آج سے لگ بھگ بارہ تیرہ برس قبل‘ نو دسمبر 2013ء کو پنجاب میں پہلے کمپیوٹرائزڈ اراضی ریکارڈ سنٹر کا افتتاح ہوا۔ برصغیر پاک وہند میں زمین کا مکمل ریکارڈ پہلی بار شیر شاہ سوری کے زمانے میں تکمیل پذیر ہوا۔ یہ اس خطے کا پہلا بندوبستِ اراضی تھا۔ پھر اس ریکارڈ کو مغل بادشاہ اکبر کے زمانے میں اس کے وزیر راجہ ٹوڈرمل نے مزید بہتر اور درست انداز میں مکمل کرایا۔ بعد ازاں دو بار گورے حکمرانوں نے اس بندوبست کو ممکنہ حد تک غلطی سے پاک اور جزئیات کے ساتھ ریکارڈ کیا۔ یہ سارا نظام پٹواری کے سر پر قائم تھا اور پٹواری کے بستے کو اس سارے نظام میں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ یہ پاکستان میں اس صدیوں پرانے متروک اور بوسیدہ نظام سے نجات حاصل کرنے کی انقلابی کاوش تھی۔
لاہور میں کینٹ کے نزدیک والٹن روڈ پر پنجاب کے پہلے کمپیوٹرائزڈ اراضی ریکارڈ سنٹر کا افتتاح تب کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کیا تھا۔ اس افتتاحی تقریب میں تقریباً سبھی معروف اخبار نویس اور قلمکار شریک تھے۔ ملتان سے اس فقیر کو بلایا گیا۔ میں بس کے ذریعے لاہور پہنچ گیا۔ میرے نزدیک یہ اس صوبے کی زمین کو صدیوں پرانے کھاتے‘ کھتونی‘ کھیوٹ‘ موضع‘ پٹواری‘ تحصیلدار اور دفترِ تحصیل کے درمیان پھنسے ہوئے نظام سے نجات دلانے کا ایک انقلابی قدم اور ماضی کے فرسودہ نظام سے جدید ترقی یافتہ نظام کی جانب ایک تاریخی سنگ میل تھا۔
اس افتتاحی تقریب میں شہباز شریف نے بڑے جوش و خروش سے اس سارے منصوبے کی جزئیات بیان کیں اور اس دوران مسلسل پٹواری اور اس کے بستے کو مطعون کیا‘ جی بھر کر رجسٹر پٹواراور پٹوار خانے پر اپنی بھڑاس نکالی اور عوام کو ایک نئے نظام کی خوشخبری سناتے ہوئے ان کی زمین سے متعلق تمام مشکلات‘ جو فرد ملکیت سے شروع ہو کر عشروں چلنے والے دیوانی مقدموں پر جا کر ختم ہوتی ہیں‘ سے نجات کی نوید سنائی۔ ان کے خطاب کے بعد سوال جواب شرع ہو گئے۔ میں نے خطاب کی روشنی میں پٹواری اور پٹوار کے نظام پر وزیراعلیٰ کی تنقید سے بات شروع کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ آپ کی پٹواری اور اس کے بستے پر تنقید بجا ہے لیکن آپ کو یہ بات بھی بخوبی معلوم ہو گی کہ پٹواری اور اس کا بستہ اپنی تمام تر خرابیوں کے باوجود کم از کم حکمرانوں کیلئے تو ہمیشہ نعمت ہی ثابت ہوا ہے۔ اس ملک میں اب تک ہونے والے تمام تر سرکاری جلسوں کا خرچہ پٹواری اپنے بستے کے زور پر ہی نکالتا رہا ہے۔ میں پٹواری کی حمایت نہیں کر رہا تاہم یہ بات بتانا ضروری ہے کہ جب سرکاری جلسوں کا خرچہ پٹواری کے کندھوں پر لادا جائے گا تو وہ یہ سارا خرچہ اپنے بستے سے نہیں نکالے گا تو پھر کدھر سے نکالے گا؟ پٹواری پر جتنا وزن سرکار نے ڈالا ہوا ہے آخر پٹواری کی ملیں یا فیکٹریاں تو نہیں چل رہیں جس سے وہ آپ کے جلسوں کا خرچہ اٹھائے۔ یہی رجسٹر اور یہی بستہ اس کی نوٹ چھاپنے والی فیکٹری ہے جہاں سے کما کر وہ کچھ اپنی جیب میں ڈالتا ہے اور باقی سرکاری ''پُھٹیکوں‘‘ پر لگا دیتا ہے۔پھر میں نے شہباز شریف صاحب سے سوال کیا کہ اب اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ کمپیوٹرائزڈ نظام بستے سے کمپیوٹر کا سفر طے کر کے جدید پٹوار کے نظام میں نہیں ڈھلے گا؟ اس بات کی گارنٹی کون دے گا کہ کمپیوٹر پٹواری کا بستہ نہیں بنے گا؟ اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ یہ جدید کمپیوٹرائزڈ اراضی سنٹر بھی پٹوار خانہ نہیں بنے گا؟ اور کمپیوٹر پر بیٹھا ہوا افسر پٹواری نہیں بنے گا۔ پٹواری دراصل ایک ذہنیت کا نام ہے اور اسکے بستے میں موجود ریکارڈ اس کی طاقت اور اختیار کا مرکز ہے۔ اگر کمپیوٹر بھی پٹواری کا بستہ بن گیا تو پھر کیا ہو گا؟
تمام شرکائے محفل نے میرے سوالات سے لطف بھی لیا اور ان کی تائید بھی کی۔ آج اس بات کو بارہ‘ تیرہ برس بیت گئے ہیں اور اس دوران پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی کمپیوٹرائزڈ اراضی مراکز بن گئے۔ ملتان میں بھی بہت سے موضعات کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو چکا ہے۔ معاملات دستی کاغذات سے نکل کر آن لائن تک جا پہنچے ہیں اور پٹواری کے بستے نے جمپ لگا کر کمپیوٹر میں ڈیرہ ڈال لیا ہے۔ لیکن عملی طور پر وہی ہوا ہے جس کا مجھے خوف تھا۔ کمپیوٹر پٹواری کا بستہ بن گیا ہے‘ کمپیوٹر آپریٹر پٹواری بن گیا اور سب رجسٹرار کچھ کیے بغیر ساری تحصیل کا مالکِ کُل بن گیا۔ کام دستخطوں سے نکل کر لاگ اِن اور پاس ورڈ تک پہنچ گیا ہے۔ کم از کم پٹواری دستخط تو خود کرتا تھا‘ ادھر یہ ہوا کہ رجسٹرار وغیرہ نے اپنے لاگ اِن نیم اور پاس ورڈز آگے ٹھیکے پر چلانے شروع کر دیے۔ دستخط کی مجبوری ختم ہوئی اور دھندے نے ڈیجیٹل زمانے میں اپنے پاؤں ایسے پھیلائے ہیں کہ پٹواری اس سارے دھندے کے سامنے حاجی ثنااللہ ثابت ہوا ہے اور کمپیوٹر پٹواری کے بستے کا باپ نکلا ہے۔
ویسے تو ملک بھر میں ہی زمین سے متعلقہ ریکارڈ لینے میں مشکلات نے صرف شکل تبدیل کی ہے‘ ختم نہیں ہوئیں۔ لیکن ملتان میں تو اس سلسلے میں پنجابی لفظ کے مطابق ''اَنی‘‘ مچی ہوئی تھی۔ ایک دو افسروں کو اس سلسلے میں عرض بھی کی مگر کوئی اس مافیا کو لگام ڈالنے کیلئے نہ تو ہامی بھرتا تھا اور نہ ہی ہمت کرتا تھا۔ سارا نظام اسی ظالمانہ اور رشوت خورانہ انداز میں جاری ہے۔ عوام کو صرف ایک فائدہ ہوا ہے اور وہ یہ کہ اب کمپیوٹر کی وجہ سے فروخت کنندہ کی تصویر وغیرہ کی وجہ سے جعلسازی ضرور کچھ کم ہوئی ہے لیکن رشوت ستانی بھی اسی طرح جاری ہے اور اس سے بڑھ کر سرکاری فیسوں کو غتر بود کرنا اور رشوت کے عوض سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ نہ صرف پہلے جیسا بلکہ میرے خیال میں پرانے پٹواری والے نظام سے بھی کہیں زیادہ منظم طریقے سے اور وسیع پیمانے پر سرکار کو چونا لگا رہا ہے۔
ادھر ملتان میں تو یہ ہوا کہ ایک پورا مافیا وجود میں آ گیا۔ اس مافیا کا سربراہ ڈپٹی کمشنر آفس کے چپڑاسی کا بیٹا تھا۔ پٹواری تو صرف اپنے حلقہ ٔپٹوار میں اپنی حاکمیت کا مظاہرہ کرتا تھا‘ اس مافیا نے ملتان سٹی تحصیل کا سارا نظام اپنے ہاتھ میں لے لیا اور سب رجسٹرار سے مک مکا کرکے اس کا لاگ اِن نیم اور پاس ورڈ بھی اپنے قبضہ قدرت میں کر لیا۔ سب رجسٹرار اپنے اختیارات اپنے خیال میں ایک بندے کو دے کر اور اس سے مالی و دیگر سہولتوں کی شکل مزید فوائد حاصل کرکے خوش تھا کہ اس نے اپنے ڈیجیٹل اختیار میں ایک شخص کو شامل کر کے جہاں اپنے لیے مالی آسانیاں حاصل کی ہے وہیں اپنے سرکاری کام کا بوجھ بھی بانٹ دیا ہے۔ اس کے مزے ہیں کہ وہ ٹانگ پر ٹانگ دھرے مزے سے سارا دن موبائل فون سے کھیلتا ہے اور سگریٹ کے کش لگاتا ہے جبکہ اس کے کام کی ساری مشقت اس چپڑاسی زادے نے سنبھال رکھی ہے۔ لیکن یہ اس کی خوش فہمی تھی کہ اس کا لاگ اِن نیم اور پاس ورڈ صرف اسی ایک شخص کے پاس ہے۔ اس چپڑاسی زادے نے آگے سے درجن بھر سے زائد وثیقہ نویسوں کو یہ لاگ اِن نیم اور پاس ورڈ فروخت کر رکھا تھا۔ یعنی ملتان شہر میں بیک وقت ڈیڑھ دو درجن سب رجسٹرار اپنے اپنے علاقوں میں لوگوں کو رجسٹری کی سہولت فراہم کر رہے تھے۔ یہ معاملہ صرف کسی ایک سب رجسٹرار کا نہ تھا۔ ہر نیا آنیوالا سب رجسٹرار اسی رنگ میں رنگ جاتا تھا۔ مافیا نے ہر آنیوالے سب رجسٹرار کو گھیرنے کیلئے آئی فون‘ گاڑی‘ کسی پوش ہاؤسنگ کالونی میں گھر اور ماہانہ موٹی رقم کا بندوبست کیا ہوتا تھا اور ہر نیا آنے والا اس جال میں پھنس جاتا تھا۔ سب رجسٹرارز کا بھلا قصور بھی کیا ہے؟ سارا نظام تقریباً اسی طرح چل رہا ہے اور اوپر سے نیچے تک لوگوں نے اسے قبول بھی کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں انتظامی افسروں نے بھی اپنی سہولت کے مطابق خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ویسے بھی بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا کون سی آسان بات ہے۔ سو سارا نظام نہایت سکون‘ بھائی چارے‘ چشم پوشی اور خاموشی سے چل رہا تھا۔ (جاری)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved