2016ء میں جب پاناما پیپر لیکس سامنے آئیں تو سیاسی و حکومتی ایوانوں میں زبردست بھونچال آ گیا۔ یہ لیکس سامنے آنے کے بعد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ خفیہ فائلز دنیا نے دیکھیں۔ ان فائلز سے معلوم ہوا کہ کیسے بڑی بڑی معتبر سیاسی و تجارتی شخصیات نے ٹیکس بچانے اور کالے دھن کو کام میں لانے کے لیے آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ ان دستاویزات کے مطابق آف شور کمپنیوں کے مالکان میں 140 سیاستدان تھے جن میں 12 اُس دور کے یا سابق حکومتی سربراہان شامل تھے۔ ان خفیہ اوراق کے منظر عام پر آنے کے بعد معلوم ہوا کہ 1970ء سے لے کر 2016ء تک پاناما کی ایک لاء فرم‘ موساک فونسیکا (Mossack Fonseca) دنیا بھر کے بااثر لوگوں کو یہ خفیہ کمپنیاں بنانے اور ٹیکس بچانے کے دھندے میں ان کی رہنمائی کرتی رہی ہے۔ 2016ء میں پاناما لیکس کے بعد اس سیکنڈل میں شامل کئی سربراہوں کو مستعفی ہونا پڑا‘ اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو بھی پارلیمنٹ میں جوابدہی کے مراحل سے گزرنا پڑا کیونکہ ان کے بیٹوں کی آف شور کمپنیاں بھی ان دستاویزات میں شامل تھیں۔
امریکن جسٹس ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ایپسٹین فائلز شائع کیے جانے کے بعد پاناما لیکس کی طرح ایک بار پھر دنیا بھر میں تخت لرزنے لگے بلکہ مختلف شعبوں کے ''پردہ نشینوں‘‘ کے نام منظر عام پر آنے لگے ہیں۔ یہ سکینڈل اور بھی خطرناک اور خوفناک ہے کیونکہ یہ مغربی سماج میں جنسی بے راہ روی‘ طاقت اور اختیار کے غیراخلاقی استعمال کو آشکار کر رہا ہے۔ 1953ء میں پیدا ہونے والا ایپسٹین ایک امریکی سرمایہ کار تھا۔ اس نے زندگی میں زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کے لیے جنسی بے راہ روی کا راستہ اپنایا۔ اس مقصد کے لیے اس نے ایک ایسا ایلیٹ کلاس سوشل سرکل ترتیب دیا جس میں بڑے بڑے حکمران‘ شاہی خاندانوں کی شخصیات‘ دانشور‘ سیاستدان‘ کھیلوں کے منتظمین‘ ارب پتی کاروباری شخصیات اور بڑی بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز شامل تھے۔ وہ ان شخصیات سے اپنے تعلقات کو پروان چڑھانے کے لیے جنسی خدمات کو زینے کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ اس نے کم از کم ایک ہزار کم عمر بچیوں اور نوجوان لڑکیوں کو طرح طرح کی ترغیبات اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے اپنے دامِ فریب میں گرفتار کر رکھا تھا۔ گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ انصاف نے تقریباً 35 لاکھ سرکاری دستاویزات شائع کیں۔ ان دستاویزات سے معلوم ہوا کہ ہر اہم شعبے کی بعض نامور شخصیات ایپسٹین کے حلقۂ اثر میں شامل تھیں۔ ان افراد میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن‘ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر‘ امریکی بزنس مین بل گیٹس اور نریندر مودی کے دوست بھارتی بزنس مین انیل امبانی بھی ایپسٹین کے کلائنٹس میں شامل تھے۔ 2019ء میں جیفری ایپسٹین ایک امریکی جیل میں کم عمر لڑکیوں کی سمگلنگ کے مقدمے میں ٹرائل کا انتظار کر رہا تھا کہ اس نے جیل میں خودکشی کر لی۔
اس کی موت سے چھ سات برس بعد اس مقدمے سے متعلقہ قابلِ اعتراض تصاویر‘ وڈیوز‘ ای میلز اور مکالمات 2025ء کے اواخر اور جنوری 2026ء میں امریکی محکمہ انصاف نے ریلیز کیے ہیں۔ ان فائلز کے منظر عام پر آنے کے بعد مغربی دنیا میں اقتدار کے ایوانوں میں زبردست زلزلہ برپا ہے۔ ایپسٹین سے اپنے روابط کی بنا پر بل کلنٹن کا نام میڈیا کی شہ سرخیوں میں ایک بار پھر آ رہا ہے۔ کلنٹن نے امریکی کانگریس کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہامی بھی بھری ہے۔ ایک سابق برطانوی سفیر پیٹر مینڈلسن کے ٹھکانوں پر برطانوی پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ انہیں سفیر بنانے پر برطانوی وزیراعظم نشانۂ تنقید بن رہے ہیں۔ ایک سابق فرانسیسی سفیر‘جو اَب پیرس میں عرب ورلڈ انسٹیٹیوٹ کے صدر ہیں‘ ان سے بھی پوچھ گچھ شروع ہو چکی ہے۔ ناروے کی شہزادی میٹ ماریٹ نے سزا یافتہ مجرم ایپسٹین سے راہ و رسم کی بنا پر نارویجن بادشاہ اور ملکہ سے معافی طلب کی ہے‘ تاہم نارویجن عوام اس شہزادی کو معاف کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔
مغربی دنیا نے اپنی اخلاقی ساکھ بچانے کی خاطر امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق اہم شخصیات کے خلاف بلاتاخیر ایکشن شروع کر دیا ہے۔ مغربی سماج کے دہرے معیار ہیں۔ ایک طرف تو وہاں مادر پدر آزادی ہے۔ دولت کمانے کی آزادی‘ جنسی تعلقات کی آزادی‘ فحش مواد دیکھنے کی آزادی‘ ہر طرح کا لباس زیب تن کرنے کی آزادی اور سب سے بڑھ کر فرد کی آزادی۔ مغربی سماج نے گزشتہ تین چار صدیوں سے مذہب اور اخلاقی اقدار کو اپنی سیاست‘ اپنی تجارت اور اپنی نفسانی و جنسی خواہشات سے دیس نکالا دیا ہوا ہے‘ اس پس منظر کے باوجود مغربی معاشرے میں جب کوئی گھناؤنا سیکنڈل سامنے آتا ہے تو پھر وہ اعلیٰ اخلاقی معیار کی توقعات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ایک حیران کن تضاد ہے۔ ایپسٹین سکینڈل سے دو اہم باتیں سامنے آئی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ راتوں رات امیر بننے کیلئے آپ جو جی چاہے کام کریں بس ریاست کو ٹیکس دیتے رہیں۔ لوگ امیر اس لیے بننا چاہتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سامانِ عیش و عشرت اکٹھا کرنے کیلئے وسیع دولت ضروری ہے۔
اخلاقی اقدار سے آزاد بلکہ بیزار معاشرے میں جب عام آدمی دیکھتا ہے کہ امیروں کی رسائی طرح طرح کے عشرت کدوں اور شبستانوں تک ہے تو وہ بھی زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے طریقوں کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ 1976ء میں جب ایپسٹین کو ایک سکول سے بغیر ڈگری کام کرنے کے جرم میں نکالا گیا تو اس نے بے راہ روی سے لذت یاب ہونے اور اس سے زیادہ سے زیادہ دولت اکٹھی کرنے کو مقصدِ حیات بنا لیا۔ مغربی دنیا کی سروے رپورٹس کے مطابق کم عمر لڑکیوں سے زیادتی کیلئے دولت کی چمک‘ طاقت اور قربت کو استعمال کیا جاتا ہے۔ صاحبانِ اقتدار‘ اساتذہ‘ پادری‘ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اور کھیلوں کے کوچز وغیرہ اپنی قربتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان دنوں امریکہ‘ یورپ اور آسٹریلیا وغیرہ کی مغربی سوسائٹی میں جنسی خواہشات کی تسکین کے حوالے سے ہر طرح کی اخلاقی قدغنوں سے آزادی اور اسلامی سوسائٹی میں ان خواہشات کے حوالے سے پابندیوں کا آپس میں موازنہ کیا جا رہا ہے۔ ایک تازہ ترین موازنے کے مطابق اسلام اپنے پیرو کاروں کو بتاتا ہے کہ تمہیں خدا کی طرف سے دیے گئے طریق کار کے مطابق جنسی تسکین کی اجازت ہے جبکہ مغرب کہتا ہے کہ دو بالغ مرد و زن کو اپنی مرضی کے مطابق جنسی تسکین کی آزادی ہے۔ اسلام جنسی تعلق کو شادی کے ساتھ مشروط کرتا ہے جبکہ مغرب ہر اس جنسی تعلق کو جائز تسلیم کرتا ہے جس میں دوطرفہ رضا مندی موجود ہو۔ اس کیلئے شادی یا بغیر شادی‘ یہ بھی ہر دو افراد کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔ ہر طرح کی مذہبی و اخلاقی اقدار سے مکمل چھٹکارے اور مادر پدر آزادی کے بعد جب کوئی شخص اپنی نفسانی آزادی کو مزید بے لگام کر دیتا ہے تو مغربی معاشرہ واویلا کرنے لگتا ہے۔ یہ واویلا بلاجواز ہے۔
کانٹے بو کر پھولوں کی تمنا کرنا عقلمندی نہیں بیوقوفی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved