تحریر : نسیم احمد باجوہ تاریخ اشاعت     14-02-2026

سرگودھا کی سیاست کا بے تاج بادشاہ

اس کے دادا ایک اصطبل پر ملازمت کرتے تھے مگر وہ سرگودھا کی سیاست کا بے تاج بادشاہ بنا۔ نام تھا چودھری انور علی چیمہ۔ انور چیمہ میرے دور کے رشتہ دار بھی تھے (فرسٹ کزن کے سیکنڈ کزن) اور (1956-57ء میں) ایک سال تک میرے بہترین میزبان رہے‘ اچھے دوست اور قریبی رفیق بھی۔ انور چیمہ یکم جنوری 1935ء کو پیدا ہوئے اور عمر میں مجھ سے صرف ایک سال بڑے تھے۔ 81 برس عمر پا کر 31 جولائی 2016ء کو وفات پائی۔ 1970ء کی دہائی میں وہ سرگودھا کے سیاسی خارزار میں اُترے۔ پاؤں ننگے تو نہ تھے مگر راستے میں کانٹے بہت تھے‘ وہ بھی نوکیلے اور تیز دھار۔ انور نے اپنی خداداد صلاحیتوں‘ بلند ہمتی‘ ارادوں کی پختگی اور اپنی مالی خوشحالی کی وجہ سے پہلے مقامی سیاست اور پھر قومی سیاست میں اپنی منفرد پہچان بنائی۔ سرگودھا کے پرانے اور روایتی سیاسی گھرانے‘ جو ایک عرصے سے بلا شرکت غیرے برسرِ اقتدار تھے‘ ان سب کا چراغ بجھا دیا۔
انور چیمہ بی اے کرنے کے بعد لاہور لاء کالج میں پڑھنے آئے تو انہی دنوں میں پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے (سیاسیات) میں داخل ہوا۔ میرے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر Fritters جرمن نژاد تھے۔ کمال کی شخصیت اور بہترین استاد۔ اس شفیق شخص نے میرے جیسے پڑھائی لکھائی کی طرف زیادہ توجہ نہ دینے والے طالبعلموں میں عمر بھر کیلئے سیاسیات اور حالاتِ حاضرہ میں دلچسپی کا چراغ روشن کیا۔ یونیورسٹی میں داخلہ تو ڈاکٹر فریٹرز کی مہربانی سے مل گیا مگر رہائش کا مسئلہ درپیش آیا۔ ایم اے او کالج کے ہاسٹل میں بھی جگہ نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ انور کو اس نیکی کا اجر دیں کہ ایک سال لاء کالج ہاسٹل میں مجھے اپنے ساتھ رکھا۔ صرف ساتھ رہنے کی اجازت نہ دی بلکہ بطور میزبان ہر لحاظ سے میرا خیال رکھا اور بڑی خوشدلی سے میری خاطر مدارت کی اور وہ بھی پورے ایک برس تک۔ اگلے برس انور قانون کی تعلیم مکمل کیے بغیر سرگودھا چلا گیا اور اپنے بارسوخ والد (چودھری سلطان علی)کی سفارش سے محکمہ مال میں بطور نائب تحصیلدار بھرتی ہو گیا۔ 1957ء سے شروع ہونے والی افسری 13 برس تک جاری رہی۔ 1974ء میں انور نے سرکاری ملازمت چھوڑ دی اور نہ صرف اپنے کاروبار کی طرف توجہ دی بلکہ اپنی مالی پوزیشن کو بھی مضبوط بنایا اور اسی دوران سیاسی پرپرزے نکالنا شروع کر دیے۔ 1979ء میں ضلع کونسل کے سرگرم رکن بنے اور 1983ء میں ضلعی کونسل (جسے ہر ضلع میں کلیدی اہمیت حاصل ہوتی) کے چیئرمین بنے۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخاب میں ممبر قومی اسمبلی بنے اور پھر جونیجو لیگ میں شامل ہو گئے۔ 1988ء‘ 1990ء اور 1993ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ پہلے دو انتخابات میں آئی جے آئی کے ٹکٹ پر اور تیسری بار مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا۔ 2002ء کے انتخابات میں وہ مسلم لیگ (اظہر) کے ٹکٹ پر ممبر اسمبلی بنے۔ 2008ء اور 2013ء میں اپنی سیٹ جیت کر مسلسل سات بار قومی اسمبلی کا رکن بن کر نہ صرف سرگودھا بلکہ پورے قومی سیاست میں ایک بے مثال ریکارڈ قائم کیا۔ ایک بار انور وفاقی کابینہ کے بھی رکن بنے۔ پہلے صحت اور پھر پیداوار (پٹرولیم) کے قلمدان دیے گئے۔
چودھری انور علی چیمہ نے ہزاروں لوگوں کے کام کرائے۔ اپنے حلقۂ انتخاب میں سڑکیں‘ سکول‘ ڈسپنسریاں اور پل بنوائے۔ اپنے انتخابی حلقہ کا حلیہ بدل کر رکھ دیا اور انہی ترقیاتی کاموں کا صلہ انہیں ہر الیکشن میں کامیابی کی صورت میں ملا۔ صرف انہیں ہی نہیں بلکہ اُن کے سیاسی جانشینوں کو بھی۔ انور کے دو بیٹوں میں سے ایک بیٹا (عامر سلطان چیمہ) باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے انتخابی حلقہ سے چھ بار صوبائی اسمبلی کا رُکن منتخب ہوا۔ چودھری شجاعت حسین کے فرسٹ کزن (تجمل حسین) کی بیٹی انور کی بہو بنی اور یہ (تنزیلہ عامر چیمہ) بھی نہ صرف دو بار قومی اسمبلی کی رکن بنیں بلکہ سرگودھا کی ڈسٹرکٹ کونسل کی چیئرمین شپ کا اہم عہدہ بھی سنبھالا۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عارف نکئی انور چیمہ کے برادرِ نسبتی تھے۔
پنجاب کے سیاسی گھرانوں کی تاریخ کو مدنظر رکھا جائے تو یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ان میں سے اکثر ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ داری کے بندھن میں ہوتے ہیں۔ 'کند ہم جنس باہم جنس پرواز‘ کی اس سے بہتر اور کیا مثال دی جا سکتی ہے۔ انور مسلم لیگ میں ایک اہم رکن اور میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے مگر جب پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف (جلا وطن ہو کر) سعودی عرب چلے گئے تو انور نے اپنے بیٹے کے رشتے اور سیاسی مصلحت کا لحاظ کرتے ہوئے پرویز مشرف کی زیر سرپرستی بننے والی (چودھری برادران) کی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ مجھے انور سے جدا ہوئے چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا مگر میں اپنے مقامی ''جاسوسوں‘‘ کی دی گئی رپورٹوں کے مطابق یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ انور چیمہ کے دامن پر بدعنوانی‘ لوٹ مار اور غنڈہ گردی‘ جو ہماری دیہی سیاست اور زمیندار سیاستدانوں کا طرۂ امتیاز رہا ہے‘ کا کوئی داغ نہیں تھا۔ دوسری جانب یہ بھی درست ہے کہ سات بار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہونے کے باوجود کسی ایسی قانون سازی کا کریڈٹ انہیں نہیں دیا جا سکتا جو دیرپا اصلاحی کاموں کا احاطہ کرتی ہو۔ وہ روایتی تھانہ کچہری والے ممبر قومی اسمبلی تھے اور اس لحاظ سے ایک روایتی سیاستدان۔ البتہ تقریباً نصف صدی تک اپنے حلقۂ انتخاب کے لوگوں اور اپنے سیاسی حلیفوں اور دوست احباب کی ہر ممکن خدمت کرتے رہے۔ اہلِ سرگودھا نے میرے بھائی کی لاج رکھی اور ان کی بہو اور بیٹے کو بھی بار بار سرگودھا کے سیاسی قائد کا تاج پہنایا۔ انور چیمہ قریب 45 برس تک قومی سیاست سے وابستہ رہے۔ اس نظام کا حصہ بن کر وہ خود بھی خوش تھے اور ان کے حلقہ انتخاب کے لوگ بھی۔ 2016ء میں کارڈِک اریسٹ کے سبب انور اس دنیائے فانی کو خیرباد کہہ گئے۔ نمازِ جنازہ میں اتنے سوگواروں نے شرکت کی کہ وہ مقامی سٹیڈیم میں ادا کی گئی۔ پاکستان کے ایک موقر انگریزی جریدے نے یکم اگست 2016ء کو ان کی وفات پر ایک تعزیتی خاکہ (Obituary) شائع کیا۔ ان کا جسدِ خاکی ان کے آبائی گائوں چک 35 میں سپردِ خاک کیا گیا۔ وہی گائوں‘ جہاں انور کے آبائو اجداد قریباً سو سال شمالی پنجاب سے ہجرت کر کے آباد ہوئے تھے۔ مضمون نگار کے دادا (چودھری رحمت خان) بھی اس صف میں شامل تھے اور اسی وجہ سے میرے والد کو ضلع سرگودھا کا پہلا ڈاکٹر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔
اگر بااصول اور باضمیر نظریاتی سیاست کی بات کریں تو یہ ہمارے بیشتر سیاستدانوں کے بس کی بات نہیں۔ ان کی سوچ اور جدوجہد کا مرکز ومحور صرف ایک ہوتا ہے‘ حصولِ اقتدار اور پھر بقائے اقتدار۔ اکثر اس میں کامیابی کو ہی اپنی سیاسی کامیابی کا پیمانہ قرار دیتے ہیں۔ وہ اگر اچھے جذبے سے بھی سیاست میں آئے ہوں تو کانِ نمک میں نمک بن جاتے ہیں اور اس گلے سڑے اور عوام دشمن نظام کا ایک پرزہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس فرسودہ مشینری میں ہر پرزہ ایک دوسرے کے سہارے چلتا ہے۔
انور کو آٹھ سے زیادہ الیکشنوں میں میری مدد کی ضرورت نہ پڑی‘ میں شاید اسے ایک ووٹ بھی نہ دلوا سکتا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ 1956ء میں مضمون نگار اس کی مدد کے بغیر ایم اے او کالج (لاہور) کی سٹوڈنٹس یونین کا صدر ہرگز نہیں بن سکتا تھا۔ میری انتخابی مہم میں انور ایک سائے کی طرح میرے ساتھ رہا اور اس کے دراز قد اور رعب دار شخصیت نے مجھے میرے حریف پہلوانوں کی ''غیر پارلیمانی‘‘ کارروائیوں سے مکمل محفوظ رکھا۔ میں تقریر ختم کرتا تو انور مجھے شاباش دیتا اور میرا حوصلہ بڑھاتا۔ میری فتح کا جشن منایا گیا تو بارات کا دُلہا بھاگ کر سرگودھا جا چھپا۔ انور واپس آیا تو میں نے گلہ کیا۔ جواب ملا کہ میں نہ ہیرو ہوں اور نہ وی آئی پی‘ الیکشن تم نے جیتا میں کس حساب سے ہار پہنتا۔ ہار صرف پھولوں کے نہیں ہوتے‘ دل میں تشکر کے نہ ختم ہونے والے احساسات کے بھی ہار ہوتے ہیں‘ جو میں سونے سے پہلے ہر رات انور کے گلے میں پہناتا ہوں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved