ایک زمانہ تھا کہ جب کوئی لشکر دشمن پر فتح پاتا تو وہ شہروں کو ملیا میٹ کرتا‘ آبادیوں کو تہس نہس کرتا‘ کھیتوں اور باغوں کو تاراج کرتا‘ تہذیبی آثار منہدم کرتا‘ ہر طرف بربادی پھیلاتا جاتا تھا۔ ہر زمانے میں‘ ہر قوم نے‘ ہر مذہب کے پیروکاروں نے فتح کے بعد یہی کچھ کیا۔
آپ کا کیا خیال ہے وہ زمانہ گزر گیا؟ کیا اب سرحدیں مکمل طور پر مؤثر ہیں؟ کیا اب اقوام متحدہ ملکوں اور قوموں کی حفاظت کرتی ہے؟ کیا آج کی جنگ محض ہوائی جہازوں سے لڑی جاتی ہے؟ کیا اپنے اپنے ملک کے اندر ہی سے دشمنوں پر حملے کیے جاتے ہیں؟ نہیں! ایسا نہیں! بالکل نہیں! مسئلہ یہ ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی غلط فہمی کا شکار ہیں! آپ سمجھ رہے ہیں کہ بربادی لانے والے لشکر صرف انسانوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بربادی لانے والے لشکر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو قدرت کی طرف سے آتے ہیں۔ سیلاب! طوفان! آندھیاں! گزشتہ قوموں پر خون‘ ٹڈیاں‘ جوئیں اور مینڈک برسائے گئے۔ یہ سب تاریخ کی باتیں ہیں یا صحیفوں کی۔ دوسرے تباہ کُن لشکر وہ ہیں جو معاشرے کے کچھ طاقتور اور بااختیار افراد تیار کرتے ہیں اور پھر عوام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ کبھی ترقی کے نام پر! کبھی آبادکاری کے نام پر! کبھی زراعت کے نام پر‘ کبھی ماڈرن ازم کے نام پر!! مثلاً پانی اکٹھا کرنے کے نام پر جو ڈیم بنائے جاتے ہیں وہ خالص انسانی نقطہ نظر سے ایک ظلم ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کسی کو گھر سے بے گھر کرنا اور در بدر کرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔ یہ کہنا کہ ایسا کرنا ترقی کے لیے ناگزیر ہے‘ عذرِ لنگ کے سوا کچھ نہیں! یہ دنیا ممکنات کی دنیا ہے۔ منگلا ڈیم جنرل ایوب خان کے عہد میں تعمیر ہوا۔ فرض کیجیے اصل منصوبے کے تحت صدر صاحب کا اپنا گاؤں بھی مجوزہ ڈیم کی زد میں آ رہا ہوتا تو کیا کیا جاتا؟ درجنوں متبادل منصوبے وجود میں آ جاتے۔ مگر عام لوگو ں کے لیے منصوبے تبدیل نہیں ہوتے! ڈیم جب بنتا ہے تو ہزاروں لاکھوں لوگ گھر سے بے گھر ہوتے ہیں‘ دربدر ہو جاتے ہیں۔ سکول‘ کالج‘ مدارس‘ عبادت گاہیں ڈوب جاتی ہیں۔ لوگوں کے پیاروں کی قبریں غرق ہو جاتی ہیں۔ کم از کم تین نسلیں اپنی بستیوں کو‘ اپنے گھروں کو‘ اپنے کھیتوں کو‘ اپنے بازاروں کو یاد کر کر کے روتی رہتی ہیں!
ایک لشکر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا ہے جو سیلِ بے پناہ کی صورت ہر شے کو نگلتا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کے نواح میں واقع‘ پہلی جنگ عظیم کی تاریخی یادگار غائب ہو گئی ہے۔ متعلقہ وزارت نے اجازت نہیں دی تھی۔ میڈیا نے بہت دہائیاں دیں۔ عوام نے سوشل میڈیا پر بہت شور مچایا مگر طاقت آخر طاقت ہے۔ لشکروں کے سامنے کوئی کب ٹھہر سکا ہے۔ اسلام آباد کے ہزاروں درختوں کی طرح اس یادگار کو بھی اکھاڑ دیا گیا ہے! نہ مدعی نہ شہادت‘ حساب پاک ہوا! اور یہ مت بھو لیے کہ اسلام آباد کے نواح میں واقع یہ تاریخی یادگار وہ آخری یادگار نہیں ہے جو مٹائی گئی۔ یہ تو آغاز ہے۔ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی آندھی تھمنے والی آندھی نہیں۔ آپ نے بڑے بڑے مافیاز کا نام سنا ہے۔ شوگر مافیا! پرائیویٹ بجلی گھروں کا مافیا! اور بہت سے دیگر مافیا۔ مگر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا مافیا اس ملک کا مضبوط ترین گروہ ہے۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ دریاؤں کے راستوں میں نئی بستیاں بسانے والے افراد گزشتہ حکومتوں کے دوران بھی دربار میں سنہری کرسیوں پر تشریف فرما تھے اور موجودہ حکومت میں بھی اونچی مسندوں پر براجمان ہیں! اس میں بڑے بڑے ادارے بھی شامل ہیں۔ یہ چند ہزار درختوں یا ایک دو تاریخی یادگاروں کے انہدام کی بات نہیں‘ یہ سلسلہ اتنی دور تک جائے گا کہ آپ کی آئندہ نسل بہت سی چیزوں کا تذکرہ صرف کتابوں میں پڑھے گی! تاریخ کی بوسیدہ‘ پھٹی ہوئی کتابوں میں!! ایسا آنے والی صدی میں نہیں‘ اس سے بہت پہلے ہو جائے گا۔ 2050ء کا پاکستان بالکل مختلف پاکستان ہو گا۔ کوئی کھیت نظر نہیں آئے گا۔ لوگ نہیں جانتے ہوں گے کہ گندم کا پودا کیسا ہوتا ہے اور کپاس یا چاول کی فصل کس چڑیا کا نام ہے۔ سیالکوٹ کے نواح میں چاول اگانے والی بہترین زرعی زمین پر اس وقت بھی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی قائم ہے۔ پچیس برس بعد ہمارے مشرقی بارڈر پر مسلح محافظ نہیں ہوں گے بلکہ قطار اندر قطار ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہوں گی۔ شمال سے جنوب تک سرحد پر مکان ہی مکان ہوں گے۔ لاہور میں سیاحوں کو بتایا جائے گا کہ یہاں بادشاہی مسجد ہوتی تھی۔ یہاں اقبال کا مزار تھا۔ یہاں شاہی قلعہ تھا۔ اس ہاؤسنگ سوسائٹی کی جگہ پر پہلے جہانگیر کا مقبرہ تھا۔ یہ ہاؤسنگ اتھارٹی جہاں نظر آ رہی ہے وہاں کسی زمانے میں شالامار باغ تھا۔ یہاں لارنس گارڈن تھا۔ یہاں یونیورسٹی تھی۔ یہاں عجائب گھر تھا۔یہ محل جہاں کھڑا ہے وہاں تاریخی ٹولنٹن مارکٹ تھی۔ اس کے ساتھ انار کلی بازار تھا۔ اب ہر جگہ مکانات ہیں!
ہمیں لائبریریوں کی ضرورت ہے نہ تعلیمی اداروں کی! گزشتہ ایک کالم میں رونا رویا جا چکا ہے کہ سیالکوٹ کی خواتین یونیورسٹی کے پاس جو دو سو ایکڑ زمین ہے اس میں سے ایک سو چالیس ایکڑ چھینے جا رہے ہیں۔ اس غصب کی گئی زمین پر کلرکوں‘ پٹواریوں‘ تھانیداروں‘ داروغوں اور نوکر شاہی کے دیگر اہلکاروں کے دفاتر اور مکانات بنائے جائیں گے۔ 2050ء تو دور ہے‘ کام ابھی سے شروع ہے! سرکاری اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر مشتمل یہ فاتح لشکر‘ درختوں اور تاریخی یادگاروں کے علاوہ‘ تعلیمی اداروں کی عمارتیں اور زمینیں بھی ہڑپ کرنے کو ہے!! دیکھیے! بزرگانِ دین اور اولیاء اللہ کے مزاروں کے ساتھ کیا ہوتا ہے! ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی آندھی سے وہ نظم یاد آگئی جس کا عنوان ''آندھی‘‘ تھا۔ تلوک چند محروم کی کہی ہوئی یہ نظم ہمارے زمانے میں سکول کے نصاب کا حصہ تھی:
وہ گرد کا پہاڑ اٹھا پھر شمال سے؍ بالیدگی میں دو قدم آگے خیال سے
صورت میں ہے اگرچہ یہ باہر مثال سے؍ آتی ہے فوجِ دیو نظر چال ڈھال سے
روپوش اس کے سامنے کوہِ گراں ہوا؍ ہیبت یہ ہے کہ زرد رُخِ آسماں ہوا
پس نوشت: میڈیا میں دیکھی جانے والی خبر اور تصویر کے مطابق سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ کے قائد اندرونِ لاہور میں پتنگ بازی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یہ خبر اور تصویر آٹھ فروری کے اخبارات میں شائع ہوئی ہے جبکہ اسلام آباد کی مسجد میں دہشت گردی کا واقعہ چھ فروری بروز جمعہ پیش آیا۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ تصویر سات فروری کی ہے‘ یعنی دہشت گردی کے ایک دن بعد کی!! بسنت سے لطف اندوز ہونا جرم نہیں ہے مگر جب قوم شہدا کے غم میں ماتم کناں ہے‘ اتنے سینئر لیڈر کو اس شغل میں محو دیکھ کر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ آپ حکومتی پارٹی کے رہنما ہیں۔ تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ آپ کے لیے مناسب یہ تھا کہ اس تفریح میں وقت گزارنے کے بجائے متاثرہ مسجد کا دورہ کرتے۔ پسماندگان کو تسلی دیتے اور یوں غم میں برابر کے شریک ٹھہرتے۔ آئے دن لاہور سے مری تشریف لے جاتے ہیں!! ایک بار تعزیت کے لیے اسلام آباد بھی آ جاتے۔ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے علم کے مطابق‘ صدرِ مملکت جائے سانحہ پر گئے نہ وزیراعظم! مولانا فضل الرحمان گئے نہ محمود اچکزئی! اب تک کی خبروں کی رو سے صرف علامہ راجہ ناصر عباس جائے سانحہ پر گئے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر علمائے کرام اور سیاستدان بھی دہشت گردی کا شکار ہونے والی مسجد میں جاتے اور زخمیوں کو تسلی دیتے۔ یوں ہماری قومی یکجہتی کا پیغام دشمن تک بھی پہنچتا اور وہ جان لیتا کہ پاکستانی قوم متحد ہے! قومی سطح کے رہنماؤں کو بعض اوقات تفریح اور آرام تج کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے اکثر آرمی چیف عید کا دن دور افتادہ مقامات پر جوانوں کے ساتھ گزارتے رہے ہیں۔ سیاسی رہنما کم ازکم مصیبت کے وقت تو عوام کے ساتھ کھڑے نظر آیا کریں!!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved