ملک کا موجودہ سیاسی منظرنامہ پیچیدہ رخ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس بار رمضان المبارک بہتر موسم میں آ رہا ہے تو افطار پارٹیوں کے نام پر سیاسی سرگرمیاں بھی جاری رہیں گی۔ اس صورتحال میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومتی سیٹ اَپ اپنی آئینی مدت پوری کر پائے گا یا پس پردہ ہونے والے وہ بندوبست منظر عام پر آنے والے ہیں جن کا تذکرہ انتخابات کے فوری بعد سے جاری ہے؟ 8فروری 2024ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں جو پارلیمنٹ وجود میں آئی اس کے بارے میں پہلے دن سے یہ تاثر تھا کہ دو بڑی جماعتوں کے درمیان یہ بندوبست کا نتیجہ ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ڈھائی سال سے کچھ ماہ پہلے ہی سیاسی حلقوں میں یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان ڈھائی ڈھائی سالہ اقتدار کا فارمولا طے پایا تھا۔ اسی معاہدے کے تحت پیپلز پارٹی نے مرکز میں حکومت کا حصہ بننے کے باوجود وزارتیں لینے سے گریز کیا تاکہ وہ براہِ راست عوامی ردِعمل اور حکومتی کارکردگی کے بوجھ سے بچ سکے۔ آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت کو ماننا پڑے گا کہ انہوں نے صدارت کا عہدہ تو لے لیا لیکن انتظامی ذمہ داریوں سے دوری اختیار کیے رکھی۔ اس وقت پیپلز پارٹی کی طرف سے یہ مؤقف اپنایا گیا تھا کہ اگر ایک ہی جماعت (مسلم لیگ ن) حکومت کرے گی تو جوابدہی اور ذمہ داری کا تعین آسان ہو گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس وقت اقتدار سے دوری اس لیے اختیار کی کیونکہ ملک کے معاشی حالات انتہائی مخدوش تھے۔ اب جبکہ معاشی اشاریوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں‘ سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک سے سرمایہ کاری کی نوید بھی آ رہی ہے تو پیپلز پارٹی اپنا پورا حصہ وصول کرنے کے لیے پر تول رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بلاشبہ کٹھن حالات میں حکومتی باگ ڈور سنبھالی اور ملک کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکال کر استحکام کی راہ پر ڈالا۔ عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کا پاکستان پر اعتماد بحال ہونا موجودہ حکومت کی کامیابی ہے ‘لیکن یہاں بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈھائی سالہ یا قلیل مدتی منصوبوں سے کوئی ملک ترقی کر سکتا ہے؟ اگر ہم اپنے پڑوس میں چین یا بھارت کو دیکھیں تو وہاں کی ترقی کا راز سیاسی تسلسل میں ہے۔ جب ایک لیڈر کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس دس یا پندرہ سال کا وقت ہے تو وہ طویل مدتی منصوبے بناتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں ہمیشہ قلیل مدتی بندوبست کیا جاتا رہا ہے۔ جس وزیراعظم کو یہ کھٹکا لگا ہو کہ اسے دو سال بعد گھر بھیج دیا جائے گا‘ وہ کبھی بھی دوررس فیصلے نہیں کر پائے گا۔ ملک کو اس وقت جس منزل کی تلاش ہے‘ وہ صرف اور صرف سیاسی تسلسل اور پالیسیوں کے استحکام سے ممکن ہے۔
سیاسی درجہ حرارت بڑھانے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق آنے والی خبروں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ پاکستانی معاشرہ جذباتی اور ہمدردانہ مزاج رکھتا ہے۔ بیماری کے معاملے پر یہاں سیاسی دشمنی کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ جب بیگم کلثوم نواز بسترِ مرگ پر تھیں اور تحریک انصاف کے بعض عاقبت نااندیش حلقوں نے ان کی بیماری کا مذاق اڑایا تو عوامی سطح پر اس کا شدید ردِعمل آیا اور پی ٹی آئی کو اخلاقی محاذ پر ہزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ اسی طرح سابق وزیر نواز شریف کی دوران حراست جب صحت خراب ہوئی اور ان کے پلیٹ لیٹس تیزی سے نیچے آنے لگے تو میڈیا نے بڑی شدت کے ساتھ ان کی صحت کا ایشو اٹھایا جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی حکومت کو انہیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینی پڑی۔ آج اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات موجود ہیں تو حکومت کو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے بلکہ حکومت کا اخلاقی فرض بھی ہے کہ سیاسی قیدیوں کے ساتھ ایسا سلوک روا نہ رکھے کہ اس سے اچھی مثال قائم ہو ۔ خان صاحب کی صحت سے متعلق ذرا بھی کوتاہی برتی گئی تو اس کا خمیازہ مسلم لیگ (ن) کو بھگتنا پڑ سکتا ہے‘ کیونکہ عوامی ہمدردی کی لہر کسی بھی بڑے احتجاج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ خان صاحب کی بیماری اصل ایشو نہیں بلکہ سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے سیاسی ڈیل کی کوششیں جاری ہیں ۔ ظاہر ہے اس مقصد کے لیے خان صاحب کا جیل سے باہر آنا ضروری ہے۔ عدالتیں آئینی حدود کی پابند ہیں تو انہیں باہر لانے کے لیے ان کی بیماری کو جواز بنایا جائے گا۔ اس ضمن میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر واقعی خان صاحب کسی ڈیل پر آمادہ ہو چکے ہیں تو پھر ان کے اس سیاسی بیانیے کا کیا ہو گا کہ وہ کسی سے ڈیل نہیں کریں گے؟
رمضان کے بعد سسٹم میں تبدیلی کے پس پردہ عوامل میں سب سے اہم مذہبی جماعتوں کا متحرک ہونا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی ملاقات ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی اتحاد کا اشارہ ہے۔ پاکستان کے عوام کے دل فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ غزہ میں جاری مظالم پر ہر پاکستانی رنجیدہ ہے۔ ایسے میں غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات بالخصوص بورڈ میں اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی مبینہ موجودگی نے مذہبی حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے 12 اپریل سے مردان سے جس ملین مارچ اور احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے‘ وہ حکومت کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے‘ کیونکہ یہ احتجاج وقت کے ساتھ ساتھ ملک کے دوسرے علاقوں تک پھیل سکتا ہے۔ اگر ہم مولانا فضل الرحمان کے ماضی کے احتجاجوں کو دیکھیں تو یہ پہلو نمایاں دکھائی دیتا ہے کہ مولانا صاحب دھیرے دھیرے پریشر بڑھاتے ہیں اور جب حتمی مرحلے تک پہنچتے ہیں تو احتجاج کا ملک گیر ماحول بن چکا ہوتا ہے اور ان کے مطالبات تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں بچتا۔ اس سے انکار کی گنجائش نہیں کہ جے یو آئی اور جماعت اسلامی دونوں کے پاس منظم سٹریٹ پاور موجود ہے۔ اگر اس تحریک میں پی ٹی آئی بھی شامل ہو جاتی ہے‘ جس کے قوی امکانات ہیں کیونکہ متعدد بار کے ناکام احتجاج کے بعد پی ٹی آئی کو اس وقت منظم عوامی طاقت کی ضرورت ہے تو یہ تگڑا اتحاد حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وفاق میں کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے؟ افواہیں گرم ہیں کہ تبدیلی صرف وفاق تک محدود رہے گی‘ صوبائی سیٹ اَپ برقرار رہے گا‘ تاہم پاکستان اس وقت کسی بھی ایسے تجربے یا سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا جو معاشی بحالی کے عمل کو پٹڑی سے اتار دے۔ اگر کسی طے شدہ منصوبے کے تحت تبدیلی ناگزیر ہے تو مقتدر حلقوں اور سیاسی شراکت داروں کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ یہ منتقلی انتہائی خوش اسلوبی سے ہونی چاہیے۔ ملک نے بڑی مشکل سے معاشی استحکام کی طرف قدم بڑھائے ہیں‘ کسی بھی قسم کی کھینچا تانی یا غیر یقینی صورتحال سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ تبدیلی اگر ارتقائی ہو تو بہتری لاتی ہے‘ لیکن اگر یہ محض بندوبست کے تحت لائی جائے تو اس کے نتائج ماضی کی طرح تلخ ہی ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عیدالفطر کے بعد شروع ہونے والا سیاسی دنگل ملک کو کس سمت لے کر جاتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved