پاکستان اور ازبکستان کے مابین ہمیشہ مثالی اور دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔ یہ تعلقات باہمی افہام و تفہیم اور مضبوط ثقافتی رشتوں پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک تجارت‘ سرمایہ کاری‘ توانائی اور عوام کے آپس کے روابط میں مزید قریبی تعلقات استوار کرنے کیلئے پُرعزم ہیں۔ ازبک صدر شوکت میرزیایف (Shavkat Mirziyoyev) کا حالیہ دورۂ پاکستان اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ اس دورے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ پاکستان اور ازبکستان اب اقتصادی ترقی کے منصوبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خطے میں اپنی مضبوط موجودگی کا احساس دلانے کے خواہشمند ہیں۔ ازبک صدر شوکت میرزیایف کو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان سے نوازا گیا جو پاک ازبک مضبوط تعلقات کے ایک روشن مستقبل کا عکاس ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین ریلوے‘ سکیورٹی‘ ترجیحی تجارت‘ موسمیاتی تبدیلی‘ مذہبی سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں 28 یادداشتوں اور تعاون سمیت 3.4ارب ڈالر مالیت کے معاہدے اہم سنگِ میل ہیں۔ ازبکستان کی جانب سے پاکستانی تاجروں کو ٹیکس میں 10سالہ چھوٹ اور آئندہ پانچ برس میں باہمی تجارت کا حجم دو ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ قبل ازیں 2017ء سے 2025ء کے درمیان ازبکستان اور پاکستان کے مابین تجارتی حجم تقریباً 30ملین ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 500 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ دونوں ممالک تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے کیلئے پُرعزم ہیں۔ صدر میرزیایف کے دورے کے دوران پاکستان نے ان کی حکومت کی معاشی کامیابیوں کو بھی سراہا جن میں دس سال کے عرصے میں جی ڈی پی کو دوگنا کرنا‘ 65لاکھ افراد کو غربت سے نکالنا اور بے روزگاری میں کمی لانا شامل ہے۔ پاکستان میں تعینات ازبکستان کے موجودہ سفیر علی شیر تختیوف نے پاک ازبک تعلقات کو فروغ دینے کیلئے اہم خدمات سرانجام دی ہیں اوردوطرفہ اقتصادی تعاون‘ تجارت اور ثقافتی روابط بڑھانے میں ان کا کلیدی کردار ہے۔ وہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ اقتصادی شراکت داری‘ باہمی دلچسپی کے امور اور تجارتی تعلقات میں استحکام اور دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کیلئے پاکستانی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔
ازبکستان کے وسطی ایشیا میں استحکام اور سلامتی کو فروغ دینے میں اہم کرداراور جنوبی ایشیا میں پاکستان کے سٹریٹجک مقام نے علاقائی معاملات میں اثر و رسوخ بڑھایا ہے ؛ چنانچہ دونوں ممالک کا خطے میں مشترکہ تعاون تاریخی تعلقات اور عصری چیلنجوں پر مبنی تزویراتی مفادات‘ اقتصادی تعاون اور علاقائی مشغولیت کے توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے ابتدائی برسوں میں اعلیٰ سطحی دوروں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا جس کا مقصد دو طرفہ تعاون کیلئے ایک مضبوط فریم ورک قائم کرنا تھا۔ پاکستان اور ازبکستان کے مابین دوطرفہ سفارتی‘ تجارتی اور ثقافتی تعلقات 1991ء سے قائم ہیں۔ 1992ء میں دونوں ممالک کے مابین دوستی اور تعاون کا معاہدہ طے پایا جس نے تجارت‘ سلامتی اور ثقافتی تبادلے میں مستقبل کے پائیدار تعلقات کی بنیاد رکھی۔ پاکستان نے 2016ء میں اشک آباد معاہدے بین الاقوامی ٹرانسپورٹ اور ٹرانزٹ روٹ میں بھی شمولیت اختیار کی تھی۔ پاکستان اور ازبکستان علاقائی تعاون کے پلیٹ فارمز جیسے ایس سی او‘ ای سی او‘ او آئی سی اور اقوام متحدہ میں مشترکہ طور پر امن کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ ازبک صدر نے حالیہ دورے کے دوران پاکستان کے دفاعی صنعتی ادارے‘ Global Industrial Defence Solutions کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف عسکری اور دفاعی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کا جائزہ لیا اور ملٹری تکنیکی تعاون کیلئے ایک روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاقِ رائے کیا گیا۔ اسی طرح دونوں ملکوں کے مابین اعلیٰ سطحی مشاورتی کونسل کو فعال رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔ پاکستان اور ازبکستان کی ثقافت اور طرزِ زندگی میں کئی قدریں مشترک ہیں۔ اردو زبان میں بھی لگ بھگ چار ہزار الفاظ ازبک زبان سے آئے ہیں۔ ازبکستان وسطی ایشیا کا اہم ملک ہے جس کی سرحدیں مغرب و شمال میں قازقستان‘ مشرق میں کرغزستان اور تاجکستان اور جنوب میں افغانستان اور ترکمانستان سے ملتی ہیں۔ ازبکستان ڈبل لینڈ لاکڈ ملک ہے‘ یعنی یہ ملک چاروں اطراف سے ایسے ممالک میں گھرا ہوا ہے جو خود بھی لینڈ لاکڈ یعنی سمندر سے محروم ہیں۔ یہ خطہ چین‘ روس‘ ایران اور ترکی جیسے بڑے ممالک میں گھرا ہوا ہے اور کثیر جہتی تناظر میں نہایت تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ ازبکستان کی قومی زبان ازبک ہے‘ جو ترک زبان کی ایک قسم ہے۔ اس ملک کی کل آبادی کا تقریباً 42فیصد تاجک النسل ہے۔
ازبکستان صدر شوکت میرزیایف کی قیادت میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ موجودہ منظرنامے میں دونوں ملکوں کے نوجوانوں کیلئے پاکستان اور ازبکستان کے مسلم رہنماؤں کی مشترکہ تاریخ اور ثقافت کو جاننا ضروری ہے۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کی پیدائش اندیجان (Andijan) میں ہوئی تھی جو ازبکستان کا ایک شہر ہے۔ پاکستان کیساتھ ثقافتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون قائم کرنے کا اقدام ازبکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے منصوبوں سے ہم آہنگ ہے‘ جو مسلم ریاستوں سے قدرتی دلچسپی کیساتھ سیاحوں کی آمد کو بڑھانے کیلئے ضروری ہے۔ پاکستان کو ازبکستان سمیت وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے تجارتی روابط کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں صرف معاہدے ہی نہیں کیے جانے چاہئیں بلکہ ان پر عملدرآمد بھی ہونا چاہیے۔ ازبکستان کی کپاس کا معیار دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر ہے۔ روس‘ چین اور یورپ ازبک کپاس کے بڑے خریدار ہیں۔ ازبکستان کم پانی کے استعمال سے زیادہ زرعی پیداوار حاصل کرتا ہے‘ ہمیں بھی ازبکستان سے یہ ٹیکنالوجی حاصل کرنی چاہیے۔ کپاس کے شعبے میں ازبک ماہرین کا تعاون پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں اضافے کیلئے انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ ازبکستان میں سوویت یونین کے دور میں پاور پلانٹس کے ذریعے بجلی کی سپلائی کی ٹیکنالوجی آئی تھی‘ بجلی کے پیداواری شعبے میں خصوصی مہارت پیدا کی گئی۔ آج بھی ازبکستان میں پاور پلانٹس کے ہزاروں انجینئر موجود ہیں۔ ہم ازبکستان سے یہ ٹیکنالوجی حاصل کر سکتے ہیں اور سستی بجلی بھی۔
پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی تعاون بڑھانا ایک مثبت قدم ہے جس میں بہت زیادہ ترقی کا امکان موجود ہے۔ پاکستان ازبکستان کیلئے جنوبی ایشیا اور دنیا کی بڑی منڈیوں میں داخلے کیلئے ایک اہم گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین معیشت‘ سیاحت اور سلامتی کے شعبوں میں مستحکم اور طویل مدتی تعلقات کی تعمیر و ترقی کیلئے ثقافتی تعلقات کو برقرار رکھنا بھی ایک اہم شرط ہے۔ اپریل 2025ء میں اسلام آباد میں ازبکستان کے سفارت خانے میں '' ازبکستان‘ شاہراہِ ریشم کا موتی‘‘ کے عنوان سے ازبکستان ٹورازم روڈ شو کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔ تاشقند اور اسلام آباد کے درمیان براہِ راست پروازوں کی توسیع بھی عملی سفارتی مقاصد کی تکمیل کرتی ہے۔ بلاشبہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات باہمی اعتماد اور مفادات پر استوار ہیں۔ دونوں ملکوں کے رہنماعلاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کا بھرپور اعادہ کر چکے ہیں کہ ان تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے گا۔ درحقیقت دونوں ممالک کی سیاسی و عسکری قیادت باہمی تجارت اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کی راہ پر گامزن ہے۔ فی الوقت سیاحت‘ تعلیمی وظائف‘ ثقافتی وفود کے تبادلے کے ذریعے عوام کے آپس کے رابطوں کو مزید مضبوط کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ مستقبل میں ازبکستان اور پاکستان وسطی اور جنوبی ایشیا کی اقتصادی ترقی میں قابلِ قدرکردار ادا کریں گے۔ ان شاء اللہ!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved