تحریر : سلمان غنی تاریخ اشاعت     17-02-2026

بنگلہ دیش میں بڑی ’’سیاسی تبدیلی‘‘

بنگلہ دیش میں حالیہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کو جہاں بنگلہ دیش کے اندرونی استحکام بارے اہم قرار دیا جا رہا ہے وہیں اسے خطے کی سیاست کیلئے بھی مثبت اثرات کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ وہ کون سے عوامل تھے جن کی بنا پر بنگلہ دیش میں یہ خوشگوار جمہوری تبدیلی ممکن ہوئی‘ اس میں بنیادی کردار تو نوجوانوں کے اس ردعمل اور احتجاجی تحریک کا تھا جس نے بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی جابر حکومت کو ختم کیا اور دنیا کو بتایا کہ ظلم و جبر اور ریاستی طاقت کے استعمال کے ذریعہ حکومتیں اپنا تسلط قائم نہیں رکھ سکتیں۔ سیاسی جماعتیں مصلحت کا شکار ہو کر خاموشی اختیار کر سکتی ہیں لیکن نوجوانوں کو زیادہ دیر تک خاموش اور پابند نہیں رکھا جا سکتا‘ اور جب نوجوان کسی تبدیلی کا عزم کر لیں تو پھر انہیں اپنے مقاصد کے حصول سے باز نہیں رکھا جا سکتا۔ لہٰذا نوجوانوں کی مضبوط اور مؤثر جدوجہد کے نتیجے میں نہ صرف حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا بلکہ وہ بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت میں پناہ لینے پر مجبور ہوئیں۔ اس سیاسی تبدیلی کی وجہ سے جہاں بنگلہ دیش میں نئے انتخابات کی طرف پیش رفت ہوئی وہیں ان انتخابات کیساتھ ہونیوالے ریفرنڈم میں آئینی اصلاحات کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے۔ رائے دہندگان کی جانب سے ریفرنڈم میں جس اصلاحاتی ایجنڈا کے حق میں ووٹ دیا گیا اس میں گڈ کورننس‘ جمہوریت اور سماجی انصاف کو مضبوط بنانے اور اقتدار کو افراد تک محدود رکھنے کے بجائے اسے وسیع تناظر میں رکھا جانا ضروری ہے۔ یہ اصلاحاتی ایجنڈا بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے قائم کردہ قومی اتفاقِ رائے کمیشن نے تیار کیا تھا اور اس میں عام سیاسی جماعتوں کی مشاورت بھی شامل تھی۔ یعنی بی این پی کی حکومت کی رہنمائی کیلئے قوم نے کچھ نکات متعین کیے ہیں جن پر حکومت کو عملدرآمد کرنا ہو گا۔ مطلب یہ کہ بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات اور ریفرنڈم ملک کے سیاسی‘ جمہوری اور معاشی مستقبل کے حوالے سے بامقصد تھے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے انتخابی نتائج بارے تحفظات کے باوجود انہیں تسلیم کرتے ہوئے مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن کا انتخابی نتائج بارے ایک پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ہم مخالفت برائے مخالفت کی سیاست کے بجائے مل کر بنگلہ دیش کو آگے بڑھائیں گے۔ جماعت اسلامی اور اس کی لیڈر شپ کے انتخابی نتائج پر ردِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ممکنہ نتائج کا ادراک رکھتے تھے۔
یہاں اس تلخ حقیقت کا اظہار بھی ضروری ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد عوامی لیگ پر لگنے والی پابندیاں بی این پی اور جماعت اسلامی دونوں کیلئے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان ایک غیراعلانیہ معاہدہ تھا کہ ہمیں نئی صورتحال میں ایسا طرزِ عمل اختیار نہیں کرنا جس کے نتیجہ میں تناؤ یا ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو بلکہ ملکی مفاد کیلئے انتخابی عمل اور اس کے نتائج کو بھی خوشدلی سے قبول کرنا ہو گا۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران بنگلہ دیش کے حالات اور سیاسی معاملات کا تجربہ یہی ہے کہ ووٹ کی طاقت کو بروئے کار لا کر بنگلہ دیش میں استحکام کو یقینی بنایا جائے۔ انتخابات سے قبل میڈیا کے سرویز میں یہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے لیکن سنجیدہ حلقے اپنی رائے میں محتاط نظر آ رہے تھے‘ ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ جماعت اسلامی نے بھرپور اور مؤثر انتخابی مہم چلائی لیکن بی این پی کو فیصلہ کن اکثریت ملے گی۔ اور پھر یہی ہوا‘ بی این پی 212 سیٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر جبکہ جماعت اسلامی اتحاد 78 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ یہاں اس بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ جماعت اسلامی کو بیس سال بعد انتخابات میں حصہ لینے کا موقع ملا ہے‘ اس سے پہلے جماعت اسلامی پر حسینہ واجد کی حکومت نے پابندی لگا رکھی تھی۔ جماعت اسلامی کے گیارہ بڑے رہنماؤں کو پھانسی اور ہزاروں افراد کو پابند سلاسل رکھا گیا تھا۔ لہٰذا حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی کا بڑا سیاسی انتخابی کردار سامنے آیا ہے۔ جماعت اسلامی کے اپنے سنجیدہ حلقے انتخابات میں اپنی دوسری پوزیشن کو مستقبل کی سیاست میں بڑے کردار کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ جہاں تک بی این پی کو ملنے والی واضح اکثریت کا تعلق ہے تو بی این پی بنگلہ دیش کی سیاست کی ایک بڑی حقیقت رہی ہے۔ طارق الرحمن کے والد ین یہاں حکمران رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے مقابلے میں بی این پی کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ طارق رحمن کی وطن واپسی اور بیگم خالدہ ضیا کی وفات کے باعث ہمدردی کی فضا بھی بی این پی کے ساتھ تھی۔ جماعت اسلامی کے حوالے سے بہت سے ملکی اور غیرملکی قوتیں خوفزدہ تھیں کہ جماعت کے برسراقتدار آنے کی صورت میں بنگلہ دیش میں غیریقینی پیدا ہو گی۔ ایک اور اہم فیکٹر یہ بھی تھا کہ عوامی لیگ پر پابندی اور حسینہ واجد کے بھارت جانے کے بعد ان کا ووٹر جماعت اسلامی پر پابندی کے خاتمے کو ہضم نہیں کر پا رہا تھا۔ بھارتی لابی بھی جماعت اسلامی کی بنگلہ دیش کی سیاست میں واپسی پر پریشان نظر آ رہی تھی۔ لہٰذا انتخابات سے قبل ہی یہ تاثر موجود تھا کہ جماعت اسلامی حکومت نہیں بنا سکے گی۔ البتہ حسینہ واجد حکومت کے خاتمے میں بڑے کردار ادا کرنے والی نوجوانوں کی تنظیم این سی پی صرف چھ نشستیں حاصل کر سکی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام حسینہ واجد حکومت کے خاتمہ میں تو ان کے کردار کے معترف تھے لیکن قومی مستقبل کیلئے وہ سنجیدگی‘ فکر اور تحمل کو ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انتخابات کے بعد اب نوجوانوں کا کردار ختم ہو جائے گا‘ یہ اپوزیشن میں جماعت اسلامی کے اتحادی ہیں اور ان کا حکومت پر دباؤ قائم رہے گا۔
جہاں تک بنگلہ دیش میں آنے والی سیاسی تبدیلی کا تعلق ہے تو بی این پی اور جماعت اسلامی دونوں کو انڈیا مخالف سمجھا جاتا رہا ہے۔ حسینہ واجد کے دور میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے لیکن بنگلہ دیش میں آنے والی نئی سیاسی تبدیلی کو پاکستان کیلئے اچھا سمجھا جا رہا ہے۔ خالدہ ضیا کی حکومت میں بنگلہ دیش کے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے‘ اور اب بی این پی کی نئی حکومت میں یہ سلسلہ بحال ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش مل کر جنوبی ایشیا میں استحکام اور تعاون کو فروغ دیں گے۔ پاکستان میں بھی بنگلہ دیش میں آنے والی سیاسی تبدیلی پر خوشی کا اظہار ہو رہا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے بی این پی کے سربراہ طارق رحمن کو فون پر جہاں انتخابی جیت پر مبارکباد دی وہاں انہیں وزیراعظم بننے کے بعد پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی طارق رحمن کو مبارکباد کے پیغامات بھیجے ہیں‘ جنہیں دو طرفہ تعلقات اور معاشی معاملات کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی طارق رحمن کو مبارکباد دی ہے اور ان سے اچھے تعلقات کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بی این پی کی کامیابی پاکستان کیلئے مثبت پیش رفت ہے مگر نئی حکومت کو بھارت سے بھی سفارتی تعلقات قائم رکھنا ہوں گے۔ بنگلہ دیش میں آنے والی سیاسی تبدیلی کو بھارت ہضم نہیں کر پائے گا اور بنگلہ دیش کے حوالے سے اپنی طے شدہ حکمت عملی پر گامزن رہے گا۔ بنگلہ دیش کی قیادت یہ بات بھول نہیں پا رہی کہ عوامی لیگ کی لیڈر حسینہ واجد کو بھارت نے پناہ دے رکھی ہے اور باوجود انتخابی فتح حاصل کرنے کے حسینہ واجد کی بھارت میں موجودگی کو بنگلہ دیش کی سیاست میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بنگلہ دیش میں سیاسی تبدیلی کے عمل کو خطے میں چین کے بڑھتے کردار کے حوالے سے بھی خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے‘ اسلئے کہ چین بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کرتا رہا ہے۔ البتہ بنگلہ دیش کی نئی حکومت کی اولین ترجیح اپنے اندرونی مفادات اور سیاسی استحکام رہے گا اور اس حوالے سے بنگلہ دیش کی سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک متفقہ فارمولہ طے ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved