تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     10-02-2026

پانی ہمیشہ نشیب کی جانب بہتا ہے

مختلف ہائیکورٹس کے ججز کے تبادلوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے فرمایا کہ ججز تبادلوں پر صدر‘ وزیراعظم اورچیف جسٹس آف پاکستان سے مشاورت ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں ''اچھے ججز‘‘ ہیں‘ سندھ اور کے پی کا بھی مساوی حق ہے۔ معاملات خراب ہوں تو بندہ جتنا کم بولے اتنا ہی اچھا ہے۔ اللہ مجھے توہینِ عدالت کے الزام سے محفوظ رکھے‘ تاہم ایک فارسی محاورہ ہے کہ ''نقل کفر کفر نباشد‘‘ سو یہ عاجز اس محاورے کے آسرے پر اس جملے کا جو مفہوم سمجھا ہے وہ بیان کر رہا ہے۔بیان سے یوں لگتا ہے کہ سندھ اور کے پی کے ججز اچھے نہیں ہیں۔ یعنی اب ان کا منصوبہ ہے کہ ''ان‘‘ ججوں کو پنجاب اور اسلام آباد وغیرہ بھیجا جا سکے۔ اس طرح اچھے اور دوسری قسم کے ججوں کی شرح فیصد پورے پاکستان میں مساوی ہو جائے گی۔
پہلی بات تو مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ان دوسری قسم کے ججوں کو کس نام سے لکھا یا پکارا جائے؟ اوپر جو میں نے دوسری قسم کے ججوں کے لیے واوین میں ''ان‘‘ لکھا ہے تو محض احتیاطی تدبیر اختیار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی کہ ان دوسری قسم کے ججوں کو کس نام یا خوبی سے پکاروں۔ اگر ایک قسم کے ججوں کیلئے وزیر محترم نے ''اچھے ججز‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے تو اب دوسری قسم کے ججوں کیلئے کیا لفظ استعمال کیا جائے؟ انہیں اچھے جج کے مقابلے میں برا جج‘ خراب جج‘ نالائق جج یا نکما جج لکھا جائے؟ ایسی صورت میں کسی نے وزیر موصوف کو تو کچھ نہیں کہنا‘ اس فقیر کو گھسیٹتے پھرنا ہے‘ سو احتیاط علاج سے بہتر طریقہ کار ہے۔
اللہ بخشے ماسٹر ارشاد صاحب کو انہوں نے ساتویں جماعت میں انگریزی میں ڈائریکٹ اِن ڈائریکٹ پڑھائے اور اس کو بعد ازاں ماسٹر ظہور الحق اور ماسٹر نذیر صاحب نے مزید پختہ کیا۔ اگر ان اساتذہ کی پڑھائی گئی انگریزی کے قواعد کو اردو میں استعمال کرتے ہوئے جملے کو ڈائریکٹ سے اِن ڈائریکٹ کروں تو جملہ کچھ ایسے بنتا ہے کہ سندھ اور کے پی میں خراب جج ہیں تو پنجاب اور اسلام آباد کا بھی مساوی حق ہے۔ یعنی خرابی کو سمیٹنے اور اس کا تدارک وسدباب کرنے کے بجائے اسے پھیلانے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر قانون بجائے اس کے کہ بعض صوبوں میں ''غیر اچھے‘‘ جج ہیں وہاں بھی اچھے ججوں کے تقرر کا اہتمام وانصرام کرتے‘ انہوں نے اس خرابی کا اعتراف کر کے ان غیر اچھے ججوں کی صلاحیتوں کا دائرہ کار دوسرے صوبوں میں پھیلانے اور ان صوبوں میں رائج الوقت انصاف کی صورتحال‘ جو ازخود خاصی دگرگوں ہے‘ کو مزید خوار وخستہ کرنے کے منصوبے کا اعلان فرما دیا ہے۔
قارئین کرام! ایک مشکل تو یہ آن پڑی ہے کہ میں وفاقی وزیر قانون کے بیان کی روشنی میں اچھے ججوں کے مقابلے میں دوسرے ججوں کیلئے ذہن میں آنے والے درجن بھر یک لفظی متبادل الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے مستقبل کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کے خوف سے ''یرکا‘‘ پڑا ہوں۔ اس ملک میں جہاں محض ایک ناپسندیدہ ٹویٹ پر سترہ سال قید کی مثال موجود ہو وہاں خصوصی احتیاط لازم ہے۔ اس صورتحال پر فیصل آباد کے مزاحیہ شاعر مرحوم بابا عبیر ابوذری کا ایک شعر یاد آ گیا ہے جو قارئین کی تفننِ طبع کیلئے لکھ رہا ہوں:
پُلس نوں آکھاں رشوت خور تے فیدہ کیہ
پچھوں کردا پھراں ٹکور تے فیدہ کیہ
اس شعر میں پنجابی کا لفظ ''پِچھوں‘‘ جن دو مفاہیم میں استعمال ہوا ہے اس میں لطف تو دوسرا مفہوم ہی دے رہا ہے مگر وضاحت اور تشریح پر فی الوقت خاموشی ہی بہتر ہے۔ اچھے کے مقابلے میں دوسری قسم کے ججوں کی خصوصیت کے بارے میں قارئین اپنی صوابدید استعمال کرنا چاہیں تو یہ عاجز اس سلسلے میں مکمل غیر جانبدار ہے۔
وفاقی وزیر قانون کی گفتگو کے تناظر میں مجھ نالائق کو چھبیسویں ترمیم کا جو مفہوم آسان الفاظ میں سمجھ آیا وہ یہ ہے کہ اس ترمیم کی برکتوں کے طفیل ایک دو صوبوں کے ہائیکورٹس میں عدل وانصاف کی ناگفتہ بہ صورتحال کو ٹھیک کرنے کے بجائے اس خرابی کو دیگر صوبوں میں پھیلانے اور نسبتاً بہتر صورتحال والے ہائیکورٹس کے ججوں کو خرابی زدہ صوبوں میں پھیلانے سے عدل وانصاف کی صورتحال میں خرابی اور انحطاط کے شرح فیصد ہر صوبے میں یکساں ہو جائے گی اور عدل و انصاف کے معاملے میں پسماندہ صوبوں کے دل سے عدم توازن اور استحصال کا غم غلط ہو جائے گا۔
اس ملک میں اب یہ معمول بن گیا ہے کہ ادارہ جاتی خرابی کا علاج اس کی درستی کے بجائے اس کے خاتمے میں تلاش کر لیا گیا ہے۔ ملک کے تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق ہوا تو اس کو درست کرنے کے بجائے اس کا حل پرائیویٹائزیشن میں تلاش کر لیا گیا۔ سرکاری سکولوں کے پرائیویٹ ہاتھوں میں جانے سے یہ ہوا کہ نئے مالکان نے دس جماعت پاس اور مبلغ چھ سات ہزار روپے تنخواہ پر اساتذہ بھرتی کر لیے۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ چپڑاسی اور ڈرائیور سے بھی آدھی تنخواہ لینے والے بمشکل دس جماعت پاس ان اساتذہ نے کیا پڑھانا ہے۔ انہی سرکاری سکولوں میں بھرتی ہونے والے اساتذہ پرائمری سے لے کر ہائی سکول تک بتدریج پی ٹی سی‘ سی ٹی اور بی ٹی وغیرہ جیسے سرٹیفکیٹ اور ڈپلومہ ہولڈر ہوا کرتے تھے۔ ان کو پڑھانے کے فن اور چھوٹی کلاسوں سے لے کر بڑی کلاسوں کے طلبہ کو تعلیم دینے کے رموز سے آشنا کر کے معلم کے درجے پر فائز کیا جاتا تھا۔ پھر باقی سب سرکاری اداروں کی طرح تعلیمی ادارے بھی انحطاط کا شکار ہو گئے۔
بجائے یہ کہ ان کو درست کرتے ہوئے تعلیم کو آج کے دور میں دیگر ترقی یافتہ ممالک سے ہم آہنگ کیا جاتا‘ تعلیم کو سر سے بوجھ کی مانند اتار پھینکا اور سرکاری سکولوں کونجی شعبے کے سپرد کر دیا گیا۔ تعلیم اور صحت دو ایسی لازمی اور ضروری سہولتیں ہیں جن کی فراہمی ریاست کی بنیادی اور اولین ذمہ داری ہے لیکن ریاست نے اس ذمہ داری کو نبھانا تو رہا ایک طرف‘ سرے سے جان ہی چھڑوا لی ہے۔ یہی کچھ صحت کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ سرکاری ہسپتال اس ملک میں غریب عوام کے علاج معالجے کی آخری جائے پناہ تھے لیکن عشروں سے پیدا ہونے والی خرابیاں اس سارے نظام کو جو ہمارے سامنے اچھا بھلا چل رہا تھا‘ دیمک کی طرح چاٹ گئی ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ سرکاری ہسپتال اور اسے چلانے والا محکمہ صحت خرابی کی اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ اب اس کو جواز بناتے ہوئے سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ کرنے کے منصوبے اپنی فائنل سٹیج پر ہیں۔ علاج جب خدمت سے کاروبار بنے گا تو اس کا نتیجہ عام آدمی ہی بھگتے گا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر اس کا یہ حال کیسے ہوا اور اس خرابی کا ذمہ دار کون ہے؟ ہم ذمہ داری فکس کرنے‘ ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے اور نظام کو درست کرنے کے بجائے نظام کا بوریا بستر لپیٹ دینے کو اس کا آسان حل سمجھتے ہیں اور اس تیربہدف علاج پر عمل پیرا ہیں۔
خرابیوں کی بنیاد پر ادارے پرائیوٹ کرنا ہی اگر اس کا آخری حل ہے تو پھر عدل وانصاف کو بھی پرائیویٹائز کر دینا چاہیے۔ لیکن اس میں مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ ابھی عدل وانصاف کو پرائیویٹائز کرنے کا نہ تو کوئی طریقہ دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی کسی میں ایسا کرنے کی جرأت ہے۔ جہاں سائیں تگڑے ہوں وہاں سرکار کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ پانی ہمیشہ نشیب کی طرف بہتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved