تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     15-02-2026

بنگالی چوہدری کا انتقام

بنگلہ دیش کے الیکشن نے کئی برس پرانی یادیں تازہ کر دی ہیں۔ جب بنگلہ دیشی راہنما صلاح الدین قادر کو حسینہ واجد نے پھانسی دی تھی۔ اب ان انتخابات میں ان کے بیٹے اور بھائی بھاری اکثریت سے جیت گئے ہیں۔ اس الیکشن نے بہت کچھ یاد دلا دیا بلکہ رلا دیا ہے۔ سب کچھ کل کی بات لگتی ہے۔ 2008 ء کے الیکشن کے بعد صلاح الدین قادر چوہدری نے ڈھاکہ میں اپنے گھر کے سٹڈی روم میں افسردہ دل کے ساتھ مجھے بتایا تھا کہ حسینہ واجد کی جیت کے بعد اب ان سب کی زندگیاں مشکل ہو جائیں گی۔ وہ کسی کو نہیں چھوڑے گی۔ اپنا مخصوص خوبصورت قہقہہ لگا کر کہا : مجھے تو وہ بالکل نہیں چھوڑے گی کیونکہ وہ اور بھارتی ایجنسی مجھے پاکستان کا دوست سمجھتی ہے جو کہ ٹھیک سمجھتی ہے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا : اگر یہ بات ہے تو آپ کچھ عرصے کے لیے کہیں چلے کیوں نہیں جاتے؟ لندن یا پاکستان ہی آ جائیں۔ وہ سنجیدہ ہو کر بولے: وہ تو یہی چاہے گی تاکہ میرے خلاف کیس مضبوط کر سکے کہ میں پاکستانی تھا بنگالی نہیں‘ لیکن میں یہیں جیوں اور یہیں مروں گا۔ یہ میرا وطن ہے۔ اور کچھ عرصہ بعد وہی کچھ ہوا۔ اسحاق خاکوانی نے افسردہ خبر سنائی کہ صلاح الدین چوہدری گرفتار ہوگئے ہیں اور پھر ایک دن وہ پھانسی پر لٹکا دیے گئے۔ آج تک ان کا سوچ کا دل دکھی ہے کہ کیسا خوبصورت ہنستا مسکراتا بندہ پھانسی لگا دیا گیا اور وہی حسینہ واجد جو فرعون بن چکی تھی اور بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے لیڈروں سمیت سب کا خون پی رہی تھی آج وہ خود عدالت سے سزائے موت پا چکی ہے۔ حیران ہوں وقت کیسے بدل جاتا ہے اور آپ کی آنکھوں کے سامنے ہی یہ سب کچھ ہوتا ہے اور ہم نہیں سمجھتے۔ عمران خان کا کلپ سن رہا تھا کہ وہ کیسے امریکہ خطاب میں منہ پر ہاتھ پھیر کر واپسی پر نواز شریف کا ٹی وی‘ اے سی جیل سیل سے نکال رہے تھے اور آج خود جیل میں ملتی جلتی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن نہ یہ بات حسینہ واجد کو سمجھ آئی نہ ہی دوسرے لیڈروں کو کہ اپنے عروج کے وقت سب کو اپنا آپ بھگوان لگتا ہے۔
صدام حسین ہوں‘ حسنی مبارک یا کرنل قذافی۔ان کا جو انجام ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔ جدید تاریخ میں اگر کوئی بندہ برسوں جیل میں رہا اور باہر نکل کر بھی اس کے اندر کا انسان زندہ رہا اور وہ فرعون نہیں بنا تو وہ نیلسن منڈیلا تھاجس نے کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا۔ سب نے نیلسن منڈیلا کو اپنا ہیرو قرار دیا جس نے ذاتی دکھوں پر ملک اور عوام کے دیرپا فائدے اور معاشرے کو دوبارہ نارمل کرنے کو ترجیح دی۔ دنیا کے بڑے بڑے لیڈر اس کے ساتھ تصویر بنوانے یا ہاتھ ملانے کو اپنے لیے بڑا اعزاز سمجھتے تھے اور حیران ہوتے تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بندہ 28 سال ایک کمرے میں بند رہا اور باہر نکل کر صدر بنا تو کسی کے لیے کوئی نفرت یا انتقام کا جذبہ نہیں تھا۔ اتنی زیادہ گہرائی اور اتنی زیادہ ذہنی و روحانی تبدیلی کے لیے ان 28 برس میں کیا کچھ نہ سوچا ہوگا۔ لیکن حسینہ واجد کو دیکھ لیں کہ وہ برسوں بعد واپس آئیں تو ان کے اندر جو انتقام کے جذبات تھے وہ ان سے باہر نہ نکل پائیں اور سب کو پھانسی لگائی۔ شاید انسانی خوبیوں میں سے ایک خوبی جو خدا کو بھی بہت پسند ہے وہ دوسروں کو معاف کردینا ہے‘ ان سے انتقام نہیں لینا ۔ لہو سے بھرے ہاتھوں کو دوسرے کے لہو سے صاف نہیں کیا جاسکتا۔ لہو بھرے ہاتھوں کو صاف پانی سے ہی دھویا جاسکتا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ شیکسپیئر کے ڈرامے میکبتھ کا جنرل بھی جب اپنے بادشاہ کو قتل کر چکا ہوتا ہے اور اپنے لہولہان ہاتھ صاف کرنے لگتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ پانی اس کے ہاتھ صاف نہیں کرپا رہا۔ لہولہان ہاتھ لہو سے کبھی صاف نہیں ہوتے۔ یہ تاریخی سبق شاید حسینہ واجد بھول گئی تھی اور اس نے مخالفین کو پھانسیاں لگانا شروع کیں اور سب سے اپنا انتقام لیا۔ میں جب 2008 ء کے الیکشن میں ڈھاکہ میں تھا تو فضا حسینہ واجد کے نعروں سے گونجتی تھی۔ شیخ مجیب الرحمن کے ووٹرز بہت چارج تھے۔ نوجوان بنگالی بہت پُرجوش تھے۔ میں جس ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا وہاں تک نعرے سنتا تھا۔ میں دوپہر کو مارکیٹیں پھرتا تو صاف لگتا کہ بنگلہ دیش کی نئی نسل اب بدلنے کو تیار ہے۔ انہیں جو کچھ پاکستان کے خلاف برسوں تک سلیبس کی کتابوں میں پڑھایا گیا اُس کی فصل کاٹنے کا وقت آگیا تھا۔ پاکستان کے خلاف نعرے اور نفرت عام تھی۔ حسینہ واجد نے اپنے انتخابی نعروں میں پاکستان اور 1971 ء کی جنگ کو فوکس کیا ہوا تھا۔ اور یہ نعرے خاصے کامیاب ہورہے تھے کہ وہ الیکشن جیت کر جنگی ٹریبونلز بنا کر سب کو پھانسیاں دیں گی اور وہی کچھ ہوا ۔ جماعت اسلامی اور خالدہ ضیاکی پارٹی کے لیڈروں کو بھی پھانسیاں دی گئیں۔ اس وقت نواز شریف کی حکومت مجرمانہ طور پر خاموش رہی ورنہ انہیں چاہیے تھا کہ اس ایشو کو OIC اور اقوام متحدہ میں لے جاتی کہ جب پاکستان نے بنگلہ دیش کو قبول کیا تھا تو اس وقت یہ معاہدے بھی ہوئے تھے کہ 1971 ء کو دوبارہ اوپن نہیں کیا جائے گا۔ ڈھاکہ میں مجھے یاد ہے یہ ڈیمانڈ بھی تھی کہ پاکستان سے بھی لوگوں کو لا کر ان کا ٹرائل کیا جائے لیکن سب کو علم تھا یہ محض ایک الیکشن نعرہ ہے پھر بھی بنگالیوں کی اکثریت اس نعرے پر یقین رکھتی تھی اور یوں حسینہ واجد کو بہت بڑا ووٹ پڑا اور اس نے دھڑا دھڑ ٹریبونل قائم کر کے سمری ٹرائل کیے اور پھانسیاں لگاتی گئی۔ سوال یہ ہے کہ ان پھانسیوں سے حسینہ واجد کو کیا ملا؟ کیا بنگلہ دیش دوبارہ نارمل ملک بن گیا یا محض یہ اس کا ذاتی انتقام تھا جس کی آگ بجھ گئی؟ یا پھر اس کے پیچھے بھارت تھا جیسے اکثر بنگالی سمجھتے تھے کہ وہ سب کارروائیاں کرا رہا ہے کہ جو بھی پرو پاکستان ہے اسے پھانسی لگا دو۔ شاید یہی وجہ تھی کہ صلاح الدین قادر چوہدری کی جان بچانے کی تمام تر کوششیں جو پاکستان سے ان کے دوستوں اسحاق خاکوانی‘ محمد میاں سومرو اور دیگر نے کیں ‘ ناکام رہیں کیونکہ بھارت ان کی جان کا دشمن تھا اور انہیں بنگلہ دیش میں پاکستان کا دوست سمجھا جاتا تھا کیونکہ صلاح الدین پاکستان کی متحدہ اسمبلی کے آخری سپیکر کا بیٹا تھا‘ وہ بہاولپور صادق پبلک سکول میں پڑھا‘ اسحاق خاکوانی کے ساتھ اس کے ملتان والے گھر میں چھٹیاں گزارتا تھا اور ڈھاکہ میں پارلیمنٹ کا ممبر بن کر بھی پاکستان ضرور آتا تھا اور اس کی یہاں سب سے دوستیاں تھیں۔ کب کسی نے سوچا ہے کہ جو لوگ طاقت کے عروج پر خود کو بھگوان سمجھ کر زندگی اور موت کے فیصلے کرتے ہیں وہ بھی بہت جلد یا دیر سے خود اس تلوار کا شکار ہوتے ہیں جس سے وہ دوسروں کا سر قلم کررہے ہوتے ہیں۔ حسینہ واجد کے پاس موقع تھا کہ بنگلہ دیش کی پُرتشدد تاریخ دہرانے سے گریز کرتیں۔ بنگلہ دیش کی نوجوان نسل کو 1971ء میں نہ پھنسا دیتیں تو وہ بھی بڑا نام اور عزت کماتیں۔ جس نسل کے اندر اس نے زہر بھرا تھا اس نے ہی دو سال قبل اس کے گھر کو جلا دیا اور جس صلاح الدین چوہدری کو پھانسی دی تھی آج اس کے بیٹے اور بھائی کو بڑے مارجن سے بنگلہ دیش کا الیکشن جتوا دیا۔ بیٹا باپ کی سیٹ سنبھالے گا اور حسینہ واجد بھارت میں بیٹھ کر پھانسی کا فیصلہ سن کر دن گزارے گی۔ انسان بھلا ایک دوسرے کے زوال سے کب سیکھتے ہیں۔ انا اور انتقام سے خوفناک انسانی جبلت کوئی نہیں۔ سب کو طاقت کے عروج پر لگتا ہے کہ اپن ہی بھگوان ہیں۔ لگتا ہے صلاح الدین چوہدری کی روح نے حسینہ واجد سے اپنا بدلہ لے لیا۔ اب ہمارے اس دوست کو قبر میں برسوں بعد سکون ملا ہوگا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved