تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     13-02-2026

نواز شریف سے عمران خان تک

عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ نے ان کے حامیوں کو اسی طرح ڈسٹرب کر دیا ہے جیسے کبھی میاں نواز شریف کے حامی ہوئے تھے جب انہیں پتا چلا تھا کہ میاں صاحب کی میڈیکل رپورٹس ٹھیک نہیں آئیں۔ نواز شریف کی بیماری کے حوالے سے عمران خان حکومت کے لیت و لعل پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج نے خبردار کیا تھا کہ اگر کل کلاں میاں نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔ پی ٹی آئی حکومت نواز شریف سے بیرونِ ملک علاج کیلئے جانے کی اجازت دینے پر پانچ ارب روپے کی بینک گارنٹی مانگ رہی تھی لیکن عدالت نے پچاس روپے کے سٹامپ پیپر پر شہباز شریف کی ذاتی ضمانت پر نواز شریف کو چار ہفتوں کے لیے علاج کے لیے لندن جانے کی اجازت دے دی۔ عمران خان کو اُس وقت جھٹکا لگا جب میاں نواز شریف خود جہاز کی سیڑھیاں چڑھ کر اس میں سوار ہوئے۔ شاید وہ سمجھ رہے تھے کہ نواز شریف کی حالت اتنی خراب ہے کہ انہیں ہسپتال سے سٹریچر پر ڈال کر جہاز میں سوار کیا جائے گا لیکن نواز شریف بھی چار دہائیوں سے سیاست میں ہیں‘ انہیں علم تھا کہ اگر سٹریچر پر سے ان کی تصویریں یا وڈیوز بن گئیں تو مخالفین ساری عمر یہ تصویریں دکھا کر طنز کے تیر چلاتے رہیں گے۔ اگرچہ بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ عمران خان کو سب کچھ معلوم تھا کہ کیا بات چیت اور انتظامات طے ہوئے تھے لیکن اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کو دکھانے کیلئے جعلی حیرانی دکھانا ضروری تھا تاکہ یوں لگے کہ نواز شریف اور انکے ضامنوں نے خان کی معصومیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ وہ بار بار یہی دہراتے رہے کہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا تھا کہ نواز شریف کی طبیعت بہت خراب ہے۔ اگرچہ اس وقت سب ڈر گئے تھے کہ اگر نواز شریف کو جیل میں کچھ ہو گیا تو سب کا وہی حشر ہو گا جو بھٹو صاحب کا ہوا تھا۔ یوں عمران خان کے علاوہ جنرل باجوہ‘ جنرل فیض اور دیگر اہم لوگ وہ بھاری پتھر اٹھانے کو تیار نہ تھے کہ اگر کچھ ہو گیا تو ساری عمر اُن پر یہ کیس چلتا رہے گا۔ ان کی سمجھداری کہیں یا خوف یا پھر شریف فیملی اور جنرل باجوہ کی تین سالہ مدتِ ملازمت میں توسیع کے بدلے ڈیل کہیں‘ بہرحال نواز شریف لندن پہنچ گئے اور پھر اس وقت تک پاکستان واپس نہ آئے جب تک ان کی مرضی کے مطابق سب معاملات طے نہ ہو گئے۔
اب اس تناظر میں جب لوگوں کو یہ پتا چلا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کی خیریت جاننے کیلئے جو وکیل بھیجا اس نے خان صاحب سے ملاقات کے بعد جو رپورٹ جمع کرائی ہے اس میں سب سے پریشان کن بات ان کی بینائی کے بارے ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ جیل حکام کو مسلسل بتاتے رہے لیکن کسی نے سیریس نہیں لیا۔ چند روز پہلے یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ عمران خان کو پمز لایا گیا جہاں ان کا بیس منٹ کا پروسیجر ہوا۔ اس دوران یہ باتیں بھی ہونے لگیں کہ شاید حکومت عمران خان کو بنی گالا شفٹ کرنے کا سوچ رہی ہے اور اس کیلئے ماحول بنایا جا رہا ہے۔ اگر عمران خان کو بنی گالا شفٹ کیا جاتا ہے اور ان کی ملاقاتوں پر ویسی پابندی رہتی ہے جیسے اس وقت جیل میں ہے تو شاید وہ دباؤ بڑی حد تک حکومت یا مقتدرہ پر سے کم ہو جائے جس کا اس وقت انہیں سامنا ہے۔ عمران خان کے حامی بھی مطمئن رہیں گے کہ خان صاحب اپنے گھر میں ہیں جیل میں نہیں۔ اس طرح عالمی برادری کو بھی یہ تاثر دیا جا سکتا ہے کہ عمران خان اپنے گھر پر ہیں لیکن سزا کی وجہ سے وہ کسی سے مل نہیں سکتے‘ نہ ہی باہر جا سکتے ہیں۔ یہ عمران خان اور مقتدرہ دونوں کی جیت ہو گی۔ عمران خان کہہ سکیں گے کہ میں نے نواز شریف کی طرح ملک سے باہر جانے کیلئے کوئی ڈیل نہیں کی۔ دوسری طرف مقتدرہ کو کسی حد تک وہ سیاسی سکون میسر آ سکتا ہے جس کی وہ تین چار سال سے تلاش میں ہے۔ لیکن اس دوران جو حیران کن نظارے پارلیمنٹ میں دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ میرا پی ٹی آئی ارکان سے رابطہ رہتا ہے۔ وہ عمران خان کے فیصلوں سے بہت نالاں ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ عمران خان اس وقت اپنے جن قریبی لوگوں کے نرغے میں ہیں وہ ان تک پوری بات نہیں پہنچا رہے۔ خان صاحب خود جیل میں بیٹھے ہیں اور انکی رسائی ایک محدود طبقے تک ہے‘ وہ طبقہ خان کے کان میں جو بات ڈال دیتا ہے وہ وہی کرتے ہیں اور یوں پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو عمران خان تک رسائی ملتی رہی ہے وہ سب غیر منتخب بلکہ یوں کہہ لیں کہ بڑی حد تک غیرسیاسی ذہن اور سوچ کے لوگ ہیں۔ ان اراکین کا واضح اشارہ عمران خان کی بہنوں اور سلمان اکرم راجہ کی طرف ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگ جو پارلیمنٹ نہیں پہنچ سکے انہوں نے پارٹی ایم این ایز کے خلاف محاذ بنا رکھا ہے اور عمران خان کو انکی وفاداری کے بارے میں مشکوک کرتے رہے ہیں۔ اس کی وہ چند مثالیں بھی دیتے ہیں۔ سینیٹر بیرسٹر علی ظفر پہلے کہہ چکے ہیں کہ عمران خان کا قائمہ کمیٹیوں کا بائیکاٹ کا فیصلہ غلط ہے۔ اگر ان کی خان سے ملاقات ہوئی تو وہ انہیں راضی کرنے کی کوشش کریں گے کہ بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لیں۔ پارٹی کا کوئی ایم این اے یا سینیٹر عمران خان کے اس فیصلے سے خوش نہیں کہ کمیٹیوں کا بائیکاٹ کرا دیا اور انہیں فی اجلاس جو الاؤنس ملتا تھا وہ بند ہو گیا۔ پی ٹی آئی کے وہ ممبران جو کمیٹیوں کے چیئرمین تھے انہیں گاڑی‘ مفت پٹرول اور ڈرائیور ملا ہوا تھا وہ بھی واپس لے لیا گیا۔ اب وہ سب ناخوش ہیں اور ان کی اداسی آپ کو ایوان میں نظر آتی ہے کہ گزشتہ روز کسی نے عمران خان کی میڈیکل رپورٹ کا ذکر تک نہیں کیا۔ اس طرح سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز دوسری سیاسی پارٹیوں سے بنوائے گئے۔ اس پر بھی وہ سب ناخوش ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ عمران خان کو ان پر اعتبار نہیں ہے۔ خان صاحب محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو زیادہ قابلِ بھروسہ سمجھتے ہیں‘ اپنے پارٹی لیڈروں کو نہیں۔
میں نے پچھلے دنوں پارلیمانی اجلاس میں وہ مناظر دیکھے کہ کیسے اچکزئی صاحب ایک سائیڈ پر ہیں اور پی ٹی آئی اراکین دوسری سائیڈ پر۔ پی ٹی آئی کے اکثر ارکان ان کی فلاسفی سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مقتدرہ کے خلاف انکی سخت پالیسوں کی وجہ سے نواز شریف‘ شہباز شریف اور آصف علی زرداری کو موقع ملا کہ وہ اقتدار حاصل کر لیں۔ ان سب کی کوشش تھی کہ کسی طرح اداروں اور پی ٹی آئی میں دوریاں کم ہوں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ان سب کی کوششیں ناکام کرنے میں جہاں عمران خان کی بہنوں کے سخت بیانات کا حصہ ہے وہیں سوشل میڈیا اور یوٹیوبرز نے انہیں نقصان پہنچایا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پی ٹی آئی ارکان کو اب کوئی راستہ نہیں مل رہا کہ وہ کدھر جائیں۔ ایک طرف ان سب پر عمران خان کے کی بورڈ واریئرز کا دباؤ ہے تو دوسری طرف زمینی حقائق ہیں۔ وہ درمیان میں پس کر رہ گئے ہیں۔ جنید اکبر کا پھٹ پڑنا کوئی اتفاق نہیں بلکہ وہ دباؤ ہے جس کا سامنا ان جیسے سب پی ٹی آئی ارکان کررہے ہیں۔ بیشتر کو دس دس سال سزائیں ہو گئی ہیں تو باقیوں پر خطرناک مقدمے درج ہو چکے۔ اب بھی پارلیمنٹ سے باہر بیٹھے نان الیکٹڈ لیڈران انہیں ایجنٹ‘ ٹاؤٹ‘ مخبر یا جاسوس سمجھتے ہیں۔ چھ ارکان کو تو عمران خان کا نام لے کر غدار تک ڈکلیئر کر دیا گیا تھا۔ اب اگر جنید اکبر جیسے لوگ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ اچکزئی یا پی ٹی آئی ایم این ایز کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تو اندازہ کر لیں بات کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ شاید اس لیے جب پورے پاکستان میں عمران خان کی میڈیکل رپورٹ کا رولا پڑا ہوا تھا عین اسی وقت اسمبلی میں ہونے والے دو گھنٹے اجلاس میں پی ٹی آئی کے کسی ایم این اے اور محمود اچکزئی تک کسی نے احتجاج چھوڑیں‘ اس رپورٹ کا ذکر تک نہیں کیا۔ آگے آپ سب سمجھدار ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے سب تھک گئے ہیں یا خان نے انہیں تھکا دیا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved