ریاستوں کی سنجیدگی کا امتحان بحرانوں میں ہوتا ہے۔ جب فضا گرد آلود ہو‘ افواہیں گردش کر رہی ہوں‘ سوشل میڈیا عدالت لگا چکا ہو اور سیاسی جماعتیں اپنے اپنے بیانیے کے مورچے سنبھال چکی ہوں‘ تب اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کون سا فریق ذمہ داری کا بوجھ اٹھاتا ہے اور کون سا فریق جلتی پر تیل ڈالتا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے عارضۂ چشم اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے اسی آزمائش کو ہمارے سامنے رکھ دیا۔ ایک طبی مسئلہ‘ ایک معمولی پروسیجر مگر اسے اس انداز میں پیش کیا گیا جیسے کوئی قومی سانحہ چھپا دیا گیا ہو۔ ایسے ماحول میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس سے ریاستی مؤقف دنیا کے سامنے آیا۔اس مؤقف کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس میں وضاحت‘ پیغام اور آئندہ کی پالیسی بھی واضح ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر بلیم گیم کی گئی‘ پروپیگنڈا کیا گیا‘ 85فیصد بینائی چلی جانے کی افواہیں پھیلائی گئیں‘ یہاں تک کہ ایک آنکھ ضائع ہونے کے دعوے بھی سامنے آئے۔ اگر سیاسی انتقام لینا مقصود ہوتا تو کیا جیل میں سختیاں نہیں کی جا سکتی تھیں؟ کیا جیل مینوئل تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا؟ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس بہترین سرکاری اور نجی ڈاکٹروں کا انتخاب کیا گیا‘ اپوزیشن سے رابطہ کیا گیا‘ ان سے کہا گیا کہ اپنا ڈاکٹر نامزد کریں۔ جب انہوں نے ڈاکٹر کے بجائے خاندان کے فرد کو شامل کرنے کی بات کی تو وہ بھی مان لیا گیا۔وزیر داخلہ نے یہاں تک کہاکہ اگر ڈاکٹرز کہیں تو دو ہفتے کیلئے انہیں ہسپتال منتقل کر دیں گے۔ یہ انتقام کا انداز ہے یا شفافیت کا؟ اگر اس موقع پر ریاست کا ارادہ انتقام ہوتا تو کیا وہ خود اپوزیشن رہنماؤں سے رابطہ کرتی؟ کیا عمران خان کے ذاتی معالجین سے براہِ راست بات کرائی جاتی اور ان کی زبان سے ''ایکسیلنٹ‘‘ کا لفظ سننے کے بعد بھی کوئی معاملہ چھپایا جاتا؟ محسن نقوی نے پریس کانفرنس میں وقت‘ تاریخ‘ تفصیل سب کچھ بیان کیا۔ یہ کوئی دفاعی بیان نہیں تھا‘ یہ پُراعتماد گفتگو تھی۔ ایسا اعتماد جو تبھی ممکن ہوتا ہے جب نیت صاف ہو۔ لیکن اس پورے واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اسے ذاتی مفادات کی خاطر سیاست کی نذر کر دیا گیا۔
یہاں ہمیں تھامس شیلنگ کی کتاب The Strategy of Conflict یاد آتی ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ تنازعات میں اکثر فریق مسئلہ حل کرنے کے بجائے اسے برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ان کی سیاسی یا ذاتی طاقت اسی بحران سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر اس اصول کو موجودہ حالات میں رکھ کر دیکھیں تو یہ سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے کہ کیا تحریک انصاف کے اندر اور باہر ایسے عناصر موجود ہیں جو اس بحران کو باقی رکھنا چاہتے ہیں؟ جو غلط بریفنگ دیتے ہیں‘ غلط رپورٹس بناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر اداروں کو نشانہ بنا کر بیانیہ گرم رکھتے ہیں تاکہ مسئلہ حل نہ ہو بلکہ طوالت اختیار کرے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ محسن نقوی نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے جتنی کوشش کی اور کسی نے نہیں کی۔ یہ اعتراف معمولی نہیں! اگر واقعی ایسی کوئی کوشش ہو رہی تھی‘ جو کہ سب تسلیم کررہے ہیں تو پھرپی ٹی آئی کی جانب سے سڑکوں پر احتجاج اور ریڈ زون کی طرف پیش قدمی کی کیا منطق تھی؟ وزیر داخلہ نے بجا طور پر کہا کہ اگر کسی کو احتجاج یا چڑھائی کا شوق ہے تو نتائج کا سامنا کرے گا۔ ریاست نے واضح پیغام دیا ہے کہ مذاکرات ہی ہر مسئلے کا حل ہیں۔ وزیراعظم پہلے دن سے یہی کہہ رہے ہیں‘ وزیر داخلہ آج بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ یہ کسی ایک جماعت کی بات نہیں‘ ریاستی پالیسی ہے۔ دنیا کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے۔ ہنری کسنجر نے اپنی کتاب ڈپلومیسی میں لکھا تھاکہ طاقتور ریاستیں جنگ سے پہلے مکالمہ آزماتی ہیں کیونکہ مذاکرات طاقت کی کمزوری نہیں بلکہ اس کا اظہار ہوتے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے جیل سے نکل کر مفاہمت کا راستہ اختیار کیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ مسلسل تصادم ملک کو تباہی کی طرف لے جائے گا۔ شمالی آئرلینڈ کا گڈ فرائیڈے معاہدہ بھی مذاکرات کا نتیجہ تھا‘ بندوق کا نہیں! پاکستان کے موجودہ حالات میں بھی یہی منطق لاگو ہوتی ہے۔
خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے ۔یہ صوبہ مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے کیونکہ اس پارٹی کا بانی جیل میں ہے۔ بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق ان واقعات میں 100 فیصد بھارت ملوث ہے۔ ایسی صورتحال میں کیا ملک کے اندر ایک سیاسی جماعت کا احتجاج میں مصروف رہنا دانشمندی ہے؟ کیا آئے روز سڑکیں بند کر کے‘ ریڈ زون کی طرف مارچ کر کے‘ اداروں کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنا کر ملک کو مضبوط کیا جا سکتا ہے؟ یا پھر سب کو ایک میز پر بیٹھ کر قومی مفاد کو مقدم رکھنا ہو گا؟ تحریک انصاف کے اندرونی انتشار نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ ایک طرف مذاکرات کی بات تو دوسری طر ف سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف نازیبا اور گھٹیا زبان کا استعمال‘ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پی ٹی آئی میں شامل چند مفاد پرست خود بانی کو باہر نہیں لانا چاہتے۔ اگر واقعی بانی کی رہائی مقصد ہے تو پھر مذاکرات کے راستے کو سبوتاژ کیوں کیا جائے؟ ملک سے باہر بیٹھے بعض عناصر کا کردار بھی زیر بحث آنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر اداروں کو ٹارگٹ کرنا‘ جھوٹی رپورٹس پھیلانا یہ سب کس کے مفاد میں ہے؟ اگر کل کو مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کی سیاسی دکان بند ہو جائے گی۔ اس لیے انہیں بحران چاہیے‘ حل نہیں۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ بحران کی آگ میں سب سے پہلے وہی جلتا ہے جس نے آگ بھڑکائی ہوتی ہے۔محسن نقوی کی پریس کانفرنس کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ بلیم گیم بند ہونی چاہیے‘ پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے‘ اور سنجیدگی سے بات چیت ہونی چاہیے۔ اگر سیاسی انتقام مقصود ہوتا تو جیل میں سختیاں کی جاتیں مگر ایسا نہیں ہوا۔ بانی کو سہولتیں دی گئیں‘ ان کا علاج کرایا گیا۔ یہ رویہ انتقام کا نہیں‘ ریاستی ذمہ داری کا ہے۔ ملک اس وقت کسی نئے تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں جوڑنے والی سیاست چاہیے‘ توڑنے والی نہیں۔ مذاکرات کمزوری نہیں‘ دانشمندی ہیں۔
ریاست نے اپنا پیغام واضح کر دیا ہے‘ اور یہ محض رسمی باتیں نہیں بلکہ عملی حکمتِ عملی ہے۔ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کھلا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ رابطوں اور پس پردہ بات چیت کا سلسلہ رکا بھی نہیں۔ مگر اب بار بار کی وہی غلطی نہیں دہرائی جانی چاہیے جو ماضی میں ہر ممکن پیش رفت کو سبوتاژ کر دیتی تھی۔ اگر اس مرحلے پر پھر وہی شور‘ وہی غلط بریفنگ‘ وہی جذباتی اشتعال انگیزی شروع ہو گئی تو نقصان صرف ایک جماعت یا ایک فرد کا نہیں ہو گا‘ پورے ملک کا ہو گا۔ تصادم کا راستہ وقتی نعرہ تو بن جاتا ہے مگر اس سے ادارے کمزور ہوتے ہیں‘ معیشت متاثر ہوتی ہے‘ سکیورٹی کی صورتحال بگڑتی ہے اور سب سے بڑھ کر دشمن کو فائدہ پہنچتا ہے۔ جب اندر انتشار ہو تو باہر بیٹھے عناصر کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔ عوام کو اب چہرے پہچان لینے چاہئیں۔ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر اور باہر موجود یہ چند لوگ آخر چاہتے کیا ہیں؟ گزشتہ چند ماہ میں کوئی ایک بڑا احتجاج کیوں نہ ہو سکا؟ کیونکہ زمین پر عوامی تائید سے زیادہ بیانیہ بازی تھی‘ مقصد کچھ اور دکھائی دیتا تھا۔ کبھی ریڈ زون کی طرف مارچ‘ کبھی سڑکوں کی بندش‘ مگر نتیجہ صفر۔ کیا واقعی یہ سب بانی کی رہائی کیلئے تھا یا کسی اور ایجنڈے کیلئے؟ جو لوگ مفاہمت کی بات کرتے ہیں وہ یا تو خاموش ہیں یا پس منظر میں ہیں‘ اور آگے صرف وہی ہیں جو سوشل میڈیا پر انقلاب بیچ رہے ہیں۔ اگر مذاکرات کو کامیاب کرنا ہے تو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved