تحریر : شاہد صدیقی تاریخ اشاعت     18-02-2026

تعلیم‘ ترقی اور انفرادی آزادی

تعلیم‘ ترقی اور انفرادی آزادی کے باہمی تعلق کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم علم کے اس معاصر تصور کا سنجیدہ اور تنقیدی جائزہ لیں جو گزشتہ چند دہائیوں میں عالمی سطح پر غالب آ چکا ہے۔ 1998-99ء کی ورلڈ بینک کی Knowledge for Development رپورٹ میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان جو خلیج موجود ہے وہ دراصل علم کی خلیج ہے۔ گویا علم کو براہِ راست ترقی کے مساوی قرار دیا گیا۔ اس مفروضے نے ایک نئے بیانیے کو جنم دیا جسے ''علمی معیشت‘‘ کے نام سے تعبیر کیا گیا۔ اس تصور کے فروغ کے ساتھ تعلیم کا روایتی اور ہمہ جہت مفہوم پس منظر میں چلا گیا اور اس کی جگہ علم کا نیا‘ معاشی بنیادوں پر استوار تصور سامنے آیا۔
سوال یہ ہے کہ تعلیم اور اس نئے طرزِ علم میں بنیادی فرق کیا ہے؟ کیا دونوں ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں یا ان کے درمیان فکری اور اخلاقی سطح پر کوئی نمایاں امتیاز موجود ہے؟ تعلیم اپنی اصل میں انسانی شخصیت کی ہمہ جہت تعمیر کا عمل ہے۔ یہ ذہنی وسعت‘ فکری بالیدگی‘ اخلاقی شعور اور انفرادی آزادی کا وعدہ کرتی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف پیشہ ورانہ مہارت پیدا کرنا نہیں بلکہ انسان میں تنقیدی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے تاکہ وہ سماجی ڈھانچوں‘ طاقت کے نظاموں اور رائج تصورات کا تنقیدی جائزہ لے سکے۔ تعلیم فرد کو یہ حوصلہ دیتی ہے کہ وہ آزادانہ سوچے‘ سوال اٹھائے اور منفی یا جابرانہ تصورات کو چیلنج کرے۔ اس کے برعکس معاصر علمی معیشت کا بیانیہ علم کو زیادہ تر معاشی افادیت کے پیمانے پر پرکھتا ہے۔ جو علم منافع میں اضافہ کرے‘ ملازمت کے مواقع فراہم کرے اور پیداواری صلاحیت بڑھائے‘ وہی معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح علم کی تعریف محدود ہو کر محض معاشی کارکردگی تک سمٹ جاتی ہے۔
معاصر تصورِ ترقی میں مادی مظاہر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ بلند و بالا عمارتیں‘ جدید شاہراہیں‘ بڑے ڈیم‘ صنعتی زون اور ٹیکنالوجی کے نت نئے آلات ترقی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ مگر یہ سوال اہم ہے کہ کیا ترقی صرف مادی ڈھانچے کی مضبوطی کا نام ہے؟ کیا فرد کی آزادی‘ فکری خود مختاری اور اخلاقی ارتقا بھی ترقی کے زمرے میں شامل ہیں؟ اگر ترقی کے تصور سے انسان کے باطنی اور سماجی پہلو کو خارج کر دیا جائے تو وہ محض ایک معاشی اصطلاح بن کر رہ جاتی ہے۔ اس صورت میں تعلیم کا کردار بھی محدود ہو جاتا ہے اور وہ ایک صنعتی ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ معاصر طرزِ علم جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے اور یہی ٹیکنالوجی علم کی تخلیق‘ ترسیل اور توسیع کا بنیادی وسیلہ بن جاتی ہے۔ اس علمی نظام کا بنیادی ہدف منافع میں اضافہ اور مسابقتی برتری حاصل کرنا ہے؛ چنانچہ وہ علم جو اچھی ملازمت‘ زیادہ تنخواہ یا معاشی استحکام فراہم کرے‘ مفید اور بامعنی قرار پاتا ہے۔ جو علم فوری معاشی فائدہ نہ دے‘ وہ غیرمتعلق یا غیرضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر میں ادب‘ فلسفہ‘ سماجیات اور تاریخ جیسے مضامین ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ ان کا براہِ راست تعلق منافع سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ یوں علم کی معنویت کا معیار تبدیل ہو جاتا ہے اور تعلیم کی روح متاثر ہوتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی اپنی ایک عقلیت ہے جو فرد پر غالب آ جاتی ہے۔ کارکردگی‘ رفتار اور سہولت کے تقاضے زندگی کے ہر شعبے میں سرایت کر جاتے ہیں۔ دفاتر‘ سکول‘ عدالتیں اور حتیٰ کہ تفریحی سرگرمیاں بھی اسی پیمانے پر پرکھی جاتی ہیں۔
افراد یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے انتخاب کر رہے ہیں‘ مگر درحقیقت ان کے انتخاب ایک ایسے سماجی و تکنیکی ڈھانچے سے متعین ہوتے ہیں جو پہلے سے تشکیل یافتہ ہے۔ طاقت کا یہ نظام براہِ راست جبر کے ذریعے نہیں بلکہ علم اور نظم و ضبط کے ذریعے عمل کرتا ہے۔ نگرانی‘ درجہ بندی‘ جانچ اور کارکردگی کی پیمائش ایسے آلات ہیں جن کے ذریعے افراد کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھالا جاتا ہے۔ اس عمل میں فرد کی خود مختاری بتدریج کم ہوتی جاتی ہے مگر اسے اس کمی کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ اسے یہی باور کرایا جاتا ہے کہ وہ آزاد ہے۔ کارپوریٹ سرمایہ داری کے ماحول میں جہاں دولت اور منافع بنیادی قدر بن جائیں‘ وہاں تعلیم بھی منڈی کی منطق کے تابع ہو جاتی ہے۔ تعلیمی ادارے کارکردگی‘ رینکنگ اور برانڈ ویلیو کے پیمانوں پر پرکھے جاتے ہیں۔ طلبہ کو مستقبل کے کارکن یا صارف کے طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ استاد کا کردار بھی بدل جاتا ہے؛ وہ محض معلومات فراہم کرنے والا یا نتائج پیدا کرنے والا فرد بن جاتا ہے۔ تعلیمی ادارے سماجی و اخلاقی تربیت کے مراکز کے بجائے ایسے مراکز میں تبدیل ہو جاتے ہیں جہاں ہنر مند افرادی قوت تیار کی جاتی ہے۔ اس صورتحال میں انفرادی آزادی‘ تخلیقی سوچ اور تنقیدی شعور کیلئے جگہ محدود ہو جاتی ہے۔کارکردگی کے نام پر افراد کی زندگی سے سکون اور تفکر کے لمحات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ بچوں کے بھاری بستے‘ مسابقتی امتحانات اور کوچنگ سنٹرز کی کثرت اس بات کا ثبوت ہیں کہ تعلیم ایک دوڑ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ طلبہ صبح سکول یا کالج جاتے ہیں اور شام کو ٹیوشن مراکز کا رخ کرتے ہیں۔ کھیل‘ مباحثے‘ ادبی سرگرمیاں اور سماجی میل جول جیسے عناصر جو کبھی تعلیمی زندگی کا حصہ تھے‘ اب ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ نتیجتاً شخصیت کی ہمہ جہت نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ تعلیم جو کبھی علمی‘ فکری‘ جسمانی‘ روحانی اور اخلاقی پہلوؤں کی متوازن ترقی کا ذریعہ تھی‘ اب زیادہ تر امتحانی کامیابی اور پیشہ ورانہ مہارت تک محدود ہو چکی ہے۔
ٹیکنالوجی پر مبنی علم طلبہ کو مخصوص مہارتوں میں ماہر بناتا ہے مگر انہیں یہ شعور نہیں دیتا کہ وہ جس نظام کا حصہ ہیں‘ اس کی سمت کیا ہے۔ وہ معاشرتی مشین کے مؤثر پرزے تو بن جاتے ہیں مگر مشین کے مقصد سے ناواقف رہتے ہیں۔ انفرادی آواز سماجی شور میں دب جاتی ہے۔ ترقی کا جو بیانیہ پیش کیا جاتا ہے وہ بظاہر شاندار نظر آتا ہے مگر اس کے پس منظر میں فرد کی آزادی اور نجی زندگی سکڑتی جاتی ہے۔ اگر ترقی کا معیار یہ ہو کہ لوگوں کی آزادیوں میں اضافہ ہو تو ہمیں یہ سوال اٹھانا ہو گا کہ کیا موجودہ نظام واقعی انسان کو زیادہ آزاد بنا رہا ہے یا اسے نئے انداز میں محدود کر رہا ہے۔ سماجی نظریات کے مطابق استحصال صرف معاشی ڈھانچوں کے ذریعے نہیں بلکہ نظریاتی نظاموں کے ذریعے بھی برقرار رکھا جاتا ہے۔ میڈیا اور ابلاغی ذرائع مخصوص قسم کے علم اور اقدار کو فروغ دیتے ہیں۔ اشتہارات‘ فلمیں‘ ٹی وی پروگرام اور سوشل میڈیا فرد کو یہ بتاتے ہیں کہ اس کی ضروریات کیا ہیں اور اسے کس چیز کو کامیابی سمجھنا چاہیے۔
اس مسلسل ابلاغ کے نتیجے میں ایک ایسا سماجی ماحول تشکیل پاتا ہے جس میں مخصوص طرزِ زندگی کو معمول اور مطلوب قرار دیا جاتا ہے۔ اس ماحول میں تنقیدی فکر کی گنجائش کم ہوتی جاتی ہے اور فرد غیرمحسوس طور پر اس نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر ہم حقیقی سماجی تبدیلی کے خواہاں ہیں تو ہمیں تعلیم کے مقاصد پر ازسرِنو غور کرنا ہو گا۔ تعلیم کو صرف صنعتی یا معاشی ضرورت تک محدود کرنا اس کی روح کے خلاف ہے۔ اساتذہ کی تربیت میں تنقیدی تدریس کو مرکزی مقام دینا ہو گا تاکہ وہ طلبہ میں سوال کرنے اور سوچنے کی صلاحیت پیدا کر سکیں۔ سماجی علوم‘ فلسفہ اور ادب جیسے مضامین کو دوبارہ اہمیت دینا ضروری ہے کیونکہ یہ مضامین فرد کو اپنے معاشرے اور اپنے وجود کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ تعلیم کو معاشرے کی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے مگر اسے صنعت کا تابع نہیں بنانا چاہیے۔ تعلیم کا اصل مقصد ایک ایسے انسان کی تعمیر ہے جو آزاد‘ باوقار‘ تنقیدی شعور سے آراستہ اور اخلاقی ذمہ داری کا حامل ہو۔ جب تک ترقی کے تصور میں انفرادی آزادی اور انسانی وقار کو مرکزی حیثیت نہیں دی جائے گی ترقی کا دعویٰ ادھورا رہے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved