر علی خان کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے طویل اسفار کا بھی موقع دیا‘ ان میں کئی داخلی اور بیرونی سفر شامل ہیں۔ مولانا اہم کانفرنسوں اور تقاریب سے خطاب کرتے۔ بیرونِ ملک سفر کرنے کے ساتھ ساتھ بیدارِ ملت کیلئے ترکی‘ برما‘ فلسطین‘ کشمیر اور دیگر مقامات کی طرف سفر کرتے رہے۔ لاہور‘ دہلی‘ حیدرآباد (دکن)‘ کلکتہ‘ کانپور‘ الہ آباد‘ علی گڑھ‘ امرتسر‘ گجرات‘ لالہ موسی‘ جہلم‘ پشاور‘ گوجرانوالہ‘ بھوپال‘ خانیوال اور لدھیانہ کے بھی سفر کئے اور اپنی ذاتی ڈائری میں ان سفروں کی روداد کو نہایت خوبصورت اور دلآویز انداز میں قلمبند کیا۔ مولانا ظفر علی خان کی غیر مطبوعہ تحریریں قارئین کی معلومات میں اضافے کا سبب بھی ہیں اور اس سے ایک بڑے رہنما کی نجی اور خاندانی زندگی کو سمجھنے کا موقع بھی میسر آتا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ قائدین تحریک پاکستان نے آزادی کے حصول کیلئے کس قدر محنت کی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ قائدین تحریک پاکستان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں ان کے علم‘ شعور اور آگہی سے مستفید ہونے کی توفیق دے‘ آمین۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved