بنو زبید کے شخص کی مدد کرنے کے بعد مکہ کے نوجوان شرفا نے عہد کیا کہ وہ ہر مظلوم کی مدد کریں گے اور اس کام کو مستقلاً جاری رکھیں گے۔ اس سلسلے میں جو عہد کیا گیا اسے ''حلف الفضول‘‘ کہا جاتا ہے۔ الفضول کا معنی ہے کہ وہ چیز جو ظلم کے ساتھ چھینی جائے۔ نبی اکرمﷺ اعلانِ نبوت کے بعد بھی فرمایا کرتے تھے: ''میں نے عبداللہ بن جدعان کے گھر میں جو حلف اٹھایا تھا‘ آج اسلامی دور میں بھی اگر کوئی مجھے اس کی طرف دعوت دے تو میں لبیک کہوں گا‘‘۔ (البدایۃ والنہایہ‘ ج: 1‘ طبع دارِ ابن حزم‘ بیروت‘ السیرۃ الحلبیہ‘ ج: 1‘ دارالکتب العلمیہ‘ بیروت)۔ عبداللہ بن جدعان حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد حضرت ابوقحافہؓ کے چچا زاد بھائی اور شریف النفس سردار تھے۔
حلف الفضول کو الفضول کہنے کی تین وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ حلف میں جتنی باتیں کی گئی تھیں وہ اخلاقی فضائل کے زمرے میں آتی ہیں۔ دوسری یہ کہ فضول اس متاع کو کہا جاتا ہے جو جبر وظلم سے چھین لی جائے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ اس حلف میں شامل ہونے والے افراد میں سے تین کے نام فضل (فضل بن فضالہ‘ فضل بن وداعہ اور فضیل بن حارث) تھے۔ مؤرخ حلبی نے اپنی تاریخ میں مزید ایک وجہ بیان کی ہے کہ ان لوگوں نے یہ بھی حلف اٹھایا تھا کہ اپنی کمائی میں سے ضروریات سے زائد یعنی فضول مال مہمانوں کی ضیافت کے لیے خرچ کیا کریں گے۔ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ تین نہیں چار ارکانِ حلف اس نام سے موسوم تھے: چوتھے شخص کا نام ابن کثیر نے الفضل بن شراعہ (یا بعض نے فضل بن قضاعہ) بیان کیا ہے۔ (البدایۃ والنہایہ‘ ج: 1‘ ص: 416)۔
نبی اکرمﷺ اپنی پوری حیاتِ طیبہ میں جب بھی اس حلف کو یاد کرتے تو اس کی تعریف ضرور فرماتے۔ ایک مرتبہ آپﷺ نے فرمایا: عبداللہ بن جدعان کے گھر پر میں نے جس حلف میں حصہ لیا تھا (مجھے اس کا اتنا احترام ہے کہ) اگرکوئی مجھے سرخ اونٹوں کا گَلہ بھی پیش کرے تو میں اس حلف کو ہرگز نہیں توڑوں گا۔ آج دورِ اسلام میں بھی مجھے کوئی اس حلف کی طرف بلائے گا تو میں اس کا مثبت جواب دوں گا۔ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ زمانۂ جاہلیت میں قریش کے اہلِ خیر نے جتنے اچھے کام کیے ہیں‘ ان میں سے یہ ایک بہت عظیم کارنامہ ہے۔ آنحضورﷺ کی بعثت سے قبل اس واقعہ کا ظہور اللہ کی طرف سے ایک خاص نعمت تھی جس پر آنحضورﷺ نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
آج بھی بعض مقامات پر غیرت مند افراد اور نوجوانوں کے کئی واقعات ہمارے علم میں ہیں جب انہوں نے اپنے گائوں‘ بستی یا گلی محلے میں ایک یونین یا جمعیت اس مقصد کے لیے بنائی کہ ظلم کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں گے اور مظلوم کی دادرسی کریں گے۔ اگر پولیس‘ کچہری‘ عدالت میں بھی اس کارِ خیر کے لیے جانا پڑا تو پورے عزم کے ساتھ یہ فریضہ ادا کریں گے۔ اس کے نتیجے میں کئی بستیاں امن کا گہوارہ بن گئیں۔ اگر ہر جگہ اس طرح کی مثالیں سامنے آنے لگیں تو ظلم و زیادتی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ یہاں عام روش یہ ہے کہ بے چارہ مظلوم بے وسیلہ اور بے سہارا ہونے کی وجہ سے سرکاری انتظامیہ اور کچہری عدالت سے بھی اپنا حق نہیں پا سکتا اور ظالم ظلم کے ساتھ مزید دھمکیاں دے کر خاندانوں کے خاندان تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ ہماری تحریر کا مقصد اس اندھیر نگری کے خلاف عوام کے اندر آگہی پیدا کرنا اور ظلم کے مقابلے پر جدوجہد کے لیے نوجوانوں کو آمادہ کرنا ہے۔
حلف الفضول کو اسلامی تاریخ میں ہمیشہ بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ بعد کے ادوار میں جب بھی کسی کے ساتھ ظلم ہوا‘ خواہ کسی عام افراد کی طرف سے یا کسی حکومتی کارندے کی طرف سے‘ تو اس کا مداوا کرنے کے لیے مظلومین نے حلف الفضول کا حوالہ دیا اور اہلِ ضمیر لوگوں نے اس پر لیک کہا۔ ہماری نظر سے اسی باب میں ایک دلچسپ روایت گزری ہے جس کے مطابق ولید بن عتبہ بن ابی سفیان (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے) اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے مابین ایک تنازع پیدا ہوا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں ولید جب مدینہ کا گورنر مقرر ہوا تو اس نے اپنی قوت کے بل بوتے پر سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی ایک جائیداد جو ذوالمروہ کے مقام پر تھی‘ قبضے میں لے لی اور گورنری کا رعب جمانے لگا۔ سیدنا امام حسینؓ گورنر ہائوس میں تشریف لے گئے اور آپ نے فرمایا: ''اے ولید! تم میری جائیداد سے قبضہ اٹھا لو‘ اگر ایسا نہ کرو گے تو میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ پھر میں اپنی تلوار نکال لوں گا اور مسجد نبوی میں کھڑے ہوکر اعلان کروں گا کہ اے اہلِ ایمان! آج پھر حلف الفضول کو دہرانے کا لمحہ آگیا ہے‘‘۔
حضرت عبداللہؓ بن زبیر بھی اس وقت وہاں موجود تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حسین کا حق اگر واپس نہ کیا گیا تو میں بھی اس کے حصول کے لیے اپنی تلوار نکال کر اس کے ساتھ کھڑا ہو جائوں گا۔ پھر یا تو اس کا حق دلوا کے رہوں گا یا جان کی بازی لگا دوں گا۔ ایک اور صحابی حضرت مسور بن مخرمہ بن نوفل زہریؓ تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے بھی یہی اعلان کیا جو ابن زبیر نے کیا تھا۔ پھر اس تنازع کی خبر حضرت عبدالرحمن بن عثمان بن عبداللہ تیمیؓ تک پہنچی تو انہوں نے بھی وہی الفاظ دہرائے۔ والیٔ مدینہ ولید بن عتبہ کو جب اس صورت حال کا پتا چلا تو اس نے حضرت حسینؓ کا حق انہیں واپس دے کر راضی کر لیا۔ (البدایۃ والنہایۃ‘ ج: 1‘ ص: 417)۔
حق دار کے حق میں آواز اٹھانا اور اس کا حق دلانے کی کاوش اللہ کے محبوب ترین اعمال میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی آمد کا مقصد بھی قرآن کریم نے یہی بیان کیا ہے کہ اللہ کے زمین پر اس کی مخلوق کے درمیان عدل قائم ہو اور ظلم مٹ جائے۔ ''لیقوم الناس بالقسط‘‘۔ مظلوم کے حق میں اگر لوگ اٹھ کھڑے ہوں تو ہر دور میں اہلِ اقتدار کو ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔ المیہ یہ ہوتا ہے کہ معاشروں کے اندر بے حسی اور ذاتی وانفرادی مفادات تک سوچ کو محدود کر لینے کے نتیجے میں ظالم منہ زور ہو جاتا ہے اور مظلوم بے بس ومجبور بن کر یا تو چپ سادھ لیتا ہے یا تنہا دھکے کھاتا پھرتا ہے۔ سنّتِ رسولﷺ کس قدر واضح ہے کہ ظلم کا خاتمہ شانِ مومنانہ بھی ہے اور فرضِ عین بھی۔ آج اس جذبے کو پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ہر معاشرے میں انفرادی سطح پر بھی مظالم کی انتہا ہو گئی ہے اور مسلمانوں کے پورے معاشرے اور ساری آبادی کو بھی ظلم کے ساتھ مٹانے کا شیطانی عمل زوروں پر ہے۔ کشمیر وفلسطین اور سرزمین ہند پر مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دینے کے منصوبے مسلسل جاری ہیں۔ ان مظلوموں کی دادرسی کے لیے کوئی مسلم حکومت میدان میں نہیں ہے۔ نام نہاد ''امن بورڈ‘‘ تو ٹرمپ کا ایسا جال ہے جس میں مسلم حکمرانوں کو پھانس کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم کا اس میں شریک ہونا سخت ناپسندیدہ ہے کہ لاکھوں فلسطینیوں کا قاتل نیتن یاہو اور پاکستانی وزیراعظم ایک ہی صف میں کھڑے اور بیٹھے ہوں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved