تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     18-02-2026

بی این پی کی حکومت‘ چیلنجز اور توقعات

12 فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات کا سرکاری اعلان ہونے کے بعد 17 فروری کو بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا گیا۔ اراکینِ پارلیمنٹ نے ''آئینی اصلاحاتی کمیشن‘‘ (Constitution Reform Commission) کے رکن کے طور پر بھی حلف اٹھایا‘ جس کا مقصد ملکی آئین میں بڑی تبدیلیاں لانا ہے۔ اس سے قبل عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر یونس نے پیر کی رات الوداعی خطاب کیا اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ منتخب اراکین کے حلف اٹھانے کے بعد سپیکر اور ڈپٹی سپیکر اور بعد ازاں نئے قائد ایوان یعنی وزیراعظم کے انتخاب کا مرحلہ بھی مکمل ہو گیا۔ طارق رحمان کو ملک کا گیارہواں وزیراعظم منتخب کر لیا گیا۔ ان کی پارٹی‘ بی این پی نے 299 میں سے 212 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کی ہے۔ انتخابی عمل کی تکمیل اور اقتدار کی منتقلی کے بعد میڈیا کا فوکس اب نئی حکومت کو درپیش چیلنجز اور نئی حکومت کی ممکنہ پالیسیوں پر ہے۔ پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس سے قبل اپنی پہلی تقریر میں طارق رحمان نے تسلیم کیا کہ ملک کو بہت سے مشکل اور پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سے دو فوری توجہ کے مستحق ہیں؛ امن وامان اور گورننس نظام کی بہتری اور فنانشل سیکٹر میں استحکام کی بحالی۔ ان کے اس بیان سے اختلاف کرنا مشکل ہے کیونکہ ڈاکٹر یونس کی عبوری حکومت امن وامان اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں برُی طرح ناکام رہی‘ جس سے معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی‘ خاص طور پر گارمنٹس انڈسٹری‘ جس کی برآمدات زرمبادلہ کی کمائی کا سب سے اہم حصہ ہیں۔ فیکٹریوں کے بند ہو جانے سے نہ صرف جی ڈی پی کی گروتھ میں کمی آئی بلکہ بیروزگاری میں بھی اضافہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش میں پڑھے لکھے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ملک کے سیاسی اور معاشی حالات سے مایوس ہو کر ملک چھوڑ رہی ہے۔ قانون کی رٹ اور امن وامان کے قیام میں ناکامی سے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس اجاگر ہوا ہے۔ پانچ اگست 2024ء کو حسینہ واجد کے فرار کے بعد ملک کے تمام حصوں خصوصاً بڑے شہروں میں نہ صرف پولیس سٹیشنوں اور بینکوں بلکہ نجی جائیدادوں اور فیکٹریوں پر بھی بلوائیوں نے حملے کئے۔ اکثر مبصرین کی رائے میں بی این پی کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ 18ماہ کی انارکی کے بعد عوام ایسی حکومت چاہتے ہیں جس کی پارلیمانی پوزیشن مضبوط اور مؤثر ہو اور جو سخت اقدامات کرنے کی اہلیت رکھتی ہو۔
بنگلہ دیش کی تاریخ اور سیاست گواہ ہے کہ وہ آمرانہ حکومت کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر تے۔ نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اسی لیے انہوں نے سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود قومی اتحاد پر زور دیا ہے۔ جماعت اسلامی اگرچہ اپنے دعوے کے برعکس کم نشستیں حاصل کر سکی مگر اپنی 10 دیگر اتحاد جماعتوں کے ساتھ 77 نشستیں حاصل کر کے 350 کے ایوان میں وہ ایک مؤثر اپوزیشن ثابت ہو سکتی ہے۔ عوامی لیگ کی حسینہ حکومت کا تختہ الٹنے کی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے نوجوانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی نے انتخابات میں محض چھ نشستیں حاصل کر کے مایوس کن کارکردگی دکھائی ہے‘ تاہم پارلیمنٹ میں اس کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جماعت اسلامی جیسی منظم اور نظریاتی طور پر موٹیویٹڈ سیاسی پارٹی کے ساتھ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کا اشتراک نہ صرف پارلیمنٹ کے اندر بلکہ پارلیمنٹ سے باہر بھی اپوزیشن کی طاقت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے دو تہائی اکثریت کے باوجود وزیراعظم طارق رحمان کو ایک مضبوط اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اندرونی محاذ پر نئی حکومت کو ایک اور اہم چیلنج کا سامنا کرنا ہے‘ جس پر پوری طرح توجہ نہیں دی جا رہی۔ اس چیلنج کا تعلق انتخابات میں ہوئے ریفرنڈم سے ہے‘ جس میں 60 فیصد سے زائد رائے دہندگان نے انتظامی اصلاحات پر مبنی آئینی پیکیج کی منظوری دی ہے۔ اس پیکیج میں وزیراعظم کی دو سے زیادہ بار عہدہ سنبھالنے پر پابندی‘ وزیراعظم کی چند ایگزیکٹو پاورز کو صدر کے ہاتھ میں دینے‘ یک ایوانی کی جگہ دو ایوانی پارلیمنٹ کے قیام کی تجاویز شامل ہیں۔ اس ریفرنڈم کا فیصلہ ڈاکٹر یونس کی عبوری حکومت نے کیا تھا اور بی این پی سمیت کئی جماعتوں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا‘ گو کہ بعد میں اس نے رضامندی کا اظہار کر دیا تھا۔ تاہم اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ بنگلہ دیش میں 1990ء سے پارلیمانی نظام چلا آ رہا ہے‘ اور یہ نظام بڑی سیاسی جماعتوں‘ بالخصوص عوامی لیگ اور بی این پی کے اتفاق رائے کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ اس اتفاق رائے کو ایک ریفرنڈم کے ذریعے ایسے پیکیج کی شکل میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو پاکستان میں جنرل ضیا الحق کی آٹھویں اور جنرل پرویز مشرف کی 17ویں ترامیم سے ملتا جلتا ہے۔ دو تہائی سے زیادہ اکثریت کے ساتھ اقتدار سنبھالنے والا وزیراعظم اپنے اختیارات کس حد تک صدر کے حوالے کرنے پر آمادہ ہوتا ہے‘ یہ وقت ہی بتائے گا۔
اندرونی محاذ پر لاء اینڈ آرڈر‘ گورننس کی بہتری‘ معیشت کی بحالی اور سول اداروں پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے علاوہ بیرونی محاذ پر علاقائی ممالک خصوصاً بھارت کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرنا بھی نئی حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ حسینہ حکومت کے اختتام کے بعد بنگلہ دیش کے طول وعرض میں بھارت مخالف جذبات کا ایک طوفان اُمڈ آیا تھا جو ابھی تک پوری شدت کے ساتھ موجود ہے مگر بنگلہ دیش کی جغرافیائی پوزیشن ایسی ہے اور بھارت کے ساتھ اس کے تجارتی اور ثقافتی تعلقات اتنے گہرے ہیں کہ دونوں ممالک طویل عرصے تک محاذ آرائی پر مبنی کشیدہ تعلقات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف عوامی رائے پیدا کرنے میں تین عوامل کارفرما رہے ہیں۔ بھارت کی ہر حکومت کی طرف حسینہ واجد کے آمرانہ اور سیاسی مخالفین کے ساتھ متعصبانہ رائے کی تائید‘ بی جے پی حکومت کی بنگلہ دیشی باشندوں کے آسام‘ مغربی بنگال اور اُڑیسہ آکر محنت مزدوری کرنے کی مخالفت اور بنگلہ دیش کی طرف سے پاکستان اور چین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی مخالفت۔ یاد رہے کہ ایک وقت میں بی جے پی نے بنگلہ دیش کو پاکستان سے بھی زیادہ بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ دونوں ممالک کی 4000 کلومیٹر سے زیادہ طویل مشترکہ سرحد ہے۔ بھارت اپنی شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ روابط کیلئے بنگلہ دیش سے گزرنے والے ریل اور زمینی راستوں کا محتاج ہے۔ بھارت نے ان راستوں کے عوض بنگلہ دیش کو اپنی برآمدات کا بڑا حصہ بھارتی ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے ذریعے بھیجنے کی رعایت دے رکھی تھی‘ جس نے بنگلہ دیش کی معیشت کو خاصا فائدہ پہنچایا۔ حسینہ واجد حکومت کے بعد بنگلہ دیش اور بھارت کے مابین کشیدگی سے بنگلہ دیش کی معیشت بھی متاثر ہوئی۔ اس کا احساس بی این پی کی قیادت کو بھی ہے اور اسی لیے اس نے انتخابی منشور میں یہ اعلان کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے جائیں گے۔ طارق رحمان کا اب تک بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کوئی مخصوص بیان نہیں آیا‘ سوائے اس کے کہ بھارت سے حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ دہرایا۔ دہائیوں بعد پاکستان اور بھارت‘ دونوں کو بنگلہ دیشی وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت اس بات کا اظہار ہے کہ نئی بنگلہ حکومت اپنے ہمسایہ اور خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی خواہاں ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved