تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     14-02-2026

روزے کے چند ضروری مسائل

٭بلڈ ٹیسٹ کیلئے اپنا خون نکلوانے یاکسی شدید ضرورت مند مریض کو خون کا عطیہ دینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا‘ البتہ اگر خون دینے سے اتنی جسمانی کمزوری لاحق ہونے کا اندیشہ ہو کہ روزہ رکھنے کے قابل نہ رہے‘ تو روزے کی حالت میں اس سے اجتناب کرے۔ ٭کان میں دوا یا تیل ٹپکانے یا دانستہ پانی ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا‘ سوائے اس کے کہ خدا نخواستہ کسی شخص کے کان کا پردہ پھٹا ہوا ہو اور اس سے پانی یا دوا رِس کر معدے یادماغ تک پہنچ جاتی ہو‘ تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ ٭ہماری تحقیق کے مطابق آنکھ میں دوا ڈالنے یا کسی بھی قسم کا انجکشن لگانے سے روزہ فاسد ہو جاتاہے۔ بعض علما کے نزدیک اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جس مسئلے کے بارے میں قرآن وحدیث میں صریح حکم نہ ہو ‘وہ مسئلہ اجتہادی کہلاتا ہے‘ اس میں لوگوں کو جس عالم پر اعتماد ہو‘ اُس کے فتوے پر عمل کریں۔ ڈاکٹر وھبہ الزوحیلی لکھتے ہیں: ''جلد کے اندر پٹھوں میں یا رگوں میں انجکشن لگانا ہو تو بہتر یہ ہے کہ روزے کی حالت میں نہ لگائے‘ افطار کے وقت تک انتظار کرے‘ اگر رگوں میں خون چڑھائے گا تو روزہ فاسد ہو جائے گا‘‘ (فقہ الاسلامی وادِلّتہ‘ جلد:3 ص: 1412) ٭(الف) روزے کی حالت میں خود بخود غیر اختیاری طور پر قے آئے اور حلق میں واپس نہ لوٹائی جائے تو کسی صورت میں اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا‘ اگرچہ کتنی ہی زیادہ قے آئے۔ (ب) خود بخود غیر اختیاری منہ بھر قے آئی اور ساری یا کم از کم چنے کی مقدار واپس حلق میں لے گیا تو روزہ فاسد ہو جائے گا‘ لیکن اگر خود بخود حلق میں چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا‘ اسی طرح اگر منہ بھر سے کم تھی تو اسے حلق میں لے جائے یا خود بخود چلی جائے‘ اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا‘ (ج) اگر جان بوجھ کر قے کی جائے‘ پس اگر ایسی قے منہ بھر کر آ جائے تو خواہ واپس حلق میں کچھ بھی نہ نگلے‘ روزہ ٹوٹ جائے گا۔
٭نیت دل کے ارادے کا نام ہے‘ زبانی نیت ضروری نہیں ہے‘ البتہ مستحب ہے۔ ٭سَحری سے پہلے غسلِ جنابت واجب ہو چکا تھا مگر سحری ختم ہونے سے پہلے غسل نہ کر سکا یا دن میں روزے کے دوران نیند کی حالت میں جُنبی ہو جائے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا اور نہ اس سے اجر میں کمی واقع ہوتی ہے؛ البتہ واجب غسل کو اتنی دیر تک مؤخر کرنا کہ ایک فرض نماز کا وقت گزر جائے ‘حرام ہے کیونکہ اس سے نماز قضا ہو جائے گی ۔ ٭وضو کے دوران مسواک کرنا عام دنوں میں بھی سنّت ہے اور رمضان المبارک کے دوران روزے کی حالت میں بھی سنّت ہے‘ البتہ پیسٹ اور منجن سے اجتناب بہتر ہے‘ کیونکہ اس کے ذرات کے حلق میں جانے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے‘ تر مسواک بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ٭روزے کی حالت میں خوشبو استعمال کر سکتے ہیں‘ ناخن کاٹ سکتے ہیں‘ بالوں کو تیل لگا سکتے ہیں‘ اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔٭دمے کا مریض جو آلۂ تَنَفُّس (Inhaler) کے استعمال کے بغیر دن نہیں گزار سکتا‘ وہ معذور ہے اور اس کو اس بیماری کی بنا پر روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔ اگر یہ مرض دائمی ہے تو وہ فدیہ ادا کرے۔ اگر روزہ رکھ لیا ہے اور مرض کی شدت کی بنا پر انہیلر استعمال کیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا‘ روزہ رکھنے کی استطاعت ہو تو بعد میں قضا کرے ورنہ فدیہ ادا کرے۔ ٭انتہائی درجے کے ذیابیطس کے مریض یا ایسے تمام امراض میں مبتلا مریض جن کو خوفِ خدا رکھنے والا کوئی دیندار ماہر ڈاکٹر مشورہ دے کہ وقفے وقفے سے دوا استعمال کرو یا پانی پیو یا خوراک استعمال کرو‘ ورنہ مرض بے قابو ہو جائے گا یا کسی عضو یا جان کے تلف ہونے کا اندیشہ ہے تو ایسے تمام لوگ شرعی معذور ہیں۔ اُنہیں شریعت نے رخصت دی ہے کہ روزہ نہ رکھیں اور فدیہ ادا کریں۔ لیکن اگر فدیہ ادا کر دیا ہے اور بعد میں اللہ نے اپنے فضل وکرم سے اُس بیماری سے صحت عطا کردی ‘ تو قضا بھی کرے‘ فدیہ میں دیے ہوئے مال کا ثواب اُسے مل جائے گا۔ ٭قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کا دو وقت کا کھانا مقرر کیا ہے‘ ہر روزے دار اپنے معیار اور مالی استطاعت کے مطابق فدیہ ادا کرے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ''سو جو شخص خوشدلی کے ساتھ فدیے کی مقررہ مقدار سے زیادہ ادا کرے تو یہ اُس کیلئے بہتر ہے‘‘ (البقرہ: 184)۔ فدیہ اور فطرے کی مقدار برابر ہے‘ اس لیے ہر شخص اپنی مالی حیثیت کے مطابق دوکلو گندم یا چار کلو جو یا چار کلو کھجور یا چار کلو کشمش یا پنیر کی قیمت فدیے اور فطرے (فطرانہ) کے طور پر ادا کرے۔ ہمارے ہاں جو دو کلو گندم یا اُس کے مساوی قیمت بتائی جاتی ہے‘ یہ فطرے اور فدیے کی کم از کم مقدار ہے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک میں مسافر یا عارضی مریض کو عذر کی بنا پر روزہ چھوڑنے کی رخصت دی ہے‘ لیکن یہ بھی فرمایا: ''اور اگر تم روزہ رکھ لو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے‘‘ (البقرہ: 184) حدیث پاک میں ہے: ''حضرت حمزہ بن عمرو اسلمیؓ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: میں سفر میں روزہ رکھتا ہوں اور وہ کثرت سے روزہ رکھنے والے تھے‘ آپﷺ نے فرمایا: ''تمہیں اختیار ہے چاہو تو روزہ رکھو اور چاہو تو چھوڑ دو‘‘ (بخاری: 1943)۔ مسافر یا عارضی مریض فدیہ دے کر روزے کی فرضیت سے عہدہ برا نہیں ہوں گے بلکہ اُنہیں سفر سے واپسی یا صحت یاب ہونے کے بعد عذر کی بنا پر چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنا ہو گی ۔ ٭روزہ رکھنے کی صورت میں حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت کی اپنی یا بچے کی صحت کے بگڑنے کا ظنِّ غالب ہو تو وہ رمضان کا روزہ چھوڑ سکتی ہے‘ لیکن اس کی تلافی فدیے سے نہیں ہو گی‘ بلکہ بعد میں قضا روزے رکھنا ہوں گے۔ اسی طرح ایامِ مخصوص کے دوران عورت روزہ نہیں رکھ سکتی‘ ایام ختم ہونے پر غسلِ واجب کر کے پاک ہو جائے اور چھوٹے ہوئے روزوں کے قضا روزے رکھے‘ اُن کی تلافی فدیے سے نہیں ہو گی۔ ٭جواں عمر حضرات روزے کے دوران بیوی کے ساتھ بوس وکنار سے اجتناب کریں‘ اگرچہ یہ جائز ہے‘ لیکن شہوت کے غلبے کے پیش نظر روزے کے فاسد ہونے کا خدشہ رہتا ہے‘ اس لیے احتیاط کرنا بہتر ہے۔ ٭جس نے بشری کوتاہی کی بنا پر روزہ نہ رکھا یا رکھنے کے بعد عذر کی بنا پر توڑ دیا اس پر صرف قضا لازم ہے‘ البتہ جس نے روزہ رکھ کر کسی عذر کے بغیر جان بوجھ کر توڑ دیا تو اس پر کفارہ لازم ہے‘ یہ ساٹھ روزے مسلسل رکھنا ہے اور ایک روزے کی قضا بھی لازم ہے۔ اگر کوئی ساٹھ مسلسل روزے رکھنے پر قادر نہ ہو تو وہ ساٹھ مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلائے یا اُس کے مساوی رقم دے۔ ٭غیبت کرنا‘ جھوٹ بولنا‘ چغلی کھانا‘ کسی پر بہتان لگانا‘ کسی کی عیب جوئی کرنا‘ لوگوں کو ایذا پہنچانا عام حالات میں بھی منع ہیں اور روزے کی حالت میں ان کی ممانعت وحُرمت اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ ان باتوں سے فقہی اعتبار سے تو روزہ فاسد ہونے کا حکم نہیں لگایا جاتا لیکن روزہ مکروہ ہو جاتا ہے اور روزہ دار روزے کے کامل اجرسے محروم ہو جاتا ہے۔ ٭گزشتہ رمضان کے روزوں کی قضا اس کے ذمے باقی ہے تو اگلا رمضان آنے سے پہلے اس کی قضا رکھے۔ تمام فقہائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ماہِ رمضان کے روزوں کی قضا علی الفور واجب نہیں ہے‘ لیکن بلا عذر اتنی تاخیر کرنا گناہ ہے کہ اگلا ماہِ رمضان شروع ہو جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس پر گزشتہ رمضان کے روزوں کی قضا باقی ہے تو اس کے اس رمضان کے روزے قبول نہیں ہوں گے اور جس نے نفلی روزے رکھے‘ جبکہ اس پر رمضان کے روزوں کی قضا باقی تھی‘ اس کے نفلی روزے قبول نہیں ہوں گے حتیٰ کہ وہ قضا روزے رکھ لے‘‘ (مسند احمد: 8621)
٭رمضان المبارک کے قضا روزوں کا کسی وقفے کے بغیر لگاتار رکھنا ضروری نہیں ہے‘ بیچ میں وقفہ بھی کر سکتے ہیں۔ نیز یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ گرمی کے روزوں کی قضا گرمی کے دنوں میں رکھی جائے‘ نہ یہ ضروری ہے کہ سردیوں میں قضا شدہ روزوں کی قضا سردی کے موسم میں رکھی جائے‘ اس میں شریعت نے وسعت دی ہے اور آسانی رکھی ہے‘ سال کے دوران اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی ایام میں قضا روزے رکھ سکتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved