تحریر : محمد حسن رضا تاریخ اشاعت     11-02-2026

بنگلہ دیش انتخابات خطے میں بڑی تبدیلی

بنگلہ دیش میں عام انتخاب کا مرحلہ آن پہنچا ہے‘ جس میں عوام ملک کے 17ویں وزیراعظم کا انتخاب کریں گے۔ تقریباً 12 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز‘ 85 لاکھ بیروزگار نوجوان‘ آٹھ فیصد مہنگائی اور 463 ارب ڈالر کی معیشت‘ یہ وہ اعداد وشمار ہیں جو عام انتخابات پر اثر انداز ہوں گے۔ انتخابات کی کہانی غیر معمولی ہے۔ 2024ء کی طلبہ تحریک نے بنگلہ دیش کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔ جولائی 2024ء میں نوجوان جب سڑکوں پر آئے تو ایک ہزار سے زیادہ جانیں گئیں۔ اب ان کے ووٹ کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔ بھارت کیلئے 13 ارب ڈالر کی دو طرفہ تجارت‘ پاکستان کیلئے پچاس سال بعد بحال براہِ راست پروازیں اور چین کے دو ارب ڈالر سے زائد کے سرمایہ کاری منصوبے‘ یہ تمام عناصر بنگلہ دیش کے مستقبل کی سمت طے کریں گے۔ یہ الیکشن صرف بنگلہ دیشی حکومت کا نہیں پورے خطے کی سیاست کا فیصلہ کرے گا۔ شیخ حسینہ واجد کا طویل دور ختم ہو چکا مگر بنگلہ دیش کے سامنے کھڑا سوال آج بھی وہی ہے: اب آگے کیا؟
شیخ حسینہ واجد کا زوال کسی ایک لیڈر یا ایک سیاسی جماعت کی شکست نہیں تھا‘ یہ ایک پورے سیاسی نظام کے بکھرنے کی کہانی تھی۔ تقریباً پندرہ برس تک مسلسل اقتدار میں رہنے والی حسینہ واجد کو بنگلہ دیش میں بھارت کی سب سے مضبوط اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ 1971ء کی جنگ میں بھارت نے بنگلہ دیش بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا اور اس کے بعد دہائیوں تک دونوں ممالک کے مابین سکیورٹی‘ تجارت اور توانائی کے شعبوں میں گہرا تعاون رہا۔ بجلی کے معاہدے ہوں‘ ٹرانزٹ روٹس ہوں یا سرحدی تعاون‘ سب کچھ ایک منظم فریم ورک کے تحت چل رہا تھا‘ مگر وقت کے ساتھ یہ تعلقات عوامی سطح پر سوالات کی زد میں آنے لگے۔ مہنگائی بڑھتی گئی‘ روزگار کے مواقع سکڑتے گئے‘ نوجوانوں کو لگا کہ طاقت اور وسائل چند ہاتھوں میں سمٹ چکے اور مخالف آوازوں کو جبر سے دبایا جا رہا ہے۔ پھر 2024ء آیا۔ یونیورسٹیوں اور سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ کا ایشو لے کر طلبہ سڑکوں پر نکلے‘ تعلیمی اداروں سے ایک تحریک اٹھی۔ ریاستی جبر نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور چند ہی مہینوں میں وہ نظام جو برسوں سے بہت مضبوط دکھائی دے رہا تھا‘ زمین بوس ہو گیا۔ آج شیخ حسینہ واجد بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور بنگلہ دیشی عوام یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا اتنی قربانیوں کے بعد کوئی نیا راستہ نکلے گا؟
حسینہ واجد کے فرار کے بعد نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت نے ملک کو فوری انتشار سے بچایا مگر زمینی حقائق اپنی جگہ موجود رہے۔ بنگلہ دیش کی معیشت کا حجم تقریباً 482 ارب ڈالر ہے مگر عام آدمی کیلئے زندگی آسان نہیں۔ مہنگائی نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 10 سے 11 فیصد تک ہے اور تقریباً 85 لاکھ نوجوان ایسے ہیں جو نہ تعلیم اور نہ روزگار کے مواقع حاصل کر پاتے ہیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جو 2024ء کی تحریک کا ایندھن بنا اور یہی طبقہ اس الیکشن کا فیصلہ کن عنصر ہے۔ یہ نوجوان جانتا ہے کہ اس کا ووٹ صرف ڈھاکہ کی سیاست نہیں بدلے گا‘ اسے معلوم ہے کہ اس کے فیصلے کے اثرات سرحدوں کے پار بھی محسوس ہوں گے۔ اسی لیے یہ الیکشن محض داخلی معاملہ نہیں ہے۔ بھارت کیلئے یہ الیکشن شاید پچھلی کئی دہائیوں کا سب سے کڑا امتحان ہے۔ بنگلہ دیش بھارت کا صرف مشرقی پڑوسی ہی نہیں ایک اہم تجارتی شراکت دار بھی ہے۔ 2023-24ء میں دونوں کے مابین تجارت کا حجم تقریباً 13ارب ڈالر تھا۔ بجلی کی سپلائی‘ شمال مشرقی بھارت کیلئے ٹرانزٹ روٹس اور سرحدی سلامتی‘ یہ سب نئی دہلی کی پالیسی کے بنیادی ستون رہے ہیں۔ شیخ حسینہ کے دور میں بھارت کو ایک مانوس اور قابلِ پیشگوئی ساتھی میسر تھا مگر اب وہ اعتماد ختم ہو چکا۔ نئی دہلی کو خدشہ ہے کہ ڈھاکہ میں سخت گیر قوم پرست یا مذہبی بیانیہ رکھنے والی حکومت آئی تو اس کی مشرقی سرحد پر سکیورٹی چیلنجز بڑھ سکتے ہیں۔ بھارت یہ بھی جانتا ہے کہ بنگلہ دیش میں بھارت مخالف جذبات ایک آدھ دن میں پیدا نہیں ہوئے‘ پانی کی تقسیم کے تنازعات‘ سرحدی فائرنگ‘ تجارتی عدم توازن اور سیاسی مداخلت کے الزامات برسوں سے عوامی بحث کا حصہ رہے ہیں۔ انتخابی جلسوں میں بھی یہی موضوعات گونجتے رہے ہیں۔ نئی دہلی اس حقیقت سے بھی آنکھیں نہیں چرا سکتا کہ جغرافیہ نہیں بدلتا۔ بنگلہ دیش کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا بھارت کیلئے ممکن نہیں۔
اسلام آباد کیلئے یہ منظرنامہ مختلف مگر پُرکشش ہے۔ تقریباً پچاس برس بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین براہِ راست تجارت اور پروازوں کی بحالی بظاہر معمولی مگر اہم پیشرفت ہے۔ پاکستان جانتا ہے کہ 1971ء کی جنگ اور اس کے اثرات آج بھی بنگلہ دیشی معاشرے میں موجود ہیں مگر وہ یہ بھی دیکھ رہا کہ نئی نسل کیلئے ماضی سے زیادہ حال اور مستقبل اہم ہیں۔ معاشی مواقع‘ شناخت اور عالمی روابط‘ یہ وہ نکات ہیں جو آج کے نوجوان ووٹر کو متحرک کر رہے ہیں۔ اگر نئی حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات کو وسعت دیتی ہے تو یہ بھارت کیلئے ایک سٹریٹجک تشویش بن سکتی ہے‘ مگر اسلام آباد بھی زمینی حقیقت سے واقف ہے۔ کوئی بھی بنگلہ دیشی حکومت کھل کر کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے سے گریز کرے گی البتہ توازن کی سیاست میں پاکستان کیلئے محدود مگر اہم جگہ نکل سکتی ہے۔
اب بات کرتے ہیں اس کھلاڑی کی جو بالکل خاموش ہے مگر شاید سب سے طاقتور ہے۔ وہ کھلاڑی ہے چین۔ گزشتہ ایک دہائی میں چین بنگلہ دیش کا سب سے بڑا دفاعی سپلائر اور ایک بڑا سرمایہ کار بن چکا ہے۔ بندرگاہیں‘ پل‘ شاہراہیں‘ بجلی گھر‘ چینی سرمایہ کاری نے بنگلہ دیش کے انفراسٹرکچر کا نقشہ بدل دیا ہے۔ عبوری دور میں چین نے دو ارب ڈالر سے زائد کے منصوبوں پر کام جاری رکھا جبکہ مجموعی طور پر چینی سرمایہ کاری بنگلہ دیش کی معیشت کی ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے۔ چین کیلئے بنگلہ دیش محض ایک تجارتی شراکت دار نہیں یہ جنوبی ایشیا میں اس کے اثر ورسوخ کے پھیلاؤ کا دروازہ ہے۔ بھارت کے روایتی دائرۂ اثر میں مضبوط قدم جمانا بیجنگ کیلئے ایک بڑی سٹریٹجک کامیابی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے رابطے رکھتا ہے‘ کسی ایک پر اپنے سارے پتے نہیں لگاتا۔ اس کی سفارتکاری میں جذبات نہیں‘ مفادات مقدم ہوتے ہیں۔ حکومت کوئی بھی آئے‘ چین تیار ہے بشرطیکہ استحکام برقرار رہے۔
ان تمام عالمی طاقتوں کے بیچ اصل کہانی پھر بھی بنگلہ دیش کے عوام کی ہے۔ نوجوان ووٹر کیلئے اصل سوال یہ نہیں کہ بھارت کیا چاہتا ہے‘ پاکستان کس کی طرف دیکھ رہا ہے اور چین کیوں سرمایہ لگا رہا ہے۔ اس کیلئے اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسے روزگار‘ انصاف اور وقار کے ساتھ جینے کا حق ملے گا؟ یہی وجہ ہے کہ یہ الیکشن غیر معمولی ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ہو یا جماعت اسلامی‘ سب خودمختاری‘ قومی مفاد اور توازن کی بات کر رہے ہیں۔ کوئی بھی جماعت کھل کر یہ نہیں کہتی کہ اس کی خارجہ پالیسی کا جھکائو کس طرف ہو گا۔ شاید یہی اس انتخاب کی اصل روح ہے۔ یکطرفہ جھکاؤ کے بجائے کثیر جہتی خارجہ پالیسی۔
12فروری کی شام کو جب بیلٹ بکس کھلیں گے تو نظریں صرف ووٹوں کی گنتی پر نہیں ہوں گی بلکہ سفارتکار‘ تجزیہ کار اور سیاست کار ‘ سبھی حلقے حساب لگا رہے ہوں گے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ تاہم اس ہنگامے میں ایک حقیقت صاف ہے‘ بنگلہ دیش اب کسی کا سایہ بن کر نہیں رہنا چاہتا‘ وہ اپنے فیصلے خود کرنا چاہتا ہے‘ چاہے اس کی قیمت علاقائی طاقتوں کی ناراضی ہی کیوں نہ ہو۔ یہ الیکشن شاید تمام سوالوں کے جواب نہ دے سکے مگر ایک بات طے ہے: جنوبی ایشیا کی سیاست اب پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ بنگلہ دیش میں ڈالے گئے ووٹوں کی گونج سرحدوں سے ٹکرا کر واپس آئے گی اور یہی گونج بتائے گی کہ آنے والے برسوں میں طاقت کا ترازو کس سمت جھکے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved