تحریر : افتخار احمد سندھو تاریخ اشاعت     14-02-2026

دہشت گردی سے بے خبری

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایک لمبے عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ بلاشبہ1979ء میں سوویت افغان جنگ کے دوران پاکستان میں جہادی تنظیموں کو فروغ ملا جنہیں بعد میں کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا‘ اور ہم نے ان تنظیموں کو بیس بائیس سال تک بھگتا۔ اس کے بعد 2001ء میں نائن الیون حملوں کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے۔ طالبان اور دیگر شدت پسند گروہ پاکستان میں گھس آئے اور ہمارے سرحدی علاقوں میں متحرک ہو کردہشت گردی کو ہوا دی اور اس کے بعد ملک بھر میں پھیل گئے اور پاکستان کے دارالحکومت تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آبادمیں دہشت گردی کی حالیہ واردات نے ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے کہ د ہشت گرد ہماری شہ رگ تک پہنچ گئے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں اپنے آپ کا بھی خیال کرنا چاہیے کہ دشمن تو ہمارے اندر موجود ہیں لیکن ہمارے ملک اور قوم میں اتفاق نہیں جس کا ہونا بہت ضروری ہے۔
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے‘ تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں‘ بیرونِ دریا کچھ نہیں
پاکستان میں اس وقت بھی کئی شدت پسند گروہ موجود ہیں جو مذہبی‘ فرقہ وارانہ اور سیاسی مقاصد کے تحت دہشت گردی کرتے ہیں۔ فرقہ وارانہ تنظیمیں مساجد‘ امام بارگاہوں اور مذہبی اجتماعات کو نشانہ بناتی ہیں۔ شدت پسندی کی جڑیں غیر متوازن تعلیمی نظام اور جہادی بیانیے میں بھی پائی جاتی ہیں۔ وطنِ عزیز پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کوئی نئی بات نہیں لیکن حالیہ چند دنوں میں ملک کے مختلف شہروں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فرقہ واریت ایک ایسا ناسور ہے جس نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کو بھی متاثر کیا ہے۔ فرقہ واریت نے نفرت اور تعصب کی ایسی آگ لگائی کہ نہ مساجد اور مدارس محفوظ ہیں اور نہ دفاتر اور مکاتب۔ امام بارگاہ سے لے کر سکول تک‘ فوج اور ریاست سے لے کر مذہبی اور سیاسی قائدین تک‘ اور خواص سے لے کر عوام تک فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ مگر تاحال اس مرض کی تشخیص کرنے میں ہم بحیثیت ریاست اور سماج ناکام رہے ہیں۔ فرقہ وارانہ تنظیموں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہوئے تحفظ فراہم کیا گیا اور ایسی تنظیموں کے حوالے سے کوئی مؤثر قانون سازی نہ ہوئی۔ جو چاہے جب چاہے‘ تنظیم یا ادارہ بنا سکتا ہے۔ فرقہ واریت اور شدت پسندی پھیلانے کے ترغیبی ذرائع خصوصاً رسائل اور سوشل میڈیا کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر پالیسی اور ادارہ نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فرقہ وارانہ تنازعات سے نمٹنے کے لیے کوئی خاص تربیت کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے میں قانون کی حکمرانی مؤثر ہتھیار ہے جس کو استعمال نہیں کیا جا رہا۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 227 میں فرقہ کو مثبت معنی میں استعمال کرکے فرقہ واریت کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
پاکستانی سماج میں فرقہ واریت کی جڑیں مضبوط ہونے اور پروان چڑھنے میں سب سے بنیادی وجہ اس کی سماجی اور معاشرتی قبولیت ہے۔ سماج دو حصوں میں بٹ گیا ہے‘ مذہبی اور سیکولر‘ پھر دونوں میں تین طبقات پائے جاتے ہیں‘ ایلیٹ کلاس میں سیکولر ازم جبکہ باقی دو طبقوں میں مذہبی فرقہ واریت۔ پھر مذہب آگے مختلف مکاتب فکر اور فرقوں میں بٹ چکے ہیں۔ وطن عزیز میں فرقہ پرستی اور تفرقہ بازی کا زہر اس حد تک سرایت کر چکا ہے کہ عسکریت پسندی‘ طالبانائزیشن‘ القاعدہ اور داعش کی مقبولیت کی وجوہات میں ان کے فرقہ وارانہ افکار کا بڑا عمل دخل ہے۔ وطنِ عزیز میں فرقہ واریت کے نام پر جو خونریزی ہوئی اس کی کوئی حد نہیں۔ مشہور لطیفہ ہے کہ امریکہ برطانیہ اور پاکستان کے ممالک کے تین پولیس والے اکٹھے سفر کر رہے تھے‘ تینوں اپنی اپنی کارکردگی بتانے لگے۔ برطانوی پولیس اہلکار نے کہا: ہم پندرہ دن میں واردات کا سراغ لگا لیتے ہیں۔ امریکی سکیورٹی اہلکار نے کہا: ہم سات دن میں واردات کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ آخر میں پاکستانی بولا کہ ہمیں دو چار دن پہلے ہی علم ہوتا ہے کہ واردات کہاں ہونی ہے۔ لیکن اب پتا نہیں ہماری یہ صلاحیت کہاں چلی گئی۔ یا ہم نے اس شعر کو نئے معانی پہنا دیے ہیں کہ
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی
سوچنے کی بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے بعد ہمیں فوری پتا چل جاتا ہے کہ دہشت گرد کیسے اور کس راستے سے آیا‘ پلاننگ کہاں ہوئی‘ فنڈنگ کہاں سے کی گئی۔ بات یہ ہے کہ ہمیں پیشگی پتا کیوں نہیں چلتا؟ اس پر حکومت اور سکیورٹی اداروں کو پوری سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کے بعد فرقہ واریت کی بنیاد پر خودکش حملے کا یہ پہلا واقعہ ہے مگر گزشتہ نومبر میں اسلام آباد کی کچہری پر ہونے والی دہشت گردی کے بعد وفاقی دارالحکومت میں دہشت گردی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ تین مہینے میں دہشت گردی کی دو وارداتوں سے یہ ثابت ہوا کہ دہشت گرد تنظیموں کی نگرانی اور دہشت گردی کی واردات سے قبل اطلاع دینے کا نظام ناکامی سے دوچار ہوا ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی ایک وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ٹی ٹی پی سے وابستہ لوگ بڑی تعداد میں پاکستان میں واپس آ گئے ہیں اور انہیں اس وقت کی پاکستانی حکومت نے مکمل سپورٹ کیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں ٹی ٹی پی اور دیگر ایسے عناصر کے خلاف ماضی میں کارروائیاں تو ہوئیں لیکن دہشت گردی کی جڑیں ختم کرنے کے لیے طویل المدت پالیسی نہیں بنائی گئی۔ نیز یہ کہ جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے وطن عزیز پاکستان ہمیشہ عالمی اور علاقائی طاقتوں کے پراکسی وار کا مرکز رہا ہے۔ کچھ دہشت گرد گروہوں کو بھارت‘ افغانستان اور دیگر دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی حمایت بھی حاصل رہی۔ ان ممالک کی خفیہ ایجنسیوں پر پاکستان میں دہشت گردوں کو فنڈنگ دینے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
اسلام آباد میں خودکش حملے کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے‘ لاہور پریس کلب کے باہر احتجاج کے دوران مجلس وحدت المسلمین کے لوگ شیعہ سنی بھائی بھائی کے نعرے لگا رہے تھے‘ جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ اس دھماکے کے ذریعے فرقہ وارانہ فساد کا دوبارہ بیج نہ بویا جائے۔ بدقسمتی سے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے‘ ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے کیونکہ غربت‘ بے روزگاری اور تعلیم کی کمی نوجوانوں کو دہشت گرد گروہوں کی طرف راغب کرتی ہے۔ کئی دہشت گرد تنظیمیں نوجوانوں کو پیسے اور نظریات کے ذریعے استعمال کرتی ہیں۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں کہ جب بھی کوئی مسلمان معاشرہ سنبھلنے کی کوشش کرتا ہے‘ فرقہ ورانہ دہشت گردی کی کوئی نہ کوئی واردات فضا کو لہو رنگ کر دیتی ہے۔ کبھی مسجد نشانہ بنتی ہے کبھی امام بارگاہ‘ کبھی مدرسہ اور کبھی بازار۔ لاشیں گرتی ہیں‘ آہیں بلند ہوتی ہیں اور پھر اس سانحے کو فرقوں کا باہمی تصادم قرار دے کر ضمیر کو مطمئن کر لیا جاتا ہے‘ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ فرقوں کی لڑائی نہیں بلکہ دشمن کی ایک گہری اور منظم سازش ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو آپس میں الجھائے رکھنا ہے۔ ہمیں اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کیونکہ وطن عزیز پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سازشیں شروع ہو چکی ہیں‘ اس کی تفصیلات اگلے کالم میں دی جائیں گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved