'ڈھاکہ سے واپسی پر‘ فیض صاحب نے سوال اٹھایا تھا:
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد؟
معلوم ہو تا ہے وہ برساتیں شمار ہو گئیں اور دھبے دہلنے کی رُت آ گئی۔ ایوانِ اقتدار سے حسینہ واجد کی رخصتی سے اس موسمِ گل کا آغاز ہوا۔ ماضی کی تلخ یادوں نے اپنی قیمت وصول کی اور پت جھڑ نے روانگی کا قصد کر لیا۔ نئی نسل تاریخ کے جبر سے آزاد ہوئی اور اس نے مستقبل کی طرف دیکھنے کا ارادہ کر لیا۔ بنگال پھر سے اس روایت کے ساتھ جڑتا دکھائی دے رہا ہے جو مسلم شناخت سے عبارت ہے۔ یہ شناخت اگرچہ پچپن برس کے دورِ فراق میں بھی ماند نہیں پڑی اگرچہ حسینہ نے اس کو بھارتی سیکولرازم کا یرغمال بنانا چاہا۔ اس شناخت کا فطری بندھن پاکستان کے ساتھ ہے۔ مشرقی پاکستان‘ بنگلہ دیش بن کر بھی‘ اپنی شناخت کو قربان کرنے پر آمادہ نہیں ہوا۔ جغرافیے کی تبدیلی‘ تاریخ کو بدل نہیں سکی۔ خون کے دھبے دھلے تو تاریخ نے حال کو ایک بار پھر ماضی سے جوڑ دیا۔
بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج بتا رہے ہیں کہ بنگال کی سیاست کا رخ متعین ہو گیا ہے۔ یہ رخ پاکستان کی طرف ہے۔ کرکٹ کے بحران نے بھی بتا دیا ہے کہ محبت کا زم زم بہہ رہا ہے۔ جماعت اسلامی جیت جاتی تو ہم بنگلہ دیش کو دوسرا پاکستان کہہ سکتے تھے۔ جماعت اسلامی برصغیر کی واحد سیاسی قوت ہے جو اس خطے کی مسلم شناخت کے حوالے کے طور پر آج بھی موجود ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت جماعت اسی شناخت کے لیے سرگرم تھی۔ وہ مسلم لیگ کے ساتھ نہیں تھی کہ وہ پورے برصغیر کو 'مسلم‘ دیکھنا چاہتی تھی‘ صرف مسلم اکثریتی علاقے کو نہیں۔ تقسیمِ ہند کے ساتھ‘ اس کی تنظیم بھی دو حصوں میں منقسم ہو گئی جن کا انتظامی تعلق ختم ہوا مگر نظریاتی رشتہ باقی رہا۔ پاکستان دولخت ہوا تو جماعت اسلامی پاکستان بھی دولخت ہو گئی۔ اس نے پھر تاریخ کے جبر کو قبول کیا۔ پروفیسر غلام اعظم جنہیں امیر جماعت اسلامی متحدہ پاکستان کے منصب کے لیے اہل سمجھا جا رہا تھا‘ انہیں تاریخ کے جبر نے بنگلہ دیش جماعت کا امیر بنا دیا۔ نظریاتی وحدت مگر باقی رہی۔
آج جماعت اسلامی برصغیرکی طرح تین حصوں میں بٹ چکی۔ تینوں جگہ وہ مقامی حالات کی رعایت سے منظم ہے لیکن نظریہ ایک ہی ہے کہ یہ خطہ جس طرح تکوینی اعتبار سے خدا کی حاکمیت کو تسلیم کیے ہوئے ہے‘ سماجی سطح پر بھی اس حاکمیت کو قبول کر لے۔ تینوں جگہ یہی پیغام ہے۔ برائے نام ہی سہی‘ انگریزوں کی آمد سے پہلے‘ خطے کا اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا۔ اسلام کی حکومت نہیں تھی مگر مسلمانوں کی تو تھی۔ جماعت اسلامی اس فکری وحدت کی واحد علامت کے طور پر باقی ہے۔ اگر بنگلہ دیش میں وہ اقتدار میں آ جاتی توآنے والے دور میں برصغیر کا مستقبل کچھ اور ہوتا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش تعلقات کی نوعیت بھی مختلف ہوتی۔ تاہم ہمارے لیے یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ بنگلہ دیش اب بھارت کے زیرِ سایہ نہیں رہے گا۔
اس اطمینان میں ہمارے لیے امید بھی ہے اور آزمائش بھی۔ بنگلہ دیش اگر بھارت کے تسلط سے نکلا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ پاکستان کے تسلط میں آ جائے۔ یا ہم اپنے دل میں کسی ایسی خواہش کو جگہ دیں۔ ایسی خواہشات کا انجام ہم افغانستان میں دیکھ چکے۔ ہمیں اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے‘ بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو سمجھنا ہے۔ بنگلہ دیش کی آزادی اور خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے‘ اس کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ ہمیں تاریخ اور جغرافیے کو الگ کرنا ہو گا۔ بنگلہ دیش دوبارہ مشرقی پاکستان نہیں بن سکتا۔ اس حقیقت کے اعتراف کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنا ہے۔
سقوطِ ڈھاکہ ہماری تاریخ کا المیہ ہے مگر مجھے کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی بڑی حکمت پوشیدہ تھی جو ہماری سمجھ میں اُس وقت نہیں آئی۔ اس خطے کا جغرافیہ شاید اس کا متقاضی تھا کہ یہاں ایک نہیں دو 'پاکستان‘ بنیں۔ یہاں پاکستان معرفہ نہیں نکرہ ہے۔ یعنی مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل دو ملک۔ تاریخ نے آہستہ آہستہ اس راز کو کھولا ہے۔ اگر جماعت اسلامی جیت جاتی تو شاید یہ راز پوری طرح طشت از بام ہو جاتا۔ ہمیں اس تاریخی عمل کا ادراک کرنا اور اس کی معنویت کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ بنگلہ دیش پاکستان نہیں‘ ایک آ زاد ملک ہے۔ اس آزادی کو برقرار رکھنے میں ہمیں اس کا معاون بننا ہے۔ اسی میں خیر ہے۔ ایسا خیر جو پورے خطے سے شر کو کم کر سکتا ہے۔
ہم قومی ریاستوں کے دور میں زندہ ہیں۔ بنگلہ دیش پاکستان کی طرح ایک قومی ریاست ہے۔ امتِ مسلمہ اخوت کی ایک بنیاد ہے جو ضروری نہیں کہ سیاسی بھی ہو۔ ہم نے اس اخوت کو پس منظر میں رکھتے ہوئے قومی ریاستوں کا اتحاد بنانا ہے۔ علامہ اقبال کی تجویز بھی یہی تھی۔ بنگلہ دیش کے ساتھ ہمارا تعلق اسی طرح آگے بڑھے گا جس طرح ترکیہ‘ سعودی عرب یا ملائیشیا کے ساتھ ہے۔ دوسروں کا تسلط فطری طور پر ناقابلِ قبول ہوتا ہے۔ آج بنگلہ دیش‘ نیپال یا سری لنکا میں جو بھارت مخالف جذبات پائے جاتے ہیں‘ ان کا پس منظر بھی بھارتی غلبے کی خواہش ہے۔ ہمیں ان تجربات سے سیکھنا ہے۔ ہم نے کرکٹ کے معاملے میں جس طرح بنگلہ دیش کے حق میں مہم چلائی‘ یہی دل جیتنے کا صحیح طریقہ ہے۔ تسلط اور غلبے کی نفسیات ایک منفی ردِعمل کو جنم دیتی ہے۔ افغانوں میں آج پاکستان مخالف جذبات کا ایک سبب یہ بھی رہا جسے مبالغہ آمیزی کے ساتھ پاکستان کے خلاف استعمال کیا گیا۔
طارق رحمن صاحب کو یقیناً اندازہ ہو گا کہ ان کی والدہ کو وزیراعظم بنوانے میں کون کون سے عوامل کارفرما تھے۔ اگر وہ ان کا ادراک کر پائے تو پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ نئی کابینہ کا انتخاب کیسے کرتے ہیں۔ اگر وہ پاکستان دوست پالیسی اپنائیں گے تو انہیں پوری پارلیمان کا اعتماد حاصل رہے گا۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی تشدد پر یقین نہیں رکھتی۔ ریاست کے بے پناہ ظلم کے جواب میں جماعت نے صبر کی حکمتِ عملی اپنائی۔ انہوں نے مظلومیت کو اپنی طاقت بنایا اور بنگلہ دیش کے سنجیدہ ووٹر نے اس کی قدر کی۔ امکان یہی ہے کہ طارق رحمن کو ایک سنجیدہ اور باوقار اپوزیشن کاسامنا ہو گا۔ یہ بنگلہ دیش کے لیے بھی نیک شگون ہے۔ اس سے سیاسی استحکام پیدا ہو گا جو معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
جماعت اسلامی نے پارلیمانی سیاست میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک مذہبی جماعت سے شاید اس سے بہتر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ جماعت کی سیاست کا تجزیہ اس وقت میرے پیش نظر نہیں۔ یہاں صرف یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ جماعت کو اپنی تحدیدات کا درست اندازہ کرنا ہے۔ اگر خواہشات کو حد سے زیادہ کر لیا تو یہ جماعت کے لیے اچھا شگون ہو گا نہ بنگلہ دیش کے لیے۔ یہ بات بھی پیش نظر رکھنی ہو گی کہ یہ انتخابات عوامی لیگ کو انتخابی عمل سے علیحدہ رکھ کر کرائے گئے۔ عوامی لیگ بدستور ایک سیاسی قوت ہے۔ اس کو صرف اچھی گورننس اور استحکام ہی سے کمزور کیا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگرطارق رحمن صاحب اور جماعت اسلامی‘ دونوں کو ایک بار پھر اس عفریت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بھارت کی پوری کوشش ہو گی کہ عوامی لیگ کے لیے راستہ ہموار ہو۔ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے‘ دونوں کو ایک دوسرے کا معاون بننا ہوگا۔ پاکستان کا مشورہ بھی یہی ہونا چاہیے کہ دونوں ساتھ مل کر چلیں۔
تاریخ ایک نئے دور میں قدم رکھ رہی ہے۔ فیض صاحب نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا: 'پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد‘؟ آج ان کی روح آسودہ ہو گی کہ ہم پھر سے آشنا بن گئے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved