تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     17-02-2026

زرداری صاحب کی قید اور مانڈو خان صاحب کا بخار

صدر آصف علی زرداری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ مفاہمت کے سیاستدان ہیں۔ نوواردانِ سیاست کا کُل سیاسی اثاثہ تو خاندانی وراثت اور اپنے لیڈر کی مدح سرائی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں لیکن صدر آصف علی زرداری تو ماشاء اللہ منجھے ہوئے بلکہ حد درجہ کائیاں سیاستدان ہیں اور سوائے اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے واقعے کے علاوہ ان کے منہ سے کبھی کوئی غیر محتاط جملہ ادا نہیں ہوا۔ سیاست میں مطلب براری اور ذاتی فائدے کیلئے وعدوں کو سطحی حیثیت دینے والے زرداری صاحب عام طور پر جذباتی ہونے یا بلاوجہ کسی کو برانگیختہ کرنے کے قائل نہیں ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے فرمایا کہ میں نے چودہ سال جیل کاٹی‘ آج کا لیڈر ڈیڑھ سال میں چلانا شروع ہو گیا ہے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ اول تو یہ صدرِ پاکستان کا منصب نہیں کہ وہ ایسی خواہ مخواہ کی پُر فتن گفتگو کریں اور خاص طور پر جب وہ خود بھی قید وبند کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
زرداری صاحب کے بیان کا دوسرا حصہ میرا موضوع نہیں ہے؛ تاہم مجھے انکے بیان کے پہلے حصے کے بارے میں جو شکوک وشبہات ہیں انکے بارے میں اگر میں کچھ حقائق بیان کر دوں تو اس میں چنداں حرج نہیں ہے۔ زرداری صاحب نے فرمایا کہ میں نے چودہ سال جیل کاٹی ہے۔ مجھے دراصل اس چودہ سال کے عرصے کے بارے میں یقین ہے کہ یہ مبالغہ آمیزی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے خوب چھان پھٹک کی ہے مگر یہ چودہ سالہ قید کسی بھی صورت میں کہیں سے بھی ثابت نہیں ہوتی۔ پہلے پہل جب زرداری صاحب کی جیل کاٹنے کی مدت کا ذکر ہوتا تھا تو یہ مدت دس‘ گیارہ سال کہی جاتی تھی۔ پھر یہ آہستہ آہستہ بڑھتی گئی۔ ویسے تو اس دس گیارہ سالہ مدتِ قید بارے بھی بہت کہانیاں ہیں اور یہ کہانیاں عبرت انگیز ہونے کے بجائے خاصی مزیدار ہیں اور ان میں ایک دو صنعتکاروں کی سرپرستی اور کئی 'پردہ نشینوں‘ کے نام نامی آتے ہیں۔ جیل سے ہسپتال منتقلی اور ہسپتال میں گزرے ہوئے وقت کے قصے شرجیل میمن کے جیل سے ہسپتال منتقلی والے واقعے سے کہیں زیادہ روشن اور بالتفصیل ہیں۔ شرجیل میمن تب سندھ انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کرپشن کیس میں 5.76 ارب روپے کے نیب ریفرنس میں اندر تھے‘ جب ان کو طبیعت کی ناسازی کے باعث جیل سے ضیا الدین ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ کسی ہوائی شکایت پر تب کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے انکے ہسپتال والے کمرے میں چھاپہ مارا۔ چیف جسٹس موصوف کو اس قسم کے ڈراموں کا بڑا شوق تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ وہ ان ڈراموں کے ہٹ ہونے کے سبب ملکی عدلیہ کی تاریخ میں خاص مقام حاصل کر لیں گے مگر صد افسوس کہ موصوف کی ساری امیدیں خاک میں مل گئیں اور اب وہ پاکستان کے نظام عدل وانصاف میں چند متنازع ترین بلکہ راندۂ درگاہ شخصیات میں شامل ہیں۔ خیر‘ اس چھاپے کا جو نتیجہ نکلا وہ بھی بہت مضحکہ خیز ہے۔ میمن صاحب کے کمرے سے پکڑی جانے والی مبینہ شراب بعد ازاں شہد ثابت ہو گئی۔ حیرانی کی بات یہ نہیں کہ مشروب کی باطنی ہیئت تبدیل ہو کر ناپاک سے پاک میں بدل گئی بلکہ حیرانی اس بات کی بھی ہے کہ شراب جیسی خالص مائع شے شہد جیسی گاڑھی چیز میں بدل گئی۔ بہرحال قصہ یہ ہے کہ زرداری صاحب بھی دورانِ قید پمز‘ پولی کلینک اور پیپلز پارٹی کے پسندیدہ ترین ضیا الدین ہسپتال میں داخل رہے۔ یاد رہے کہ اس ہسپتال کے چیئرمین ڈاکٹر عاصم نہ صرف پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں بلکہ وہ پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹ کے رکن بھی رہے ہیں۔ دورانِ قید والی مشغولیات کی تفصیل سے اگر آپ کو دلچسپی ہے تو اس سلسلے میں نامور صحافی ضیا شاہد مرحوم کا مبشر لقمان کے ساتھ پروگرام سن لیں۔
زرداری صاحب پہلی بار 1990ء میں گرفتار ہوئے اور 1993ء میں رہا ہوئے۔ دوسری بار وہ 1996ء میں گرفتار ہوئے اور آٹھ سال قید میں رہنے کے بعد 2004ء میں رہا ہوئے۔ تیسری بار وہ جون 2019ء میں پکڑے گئے اور چھ ماہ تک جیل میں رہے۔ یہ کل گیارہ سال بنتے ہیں۔ یہ مدت بھی کم نہیں اور قید بہرحال قید ہی ہوتی ہے۔ اس فقیر کو قید کی تکلیف اور صعوبت کا خوب اندازہ ہے حالانکہ اس قید کی مدت نہ ہونے کے برابر تھی۔ قید کی مدت دورانِ قید تو بڑھتی ہے لیکن بعد از رہائی مدت کا بتدریج بڑھنا صرف زرداری صاحب کے کیس میں ہی دیکھا ہے جو گیارہ سال سے کبھی چودہ سال اور کبھی سترہ سال تک بھی سنی ہے۔ ایسے میں ظہیر احمد ظہیر کا ایک شعر یاد آتا ہے:
یہ رائیگانی بھی کیا خوب ہے‘ زمیں کی طرح
پڑے پڑے ہی مرے دام بڑھتے جاتے ہیں
سزا کی مدت پڑے پڑے بڑھ جانے پر ایک اور واقعہ یاد آ گیا۔ اس واقعے کے راوی جناب امجد اسلام امجد مرحوم تھے۔ ان کو ایسے بہت سے واقعات نہایت تفصیل اور صحت کے ساتھ یاد تھے۔ انہوں نے یہ واقعہ تو بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ سنایا تاہم جگہ کی قلت کی وجہ سے اسے اختصار کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ کہنے لگے: یہ تب کی بات ہے جب مشہور کلارنٹ نواز استاد صادق علی مانڈو خان صاحب ریڈیو پاکستان لاہور میں شعبہ میوزک کے سربراہ تھے۔ وہ ترقی کرتے کرتے اس عہدے اور گریڈ تک پہنچے۔ اسی اثنا میں وہاں کسی اور محکمے سے ڈائریکٹ بھرتی ہونے والا نوجوان افسر ڈیپوٹیشن پر سٹیشن ڈائریکٹر کے طور پر آ گیا۔ اس افسر نے آتے ہی آفس آرڈر جاری کیا کہ ریڈیو سٹیشن کے تمام افسر‘ ملازم اور فنکار صبح اتنے بجے آئیں اور شام اتنے بجے تک ریڈیو سٹیشن میں حاضر رہیں۔ استاد مانڈو خان صاحب سہ پہر کے بعد ریڈیو سٹیشن آتے تھے۔ میوزک دیتے تھے‘ دھنیں بناتے تھے اور دیگر فنکاروں کے ہمراہ رات گئے تک اپنے کام میں مصروف رہتے تھے۔ اس دوران وہ دفتری اوقاتِ کار کے آٹھ گھنٹوں سے کہیں زیادہ وقت اپنے کام کو دیتے۔ وہ اس آفس آرڈر کے باوجود اپنے اسی پرانے معمول کے مطابق سہ پہر کو آتے رہے۔ دو دن بعد سٹیشن ڈائریکٹر نے انہیں اپنے دفتر میں طلب کیا اور ان کی تاخیر سے آمد پر باز پرس کی۔ خان صاحب جلال میں آ گئے اور کہنے لگے کہ ہم فنکار اسی وقت آتے ہیں‘ میں اپنا کام اپنے اور فنکاروں کے وقت کے حساب سے خوب اچھی طرح کر رہا ہوں۔ تاہم آپ مجھے آرڈر دینے والے کون ہیں؟ اس نے کہا کہ میں آپ کا افسر ہوں۔ خان صاحب کہنے لگے: تم میرے افسر کیسے ہو سکتے ہو؟ میری سروس تم سے زیادہ ہے‘ میرا تجربہ تم سے زیادہ ہے‘ میری عمر تم سے زیادہ ہے اور میرا گریڈ بھی تم سے زیادہ ہے۔ وہ کہنے لگا: مجھے ایک اضافی گریڈ ڈیپوٹیشن کی وجہ سے ملا ہے اور میں آپ کے برابر گریڈ کا ہوں تاہم میری تنخواہ آپ سے زیادہ ہے۔ خان صاحب نے پوچھا: وہ کیسے زیادہ ہے؟ تو افسر نے کہا کہ میری بنیادی تنخواہ تو آپ سے کم ہے مگر الائونسز وغیرہ ڈال کر آپ سے زیادہ بن جاتی ہے۔ خان صاحب نے یہ سنا تو خاموش ہو گئے اور وہاں سے چل دیے اور اگلے کئی روز وہ ریڈیو سٹیشن نہ آئے۔ بندہ گھر بلانے گیا تو جواب دیا کہ مجھے 111 بخار ہے، میں نہیں آ سکتا۔ دو تین دن بعد ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار علی (زیڈ اے) بخاری تشریف لائے تو افسر نے انہیں سارا معاملہ گوش گزار کیا۔ بخاری صاحب نے اپنا ڈرائیور بھیج کر مانڈو خان کو دفتر بلوایا۔ چادر اوڑھے خان صاحب آ گئے۔ بخاری صاحب نے کہا: خان صاحب خیر ہے آپ آ نہیں رہے۔ خان صاحب کہنے لگے: مجھے 111 بخار تھا۔ بخاری صاحب نے ہنس کر کہا: خان صاحب! حد 108 ٹمپریچر پر بندہ مر جاتا ہے اور آپ 111ڈگری کے باوجود زندہ ہیں؟ خان صاحب کہنے لگے: بخاری صاحب! دراصل بخار تو مجھے 104 ڈگری تھا لیکن الائونس شلائونس ڈال کر مل ملا کر 111 ڈگری ہو گیا تھا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved