امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات کا دوسرا دور اگلے ہفتے ہو سکتا ہے مگر ساتھ ہی انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے تین مطالبات تسلیم نہ کیے تو امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے اور یہ حملہ گزشتہ حملوں سے زیادہ بھاری اور تباہ کن ہو گا۔ اس کے لیے امریکی صدر نے ایران کی طرف ایک اور طیارہ بردار جہاز روانہ کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران میں وینزویلا کی طرز پر کارروائی ہو سکتی ہے اور اس کیلئے امریکی افواج تیار کھڑی ہیں۔ بہت سے لوگوں کی رائے ہے کہ صدر ٹرمپ کی یہ دھمکیاں دراصل ایران کو اپنی شرائط پر معاہدہ کرنے پر مجبور کرنے کیلئے ہیں۔ امریکی شرائط کی اگر بات کریں تو شرائط یہ ہیں: ایران یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو ترک کر دے‘ حزب اللہ‘ حماس اور خطے میں دوسرے گروپوں مثلاً یمن کے حوثی قبائل کی امداد سے ہاتھ روک لے اور اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیوں کو قبول کرے مگر ایران نے مذاکرات سے قبل ہی واضح کر دیا تھا کہ بات چیت صرف ایٹمی پروگرام پر ہو گی‘ دیگر مطالبات تسلیم نہیں کیے جائیں گے کیونکہ انکا تعلق ایران کے دفاع اور نہ ہی اقتدار اعلیٰ سے ہے۔ دیکھا جائے تو ایران کے اس بیان کے بعد مذاکرات کا مستقبل خطرے میں نظر آتا ہے۔
ایران نے ترکیہ کے شہر استنبول کے بجائے عمان کے دارالحکومت مسقط میں مذاکراتی راؤنڈ کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔ جمعہ 6 فروری کو عمان ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات ہوئے اور اس پیشرفت کو نہ صرف خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا خصوصاً پاکستان کے امن‘ سلامتی اور استحکام کے لیے نیک شگون تصور کیا گیا کیونکہ مذاکرات نہ ہونے کی صورت میں ایران پر امریکہ کے ایک اور حملے کو تقریباً یقینی سمجھا جا رہا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات کے مطابق امریکہ کا ساتواں بحری بیڑہ اپنے طیارہ بردار جہاز ''ابراہم لنکن‘‘ اپنے اٹیک ہیلی کاپٹرز اور بمبار طیاروں کے ساتھ خلیج فارس یعنی ایران پر حملے کی پوزیشن کی طرف بڑھ رہا تھا۔ امریکی صدر کے غیر مبہم بیانات کی روشنی میں خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ امریکہ نہ صرف ایران پر حملہ کر دے گا بلکہ اس دفعہ جو حملہ ہو گا وہ گزشتہ برس جون میں کیے گئے حملے سے کہیں زیادہ بڑا ہو گا۔ خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ کے خطوں میں امریکہ کا پانچواں بحری بیڑہ موجود ہے اور دونوں خطوں میں ایک درجن سے زیادہ فوجی اڈوں پر امریکی بحری‘ برّی اور فضائی افواج کے تقریباً 40 ہزار اہلکار موجود ہیں۔ ایسے میں مشرقِ بعید اور جنوب مشرقی ایشیا کے دفاع اور سکیورٹی پر مامور ساتویں بحری بیڑے کی اس کے طیارہ بردار جہاز‘ آبدوزوں اور دیگر جنگی جہازوں کے ساتھ خلیج فارس کی طرف روانگی ایک نئے تباہ کن حملے کے امکان سے خالی نہیں تھی۔ مبصرین کے مطابق امریکہ نے اس سے قبل خلیج فارس کے اردگرد سمندروں میں اتنی بڑی تعداد میں بحری قوت جمع نہیں کی تھی تاہم ایران کی طرف سے مذاکرات پر آمادگی نے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس مثبت اقدام کے پیچھے پاکستان‘ ترکیے اور سعودی عرب سمیت آٹھ مسلم ممالک کی پس پردہ کوششوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دباؤ کے تحت امریکی صدر ایران پر حملے کی مکمل تیاری کر چکے تھے لیکن مسلم ممالک نے امریکہ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ مذاکرات کے ذریعے ایران کو ایک اور موقع دیا جائے۔ مشرقِ وسطیٰ خصوصاً ایران اور امریکہ کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کی طرف سے خود اعتمادی کے اظہار اور امریکی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے سے حیران ہیں۔ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ حماس اور حزب اللہ کی ٹاپ لیڈر شپ کا قلع قمع کرنے اور جون میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایرن کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے بعد ایران کی مزاحمتی قوت ختم ہو چکی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ کی انتہائی سخت اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت کا بھرکس نکل چکا ہے اور حال ہی میں تہران اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں مہنگائی‘ بیروزگاری اور کرنسی کی گرتی ہوئی قیمت کیخلاف خونریز ہنگاموں نے ایران حکومت کو اندر سے بہت کمزور کر دیا ہے۔ مگر ایران کے اس اعلان کہ وہ مذاکرات اور جنگ دونوں کیلئے تیار ہے‘ نے امریکہ کو حیران کر دیا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے اس بیان کو پوری سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے کہ اس دفعہ امریکی حملے کے نتیجے میں جنگ ایران تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آئیگا۔ اس بیان کا ثبوت یہ ہے کہ خلیج فارس کے ممالک خصوصاً قطر اور سعودی عرب ایران اور امریکی حملے کو روکنے اور بات چیت کے ذریعے جوہری مسئلے کا حل ڈھونڈنے کیلئے پہلے سے زیادہ مستعد ہیں۔
حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کرنے کیلئے واشنگٹن کا دورہ کیا۔ گزشتہ سال جنوری میں صدر ٹرمپ کے حلف اٹھانے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کا یہ چھٹا دورہ تھا مگر اس دفعہ نیتن یاہو کا پہلے جیسے جوش کے ساتھ استقبال نہیں کیا گیا۔ امریکی ذرائع ابلاغ اور وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال جون کے برعکس ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کا اسرائیلی مشورہ قبول نہیں کیا اور اسرائیلی وزیراعظم کو صاف بتا دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے ان کی ترجیح مذاکرات کے ذریعے ڈیل کا حصول ہے‘ وہ ایران کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خلیج فارس کے گرد ونواح میں غیر معمولی بحری‘ بری اور فضائی حملوں کے خدشے اور ٹرمپ کی آئے دن کی دھمکیوں کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکرات کے موجودہ سلسلے کے تعطل اور امریکی حملے کا امکان کم ہے۔ زیادہ امکانات اس بات کے ہیں کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ جاری رہے گا مگر فریقین کو کسی ڈیل پر پہنچنے کے لیے اپنے اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرنا ہو گی۔ ایران نے تو اشارہ دے دیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کے مسئلے پر لچک دکھانے کیلئے تیار ہے۔ اگر ہم ایران کے سکیورٹی امور کے انچارج علی لاریجانی کے اس بیان کو سامنے رکھیں کہ جوہری مسئلے پر ایران اور صدر ٹرمپ کے مؤقف میں کئی امور پر یکساں سوچ پائی جاتی ہے‘ تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ناکامی کے مقابلے میں مذاکرات کے موجودہ سلسلے کی کامیابی کے امکانات اگر زیادہ نہیں تو برابر ضرور ہیں۔ ایک سال قبل ایسی صورتحال نہیں تھی۔ تب ٹرمپ کی سوچ پر نیتن یاہو کا اثر زیادہ تھا۔ امریکہ کو اپنی طاقت کا زعم تھا لیکن ایرانی قیادت کی طرف سے مدافعتی قوت کے مظاہرے نے امریکی غرور کو خاک میں ملا دیا۔ اس کے علاوہ صدرٹرمپ پر اب نیتن یاہو کا دباؤ بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ دنیا بھر میں اور خود امریکہ کے اندر‘ غزہ میں اسرائیلی بربریت کیخلاف وسیع احتجاجی مظاہروں اور صہیونی ریاست کے اقدامات کی مذمت ہے۔ البتہ یہ مذاکرات غیر معینہ عرصے تک جاری نہیں رہ سکتے۔ ایران اور نہ ہی ٹرمپ کے لیے یہ صورتحال قابلِ قبول ہے۔ ایران کے لیے اقتصادی پابندیوں کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ یورینیم کی افزودگی پر کسی رعایت کو اقتصادی پابندیوں کے مکمل خاتمے سے مشروط کر رہا ہے۔ ادھر صدر ٹرمپ پر اسرائیل کے علاوہ امریکہ کے اندرونی حالات کا دباؤ ہے‘ جن میں امیگریشن پالیسی کے خلاف احتجاج‘ ٹیرف کی وجہ سے اتحادیوں کی ناراضی بھی شامل ہے۔ خلیج فارس کے اردگرد فوجی قوت کے اجتماع کے باوجود ایران کے سا تھ امریکی شرائط پر ڈیل کے حصول میں ناکامی صدر ٹرمپ کو ایک دفعہ پھر ایران پر حملے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اور یہ بات طے ہے کہ اس بار یہ حملہ نہ صرف زیادہ وسیع اور بڑا ہوگا بلکہ غیر متوقع نتائج کا بھی حامل ہو سکتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved