تحریک انصاف کب تک احتجاج کے نام پر گناہِ بے لذت کا ارتکاب کرتی رہے گی؟ کیا اس کی صفوں میں کوئی رجلِ رشید باقی ہے؟
سیاسی جماعتوں کا ایک بھرم ہوتا ہے۔ جب تک یہ برقرار رہتا ہے ان کا رعب باقی رہتا ہے۔ ریاست اور سیاسی حریف ان کا وزن محسوس کرتے ہیں۔ قیادت صاحبانِ بصیرت کے پاس ہو تو وہ اس بھرم کی حفاظت کرتے ہیں۔ اسی بھرم کے باعث بعض اوقات آپ جثے سے زیادہ حصہ وصول کر لیتے ہیں۔ اور اگر یہ بھرم کھل جائے تو پھر سر بازار رسوائی سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ میں دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔
جمعیت علمائے اسلام نے اپوزیشن ہو یا اقتدار‘ ہمیشہ اپنے جثے سے زیادہ وصول کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی سیاسی بصیرت اور توانائی کے باوجود ہم جانتے ہیں کہ اس کی سیاسی فتوحات کا دائرہ دیوبندی مسلک تک ہی محدود رہا ہے۔ سیاسیات کے ایک طالب علم کے طور پر میرا تاثر ہے کہ معاصر اہلِ سیاست میں ان سے بہتر سیاست کو کوئی سمجھتا ہے اور نہ قدرتِ کلام رکھتا ہے۔ اس کے باوصف جمعیت کبھی قومی جماعت نہیں بن سکی۔ مولانا کو یہ بات معلوم ہے کہ ان کی طاقت ہی ان کے پاؤں کی بیڑی بھی ہے۔ مولانا نے دیو بندی مدارس کو بنیاد بنا کر اپنی سیاسی قوت کا ایک بھرم قائم کیا۔ انہوں نے یہ تاثر دیا کہ وہ بڑے اجتماعات کر سکتے ہیں اور لوگوں کی بڑی تعداد کو متحرک کر سکتے ہیں۔ اس تاثر کے باعث وہ اربابِ اقتدار اور مقتدرہ کے حلیف بنے تو ان کے سیاسی فوائد ان کی پارلیمانی قوت سے کہیں بڑھ کر تھے۔ اور اگر وہ اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ ملے تو انہیں قائد مان لیا گیا۔ جب مولانا اپنی باگ جذبات کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں تو اس بھرم کے پرت کھلنے لگتے ہیں‘ وہ مگر خود کو سنبھال لیتے ہیں۔ اپنی دستار گرنے نہیں دیتے۔
دوسری مثال جماعت اسلامی کی ہے۔ جماعت کا یہ بھرم رہا ہے کہ ہر حلقۂ انتخاب میں اس کے پاس اتنے ووٹ ہیں کہ وہ نتائج کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ وہ خود تو اقتدار تک نہیں پہنچ سکتی لیکن اگر وہ کسی جماعت کے ساتھ اتحاد کر لے تو چالیس‘ پچاس نشستوں کا فرق ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے نواز شریف صاحب نے جماعت اسلامی کو بہت اہمیت دی۔ محترم قاضی حسین احمد مرحوم نے اس بھرم کو ختم کر دیا جب پاکستان اسلامک فرنٹ کے نام پر تنہا پرواز کی۔ میں اصولی طور پر اسے ایک درست اقدام سمجھتا ہوں مگر اس کے لیے وقت کا انتخاب درست ثابت نہیں ہوا۔ 1993ء کے انتخابی نتائج سامنے آئے تو جماعت کا یہ بھرم ختم ہو گیا۔ وہ دن گیا اور آج کا دن آیا‘ جماعت انتخابی سیاست کی زمین پر قدم نہیں رکھ سکی۔ کراچی کا ایک استثنا ہے اور یہ 1970ء سے ہے۔ اس کا جماعت کی عمومی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
عمران خان صاحب نے نئی نسل میں ایک ہیجان پیدا کیا۔ بڑے بڑے اجتماعات ہوئے اور ان کی مقبولیت ملک بھر میں پھیل گئی۔ یہ ایک بھرم تھا جو تحریک انصاف کی بڑی قوت تھی۔ اس سے یہ تاثر قائم ہوا کہ خان صاحب جب چاہیں پاکستان کی سیاست کا رخ بدل سکتے ہیں۔ اقتدار تو ان کے لیے اب بے معنی شے ہے۔ وہ تو انقلاب بر پا کر دیں گے۔ اس بھرم نے ان کے سیاسی مخالفین کو خوف میں مبتلا کر دیا اور وہ پرانی عداوتیں بھلا کر ان کے خلاف یکجان ہو گئے۔ مقتدرہ بھی ان کے قریب ہو گئی اور وہ بھی بادلِ نخواستہ مقتدرہ کی پناہ میں چلے گئے۔
اس بھرم کو باقی رکھا جاتا تو عمران خان سیاست پر چھائے رہتے اور من پسند نتائج حاصل کر لیتے۔ انہوں نے اس بھرم کو توڑنے کا ارادہ کر لیا۔ یہ اب کوئی راز نہیں رہا کہ حکومت مئی2022ء میں نئے انتخابات کا ارادہ کر چکی تھی اور اس اعلان کے لیے شہباز شریف صاحب کی تقریر بھی تیار ہو چکی تھی۔ خان صاحب کو شاہ محمود قریشی صاحب کی معرفت یہ بتا دیا گیا تھا۔ انہوں نے مگر یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنی عوامی قوت کے زور پر انتخابات کروائیں گے۔ وہ جلوس لے کر اسلام آباد پر چڑھ دوڑے۔ اس بھرم کا پہلا پردہ اس وقت چاک ہوا جب انہیں نامراد لوٹنا پڑا۔ اس کے باوصف وہ مُصر رہے کہ انہوں نے رہا سہا بھرم بھی ختم کرنا ہے اور نادر شاہ کی طرح اسلام آباد پر کم ازکم سترہ بار یلغار کرنی ہے۔ ہر مقصد سیاسی بصیرت اور سیاسی طریقے سے نہیں احتجاج اور زور سے حاصل کرنا ہے۔ اس طرح اس بھرم کے تمام پردے چاک ہوتے گئے۔ یہ شاید آخری تھا جو آٹھ فروری کو چاک ہوا اور جس کی دھجیاں اس وقت فضا میں بکھری ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔
تحریک انصاف کے راہنماؤں نے احتجاجی سیاست کی ناکامی پر جو مؤقف اختیار کیا‘ وہ مضحکہ خیز ہے۔ سلمان راجہ صاحب ایک پڑھے لکھے قانون دان ہیں۔ سماجی علوم سے واقف ہیں اور قدرتِ کلام بھی رکھتے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ احتجاج کا کیا ہوا؟ فرمایا: 'ہم نے سات بجے کے بعد ریلی رکھی ہوئی ہے‘۔ کیا ان کو بتانے کی ضرورت ہے کہ آج کل دن چھ بجے سے پہلے تمام ہو جاتا ہے؟ دن بھر انہوں نے کیا کیا؟ یہ اس جماعت کے سب سے معقول آدمی کا استدلال ہے۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا۔ سادہ لفظوں میں اس ناکامی کا کسی کے پاس کوئی جواز نہیں۔ کیا آٹھ فروری کے بعد کوئی حکومت ان سے ڈرے گی؟ کیا کمزور سے کمزور حکومت بھی ان کی شرائط پر ان سے معاملہ کرے گی؟ ریاست تو بڑی شے ہے‘ اس کو کیا حاجت کہ خان صاحب کی منتیں کرے؟
اگر تحریک انصاف میں کوئی رجلِ رشید باقی ہے تو اسے ان سوالات پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ تحریک انصاف نے اپنا یہ بھرم توڑ دیا کہ وہ احتجاج کے زور پر حکومت یا ریاست سے کوئی مطالبہ منوا سکتی ہے۔ دوسری طرف مریم نواز صاحبہ کی کارکردگی ان کے لیے ایک دوسرا چیلنج ہے جو دن بدن بڑا ہوتا جا رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے لوگ بھی اگر احتجاج سے لاتعلق رہے تو انہوں نے صوبائی حکومت کو ایک خاموش پیغام دے دیا ہے۔ چند دنوں بعد وہ بہ آوازِ بلند کارکردگی کا مطالبہ کریں گے۔ سیاسی حکمتِ عملی اور سیاسی بصیرت کے بغیر تحریک انصاف ان چیلنجوں کا سامنا کیسے کر سکے گی؟ یہ سوال مگر اسی وقت قابلِ غور ہو گا جب کوئی سیاسی ذہن فیصلہ سازی کی مسند پر بیٹھے گا اور یہ جماعت وی لاگرز کے شکنجے سے باہر آئے گی جو مدت سے سراب کو دریا بتا رہے ہیں اور مسلسل دروغ گوئی کو کاروبار بنائے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف آج بھی ایک بڑی انتخابی قوت ہے۔ اگر احتجاجی سیاست پر اصرار جاری رہا تو میرا احساس ہے کہ اس کی انتخابی قوت کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔
تحریک انصاف کو سوچنا ہے کہ آٹھ فروری کے بعد وہ کہاں کھڑی ہے۔ اس نے پیش قدمی کی ہے یا وہ ترقیٔ معکوس کا شکار ہے؟ خان صاحب کی رہائی کے امکانات بڑھے ہیں یا کم ہوئے ہیں؟ اس کی منزل دور ہوئی ہے یا قریب آئی ہے؟ سیاست کی خصوصیت یہی ہے کہ وہ بند گلی میں بھی راستے نکالتی ہے۔ جو سیاسی جماعت کو بند گلی میں لے جائے‘ وہ سیاست نہیں‘ کچھ اور شے ہے۔ جو حکمتِ عملی آپ کا بھرم ختم کر دے‘ وہ ناکام ہوتی ہے۔ تحریک انصاف اگر یہ مان لے کہ خان صاحب سے پہلے بھی انسانی تاریخ نے ارتقا کے کچھ مراحل طے کیے ہیں تو یہ بات ان کے لیے سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ تاریخ سب کے لیے ایک عبرت کدہ ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved