تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     13-02-2026

قرآن کریم‘ شہد کی مکھی اور خواتین

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ پر اپنی آخری لاجواب اور بے مثال کتاب نازل فرمائی تو اس کا نام قرآن رکھا۔ قرآن کا لفظی معنی اور مفہوم ہی یہ ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے جو نہ صرف بہت زیادہ پڑھی جانے والی ہے بلکہ قیامت تک کے لیے ہر طرح کے شک و شبہے سے پاک صاف ہے۔ اس کتاب میں ایک سورت مبارکہ ہے جس کا نام ''النحل‘‘ ہے‘ یعنی شہد کی مکھی۔ قرآن مجید میں سورتوں کی ترتیب دیکھیں تو مذکورہ سورت کا نمبر 16 ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جدید جنیاتی سائنس نے انکشاف کیا کہ شہد کے چھتے کی ملکہ کے اندر ''کروموسوم‘‘ کی تعداد 16 ہے جبکہ نر کے کرومو سوم کی تعداد بھی 16 ہے۔ میں اسے محض اتفاق کہنے والوں کے لیے ہدایت کی دعا کرتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ مندرجہ بالا سائنسی حقیقت قرآن مجید کا ایک اعجاز ہے۔
بیالوجی یعنی حیاتیاتی کائنات کے دو بڑے میگزین ہیں؛ ایک کا نام ''انسیکٹ مائیکرو بیالوجی‘‘ ہے جبکہ دوسرے کا نام'' مالیکیولر بیالوجی‘‘ ہے۔ ان دونوں نے برطانیہ اور آسٹریلیا کے سائنسدانوں کی ایک ریسرچ کو شائع کیا ہے۔ اس ریسرچ کی روشنی میں مارک ڈیکمن نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک ہی طرح کے 'ڈی این اے‘ سے شہد کی ایسی مکھیاں پیدا ہوتی ہیں جن کی اقسام مختلف ہیں‘ یعنی ملکہ جو مادہ مکھی ہے‘ وہ بھی اسی ڈی این اے سے پیدا ہوتی ہے جس ڈی این اے سے ملکہ مکھی کے لیے نر مکھی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ مکھی جو شہد بناتی ہے‘ وہ بھی اُسی ڈی این اے سے پیدا ہوتی ہے۔ اب مارک ڈیکمن ڈی این اے کے اس نظام کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ میکانزم جینیاتی عمل سے ماورا ہے۔ اسے سائنسی زبان ''ایپی جینیٹکس‘‘ کہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے جس ہستی پر ''سورۃ النحل‘‘ نازل فرمائی‘ اس عظیم ہستی یعنی حضرت محمد کریمﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا ''تیرے رب نے نحل (شہد کی مکھی) کی طرف وحی کی ہے‘‘ (النحل: 68)۔ جی ہاں! وحی کے لفظ نے واضح کر دیا کہ نحل کا جو 'ڈی این اے‘ ہے اس کا جینیاتی عمل اللہ تعالیٰ کے خصوصی نظام سے چلتا ہے‘ جو سائنس کے عمومی جینیاتی نظام سے بہت اعلیٰ اور ماورا ہے۔ ایسا ماورا کہ جسے آج کی بیالوجی سمجھنے سے قاصر ہے۔ اسی کا نام اعجاز اور معجزہ ہے۔ یہ ہمارے حضور اکرمﷺ پر نازل ہونے والے قرآن کریم کا معجزہ ہے۔ یاد رہے! نحل ایسا لفظ ہے جو نر اور مادہ‘ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ''النحل‘‘ کے بعد ''اتخذی‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ عربی زبان میں یہ فعل امر ہے اور مونث یعنی مادہ کو مخاطب کرکے حکم دیے جانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ جی ہاں! اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ واضح کر دیا کہ شہد بنانے کا کام جو مکھی سر انجام دیتی ہے‘ وہ مادہ ہے۔ اس مادہ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ پہاڑوں اور درختوں پر اپنے چھتے بنانے کا کام کرو اور وہ چھپر جو قدرتی ہیں یا لوگوں کے بنائے ہوئے ہیں‘ وہاں بھی اپنے گھر یعنی چھتے بنائو۔ اس کے بعد اگلی آیت میں حکم دیا کہ تمام پھلوں‘ پھولوں کا رس چوسو اور کھائو۔ یہاں پھر مونث کا صیغہ ''کلی‘‘ استعمال فرمایا۔ اپنے رب کے ہموار کیے ہوئے راستوں پر چلتی جائو‘ رزق کی تلاش میں پرواز کر کے جو فضائی روٹ شہد کی مکھی استعمال کرے گی اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ''اسلکی‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یہ بھی پہلے دو لفظوں جیسا ہی لفظ ہے؛ یعنی مادہ کے لیے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کے تذکرے میں ان تین لفظوں کو لاکر واضح کر دیا کہ جو نحل یا شہد کی مکھی شہد بنانے کا عمل سرانجام دیتی ہے‘ وہ مادہ مکھی ہے۔
مزید برآں! اللہ تعالیٰ نے سورۃ النحل کی جن دو آیات میں شہد کی مکھی کے لیے مونث کے الفاظ استعمال فرمائے‘ ان میں پہلی آیت (النحل: 68) میں ایک لفظ جبکہ دوسری (آیت: 69) میں مونث کے دو صیغے استعمال فرمائے‘ جن کا ہم نے تذکرہ کر دیا۔ اگلی توجہ طلب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ بالا آیت (النحل: 69) میں مونث کی دو ضمیریں بھی استعمال فرمائی ہیں: ''رَبِّکِ‘‘ اور ''بُطُونِھَا‘‘۔ یہ دونوں ضمیریں مونث کی ہیں؛ یعنی مکھی کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اپنے رب کے ہموار کردہ راستے پر اپنا کام کرتی چلی جا۔ دوسری ضمیر کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ ان مادہ مکھیوں کے پیٹیوں سے شہد کا مشروب تیار ہوتا ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے دو آیات میں پانچ عدد ثبوت دے کر واضح کردیا کہ شہد کی جو مکھی شہد بناتی ہے وہ مادہ ہے۔ آج سے محض پون صدی پہلے تک کسی کو پتا نہیں تھا کہ شہد کا مشروب جو مکھی تیار کرتی ہے‘ وہ مادہ ہے۔ ایک سائنسدان کو نوبیل پرائز صرف اس بات پر دیا گیا کہ اس نے پون صدی قبل اپنی ریسرچ میں یہ انکشاف کیا تھا۔ آج اکیسویں صدی کے 25سال گزر گئے اور 26واں شروع ہے۔ ریسرچ نے مزید ثبوتوں کے ساتھ واضح کر دیا کہ جو مکھیاں شہد تیار کرتی ہیں‘ وہ سب کی سب مادہ ہیں۔ صدقے قربان جائوں حضرت محمد کریمﷺ اور آپﷺ پر نازل ہونے والے قرآن مجید پر کہ جس نے ساڑھے چودہ صدیاں قبل بتا دیا تھا کہ شہد تیار کرنے والی مکھیاں مادہ ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ زمین پر ہمیں جو دوربینوں کے ذریعے ستارے دکھائی دیتے ہیں ہبل اور جیمز ویب سپیس کے ذریعے جو سٹارز اور گلیکسیاں دکھائی دی ہیں‘ جوبلینز آف ٹریلینز میں ہیں‘ ان سب کو نوبیل قرار دے کر حضور کریمﷺ کے مبارک قدموں کو چھونے والی جو نعلین مبارکہ ہیں‘ ان کے نیچے جو مدینہ منورہ کی شفا بخش خاک کے ذرات ہیں‘ ان پر نچھاور کر دیا جائے تب بھی حق ادا نہ ہو۔ کیسے حق ادا ہو کہ مکھی جس الہام پر چلتی ہے‘ اس الہام کا تذکرہ حضور کریمﷺ کی خدمت قدس میں حضرت جبرائیل علیہ السلام لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ اربوں کھربوں درود سلام ایسی پاک ہستی پر جن کا نام نامی اسم گرامی محمدﷺ ہے۔
شہد سے متعلق دو آیات کا پس منظر دیکھیں تو چھ آیات پیچھے‘ مسلسل پانچ آیات میں اللہ تعالیٰ واضح کرتے ہیں کہ یہ مشرکین مکہ جو میرے حبیبﷺ کو ستاتے ہیں اور قرآن گھڑنے کے الزامات لگاتے ہیں ان کا اپنا حال یہ ہے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں‘ کیا انہیں شرم نہیں آتی؟ یہ لوگ اپنے لیے تو بیٹے چاہتے ہیں اور بچیوں کے بارے میں ان کا حال یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری ملے تو خوش ہونے کے بجائے اس کا چہرہ کالا سیاہ ہو جاتا ہے۔ دل غم سے پھٹنے کو آ جاتا ہے۔ وہ اس خبر کو برا سمجھ کر اپنی قوم سے چھپتا پھرتا ہے کہ ان کو کیا منہ دکھائے گا؟ وہ سوچتا ہے کہ کیا ذلت برداشت کر کے اس کو زندہ رہنے دے یا اسے (مار کر یا زندہ ہی) مٹی میں دبا ڈالے؟ یعنی گڑھے میں پھینک کر اوپر مٹی ڈال دے۔ خبردار! انتہائی بدترین حرکتوں کی حامل ہیں یہ خصلتیں‘ جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کا اگلی زندگی پر ایمان نہیں ہے۔ عنقریب ان کا حال بدترین ہونے والا ہے جبکہ اللہ کی صفت اور شان بہت بلند ہے‘ وہ غالب اور حکمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مقام پر یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ میرے حبیبﷺ جو بچیوں اور خواتین کو بلند مقام دینے والے ہیں‘ وہ ظلم کا نظام ختم کرکے انسانیت کی نسوانی عزت کو چار چاند لگانے والے ہیں۔ بیٹیوں کو شہد کی مکھیوں کے شہد جیسا میٹھا مقام دینے والے ہیں۔ یوں ہر بیٹی دنیا میں رحمت دو عالمﷺ کے نظام میں اعلیٰ مقام پائے گی تو فردوس میں حضرت سیدہ فاطمہ زہرا بتول رضی اللہ عنہا کی سرداری میں عزتوں اور سرفرازیوں کی خلعت زیب تن کرے گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved