ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں تبدیلی ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے۔ اکیسویں صدی میں تبدیلی کی رفتار غیرمعمولی اور بے مثال ہے‘ جو مسلسل ہمارے سوچنے‘ کام کرنے اور سیکھنے کے طریقوں کو نئی شکل دے رہی ہے۔ یہ بلاشبہ علم کی صدی ہے مگر محض علم کا حصول آج کامیابی کی ضمانت نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم علم کو کس طرح تخلیقی اور ذمہ دارانہ انداز میں بروئے کار لا کر بہتر دنیا کی تعمیر کرتے ہیں۔ اکیسویں صدی سیکھنے کے نئے زاویوں اور طریقوں کا تقاضا کرتی ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹس اور یووال نوح ہراری جیسے مفکرین اس امر پر زور دیتے ہیں کہ ہمارے دور کی بنیادی مہارتوں میں تنقیدی سوچ‘ تخلیقیت‘ مؤثر ابلاغ‘ باہمی تعاون اور بدلتے حالات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔ یہ مہارتیں کسی تعلیمی نظام کی اضافی آرائش نہیں بلکہ ایک غیریقینی اور تیزی سے بدلتی دنیا میں بقا کے بنیادی اوزار ہیں۔
روایتی تعلیمی نظام ایک مختلف تاریخی اور سماجی تناظر میں تشکیل دیے گئے تھے۔ قدامت پسند تعلیمی ماڈل میں علم کو جامد اور غیرمتغیر سمجھا جاتا ہے‘ استاد کو حتمی اتھارٹی کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور طلبہ کو ایسے خالی برتنوں کی مانند تصور کیا جاتا ہے جنہیں معلومات سے بھر دینا مقصود ہو۔ اس طرزِ تعلیم کا مقصد سوال اٹھانے یا تخلیقی سوچ کو فروغ دینے کے بجائے اطاعت اور ہم رنگی پیدا کرنا ہوتا ہے۔جدت‘ تحقیق اور دریافت پر مبنی موجودہ عہد میں یہ ماڈل اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ جدید تعلیمی تصور اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ علم متحرک ہے اور مسلسل ارتقا پذیر رہتا ہے۔ اب استاد کو علم کے حصول کا واحد ذریعہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کی حیثیت ایک رہنما اور سہولت کار کی ہے جس کا کام سوال کرنا‘ مکالمے کا اہتمام کرنا اور تلاش و جستجو کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ طلبہ محض خاموش سامع نہیں رہتے بلکہ سیکھنے کے عمل میں فعال شراکت دار بن جاتے ہیں۔ یوں تعلیم کا ہدف ہم رنگی کے بجائے تبدیلی قرار پاتا ہے‘ اور اس تبدیلی کے مرکز میں بااختیارہونے کا تصور موجود ہوتا ہے۔ طلبہ کو بااختیار بنانے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اختیار اور خود اعتمادی دی جائے‘ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ ان کی آواز اہم ہے اور وہ فیصلے کرنے‘ ان پر عمل کرنے اور مثبت فرق پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بااختیار طلبہ اپنے سیکھنے کے اہداف خود متعین کرتے ہیں‘ اعتماد پیدا کرتے ہیں اور علم کو سماجی بہتری اور مثبت تبدیلی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسا طالب علم محض علم حاصل کرنے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اسے دوسروں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے بروئے کار بھی لاتا ہے۔ تعلیم میں بااختیاری ایک کثیر جہتی عمل ہے جو ذہن‘ دل اور اخلاقی شعور تینوں کو متاثر کرتا ہے۔ ذہنی بااختیاری غور و فکر‘ استدلال اور اعلیٰ سطحی سوچ کو فروغ دیتی ہے۔ جذباتی بااختیاری خود اعتمادی‘ حوصلے اور ثابت قدمی کو جنم دیتی ہے۔ سماجی بااختیاری ٹیم ورک‘ مؤثر ابلاغ اور ہمدردی کو پروان چڑھاتی ہے جبکہ اخلاقی بااختیاری سیکھنے کے عمل کو دیانت‘ رحم دلی اور اخلاقی اقدار سے جوڑتی ہے۔ جب یہ چاروں پہلو یکجا ہو جاتے ہیں تو طلبہ محض امتحانات کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ بااختیاری کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ سکول خود بااختیار بنانے والی جگہیں بنیں۔ ایسے تعلیمی ادارے جہاں تجسس کو سراہا جائے‘ غلطیوں کو سیکھنے کے عمل کا فطری حصہ سمجھا جائے اور سوالات کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس نوعیت کے سکول رٹے پر مبنی یادداشت کے بجائے تحقیق‘ مکالمے اور غور و فکر کو فروغ دیتے ہیں اور طلبہ کو یہ سکھاتے ہیں کہ محض دی گئی معلومات کو دہرانا کافی نہیں بلکہ ان پر تنقیدی نظر ڈالنا بھی ناگزیر ہے۔
اگر ٹیکنالوجی کو سمجھ داری اور مقصدیت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو وہ اس عمل کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی محض توجہ بٹانے کا ذریعہ نہیں بلکہ علم کی عالمی برادریوں سے جڑنے کا مؤثر وسیلہ بن سکتی ہے۔ سکولوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ اور تخلیقی استعمال کی تربیت دیں تاکہ ڈیجیٹل آلات تحقیق اور دریافت کے لیے معاون ثابت ہوں۔ اسی طرح ہم نصابی سرگرمیاں جیسے مباحثے‘ فنونِ لطیفہ کی نمائشیں‘ ثقافتی میلے اور کھیلوں کے مقابلے نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں سماجی اعتماد اور اشتراکی صلاحیتوں کو فروغ دیتی ہیں اور طلبہ کو سننے‘ مل جل کر کام کرنے اور تنوع کو سراہنے کا ہنر سکھاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں طلبہ محض انفرادی کامیابی کے متلاشی نہیں رہتے بلکہ باشعور اور ذمہ دار شہری بننے کی طرف بڑھتے ہیں۔ یہ بات ایک بار پھر دہرانا ضروری ہے کہ روایتی تعلیمی نظام ایک مختلف زمانے کے تقاضوں کے تحت وضع کیے گئے تھے۔ مگر بااختیاری یکطرفہ لیکچرز کے ذریعے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اس کے لیے ایسی تدریسی حکمتِ عملیاں درکار ہوتی ہیں جو شرکت‘ شراکت اور ذمہ داری کو فروغ دیں۔ تحقیق پر مبنی اور منصوبہ جاتی سیکھنے کے طریقے‘ اہداف کا تعین اور خود احتسابی‘ بامعنی اور حقیقی جائزے‘ اور باہمی تعاون پر مبنی سیکھنے کے عمل وہ عناصر ہیں جو طلبہ کو فعال‘ باخبر اور خود مختار سیکھنے والا بناتے ہیں۔ اگرچہ سکولوں کو بااختیار بنانے والی جگہوں میں تبدیل کرنا آسان نہیں لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔ تبدیلی کی راہ میں مزاحمت ایک فطری عمل ہے۔ بہت سے اساتذہ خود انہی نظاموں کی پیداوار ہوتے ہیں جنہیں اب انہیں بدلنے کی ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔ محدود تربیت‘ سخت گیر امتحانی ڈھانچے اور انتظامی دباؤ بھی اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس کے باوجود تبدیلی ممکن ہے۔ سکول پیشہ ورانہ سیکھنے کی کمیونٹیاں تشکیل دے سکتے ہیں جہاں اساتذہ ایک دوسرے کی رہنمائی اور معاونت کریں۔ تعلیمی ادارے کنٹرول کے بجائے اعتماد کے ذریعے جدت کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔ چھوٹے مگر مسلسل اقدامات‘ جو غور و فکر اور تعاون پر مبنی ہوں‘ دیرپا تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
تعلیمی تبدیلی میں قیادت کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ سکول کے سربراہ کا کام محض انتظام اور کاغذی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ایک حقیقی تعلیمی رہنما ادارے کے ویژن کو سمت اور معنویت دیتا ہے‘ حکم دینے کے بجائے ترغیب دیتا ہے‘ اہداف طے کرتا ہے‘ تخلیقی صلاحیت کو فروغ دیتا ہے اور مسلسل سیکھنے کی ثقافت قائم کرتا ہے۔ جب اساتذہ خود کو بااختیار محسوس کرتے ہیں تو وہ یہی احساس فطری طور پر اپنے طلبہ میں منتقل کرتے ہیں۔ ان تمام مباحث کے مرکز میں ایک بنیادی حقیقت موجود ہے کہ تعلیم کو ایک طاقتور ذریعۂ تبدیلی کے طور پر ازسرِنو تصور کرنا ہوگا۔ تعلیم کا مقصد محض امتحانات یا ملازمت کے لیے تیاری نہیں بلکہ زندگی کے لیے تیاری ہونا چاہیے تاکہ طلبہ غور و فکر کرنے والے افراد اور ذمہ دار شہری بن سکیں۔ ٹیکنالوجی‘ تخلیقیت اور تنقیدی سوچ اب اختیاری نہیں رہیں بلکہ ناگزیر بن چکی ہیں۔ جو سکول ان عناصر کو نظر انداز کرتے ہیں وہ ایسے فارغ التحصیل افراد پیدا کرنے کا خطرہ مول لیتے ہیں جو جدید دنیا کی حقیقتوں سے کٹے ہوئے ہوں۔ طلبہ کو بااختیار بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سوال اور عمل کرنے کی صلاحیت کو پروان چڑھایا جائے‘ اور انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ وہ محض علم کے صارف نہیں بلکہ معنی کے خالق بھی ہیں۔ مستقبل کا سکول ڈیجیٹل آلات سے نہیں بلکہ اس بات سے پہچانا جائے گا کہ وہ تخیل‘ ہمدردی اور دیانت کو کس حد تک فروغ دیتا ہے۔ ایسا سکول جہاں ہر طالب علم خود کو اہم‘ باصلاحیت اور فرق پیدا کرنے کا ذمہ دار سمجھے۔ تعلیم ذہنوں میں معلومات ٹھونسنے کا نام نہیں بلکہ تجسس کی آگ روشن کرنے کا عمل ہے۔ جب سکول بااختیاری کے مراکز بن جاتے ہیں تو وہ صرف اچھے طلبہ نہیں بلکہ اچھے انسان بھی تیار کرتے ہیں‘ اور آج کی دنیا کو سب سے زیادہ اسی چیز کی ضرورت ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved