تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     10-02-2026

پہیہ جام ہڑتال کا زمانہ لد چکا

احتجاج اور مزاحمت کے طریقے وقت اور سماجی ضروریات کے تابع رہے ہیں۔ کبھی بادشاہوں کے درباروں کے باہر دہائی دی جاتی تھی تو کبھی سول نافرمانی کے ذریعے حکمرانِ وقت کو جھکنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اسی طرح برصغیر کی سیاست میں پہیہ جام ہڑتال حکومت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کا ایسا ہتھیار رہا ہے جس نے بڑے بڑے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا۔ پہیہ جام محض سڑکیں بند کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ یہ ریاست کے معاشی اور انتظامی اعصاب کو مفلوج کرنے کا ایک علامتی اعلان ہوتا تھا‘ لیکن آج کے ڈیجیٹل دور اور پھیلتے ہوئے شہروں کے تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا پہیہ جام ہڑتال کا زمانہ لد چکا ہے؟ کیا اب یہ حربہ اپنی افادیت کھو بیٹھا ہے یا سیاسی جماعتیں اسے برؤے کار لانے کا سلیقہ بھول گئی ہیں؟ حکومت کے خلاف احتجاج کی کامیابی کا دارومدار ہمیشہ دو ستونوں پر رہا ہے۔ پہلا عوامی تائید اور دوسرا منظم منصوبہ بندی۔ ماضی پر نظر دوڑائیں تو 1977ء کی تحریکِ نظامِ مصطفی میں ذوالفقار علی بھٹو حکومت کے خلاف اپوزیشن کی کال پر پورا ملک تھم گیا تھا۔ اس وقت کی پہیہ جام ہڑتالیں اتنی شدید تھیں کہ ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر شعبے کی نبض رک گئی تھی۔ اسی طرح 1990ء کی دہائی میں بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی ایک دوسرے کے خلاف لانگ مارچ اور ہڑتال کی کالیں ریاست کو ہلا کر رکھ دیتی تھیں۔ اگر ماضی قریب میں دیکھیں تو سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں وکلا تحریک کے دوران ہونے والی پہیہ جام ہڑتالیں شاید اس سلسلے کی آخری کامیاب کڑیاں تھیں۔ اس وقت عوام کے دلوں میں عدلیہ کی آزادی کیلئے ایک تڑپ تھی اور وکلا کے ساتھ ساتھ تاجروں‘ ٹرانسپورٹرز اور عام شہری نے رضاکارانہ طور پر پہیہ جام کو کامیاب بنایا۔ اس کے بعد سے آج تک کوئی ایسی ہڑتال نظر نہیں آئی جسے کُل پاکستان کی سطح پر کامیاب قرار دیا جا سکے۔
پی ٹی آئی پر ہی کیا موقوف آنے والے دور میں جو جماعت بھی پہیہ جام ہڑتال کی کال دے گی قوی امکان ہے اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہیہ جام ہڑتال کے ناکام ہونے کی ایک بڑی وجہ پاکستان کے شہروں کا بے ہنگم پھیلاؤ اور آبادی کا دباؤ ہے۔ آج سے بیس پچیس سال پہلے لاہور‘ کراچی یا اسلام آباد کے چند کلیدی پوائنٹس بند کرکے پورے شہر کو یرغمال بنانا ممکن تھا۔ آج صورتحال بدل چکی ہے۔ شہر اتنے پھیل چکے ہیں اور گاڑیوں کی تعداد میں اتنا اضافہ ہو چکا ہے کہ کسی ایک جماعت کیلئے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو مستقل بند رکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔ معاشی ڈھانچے میں تبدیلی نے بھی ہڑتال کی سیاست کو نقصان پہنچایا ہے۔ عام آدمی جس کا چولہا روزانہ کی کمائی سے جلتا ہے‘ اگر سیاسی قیادت کے پاس کوئی ٹھوس نظریہ یا عوام کی معاشی محرومیوں کا حقیقی حل نہ ہو تو عوام اپنی ایک دن کی کمائی قربان کرکے سڑکوں پر بیٹھنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اقتدار سے محرومی کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے بارہا احتجاج کی کالیں دیں لیکن ان میں وہ اثر نظر نہ آیا جو عوامی تحریک کا خاصہ ہوتا ہے۔ الٹا وقت کے ساتھ ساتھ احتجاج میں شامل ہونے والوں کی تعداد کم ہوتی گئی۔ آٹھ فروری کی پہیہ جام ہڑتال کی کال اس کی واضح مثال ہے۔ پی ٹی آئی نے احتجاج کا اعلان تو کر دیا لیکن اس کے پس پردہ کارکنوں کو بیدار اور متحرک کرنے کی سرگرمیاں نظر نہیں آئیں جو ایسی بڑی کال کیلئے ضروری ہوتی ہیں۔ پہیہ جام کو کامیاب بنانے کیلئے گڈز ٹرانسپورٹرز اور پبلک ٹرانسپورٹ یونینز کا تعاون ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تک ٹرکوں‘ بسوں اور ویگنوں کے مالکان ہڑتال میں شامل نہ ہوں‘ سڑکیں سونی نہیں ہوتیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات یا رابطے کی خبریں سامنے نہیں آئیں۔ جب آپ کے پاس پہیہ گھمانے والوں کی حمایت ہی نہ ہو تو آپ پہیہ جام کیسے کر سکتے ہیں؟
اسی طرح کسی بھی تحریک کی کامیابی کیلئے ایک واضح نعرہ اور قیادت کا اتحاد ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کے حالیہ احتجاج میں یہ دیکھا گیا کہ کارکنوں کو کوئی واضح ٹاسک نہیں دیا گیا تھا۔ قیادت خود روپوش تھی یا مختلف گروہوں میں تقسیم نظر آئی۔ جب کارکن کو یہ معلوم نہ ہو کہ اسے کس مقام پر پہنچنا ہے‘ کس حد تک مزاحمت کرنی ہے اور اس کا لیڈر کہاں کھڑا ہے تو احتجاج کیسے کامیاب ہو گا؟ پی ٹی آئی نے احتجاج کو ناکام ہوتے دیکھا تو اعلان کیا کہ مشعل برداروں کے ذریعے احتجاج ہو گا لیکن بہت بڑی تعداد میں ہمیں مشعل بردار بھی نظر نہیں آئے۔ خیبرپختونخوا سے توقع تھی کہ وہاں احتجاج کامیاب ہو گا کیونکہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے مگر وہاں بھی آٹھ فروری کی کال پر ویسا ردِعمل دیکھنے کو نہیں ملا جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ محض سوشل میڈیا پر مقبولیت اور زمینی سطح پر عوام کو متحرک کرنا دو الگ الگ حقیقتیں ہیں۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ لاہور میں بسنت کا اعلان پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے کی منصوبہ بندی تھی۔ اگر اسے درست تسلیم کر لیا جائے تو حکومتیں احتجاج کو روکنے کیلئے تمام تر حربے استعمال کرتی ہیں۔ حکومت کی اس منصوبہ بندی کا مقابلہ کرنے کیلئے اپوزیشن کے پاس کیا پلان تھا؟
پی ٹی آئی کے ناکام احتجاج کے بعد حکومتی حلقے برملا کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی اب عوامی مقبولیت کھو چکی ہے کیونکہ عوام نے اس کی پہیہ جام ہڑتال کی کال پر کان نہیں دھرے۔ عوامی مقبولیت ایک لہر کی طرح ہوتی ہے اگر اسے صحیح وقت پر درست رخ نہ دیا جائے تو وہ دم توڑ جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت گروہ بندی کا شکار ہے‘ جہاں ہر کوئی اپنے آپ کو وفادار ثابت کرنے کی دوڑ میں تو لگا ہے لیکن پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو فعال کرنے میں سب ناکام ہیں۔ پہیہ جام ہڑتال کے ناکام تجربات اور بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اس حقیقت کی جانب واضح اشارہ کرتی ہے کہ جدید دور کی سیاسی بساط پر محض سڑکیں بند کرنے یا چند شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے سے حکومتیں نہیں گرتیں اور نہ ہی مقتدر حلقوں پر وہ دباؤ قائم کیا جا سکتا ہے جو ماضی میں ممکن تھا۔سیاسی بصیرت کا تقاضا یہ تھا کہ ایک اور ممکنہ ناکامی کو پارٹی کے کھاتے میں درج کرنے کے بجائے آٹھ فروری کی تاریخ کو خاموشی سے گزر جانے دیا جاتا۔ یہی وہ نکتہ تھا جس پر مولانا فضل الرحمن نے پی ٹی آئی کی قیادت کو متنبہ کیا تھا جب وہ انہیں احتجاج میں شمولیت کی دعوت دینے پہنچے تھے۔ مولانا فضل الرحمن دہائیوں سے سٹریٹ پاور اور عوامی تحریکوں کے مزاج شناس ہیں‘ انہوں نے واضح کیا تھا کہ پہیہ جام یا ملک گیر احتجاج کوئی حادثاتی عمل نہیں ہوتا بلکہ اس کیلئے مہینوں پہلے سے منظم منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔ کامیاب تحریک کا راستہ چھوٹے قصبوں اور شہروں سے عوامی حمایت کو سمیٹتے ہوئے بڑے شہروں کی طرف رخ کرنے سے ہموار ہوتا ہے تاکہ بتدریج ایسا ماحول بن سکے جو حکومت کو دفاعی پوزیشن پر لے آئے۔ مگر پی ٹی آئی کی قیادت مولانا کی اس سیاسی حکمتِ عملی اور تحریک سازی کے ہنر کو سمجھنے میں ناکام رہی۔ نتیجہ اب سب کے سامنے ہے‘ اس ادھورے اور ناکام احتجاج نے جہاں حکومت کے اعتماد میں اضافہ کرکے اسے بظاہر مزید مستحکم کر دیا ہے‘ وہاں پی ٹی آئی سیاسی بساط پر ایک دفاعی اور کمزور پوزیشن پر کھڑی نظر آتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved