میرے اور جیدی میاں کے درمیان مضبوط تعلق کی بنیادی وجہ ہمارے محسن و مربی اور روحانی پیشوا پروفیسر رحمت علی المعروف بابا جی سے گہری عقیدت مندی ہے۔ چونکہ کافی عرصہ سے علالت کے باعث بابا جی تک فون پر براہِ راست رسائی ممکن نہیں رہی تو ان کی خیرو عافیت سے آگاہی کا سب سے مؤثر ذریعہ جیدی میاں ہی ہیں۔ لہٰذا کافی دنوں بعد اسی غرض سے کل جیدی میاں سے فون پر گفتگو ہوئی تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں اب سردی کا زور ٹوٹ چکا ہے اور موسم تیزی سے بدل رہا ہے لہٰذا بابا جی کی صحت میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور ان کے سانس کے مسائل میں خاصا افاقہ ہوا ہے۔
ابتدائی خیر سگالی کلمات کے بعد جیدی میاں نے میری توجہ نیپرا کے حالیہ نوٹیفکیشن کی طرف مبذول کرائی جس میں سولر پاور کے صارفین پر بجلیاں گرائی گئی تھیں اور نیٹ میٹرنگ پالیسی کے مروجہ نظام کو بیک جنبشِ قلم ختم کرکے اس کی جگہ نیٹ بلنگ کا نیا سسٹم متعارف کرایا گیا۔ اس نئے قانون کے نتیجے میں سولر صارفین سے نیشنل گرڈ میں شامل ہونے والے ایک یونٹ کے بدلے میں ایک یونٹ کا پرانا اصول ختم کرکے اب سولر صارفین سے لیے گئے کم و بیش پانچ یونٹس کے عوض ایک یونٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں شمسی توانائی سے حاصل کی گئی بجلی نیپرا 26 روپے کے بجائے اب صرف دس سے گیارہ روپے فی یونٹ خرید کر سولر صارفین کو بجلی‘ جسے حکومت آئی پی پیز سے مہنگے داموں خریدنے کی پابند ہے‘ 40سے 60روپے فی یونٹ فروخت کرے گی۔ جیدی میاں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک وطنِ عزیز میں لگ بھگ چھ ہزار میگاواٹ بجلی سولر سسٹم سے پیدا کرکے نیشنل گرڈ میں شامل کی جا چکی ہے جبکہ لاکھوں چھوٹے صارفین بارہ سے چودہ ہزار میگاواٹ بجلی سولر پینلز سے پیدا کرکے اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو گئے ہیں اور انہیں نیٹ میٹرنگ کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ انہوں نے اپنی مطلوبہ ضرورت کے مطابق ہی محدود پیمانے پر سولر پینل نصب کیے ہیں اور ان کے پاس نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کیلئے اضافی بجلی نہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت چار لاکھ 60 ہزار سولر صارفین نیٹ میٹرنگ پالیسی سے منسلک ہیں جبکہ ملک میں بجلی کے کل صارفین کی تعداد تین کروڑ 50 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کم و بیش 32 ہزار میگا واٹ کے سولر پینل ملک میں درآمد کر لیے گئے ہیں اور اگر نیپرا کے ذریعے نیٹ میٹرنگ پالیسی کے مروجہ نظام کو ختم نہ کیا جاتا تو اگلے چند برسوں میں پاکستان میں بجلی کی کل کھپت میں سے ستر سے اسی فیصد کا بوجھ شمسی توانائی پر منتقل ہو جانا تھا اور یوں پاکستان کی اکثریت آبادی واپڈا کے بھاری بھرکم ماہانہ بلوں کی ادائیگی سے آزاد ہو چکی ہوتی۔ پاکستان پہلے ہی شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے ممالک میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے جس کا برملا اعتراف چند ماہ قبل برازیل میں ہونے والی کوپ 30کانفرنس میں بھی کیا گیا جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا۔
جیدی میاں نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے سولر پاور سے حاصل ہونے والی سستی اور صاف توانائی کی افادیت پر روشنی ڈالی اور یہ واضح کیا کہ نہ صرف گرین انرجی کے فروغ سے عوام کی اکثریت مہنگی بجلی کے جان لیوا بلوں کے عذاب سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے بلکہ سولر پاور سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سستی بجلی کی فراہمی سے زراعت و صنعت کے دونوں شعبوں کو بیک وقت فوائد پہنچا کر ایک طرف کسان کو خوشحال بنایا جا سکتا ہے تو دوسری طرف انڈسٹریل صارفین کی پیداواری قیمت میں کمی لا کر برآمدات بڑھائی جا سکتی ہیں جس سے پاکستان قیمتی زرمبادلہ کما کر ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے کو قابو میں رکھ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں کھربوں روپے کے گردشی قرضوں کا بوجھ بھی ہلکا ہو سکتا ہے اور فرنس آئل کی درآمد پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد جیدی میاں نے نیپرا کے حالیہ نوٹیفکیشن کو سخت ترین تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے غریب عوام کیلئے زہر قاتل قرار دیا۔ اس نے الزام عائد کیا کہ مبینہ طور پر صاحبانِ بست و کشاد کھلم کھلا عوام دشمنی پر اتر آئے ہیں اور سولر صارفین کی حوصلہ شکنی کرکے وہ دراصل اشرافیہ کی جانب سے لگائے گئے انڈیپنڈنٹ پاور پلانٹس کے تحفظ کو یقینی بنا رہے ہیں۔ جیدی میاں کے بقول اب یہ راز عیاں ہو چکا کہ ان آئی پی پیز کے اصل مالکان کون ہیں اور ان سے کیے گئے معاہدوں میں زیرو یا بہت کم پیداوار کے باوجود ڈالرز میں کپیسٹی چارجز ادا کرنے کی کڑی شرائط کیوں شامل کی گئی ہیں۔ اگرچہ جیدی میاں پیشے کے اعتبار سے ایک ممتاز قانون دان ہیں مگر حالاتِ حاضرہ پر ان کی گہری نظر رہتی ہے اور کتب بینی ان کا محبوب مشغلہ ہے جس کے باعث ان سے گفتگو کرتے ہوئے مستند معلومات کے ساتھ دلائل کا مؤثر استعمال کرنا پڑتا ہے۔
جیدی میاں کے تمام دلائل اور اہم نکات سننے کے بعد میں نے اس ضمن میں اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی اجازت طلب کی اور شروع میں ہی یہ امر واضح کر دیا کہ وہ حکومت سے متعلق اپنی بدگمانی ختم کرکے حسن ظن رکھیں۔ چونکہ میں فطری طور پر رجائیت پسندی کا قائل ہوں اس لیے میں نے ضروری سمجھا کہ جیدی میاں کے سامنے نیپرا کے حالیہ نوٹیفکیشن کے مثبت پہلو اجاگر کیے جائیں۔ لہٰذا میں نے حکمت سے بھرپور اس احسن اقدام کی خوبیاں گنوانا شروع کیں۔ میں نے جیدی میاں پر یہ بات واضح کی کہ اس نوٹیفکیشن نے پوری قوم کی توجہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خوفناک واقعات سے ہٹا دی ہے جن سے اکثر لوگ پریشان ہوکر فشار ِخون اور نفسیاتی ہیجان کا شکار ہو رہے تھے۔ عوام پر اب ایسا بوجھ پڑا ہے کہ وہ بلبلا اٹھے ہیں جو سوشل میڈیا پر وائرل شورو غوغا سے عیاں ہے۔ گرین میٹرنگ پالیسی کے خاتمے سے ہر بندے کو ایک مرتبہ پھر اگلے ماہ آنیوالے بجلی کے بل کی فکر لاحق ہو گئی ہے۔ اسکے علاوہ نیپرا نے دراصل سولر صارفین کو ہمسایوں کے حقوق ادا کرنے کا سنہری موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنی وافر بجلی واپڈا کو سستے داموں بیچنے کے بجائے اسے اپنے ہمسایوں کو مناسب قیمت پر فروخت کر دیں۔ اس اقدام سے ایک طرف سولر صارفین کو مناسب آمدن وصول ہو گی جبکہ دوسری طرف ان کے ہمسائے بھاری بھرکم ماہانہ بلوں کی ادائیگی سے آزاد ہو جائیں گے۔ ہمسایوں سے بڑھنے والے ان خیر سگالی جذبات سے مجموعی طور پر امنِ عامہ کے معاملات بھی بہتر ہوں گے جبکہ سولر صارفین اس نیک عمل سے اپنی آخرت بھی سنوار سکتے ہیں۔ مزید برآں سولر صارفین میں نیٹ میٹرنگ کے بجائے لیتھیم بیٹری لگانے کا رجحان بڑھے گا جس سے ایک طرف ان کی نیپرا کے ساتھ ہر ماہ بجلی کی خرید و فروخت کے جھنجھٹ سے جان چھوٹ جائے گی تو دوسری طرف ان میں خود انحصاری کا جذبہ پیدا ہو گا۔ بلاشبہ علامہ اقبال کے فلسفۂ خودی اور خود انحصاری کے جذبے سے ہم ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ نیپرا یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان میں صارفین حکومت کی مہنگی بجلی سے متنفر ہوں تاکہ ایک طرف وہ سولر پینلز کو استعمال میں لا کر اپنی ضرورت خود پوری کریں اور دوسری طرف فالتو بجلی ہمسایوں کو بیچ کر بکھرتے ہوئے سماجی ڈھانچے کو ایک مرتبہ پھر مضبوط بندھن میں باندھ دیں۔ درحقیقت اس نوٹیفکیشن کے اَن گنت فوائد میں سے سب سے بڑا فائدہ خود نیپرا اٹھائے گا۔ جب پاکستانی صارفین کی واضح اکثریت سولر پاور پر منتقل ہو جائے گی اور پورے ملک میں مہنگے داموں بجلی خریدنے والے ناپید ہو جائیں گے تو نیپرا آئی پی پیز سے یہ کہہ کر جان چھڑا سکتی ہے کہ وہ اپنی بجلی خود بیچیں کیونکہ اس وقت تک لوگ شمسی توانائی سے بجلی بنانے میں خود کفیل ہو چکے ہوں گے۔ ایک زمانے میں یہ نعرہ معروف ہوا کرتا تھا‘ بجلی بچائیں اپنے لیے اور قوم کیلئے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ نیا نعرہ متعارف کرایا جائے‘ بجلی بنائیں اپنے لیے اور قوم کیلئے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved