کل رات اسحاق خاکوانی صاحب سے بات ہو رہی تھی۔ اُن سے پوچھا کہ 2014ء میں بھی دھرنا ہو رہا تھا اور آج جب آپ سے بات کر رہا ہوں تب بھی پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کا دھرنا جاری ہے۔ فرق صرف یہ پڑا ہے کہ اُس وقت جو لوگ دھرنے میں شریک تھے‘ ان میں سے بہت سے ایک ایک کر کے پارٹی سے نکل گئے یا انہیں نکال دیا گیا۔ آپ بھی 2014ء والے دھرنے کے بانیوں میں سے تھے‘ آج آپ کا پی ٹی آئی سے دور نزدیک کا واسطہ نہیں‘ نہ ہی جہانگیر ترین کہیں موجود ہیں‘ آپ کو اب لاہور میں بیٹھ کر کیسا محسوس ہو رہا ہے؟ ان بارہ برسوں میں بہت بڑی تبدیلیاں آ گئی ہیں۔ کس نے سوچا تھا کہ نواز شریف‘ مریم نواز‘ شہباز شریف سے آصف زرداری تک سب جیل کاٹ کر ملک کے صدر‘ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بن جائیں گے اور وہی عمران خان جنہوں نے ان سب کو جیل میں ڈالا تھا‘ خود جیل میں ہوں گے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ عمران خان جیسا بڑا ہیرو بھی ایک دن سیاست کے چکر میں جیل جا بیٹھے گا۔ اس بات پر بہت سے لوگ ہمیں طعنے دیتے ہیں تو میں اُن سے اکثر پوچھ لیتا ہوں کہ کیا عمران خان میری یا آپ کی کسی غلطی یا فیصلے کی وجہ سے جیل میں بیٹھے ہیں؟ سب کہتے ہیں کہ نہیں! ان کے اپنے فیصلے تھے اور اپنی غلطیاں۔ سب مانیں گے بلکہ خود ہی ان کی غلطیاں گنوانا شروع کر دیں گے۔ بس ان کے پاس صرف ایک ہی جواز ہے کہ وہ دوسروں سے اچھا ہے۔ کیا یہ چیز کافی ہے کہ کوئی دوسروں سے اچھا ہے تو جو چاہے غلطیاں کرتا پھرے اور اگر اس کے مخالفین اس کی غلطیوں کا فائدہ اٹھائیں تو ہم کہہ دیں کہ بیشک اس میں بہت سی خامیاں ہیں لیکن وہ دوسروں سے بہتر ہے لہٰذا اسے سات خون معاف ہیں؟ کیا یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے؟ چلیں مان لیا کہ ماضی میں ان سے غلطیاں سرزد ہو ئیں لیکن کیا اب وہ ان سے باز آ گئے ہیں؟ کیا اب بھی وہی غلطیاں نہیں دہرائی جا رہیں؟ اگر ایک بندہ مسلسل غلطیاں کرتا جائے اور ان کی وجہ سے مسائل میں گھر جائے تو بھلا آپ یا میں یا کوئی بھی اس کا ذمہ دار کیسے ہو سکتا ہے؟ ہر بندے کو اپنے فیصلوں کی قیمت خود ادا کرنا پڑتی ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ میری غلطی کی سزا آپ بھگتیں۔
بروٹس نے اپنے دوست سیزر کو دوسروں کی باتوں میں آکر قتل کیا تو اس کی سزا اس نے خود کو ہی دی تھی۔ تلوار سے اپنا گلا کاٹ لیا تھا۔ کنگ لیئر کی اچھی خاصی سلطنت چل رہی تھی کہ ایک دن اس پر بھوت سوار ہوا کہ کیوں نہ اپنی جائیداد اور سلطنت اپنی اولاد میں بانٹ دوں۔ پھر وہ ان سب سے محبت کا امتحان لینا شروع ہو گیا۔ جو بیٹی زیادہ خوشامد کرتی گئی وہ اس پر سلطنت نچھاور کرتا گیا اور جس بیٹی نے خوشامد نہیں کی اس پر گرجا برسا اور اسے عاق کر دیا۔ جب وہ جنگلوں میں اپنے جوکر کے ساتھ زمانے کی سختیاں جھیل رہا تھا تو اسے علم تھا کہ وہ اپنے غلط فیصلے کی سزا بھگت رہا ہے۔ بادشاہ سے گداگر بن گیا تو وہ خود ان حالات کا ذمہ دار تھا۔ اس طرح سکاٹ لینڈ کا جنرل میکبتھ بھی جانتا تھا کہ اس نے اپنی بیوی کے اکسانے پر جو اپنے بادشاہ کو قتل کر دیا‘ اب اس کی سزا اس نے خود بھگتنی ہے۔ لہٰذا تسلی رکھیں ہم جتنے چھوٹے بڑے لوگ مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اس کے پیچھے ہماری اپنی خواہشات اور فیصلے ہوتے ہیں۔ میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ میری مشکلات کسی اور وجہ سے ہیں۔
میں نے حال ہی میں سعید مہدی کی کتاب The Eyewitness ختم کی ہے‘ اس میں بھٹو صاحب اور نواز شریف پر لکھے گئے ابواب نے میری سوچ بدل کر رکھ دی ہے۔ سعید مہدی ان تمام واقعات کے عینی شاہد ہیں جو بھٹو صاحب اور نواز شریف کو پھانسی یا جلاوطنی تک لے گئے تھے۔ بھٹو صاحب کے اپنے چند فیصلے انہیں پھانسی تک لے گئے ۔ چاہے آپ لاکھ کہیں کہ جنرل ضیا نے انہیں پھانسی لگوائی لیکن اگر آپ پھانسی سے پہلے تک کے حالات کو غور سے پڑھیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ بھٹو صاحب کے اپنے فیصلے تھے جن سے ان کے دشمنوں یا مخالفوں نے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھی ایک کامیاب انسان کی طرح غلطیوں پر غلطی کرتے چلے گئے۔ ہر کامیاب آدمی کا جب زوال شروع ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ خود اعتمادی ہوتی ہے کہ میں نے اب تک زندگی میں جو کچھ بھی کیا ہے وہ سب ٹھیک کیا ہے۔ میں خدا کا بھیجا ہوا خاص انسان ہوں‘ مجھ پر خدا کا خاص کرم ہے‘ میں مٹی میں بھی ہاتھ ڈالوں تو سونا بن جاتی ہے‘ مجھے کسی خاص مقصد کیلئے پیدا کیا گیا ہے جس پر ہاتھ رکھوں اس کی قسمت بدل دوں۔ یوں وہ اس سوچ کا شکار ہوتا ہے اور اپنا زوال لے آتا ہے۔ انسان کا زوال اس کے اپنے فیصلوں یا تکبر یا غرور کی وجہ سے آتا ہے۔ اس کے مخالفین صرف ان فیصلوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اب یہی دیکھ لیں کہ بھٹو صاحب نے جنرل ضیا کو ساتویں نمبر سے اٹھا کر آرمی چیف لگا دیا۔ الیکشن کا اعلان کر دیا پھر سب سے پہلے خود کو بلامقابلہ منتخب کرا لیا۔ پھر یہی کام چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے کیا اور انہوں نے بھی خود کو بلامقابلہ منتخب کرا لیا۔ یوں اگر دیکھا جائے تو اپنے خلاف احتجاجی تحریک کی بنیاد بھٹو صاحب نے خود رکھ دی تھی۔ بھٹو کے مخالفوں نے محض ان کے فیصلوں کا فائدہ اٹھایا اور آخر وہی غلطیاں انہیں پھانسی تک لے گئیں۔ اب ہم قصوروار جنرل ضیا کو ٹھہرائیں یا بھٹو صاحب کو لیکن بات وہی ہے کہ آپ کے فیصلوں نے ہی دشمنوں کو بارود فراہم کیا جو آپ کو مارنے کیلئے استعمال ہوا۔ یہی کام نواز شریف نے کیا۔ ان کے جیل جانے اور جلاوطنی میں جنرل مشرف سے زیادہ ان کے اپنے فیصلوں کا دخل تھا۔ وہ بھی بھٹو کی طرح اپنے تئیں کمزور اور خوشامدی آرمی چیف لائے۔ جب بھارتی وزیراعظم واجپائی نے انہیں فون کرکے کارگل پر چڑھائی کا بتایا تو اس وقت جنرل پرویز مشرف کو بلا کر برطرف کرتے کیونکہ مشرف کے اس خطرناک ایڈونچر کی وجہ سے پاکستانی فوجیوں نے اپنی جانیں قربان کیں‘ ایک ایسے مشن کے لیے جس کا وزیراعظم سے لے کر کور کمانڈرز‘ ایئر چیف‘ نیول چیف تک کسی کو علم نہ تھا۔ پاکستانی فوجیوں کو خوراک تک کی سپلائی نہیں تھی۔ پاکستانی فوجی واقعتاً گھاس کھا کر بھی بہادری سے انڈین آرمی سے لڑتے رہے۔ بھارتی کمانڈروں تک نے پاکستانی فوجیوں کی ان بدترین حالات میں بہادری کو سراہا۔ لیکن جس چیف نے یہ فیصلہ کر کے اپنے فوجی پہاڑوں پر شہید کرا دیے اس کو جس وقت برطرف کرنا تھا اس وقت نواز شریف نے نہیں کیا۔ چھ ماہ بعد اس وقت برطرف کیا جب کھیل ہاتھ سے نکل چکا تھا‘ اور جس انداز میں برطرف کیا وہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس پر نواز شریف کے حامی بھی قائل نہیں تھے۔ اپنے غلط فیصلوں کی قیمت نواز شریف نے ادا کی۔ اگرچہ نواز شریف نے سبق پھر بھی نہیں سیکھا۔
اب عمران خان جیل میں قید ہیں تو تسلی رکھیں‘ اس میں آپ کا یا میرا کوئی ہاتھ نہیں۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں‘ انسان یا حکمران اپنے ہی فیصلوں کی وجہ سے نیچے گرتے ہیں‘ عوام کے فیصلوں سے نہیں۔ نپولین بھی اگر واٹر لُو کی جنگ کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملکیت والے دور دراز جزیرے پر مرتے دم تک قید رہا تو اس میں بھی اس کے پیچھے نپولین کے اپنے یکے بعد دیگرے بلکہ اندھا دھند فیصلوں کا ہاتھ تھا۔ عمران خان کے فیصلوں کو آج رہنے دیتے ہیں تاکہ ان کے حامیوں کا دل نہ دکھے‘ کون سا خان صاحب نے اپنی غلطیوں سے سیکھ لینا ہے یا میرے اس بھاشن سے فرق پڑنا ہے۔ ہاں تاریخ کو ایک اور کردار ضرور مل گیا ہے جس کے اندھا دھند فیصلے اس کے زوال کی وجہ بنے اور اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے گئے تھے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved