اردو سے محبت رکھنے والوں کے لیے میرے پاس ایک اچھی خبر ہے۔
محبانِ اردو اس زبان کے مستقبل کے بارے میں تشویش میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ تشویش بے جا نہیں۔ اردو کے ساتھ ہماری نئی نسل کا رشتہ کمزور ہو رہا ہے۔ یہ رشتہ اب کچے دھاگے سے بندھا ہے جو کسی وقت بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ آج کل کے لڑکے لڑکیاں رومن میں اردو لکھتے ہیں‘ اگر لکھنا پڑے۔ مزید یہ کہ کمپیوٹر کے آنے سے اردو کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو گئیں کہ اردو کے ساتھ اس ٹیکنالوجی کا رویہ دوستانہ نہیں ہے۔
اردو کے کچھ بالغ نظر دوستوں کو کئی برس پہلے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ اردو کو اگر زندہ رہنا ہے تو اسے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہو گا۔ 1980ء کی دہائی میں اس جانب پہلا قدم اٹھایا گیا۔ احمد مرزا جمیل مرحوم نے کمپیوٹر پر نوری نستعلیق کے نام سے اردو کا فونٹ متعارف کرایا۔ ان کے والد کا نام نور احمد دہلوی تھا‘ جو خطاط تھے۔ انہی کے نام پر انہوں نے اسے نوری نستعلیق کا نام دیا۔ یہ مہنگا منصوبہ تھا۔ اُس وقت پچاس لاکھ روپے کی ضرورت تھی۔ ابتدا میں خدشات نے گھیر لیا۔ لوگ سرمایہ کاری سے گھبرانے لگے۔ جمیل صاحب نے یقین دلایا کہ منصوبہ ناکام ہوا تو وہ اس نقصان کو برداشت کریں گے۔ ایک صحافتی ادارے نے ساتھ دیا اور اس پر پیش رفت ہو گئی۔ یوں اردو کا پہلا اخبار کمپیوٹر پر آیا۔ 'اِن پیج‘ بھارت میں بنا اور اب اس نے بھی ترقی کے کئی مراحل طے کر لیے ہیں۔ اردو اب ایم ایس ورڈ میں بھی موجود ہے۔ تاہم اس کے باوجود‘ میسر سہولت اردو زبان میں کام کرنے والوں کے لیے کفایت نہیں کرتی تھی۔ اس کا ادراک کرتے ہوئے‘ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ ترجمہ نے ایک سافٹ ویئر بنا کر عام کر دیا ہے۔ اس میں نو خصوصیات ہیں‘ ایک تو یہ ہے کہ یہ غلط ہجوں کی نشا ندہی کرتا اور درست بھی کرتا ہے۔ تحریرِ نوکے تحت آپ اپنے لکھے کی نوک پلک سنوار سکتے ہیں۔ گرامر کی سہولت بھی میسر ہے‘ یہ پرکھنے کے لیے کہ جملہ فنی اعتبار سے درست ہے یا نہیں۔ اس سے آپ الفاظ کے متضاد اور مترادف بھی معلوم کر سکتے ہیں۔ اس میں ترجمے کی سہولت بھی میسر ہے۔ اس وقت آپ اردو سے انگریزی اور انگریزی سے اردو میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ مستقبل میں دیگر زبانیں بھی شامل کی جا رہی ہیں۔
ایک زبان اسی وقت زندہ رہ سکتی ہے اگر وہ علم کی زبان بنے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس زبان میں علم تخلیق ہو۔ انگریزی آج جدید علم کی زبان ہے۔ طبعی علوم بالخصوص اسی زبان کے پیرہن کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ انگریزی کا علم طبعی علوم کے لیے ناگزیر ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ تخلیق شدہ علم اس زبان میں منتقل ہو جائے۔ آج جسے مغربی فلسفہ کہا جاتا ہے‘ اس کا بڑا حصہ جرمن زبان میں ہے۔ کانٹ‘ ہیگل‘ مارکس‘ ایرک فرام‘ میکس ویبر‘ سمیت اکثریت نے جرمن زبان میں لکھا لیکن دنیا انگریزی تراجم کی معرفت‘ ان کے کام سے متعارف ہوئی۔ یہی معاملہ فرانسیسی فلسفے اور ادب کا بھی ہے۔ روس کا ادب بھی انگریزی تراجم سے دنیا تک پہنچا۔ مارکیز کو بھی ہم نے انگریزی تراجم سے جانا۔ اس فلسفے اور ادب کا جو حصہ اردو زبان میں ہے‘ سب انگریزی تراجم کا ترجمہ ہے۔ شاید ہی کوئی مترجم ہو جو جرمن یا فرانسیسی زبان جانتا ہو۔
انگریزی اور دوسری زبانوں نے اب جدید ٹیکنالوجی کو اپنا لیا ہے۔ اب قلم دوات متروک ہو چکے۔ زبانوں کو اب یہ چیلنج بھی درپیش ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوں۔ اس ٹیکنالوجی نے چونکہ مغرب میں جنم لیا ہے‘ اس لیے اس کی 'مادری زبان‘ انگریزی ہے۔ دیگر زبانوں کو پہلے اس ٹیکنالوجی سے مطابقت پیدا کرنا پڑتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے اردو خواں جب انگریزی میں لکھتا یا کلام کرتا ہے تو اس کے ذہن کے پردے پر خیال اردو میں اترتا ہے۔ وہ ایک اضافی مرحلے سے گزر کر انگریزی میں ڈھلتا اور پھرزبان سے ادا ہوتا ہے۔ انگریزی دان کو یہ مشقت نہیں اٹھانا پڑتی۔
اردو زبان کے لیے جدید کمپیوٹر یا مصنوعی ذہانت کی زبانیں اجنبی ہیں۔ یہی وجہ ہے ہم اس معاملے میں دنیا کے ساتھ ہم قدم نہیں ہیں۔ مواصلات کی دنیا میں آنے والے انقلاب سے ہم پوری طرح مستفید نہیں ہو سکتے‘ اگر اجنبیت کی یہ دیوار کھڑی رہتی ہے۔ آج یہ خواب ایک حقیقت کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ اس میں مزید مسرت کا پہلو یہ ہے کہ یہ بلامعاوضہ دستیاب ہیں۔ اس کام کو مجھے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ میرا احساس ہے کہ بطور جامعہ مذکورہ ادارے نے نہ صرف اعلیٰ تعلیم بلکہ بنیادی تعلیم کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سے وابستہ اہلِ علم‘ علم کی دنیا میں معروف ہیں۔ یہاں سال بھر علمی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ میری دلچسپی چونکہ اسلامی و سماجی علوم سے ہے‘ اس لیے میرا مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ یہاں کا یہ شعبہ نہ صرف فعال ہے بلکہ بہت سے اداروں کے لیے قابلِ تقلید مثال ہے۔
اردو زبان مسلمانوں کی زبان سمجھی جاتی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ دورِ جدید میں اسلامی علوم کا جتنا بڑا ذخیرہ اردو زبان میں سامنے آیا‘ اس کی بنیاد پر اپنی کم سنی کے باوجود‘ اردو عربی اور فارسی سے کندھا ملائے کھڑی ہے۔ یہ برصغیر کے دینی مدارس کی زبان بھی ہے۔ اس لیے اردو کی خدمت‘ دین کی خدمت ہے۔ جن لوگوں نے یہ کارنامہ سر انجام دیا ہے‘ ان کے لیے یہ منصوبہ ان شاء اللہ صدقہ جاریہ بنے گا۔ اردو سے محبت کرنے والے تمام طبقات اس کا خیر مقدم کریں گے۔ اس سے وہ دروازے کھل گئے ہیں جو اردو زبان کے دامن کو علمی اعتبار سے وسیع کر دیں گے۔ جیسے جیسے اس میں وسعت آتی جائے گی‘ دیگر زبانوں کا علم بھی اردو میں منتقل ہو جائے گا۔ مقتدرہ قومی زبان نے بھی‘ جو اَب 'ادارۂ فروغِ قومی زبان‘ہے اس ضمن میں قابلِ قدر کام کیا ہے۔ اردو سافٹ ویئر کی تشکیل اور ترجمے کے میدان میں اس ادارے کا کام اردو اور جدید ٹیکنالوجی کو ہم قدم بنانے میں بہت اہم ہے۔ چونکہ گزشتہ دو سو سال میں طبیعیاتی اور سماجی علوم نے مغرب میں فروغ پایا ہے‘ اس لیے اردو میں ان کا ترجمہ بھی اس راہ میں ایک بڑا چیلنج ہے۔ ادارۂ فروغِ قومی زبان نے قانون اور دیگر شعبوں کی اصلاحات کو اردو میں منتقل کیا ہے۔ اس نوعیت کا کام علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی بھی کر رہی ہے۔ اگر یہ ادارے مل کر یہ کام کریں تو کم وسائل میں زیادہ کام ممکن ہے۔ اس کام کے نتیجے میں وہ عذر باقی نہیں رہا جو اردو کو نہ اپنانے کے لیے بطور جواز پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت اردو کو اختیار کرنے کا فیصلہ دیتی ہے مگر اس کے اپنے فیصلے تادمِ تحریر انگریزی میں لکھے جا رہے ہیں۔ امید کرنی چاہیے کہ اس سافٹ ویئر کے آنے سے عذر ہائے لنگ کے تمام دروازے بند ہو جائیں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved